انجيل مقدس

باب   15  16  17  18  19  20  21  22  23  24  25  26  

  خُروج 15

1  اور یُوں کہنے لگے : مَیں خداوند کی ثنا گائُونگا کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتحمند ہوا ۔ اُس نے گھوڑے کو سوار سمت سمندر میں ڈال دیا خداوند میرا زُور اور راگ ہے ۔ وہی میری نجات بھی ٹھہرا ۔

2 وہ میرا خُدا ہےمَیں اُ سکی بڑائی کرونگا ْ وہ میرے باپ کا خُداہے ۔ میں اُسکی بُزرگی کرونگا۔

3  خُداوند صاخِب جنگ ہے یہوداہ اُسکا نام ہے ۔

4 فرعون کے رتھوں اور لشکر کو اُس نے سمندرمیں ڈالدیا اور اسکے چیدہ سردار بحرِ قلزم میں غرق ہوئے۔

5 گہرے پانی نےاُنکو چھپا لِیا۔وہ پتھر کی مانند تہ میں چلے گئے ۔

6  اے خداوند ؛ تیرا دہنا ہاتھ قدرت کے سبب سے جلالی ہے۔ اَے خُداوند ؛تیرا دہنا ہاتھ دُشمن کو چکنا چور کر دیتا ہے ۔

7 تُو اپنی عظمت کے زور سے اپنے مُخالفوں کو تہ و بالا کرتا ہے ۔تو اپنا قہر بھیجتا ہے اور وہ اُن کو کھو نٹی کی مانند بھسم کر ڈالتا ہے ۔

8  تیرے نتھنوں کے دم سے پانی کا ڈھیر لگ گیا سیلاب تُو دے کی طرح سیدھے کھڑے ہو گئے اور گہرا پانی سمندر کے بیچ میں جم گیا ۔

9  دشمن نے تو یہ کا تھا میں پیچھا کرونگا ۔میں جا پکڑونگا میں لوٹ کا مال تقسیم کرونگا ۔ان کی تباہی سے میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو گا ۔میں اپنی تلوار کھنچ کر اپنے ہی ہاتھ سے اُن کو ہلاک کرونگا ۔

10  تُو نے اپنی آندھی کی پُھونک ماری تو سمندر نے اُنکو چھپالیا ۔وہ زور کےپانی میں سیسے کی طرح ڈُوب گئے۔

11  مبعودوں میں اَسے خُداوند ۔تیری مانند کَون ہے ؟ کَون ہے جو تیری مانند اپنے تقدُس کے باعث جلالی اور اپنی مدح کے سبب سے رُعب والااور صاحبِ کرامات ہے ؟

12  تُو نے اپنا دہنا ہاتھ بڑھایا تو زمین اُنکو نِگل گئی ۔

13  اپنی رحمت سے تُو اُن لوگوں کی جِنکو تُو نے خلاصی بخشی راہنمائی کی ۔ اور اپنے زور سے تو اُنکو اپنے مُقدّس مکان کو لے چلا ہے ۔

14  قُومیں سُنکر تھّرا گئی ہیں ۔ اور فلستین کے باشِندوں کی جان پر آبنی ہے۔

15  ادوم کے رئیس حیران ہیں ۔ موآب کے پہلوانوں کو کپکپی لگ گئی ہے ۔ کنعان کے سب باشِندوں کے دِل پگھلے جاتے ہیں۔

16  خَوف وہراس اُن پر طاری ہے ۔ تیرے بازُو کی عظمت کے سبب سے وہ پتھر کی طرح بے حِس و حرکت ہیں ۔ جب تک اے خُداوند تیرے لوگ جنکو تُو نے خریدا ہے پار نہ ہو جائیں۔

17  تُو اُنکو وہاں لے جا کر اپنی میراث کے پہاڑ پردرخت کی طرح لگائیگا۔ تُو اُنکو اُسی جگہ لے جائیگا جسے تُو نے اپنی سکُونت کے لئے بنایا ہے ۔ اَے خُداوند ! وہ تیری جایِ مُقّدس ہے جسے تیرے ہاتھوں نے قائم کِیا ہے۔

18 خُداوند ابدُالآباد سلطنت کر یگا۔

19  اِس گیت کا سبب یہ تھا کہ فرعون کے سوار گھوڑوں اور رتھوں سمیت سمندر ہیں گئے اور خُداوند سمندر کے پانی کو اُن پر لوٹا لایا ۔ لیکن بنی اِسرائیل سمندر کے بیچ میں خُشک زمین پر چلکر نِکل گئے ۔

20  تب ہارون کی بہن مریم نبِیّہ نے دف ہاتھ میں لِیا اور سب عورتیں دف لئے ِ ناچتی ہُوئی اُسکے پیچھے چلیں ۔

21  اور مریم اُنکے گانے کے جواب میں یہ گاتی تھی :۔ خُداوند کی حمدوثنا گاؤ کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتحمند ہئوا ہے ۔ اُس نے گھوڑے کو اُسکے سوار سمیت سمندر میں ڈالدیاہے ۔

22 پھر مُوسیٰ بنی اِسرائیل کو بِحرقلزم سے آگے لے گیا اور وہ شور کے بیابان میں آئے اور بیابان میں چلتے ہُوئے تین دن تک اُنکو کوئی پانی کا چشمہ نہ ملا۔

23  اور جب وہ مارہ میں میں آئے تو مارہ کا پانی پی نہ سکے کیونکہ وہ کڑوا تھا۔ اِسی لئے اُس جگہ کا نام مارہ پڑگیا۔

24 تب وہ لوگ مُوسیٰ پر بڑبڑا کر کہنے لگے کہ ہم کیا پئیں۔

25 اُس نے خُداوند سے فریاد کی ۔ خُداوند نے اُسے ایک پیڑدِکھایا جسِے جب اُس نے پانی میں ڈالاتو پانی میٹھا ہوگیا ۔ وہیں خُداوند نے اُنکے لئِے ایک آئین اور شریعت بنائی اور وہیں یہ کہکر اُنکی آزمائش کی ۔

26  کہ اگر تُو دِل لگا کر خُداوند اپنے خُدا کی بات سُنے اور وُہی کام کرے جو اُسکی نظر میں بھلا ہے اور اُسکے حُکموں کو مانے اور اُسکے آئین پر عمل کرے تو مَیں اُن بیماریوں میں سے جو میں نے مصریوں پر بھیجیں تُجھ پر کوئی نہ بھیجُونگا کیونکہ میں میَں خُداوند تیرا شافی ہُوں

27  پھر وہ ایلیم میں آئے جہاں پانی کے بارہ چشمے اور کھجُور کے سّتر درخت تھے اور وہیں پانی پانی کے قریب اُنہوں نے اپنے ڈیرے لگائے۔

  خُروج 16

1 پھر وہ ایلیم سے روانہ ہوئے اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت ملک مصر سے نکلنے کے بعد دوسرے مہینے کیپندرھویں تاریخ کو سَین کے بیابان میں جوایلیم اور سَینا کے درمیان ہے پہنچی۔

2 اور اُس بیابان میں ساری جماعت مُوسیٰ اور ہارُون پر بڑ بڑانے لگی۔

3 اور بنی اسرائیل کہنے کا شکہ ہم خداوند کے ساتھ سے ملک مصر میں جب ہی مار دیے جاتے ہم گوشت کی ہانڈیوں کے پاس بیٹھ کر دل بھر کر روٹی کھاتے تھے کیونکہ تُم تو ہم کو اس بیابان میں اسلئے لے آئے ہو کہ سارے مجمع کو بُھوکا مارو۔

4 تب خداوند نے موسیٰ سے کہا میں آسمان سے تمہارے لئے روٹیاں برسانگا۔سو یہ لوگ نکل نکل کر فقط ایک ایک دن کا حصّہ ہر روز بٹور لیا کریں کہ اِس سے میں اُن کی آزمائش کرونگا کہ وہ مری شریعت پر چلینگے یا نہیں۔

5 اور اُس چھٹے دن ایسا ہو گا کہ وہ ہر روز جیتنا پکائینگے وہ اُس سے جیتا روز جمع کرتے ہیں دُونا ہو گا۔

6 تب موسیٰ اور ہارُون نے سب بنی اسرائیل سے کہا کہ شام کو تُم جان لو گے کہ جو تمکو مُلک مصر سے نکالکر لایا ہے وہ خداوند ہے۔

7  اور صُبح کو تُم خُداوند کا جال دیکھو گے کیونکہ تُم جو خداوند پر بڑبُڑانے لگتے ہو اُسے وہ سُنتا ہے اور ہم کون ہیں جو تُم ہم پر بڑ بڑاتے ہو؟۔

8 اور موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ شام کو خُداوند تُمکو کھانے کو گوشت اور صُبح کو پیٹ بھر کر کھانے کو دے گاکیونکہ تم جو خداوند پر بڑ بڑاتے ہو اُسے وپ سُنتا ہے اور ہماری کیا حقیقت ہے؟تمہارا بڑ بڑانا ہم پر نہیں بلکہ خدا وند پر ہے۔

9 پھر موسیٰ اور ہارُون نے بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہا کہ تم خداوند کے نزدیک آئو کیونکہ اُس نے تمہارا بڑبڑانا سُن لیا ہے۔

10 اور جب اسرائیل بنی اسرائیل سے یہ باتیں کہہ رہا تھا تو اُنہوں نے بیابان کی طرف نظر کہ اور اُنکو خداوند کا جلال بادل میں نظر آیا ۔

11 اور خداوند نے موسیٰ سے کہہ۔

12  میں نے بنی اسرائیل کا بڑ بڑانا سُن لیا ہے سو تُو اُن سے کہہ دےکہ شام کو تُم گوشت کھائو گے اور صُبح کو روٹی سے سیر ہوگےاور تُم جان لو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

13  اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بیڑیں آئیں کہ اُن کا خٰمہ گاہ کو ڈھانک لیا اور صُبح کو خیمہ گاہ کہ آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی۔

14  اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابا ن میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز ایسے پڑی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں زمین پر پڑی ہے۔

15 بنی اسرائیل اُسے دیکھکر آپس میں کہنے لگے مَن؟ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے۔تب موسیٰ نے کہا کہ وہی روٹی ہے جو خداوند نے تمکو کھانے کو دی ہے۔

16  سو خداوند کا حکم یہ ہے کہ تُم اُسے اپنے اپنے کھانے کی مقدار کے موافق یعنی اپنت آدمیوں کے شمار کے مطابق فی کس ایک اومر جمع کرنا اور ہر شخص اُتنے ہی آدمیوں کےلئے جمع کرے جتنے اُسکے ڈیرے میں ہوں۔

17  بنی اسرائیل نے ایسا ہی کیا اور کسی نے زیادہ اور کسی نے کم جمع کیا۔

18  اور جب اُنہو ں نے اُسے اومر سے ناپا تو جس نے زیادہ جمع کیا کچھ زیادہ نہ پایا اور اُسکا جس نے کم جمع کیا تھا کم نہ ہوا ۔اُن اُن میں سے ہر ایک نے اپنے کھانے کی مقدار کے مطابق جمع کیا تھا ۔

19  اور موسیٰ نے اُن سے کہدیا تھا کہ کوئی اُس میں سے کچُھ صبح تک باقی نہ چھوڑے۔

20  تو بھی اُنہوں نے موسیٰ کی بات نہ مانی بلکہ بعضوں نے صُبح کے لئے کچھ باقی رہنے دیا سو اُس میں کیڑے پڑ گئے اور وہ سڑ گیا۔سو موسیٰ آن سے ناراض ہوا۔

21 اور وہ ہر صُبح اپنے اپنے کھانے کی مقدار کے مطابق جمع کر لیتے تھے اور دھُوپ تیز ہوتے ہی وہ پگھل جاتا تھا ۔

22  اور چحٹے روز ایسا ہوا کہ جتنی روٹی وہ روز جمع کرتے تھے اُس سے دُونی جمع کی یعنی فی کس دو اومراور جماعت کے سب سرداروں نے آکر یہ موسیٰ کو بتایا۔

23 اُس نے اُن کو حُکم دیا کہ خداوند کا حُکم یہ ہے کہ کل خاص آرام کا دن یعنی خداوند کا سبت کا دن ہے جو تُمکو پکانا ہو پکا لو اور جو اُبالنا ہو اُبال لو اور جو بچ رہے اُس کو اپنے لئے صُبح کے لئے محفوظ رکھو۔

24  چنانچہ اُنہوں نے جیسا موسیٰ نے کہا تھا اُسے صُبح تک رہنے دیا اور وہ نہ سڑا اور نہ اُس میں کیڑے پڑے ۔

25  اور موسیٰ نے کہا آج اُسی کو کھائو کیونکہ آج خداوند کا سبت ہےاسلئے وہ تُمکو آج میدان میں نہیں ملیگا۔

26  چھ دن تم اُسے جمع کرنا پر ساتویں دن سبت ہے۔اُس میں وہ نہیں ملیگا۔

27 اور ساتویں دن ایسا ہوا کہ اُن میں سے بعض آدمی مَن بٹورنے گئےپر اُن کو کچھ نہیں ملا۔

28  تب خداوند نے اُن سے کہا کہ تم لوگ کب تک میری شریعت کو ماننے سے انکار کرتے رہو گئے؟۔

29 دیکھو چونکہ خداوند نے تُمکو سبت کا دن دیا ہے اسی لئے وہ چھٹے دن دو دن کا کھانا دیتا ہے۔سو تم اپنی اپنی جگہ رہو اور ساتویں دن کوئی اپنی جگہ سے باہر نہ جائے۔

30 چنانچہ لوگوں نے ساتویں دن آرام کیا۔

31  اور بنی اسرائیل نے اُسکا نام مَن رکھا اور وہ دھنئے کے بیج کی طرح اور اُسکا مزہ شہد کے پوئے کی طرح تھا۔

32  اور موسیٰ نے کہا کہ خداوند یہ حُکم دیتا ہے کہ اُسکا ایک اومر بھر کر اپنی نسل کےلئے رکھ لوتا کہ وہ اُس روٹی کو دیکھتے جو میں نے تُمکو بیابان میں کھلائی جب میں تُمکو ملک مصر سے نکالکر لایا۔

33  اور موسیٰ نے ہارون سے کہا ایک مرتبان لے اور ایک اومر مَن اُس میں بھر کر اُسے خداوند کے آگے رکھ دے تاکہ وہ تمہاری نسل کےلئے رکھتا رہے۔

34  اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو حُکم دیا تھا اُسی کے مطابق ہارون نے اُسے شہادت کے صندوق کے آگے رکھ دیا تاکہ وہ رکھتا رہے۔

35  اور بنی اسرائیل جب تک آبائو ملک میں نہ آئے یعنی چالیس برس تک مَن کھاتے رہے۔الغرض جب تک وہ ملک کنعان کی حدود تک نہ آئے مَن کھاتے رہے۔

36  اور ایک اومر ایفہ کا دسواں حصّہ ہے۔

  خُروج 17

1  پھر بنی اسرائیل کی ساری جماعت نسِین کے بیابان سے چلی اور خُداوند کے حُکم کے مُطابق سفرکرتی ہو ئی رفیدیم میں آکر ڈیرا کیا ۔وہاں اُن لوگوں کے بینے کو پانی نہ مِلا ۔

2  وہاں وہ لوگ موسیٰ سے جھگڑا کر کے کہنے لگے کہ ہم کو پینے کو پانی دے ۔موسیٰ نے اُں سے کہا تُم مُجھ سے کیوں جھگڑتے ہو اور خُداوند کو کیوں آزماتے ہو ؟ ۔

3  وہاں اُں لوگوں کو بڑی پیاس لگی ۔ سو وہ لوگ موسیٰ پر بڑبڑانے لگے اور کہا کہ تُم ہم کو اور ہمارے بچوں اور چوپا یوں کو پیاسا مرنے کے لئے ہم لوگوں کو کیوں مُلِک مصر سے نکال لایا ؟۔

4  موسیٰ نے خُداوند سے فِریاد کر کے کہا کہ مَیں اِن لوگوں سے کیا کُروں ؟ وہ سب تو ابھی مجھے سنگسار کرنے کو تیار ہیں ۔

5  خُداوند نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے آگے ہو کر چل اور بنی اسرائیل کے بُزرگوں میں سے چند کو اپنے ساتھ لےلے اور جس لاٹھی سے تُو نے دریا پر مارا تھا اُسے اپنے ہاتھ میں لیتا جا ۔

6  دِیکھ مَیں تیرے آگے جا کر وہاں حورِب کی ایک چٹان پر کھڑا رہونگا اور تُو اُس چٹان پر مارنا تو اُس میں سے پانی نکلے گا کہ یہ لوگ پِئیں ۔ چنانچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے سامنے یہی کیا ۔

7  اور اُس نے اُس جگہ کا نام متسہ اور مریبہ رکھا کیونکہ بنی اسرائیل نے وہاں جھگڑا کیا اور یہ کہہ کر خُداوند کا امتحان کیا کہ خُداوند ہمارے بیچ میں ہے یا نہیں ۔

8  تب عمالیقی آکر رفیدیم میں بنی اسرائیل سے لڑنے لگے ۔

9  اور موسیٰ نے یشوع سے کہا کہ ہماری طر ف کے کُجھ آدمی چُن کر لے جا اور عمالیقیوں سے لڑ اور مَیں کل خُدا کی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے پہاڑ کی چُوٹی پر کھڑا رہونگا ۔

10  سو مُوسیٰ کے حُکم کے مطابق یشوع عمالیقیوں سے لڑنے لگا اور مُوسیٰ اور ہاروُن اور حور پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے ۔

11  اور جب تک مُوسیٰ اپنا ہاتھ اُٹھائے رہتا تھا بنی اِسرائیل غالب رہتے تھے اور جب وہ ہاتھ لٹکا دیتا تھا تب عمالیقی غائب ہوتے تھے ۔

12  اور جب مُوسیٰ کے ہاتھ بھر گئے تو اُنہوں نے ایک پتھر لیکر مُوسیٰ کے نیچے رکھ دِیا اور وہ اُس پر بیٹھ گیا اور ہارون اور حور ایک اِدھر سے دُوسرا اُدھر سے اُسکے ہاتھوں کو سنبھالے رہے ۔ تب اُسکے ہاتھ آفتاب کے غروُب ہونے تک مضبوطی سے اُٹھے رہے ۔

13 اور یشوع نے عمالیق اور اُسکے لوگوں کو تلوار کی دھار سے شکست دی ۔

14 تب خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا اِس بات کی یاد گاری کے لئے کتاب میں لکھ دے اور یشوع کو سنا دے کہ میں عمالیق کا نام و نشان دُنیا سے بِالکل مِٹا دُونگا ۔

15  اور مُوسیٰ نے ایک قُربانگاہ بنائی اور اُس کا نام یہواہ نِسّی رکھا ۔

16 اور اُس نے کہا خُداوند نے قسم کھائی ہے ۔ سو خُداوند عمالیقیوں سے نسل در نسل جنگ کرتا رہیگا۔

  خُروج 18

1 اور جو کچھ خُداوند نےمُوسیٰ اور اپنی قَوم اِسرائیل کے لئے کِیا اور جس طرح سے خُداوند نے اِسرائیل کو مصر سے نکالا سب مُوسیٰ کےسُسر یترو نےجو مِدیان کا کاہن تھا سُنا۔

2 اور مُوسیٰ کے سسر یترو نے مُوسیٰ کی بیوی صفورہ کو جو میکے بھیج دی گئی تھی ۔

3 اور اُسکے دونوں بیٹوں کو ساتھ لِیا ۔ اِن میں سے ایک کا نام مُوسیٰ نے یہ کہکر الیعز جیر سوم رکھا تھا کہ مَیں پر دیس میں مُسافر ہُوں۔

4  اور دوسرے کا نام الیعزر یہ کہکر رکھا تھا کہ میرے باپ کا خُدا میرا مدد گار ہوا اور اُس نے مُجھے فرعون کی تلوار سے بچایا۔

5 اور مُوسیٰ کا سسر یترو اُسکے بیٹوں اور بیوی کو لیکر مُوسیٰ کے پاس اُس بیابان میں آیا جہاں خُدا کے پہاڑکے پاس اُسکا ڈیرا لگاتھا ۔

6 اور مُوسیٰ سے کہا کہ میں تیرا سسر یترو تیری بیوی کو اور اُسکے ساتھ اسکے دونوں بیٹوں کو لیکر تیرے پاس آیا ہوں۔

7 تب مُوسیٰ اپنے سسر سے ملنے کو باہر نکلا اور کو رنش بجا لا کر اُسکو چُوما اور وہ ایک دوسرے کی خیروعافیت پُوچھتے ہوئے خَیمہ میں آئے ۔

8 اور مُوسیٰ نے اپنے سسر کو بتایا کہ خُداوند نے اِسرائیل کی خاطر فرعون کے ساتھ کیا کیا کِیا اور اِن لوگوں پر راستہ میں کیا کیا مُصیبتیں پڑیں اور خُداوند اُنکو کس کس طرح بچاتا آیا ۔

9 اور تیو ان سب اِحسانوں کے سبب سے خُداوند نے اِسرائیل پر کئے کہ اُنکو مصریوں کے ہاتھ سے نجات بخشی باغ باغ ہوا۔

10  اور تیرونے کہا خُداوند مُبارک ہو جس نے تُمکو مصریوں کے ہاتھ اور فرعون کے ہاتھ سے نجات بخشی اور جس نے اس قوم کو مصریوں کے پنجہ سے چھڑایا۔

11 اب میں جان گیا کہ خُداوند سب معبودوں سے بڑا ہے کیونکہ وہ اُن کاموں میں جو اُنہو ں نے غرورسے کئے اُن پر غالب ہُوا۔

12 اور مُوسیٰ کے سسر تیرو نے خُدا کے لئے سوختنی قربانی اورذبیحے چڑھائے اور ہارون اور اِسرائیل کے سبب بزرگ مُوسیٰ کے سسر کے ساتھ خُدا کے حضور کھانا کھانے آئے ۔

13  اور دوسرے دن مُوسیٰ لوگوں کی عدالت کرنے بیٹھا اور لوگ مُوسیٰکے آس پاس صُبح سے شام تک کھڑے رہے ۔

14 اور جب مُوسیٰ کے سسر نے سب کچھ جو وہ لوگوں کے لئے کرتا تھا دیکھ لیا تو اُس سے کہا یہ کیا کام ہے جو تُو لوگوں کے لئے کرتا ہے ؟ تُو کیوں آپ اکیلا بیٹھتا ہے اور سب لوگ صُبح سےشام تک تیرے آس پاس کھڑے رہتے ہیں۔

15  مُوسیٰ نے اپنے سسر سے کہا اِسکا سبب یہ ہے کہ لوگ میرے پاس خُدا سے دریافت کرنے کے لئے آتے ہیں۔

16 جب اُن میں کُچھ جھگڑا ہوتا ہےتو وہ میرے پاس آتےہیں اور میں اُنکے درمیان اِنصاف کرتا اور خُداکےا حکاماور شریعت اُنکو بتاتا ہُوں۔

17 تب مُوسیٰ کے سسر نے اُس سے کہا کہ تو اچھا کام نہیں کرتا ۔

18 اِس سے تُو بلکہ یہ لوگ بھی جو تیرے ساتھ ہیں قطی گُھل جا ئینگے کیو نکہ یہ کام تیرے لئے بہت بھاری ہے۔ تُو اکیلا اِسے نہیں کر سکتا ۔

19  سو اب تُو میری بات سُن ۔ میَں تُجھے صلاح دیتا ہوں اور خُدا تیرے ساتھ رہے ۔ تُو اِن لوگوں کے لئے خُدا کے سامنے جایا کر اور اِنکے سب معاملے خُدا کے پاس پہنچا دِیا کر ۔

20  اور تُو رسوم اور شریعت کی باتیں اِنکو سِکھایا کر اور جس راستہ اِنکو چلنا اور ہر کام اِنکو کرنا ہو وہ اِنکو بتا یا کر۔

21  اور تُو اِن لوگوں میں سے ایسےلالق اشخاص چُن لے جو خُدا ترس اور سچے اور رشوت کے دشمن ہوں اور اُنکو ہزار ہزار اور سو سو اور پچاس پچاس اور دس دس آدمیو ں پر حاکم بنا دے۔

22 کہ وہ ہر وقت لوگوں کا اِنضاف کِیا کریں اور اَیسا ہو کر بڑے بڑے مقدمے تو وہ تیرے پاس لائیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ حُود ہی کر دِیا کریں۔ یُوں تیرا بوجھ ہلکا ہو جا ئیگا اور وہ بھی اُسکے اُٹھانے میں تیرے شریک ہونگے ۔

23 اگر تُو یہ کام کرے اور خُدا بھی تُجھے ایسا ہی حکم دے تو تُو سب کچھ جھیل سکیگا اور یہ لوگ بھی اپنی جگہ اطمینان سےجا ئینگے ۔

24 اور مُوسیٰ نے اپنے سسر کی بات مانکر جیسا اُس نے بتایا تھا ویسا ہ ہی کیا ۔

25  چُنانچہ مُوسیٰ نے سب اِسرائیلیوں میں سے لا لق اشخاص چُنے اور اُنکو ہزار ہزار اور سو سو اور پچاس پچاس اور دس دس آدمیوں کے اوپر حاکم مُقرر کیا ۔

26  سو یہی ہر وقت لوگوں کا اِنضاف لگے ۔ مشکل مقدمات تو وہ موسیٰ کے پاس لے آتے تھے پر چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ خُود ہی کر دیتے تھے ۔

27 پھر موسیٰ نے اپنے سسر کو رخصت کیا اور وہ اپنے وطن کو روانہ ہو گیا ۔

  خُروج 19

1 اور بنی اِسرائیل کو جس دن مُلِک مصر سے نکلے تین مہینے ہو ئے اُصی دن وہ سینا کے بیابان میں آئے ۔

2  اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔

3 اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔

4  کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُمکا گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔

5 سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔

6 اور تم میرے لئے کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مقدس قوم ہوگے ۔ ان ہی باتوں کو تو بنی اِسرائیل کو سنا دینا ۔

7  تب مُوسیٰ نے آکر اور اُن لوگوں کے بزرگوں کو بلا کر اُنکے رُوبرو وہ سب باتیں جو خُدا وند نے اسے فرمائی تھیں بیان کیں۔

8 اور سب لوگوں نے ملکر جواب دیا کہ جو کچھ خُداوند نے فرمایا ہے وہ سب ہم کر ینگے اور مُوسیٰ نے لوگوں کا جواب خُداوند کو جا کر سنا یا۔

9  اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ دیکھ میں کالے بادل میں اسلئے تیرے پاس آتا ہوں کہ جب میں تُجھ سے باتیں کروں تو یہ لوگ سُنیںاور سدا تیرا یقین کریں اور مُوسیٰ نے لوگوں کی باتیں خُداوند سے بیان کیں ۔

10  اور خُداوند نے مُوسیٰ کہا کہ لوگوں کے پاس جا اور آج اور کل اُنکو پاک کر اور وہ اپنے کپڑے دھولیں ۔

11  اور تیسرے دان تیار رہیں کیونکہ خُداوند تیسرے دن لوگوں کو دیکھتے دیکھتے کوہ سینا پر اتریگا۔

12 اور تو لوگوں کے لئے طرف حد باندھ کر اُن سے کہہ دینا کہ خبردار تُم نہ اس پہاڑ پر چڑھنا اور نہ اسکے دامن کو چھونا ۔ جو کوئی پہاڑ کو چھوئے ضرور جان سے مارڈلا جائے۔

13 مگر اُسے کوئی ہاتھ نہ لگائے بلکہ وہ لا کلام سنگسار کیا جائے یا تیرے چھیدا جائے خواہ وہ انسان ہو خواہ ہو حیوان وہ جیتا نہ چھوڑا جائے اور جب نر سنگا دیر تک پھونکا جائے تو وہ سب پہاڑ کے پاس آجائیں ۔

14  تب مُوسیٰ پہاڑ پر سے اُترکر لوگوں کے پاس گیا اور اُس نے لوگوں کو پاک صاف کیا اور اُنہوں نے اپنے کپڑے دھولئے ۔

15 اور اُس نے لوگوں سے کہہ کہ تیسرے دن تیار رہنا اور عورت کے نزدیک نہ جانا۔

16 جب تیسرا دن آیا تو صبح ہوتے ہی بادل گرجنے اور بجلی چمکنے لگی اور پہاڑ پر کالی گھٹا چھا گئی اور قرناکی آواز بہت بلند ہوئی اور سب لوگ ڈیروں میں کانپ گئے ۔

17 اور مُوسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خُدا سے مِلائے اور وہ پہاڑ سے نیچے آکھڑے ہوئے ۔

18 اور کوہ سینا اُوپر سے نیچے تک دُھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خُداوند شُعلہ میں ہو کر اُس پر اُترا اور دھواں تنُور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔

19 اور جب قرناکی آواز نہایت ہی بلند ہوتی گئی تو مُوسیٰ بولنے لگا اور خُدانے آواز کے ذریعہ سے اُسے جواب دیا ۔

20 اور خُداوند کوہ سینا کی چوٹی پر اُترااور خُدواند نے پہاڑ کی چوٹی پر مُوسیٰ کو بلایا۔سو مُوسیٰ اُوپر چڑھ گیا۔

21  اور خُداوند نے موسیٰ سے کہا کہ نیچے اتر کر لوگوں کو تاکید اًً سمجھا دے تا ایسا نہ ہو کہ وہ دیکھنے کے لئے حدوں کو توڑ کر خُداوند کے پاس آجائیں اور اُن میں سے بہتیرے ہلاک ہو جائیں۔

22 اور کاہن بھی جو خُداوند کے نز دیک آیا کرتے ہیں اپنے تئیں پاک کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ خُاوند اُن پر ٹوٹ پڑے۔

23 تب مُوسیٰ نے خُداوند سے کہا کہ لوگ کوہ سینا پر نہیں چڑھ سکتے کیونکہ تو نے تو ہمکو تاکیداًً کہا ہے کہ پہاڑ کے چوگرد حد بندی کرکے اُسے پاک رکھو ۔

24 خُادوند نے اُسے کہا نیچے اُتر جا اور ہارون کو اپنے ساتھ لیکرآ پر کاہن اور عوام حدیں توڑ کر خُداوند کے پاس اوپر نہ آئیں تا نہ پڑ ے۔

25 چنانچہ مُوسیٰ نیچے اتر کر لوگوں کے پاس گیا اور یہ باتیں اُنکو بتائیں ۔

  خُروج 20

1 اور خُدا نے یہ سب باتیں اُنکو بتائیں۔ ۔

2 خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔

3  میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔

4 تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔

5 تو اُنکے آگے سجدہ نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔

6 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔

7 تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ ٹھہرائیگا۔

8 یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔

9 چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔

10  لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔

11 کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔

12 تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِکک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔

13 تو خُون نہ کر ۔

14  تُو زِنانہ کر۔ّ

15 ) تُو چوری نہ کر۔

16  تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی دینا ۔

17  تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔

18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔

19  اور مُوسیٰ سے کہنے لگے تُو ہی ہم سے باتیں کیا کر اور ہم سن لیا کریں گے لیکن خُدا ہم سے باتیں نہ کرے تانہ ہو کہ ہم مر جائے ۔

20  مُوسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم ڈرو مت کیو نکہ خُدا اس لئے آیا ہے کہ تمہارا امتحان کرے اور تم کو اُس کا خوف ہو تاکہ تم گناہ نہ کرو ۔

21  اور وہ لوگوں دور ہی کھڑے رہے اور مُوسیٰ اُس گہری تاریکی کے نزدیک گیا جہاں خُدا تھا۔

22  اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا تُو بنی اِسرائیل سے یہ کہنا کہ تُم نے خود دِیکھاکہ میں نے آسمان پر سے تمہارے ساتھ باتیں کیں۔

23  تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا یعنی چاندی یا سونے کے دیوتا اپنے لئے نہ گھڑلینا ۔

24 اور تو مٹی کی ایک قربانگاہ میرے لئے بنایا کرنا اور اُس پر اپنی بھیڑ بکریوں اور گائے بیلوں کی سوختنی قربانیاں اور سلامتی کی قربانیاں چڑھنا جہاں جہاںمیں اپنے نام کی یاد گاری کراؤنگا وہاں میں تیرے پاس ؤکر تجھے برکت دونگا ۔

25  اور اگر تُو میرے لئے پتھر کی قربانگاہ بنائے تو تراشے ہوئے پتھر سے بنانا کیونکہ اگر تو اس پر اپنے اوزار لگائے تو تُو اسے ناپاک کر دیگا۔

26  اور تُو اُس پرسیڑھیو ں سے ہر گز نہ چڑھناتانہ ہو کہ تیری برہنگی اُس پر ظاہر ہو۔

  خُروج 21

1 وہ احکام جو تُجھے اُنکو بتانے ہیں یہ ہیں۔

2 اگر تو کوئی عبرانی غلام خریدے تو وہ چھ برس خدمت کرے اور ساتویں برس مُفت آزاد ہو کر چلاجائے۔

3 اگر وہ اکیلاآیا ہو تو اکیلا ہی چلا جائے اور اگر وہ بیاہا ہو تو اُسکی بیوی بھی اُسکے ساتھ جائے ۔

4 اگر اُسکے آقانے اُسکا بیا ہ کرایا ہو اور اُس عورت کے سے بیٹے اور بیٹیاں ہوئی ہوں تو وہ عورت اور اُسکے بچےاُس آقا کے ہو کر رہیں اور وہ اکیلا چلا جائے ۔

5  پر اگر وہ غلام صاف کہہ دے کہ میں اپنے آقا سے اور اپنی بیوی اور بّچوں سے محبّت رکھتا ہوں ۔ میں آزاد ہو کر نہیں جائُونگا ۔

6 تو اُسکا آقا اُسے خُدا کے پاس لے جائے اور اُسے دروازہ پر ےا دروازہ کی چوکھٹ پر لاکر سُتاری سے اُسکا کان چھیدے تب وہ ہمیشہ اُسکی خدِمت کرتا رہے۔

7  اور اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کو لوَنڈی ہونے کے لئے بیچ ڈالے تو وہ غلا موں کی طرح چلی نہ جائے ۔

8 اگر اْ سکا آقا جِس نے اْس سے نِسبت کی ہے اْسے خوْش نہ ہو تو وہ اْسکا فِدیہ منظْور کرے پر اْسے یہ اِختیار نہ ہو گا کہ اْسکو کسِی اجنبی قَوم کے ہاتھ بیچے کیونکہ اْس نے اْس سے دغابازی کی۔

9  اور اگر وہ اُسکی نِسبت اپنے بیٹے سے کر دے تو وہ اُس سے بیٹیوں سا سلُوک کرے ۔

10  اگر وہ دُوسری عورت کر لے تو بھی وہ اُس کے کھا نے کپڑے اور شادی کے فرض سے قاصر نہ ہو ۔

11  اور اگر وہ اُس سے یہ تینوں باتیں نہ کرے تو وہ مُفت بے روپے دِئے چلی جائے ۔

12  اگر کوئی کسِی آدمی کو اَیسا مارے کہ وہ مرجائے تو وہ قطعی جان سے مارا جائے

13  پر اگر وہ شخص گھات لگا کر نہ بیٹھا ہو بلکہ خُدا ہی نے اُسے اُسکے حوالہ کر دیا ہو تو مَیں اَیسے حال میں ایک جگہ بتادُونگا جہاں وہ بھاگ جائے ۔

14  اور اگر کوئی دِیدہ ودانِستہ اپنے ہمسایہ پر چڑھ آئے تاکہ اُسے مکر سے مار ڈالے تو تُو اُسے میری قُربانگا ہ سے جُدا کر دینا تاکہ وہ مارا جائے ۔

15  اور جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں کو مارے وہ قطعی جان سے مارا جائے ۔

16  اور جو کوئی کِسی آدمی کو چُرائے خواہ وہ اُسے بیچ ڈالے خواہ وہ اُسکے ہاں ملے وہ قطعی مار ڈالا جائے ۔

17  اور جو اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرے وہ قطعی مار ڈالا جاے ۔

18  اور اگر وہ شخص جھگڑیں اور ایک دُوسرے کو پتھر یا مُکا مارے اور وہ مر ے تو نہیں پر بستر پر پڑا رہے ۔

19  تو جب وہ اُٹھکر اپنی لاٹھی کے سہارے باہر چلنے پھرنے لگے تب وہ جِس نے مارا تھا بری ہو جائے اور فقط اُسکا ہرجانہ بھر دے اور اُسکا پورا علاج کرا دے ۔

20  اور اگر کوئی اپنے غُلام یا لَونڈی کو لاٹھی سے ایسا مارے کہ وہ اُسکے ہاتھ سے مر جائے تو اُسے ضرور سزا دی جائے ۔

21  لیکن اگر وہ ایک دُو دِن جِیتا رہے تو آقا کو سزا نہ دی جائے اِسلئے کہ وہ غُلام اُسکا مال ہے ۔

22  اگر لوگ آپس میں مار پیٹ کریں اور کسی حاملہ کو ایسی چوٹ پہنچایئں کہ اُسے اِسقاط ہو جائے پر اور کوئی نُقصان نہ ہو تو اُس سے جتنا جُرمانہ اُسکا شوہر تجویز کرے لیا جائے اور وہ جس طرح قاضی فیصلہ کریں جُرمانہ بھر دے ۔

23  لیکن اگر نُقصان ہو جائے تو تُو جان کے بدلے جان لے ۔

24  اور آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ ۔ پاؤں کے بدلے پاؤں ۔

25  جلانے کے بدلے جلانا ۔ زخم کے بدلے زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ ۔

26  اور اگر کوئی اپنے غُلام یا اپنی لونڈی کی آنکھ پر ایسا مارے کہ وہ پُھوٹ جائے تو وہ اُسکے آنکھ کے بدلے اُسے آزاد کر دے ۔

27  اگر کوئی اپنے غُلام یا اپنی لونڈی کا دانت مار کر توڑ دے تو وہ اُسکے دانت کے بدلے اُسے آزاد کر دے ۔

28  اگر بیل کسی مرد یا عورت کو اِیسا سِینگ مارے کہ وہ مر جائے تو وہ بیل ضرور سنگسار کیا جائے اور اُسکا گوشت کھا یا نہ جائے لیکن بیل کا مالک بے گناہ ٹھہرے ۔

29  پر اگر اُس بیل کی پہلے سے سَینگ مارنے کی عادت تھی اور اُسکے مالک کو بتا بھی دیا گیا تھا تو بھی اُس نے اُسے باندھکر نہیں رکھا اور اُس نے کِسی مرد یا عورت کو مار دیا ہو تو بیل سنگسار کیا جائے اور اُسکا مالک بھی مارا جائے ۔

30  اور اگر اُس سے خُون بہامانگا جائے تو اُسے اپنی جان کے فدیہ میں جتنا اُسکے لِئے ٹھہرایا جائے اُتنا ہی دینا پڑیگا ۔

31  خواہ اُسنے کسی کے بیٹے کو مارا ہو یا بیٹی کو اِسی حُکم کے مُوافق اُسکے ساتھ عمل کیا جائے ۔

32  اگر بیل کسی کے خُلام یا لونڈی کو سینگ سے مارے تو مالک اُس غُلام یا لونڈی کے مالک کو تیس مِثقال روپے دے اور بیل سنگسار کیا جائے ۔

33  اور اگر کوئی آدمی گڑھا کھولے یا کھودے اور اُسکا مُنہ نہ ڈھانپے اور کوئی بیل یا گدھا اُس میں گر جاے ۔

34  تو گڑھے کا مالک اِسکا نُقصان بھر دے اور اُنے کے مالک کو قمیت دےاور مرے ہو ئے جانور کو خُود لےلے ۔

35  اور اگر کسی کا بیل دُوسرے کے بیل کو اَیسی چوٹ پہنچائے کہ وہ مر جائے تو وہ جِیتے بیل کو بیچیں اور اُسکا دام آدھا آدھا آپس میں بانٹ لیں اور اِس مرے ہو ئے بیل کو اَیسے ہی بانٹ لیں ۔

36  اور اگر معلوم ہو جائے کہ اُس بیل کی پہلے سے ہی سینگ مارنے کی عادت تھی اور اُسکے مالک نے اُسے باندھکر نہیں رکھا تو اُسے قطعی بیل کے بدلے بیل دِینا ہو گا اور وہ مرا ہوا جانور اُسکا ہوگا

  خُروج 22

1  اگر کوئی آدمی بیل یا بھیڑچُرالے اور اُسے ذبح کر دے یا بیچ ڈالے تو وہ ایک بیل کے کے بدلے پانچ بیل اور ایک بھیڑکے بدلے چار بھیڑیں بھرے۔

2  اگر چور سیندھ مارتے ہو ئے پکڑا جائے اور اُس پر اَیسی مار پڑے کہ وہ مر جائے تو اُسکے خُون کا کوئی جُرم نہیں ۔

3 اگر سوْرج نکل چکے تو اُس کا خون جرم ہو گا بلکہ اسے نقصان بھرنا پڑیگا اور اگر اُسکے پاس کچھ نہ ہو تو وہ چوری کے لئے بیچا جائے ۔

4  اگر چوری کا مال اسکے پاس جیتا مِلے خُواہ وہ بیل ہو یا گدھا یا بھیڑ تو وہ اسکا دُونا بھر دے۔

5 اگر کوئی آدمی کسی کھیت یا تاکِستان کو کھلوا دے اور اپنے جانور کو چھوڑ دے کہ وہ دوسرے کے کھیت کو چرلے تو اپنے کھیت یا تاکستان کی اچھی سے اچھی پیداوار میں سے اسکا معاوضہ دے ۔

6  اگر آگ بھڑ کے اور کانٹو ں میں لگ جائے اور اناج کے ڈھیر یا کھڑی فصل یا کھیت کو جالا کر بھسم کر دے تو جس نے آگ جلائی ہو وہ ضرور معاوضہ دے۔

7  اگر کوئی اپنے ہمسایہ کو نقد یا جنس رکھنے کو دے اور وہ اُس شخص کے گھر سے چوری ہو جائے تو اگر چور پکڑا جائے تو دونا اُسکو بھرنا پڑیگا ۔

8  پر اگر چور پکڑا نہ جائے تو اُس گھر کا مالک خُدا کے آگے لایا جائے تا کہ معلوم ہو جائے کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کے مال کو ہاتھ نہیں لگایا ۔

9 ہر قسم کی خیانت کے معاملہ میں خواہ بیل کا خواہ گدھے یا بھیڑیا کپڑے یا لسی اور کھوئی ہوئی چیز کا ہوجسکی نسبت کو ئی بول اُٹھے کہ وہ چیز یہ ہے تو فریقین کا مُقدمہ خُدا کے حضور لا یا جائے اور جسے خُدا مجرم ٹھہرائے وہ اپنے ہمسایہ کو دونا بھر دے۔

10  اگر کوئی اپنے ہمسایہ کے پاس گدھا یا بیل یا بھیڑیا کوئی اور جانور امانت رکھے اور وہ بغیر کسی کے دیکھے مر جائے یا چوٹ کھا ئے یا ہنکا دیا جائے۔

11  تو ان دونوں کے درمیان خُداوند کی قسم ہو کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کے مال کو ہاتھ نہیں لگایا اور مال کو ہاتھ نہیں لگایا اور مالک اسے سچ مانے اور دوسرا اسکا معاوضہ نہ دے ۔

12 پر اگر وہ اسکے پاس سے چوری ہو جائے تو وہ اسکے مالک کو معاوضہ دے ۔

13  اور اگر اسکو کسی درندے نے پھاڑ ڈالا ہو تو وہ اسکو گواہی کے طور پیش کردے اور پھاڑے ہوئے کا نقصان نہ بھرے ۔

14  اگر کوئی شخص اپنے ہمسایہ سے کوئی جانور عاریت لے اور وہ زخمی ہوجئے یا مر جائے اور مالک وہاں موجود نہ ہو تو وہ ضرور اسکا معاوضہ دے ۔

15 پر اگر مالک ساتھ ہو تو اسکا نقصان نہ بھرے اور اگر کرایہ کی ہوئی چیز ہو تو اسکا نقصان اسکے کرایہ میں آگیا۔

16  اگر کوئی آدمی کسی کنواری کو جسکی نسبت نہ ہوئی ہو پھسلا کر اس سے مبا شرت کرے تو وہ ضرور ہی اسے مہر دیکر اس سے بیاہ کرے ۔

17  لیکن اگر اسکا باپ ہرگز راضی نہ ہو کہ اس لڑکی کو اسے دے تو وہ کنواریوں کے مہر کے موافق اسے نقدی دے۔

18  تو جادو گرنی کو جینے نہ دینا۔

19  جو کوئی کسی جانور سے مبا شرت کرے وہ قطعی جان سے ماراجائے ۔

20  جو کوئی واحد خُداوند کو چھوڑ کر کسی اور معبود کے آگے قربانی چڑھائے وہ بالکل نا بود کر دیا جائے۔

21  اور تو مسافر کو نہ ستانا نہ اس پر ستم کرنا اسلئےب کہ تم بھی مُلِک مصر میں مسافر تھے۔

22  تم کسی بیوہ یا یتیم لڑکے کو دکھ نہ دینا ۔

23  اگر تو انکو کسی طرح سے دکھ دے اور وہ مجھ سے فریاد کریں تو مَیں ضرور انکی فریاد سنونگا۔

24 اور میرا قہر بھڑ کیگا اور میں تمکو تلوار سے مار ڈالونگا اور تمہاری بیویاں بیوہ اور تمہارے بچے یتیم ہوجا ئینگے ۔

25 اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی مُحتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو کچھ قرض دے تو اس سے قرضخواہ کی طرح سلُوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔

26  اگر تو کسی وقت اپنے ہمسایہ کے کپڑے گرد رکھ بھی لے تو سورج کے ڈوبنے تک اسکو واپس کر دینا ۔

27 کیونکہ فقط وہی اسکا ایک اوڑھنا ہے۔ اسکے جسم کا وہی لباس ہے۔ پھر وہ کیا اوڑھکر سوئیگا ؟ پس جب وہ فریاد کریگا تو میں اسکی سنونگا کیونکہ میں مہربان ہوں۔

28  تُو خُدا کو نہ سُنا اور نہ اپنی قوم کے سردار پر لعنت بھیجنا۔

29  تُو اپنی کثیر پیدا وار اور اپنے کو لُھو کے رس میں سے مجھے نذر دنیازدینے ص میں دیر نہ کر نا اور اپنے بیٹوں میں سے پہلوٹھے کو مجھے دینا۔

30  اپنی گایوں اور بھیڑوں سے بھی اِیسا ہی کر نا ۔ سات دن تک تو بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہے ۔ آٹحویں دن تُو اُس کو مجھے دینا ۔

31  اور تم میرے لئے پاک آدمی ہو نا ۔اِسی سبب سے درِندوں کے پھاڑے ہُو ئے جانور کا گوشت جو میدان میں پڑا ہو ا ملے مت کھا نا ۔ تُم اُسے کُتوں کے آگے پھینک دینا ۔

  خُروج 23

1  تُو جھوٹی بات نہ پھیلانا اور نا راست گواہ ہو نے کے لئے شرِیروں کا ساتھ نہ دینا ۔

2  بُرائی کرنے کے لئے کِسی بھیڑ کی پیروی نہ کرنا اور نہ کسی مُقدمہ میں اِنصاف کا خُون کرانے کے لئے بھیڑ کا مُنہ دیکھ کر کُچھ کہنا ۔

3  اور نہ مُقدمہ میں کنگال کی طرفداری کرنا ۔

4  تُو تیرے دُشمن کا بیل یا گدھا تُجھے بھٹکتا ہوا ملے تو تُو ضرور اُسے اُسکے پاس پھیر کر لے آنا ۔

5  اگر تُو اپنے دُشمن کے گدھے کو بوجھ کے نیچے دبا ہوا دیکھے اور اُسکی مدد کرنے کو جی بھی نہ چاہتا ہو تو بھی ضرور اُسے مدد دینا ۔

6  تُو اپنے کنگال لوگوں کے مُقدمہ میں اِنصاف کا خُون نہ کر نا ۔

7  جُھوٹے مُعاملہ سے دُور رہنا اور بے گُناہوں اور صادِقوں کو قتل نہ کرنا کیو نکہ مَیں شریرکو راست نہیں ٹھہراؤنگا ۔

8  تُو رِشوت نہ لینا کیو نکہ رِشوت بِیناؤں کو اندھا کر دیتی ہے اور صادقوں کی با توں کو پلٹ دیتی ہے ۔

9  اور پردیسی پر ظُلم نہ کرنا کیو نکہ تُم پردیسی کے دل کو جانتے ہو اِسلئے کہ تُم خُود بھی مُلِک مصر میں پردیسی تھے ۔

10  اور چھ برس تک تُو زمین میں بونا اور اُسکا غلّہ جمع کر نا ۔

11  پر ساتویں برس اُسے یُوں ہی چھوڑدینا کہ پڑتی رہے تاکہ تیری قُوم کے مسکین اُسے کھایئں اور جو اُن سے بچے اُسے جنگل کے جانور چرلیں ۔ اپنے انگور اور زیتون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا ۔

12  چھ دن تک اپنا کام کاج کرنا اور ساتویں دن آرام کرنا تاکہ تیرے بیل اور گدھے کو آرام مِلے اور تیری لَونڈی کا بیٹا اور پردیسی تازہ دم ہو جایئں ۔

13  اور تُم سب باتوں میں جو مَیں نے تُم سے کہی ہیں ہوشار رہنا اور دُوسرے معبُودوں کا نام تک نہ لینا بلکہ وہ تیرے مُنہ سے سُنائی بھی نہ دے ۔

14  تُو سال بھر میں تین بار میرے لِئے عید منانا ۔

15  عید فطیر کو ماننا ۔ اپس میں میرے حُکم کے مُطابق ابیب مہینے کے مُقّررہ وقت پر سات دِن تک بے خمیری روٹیاں کھانا ( کیو نکہ اُسی مہینے میں تُو مِصر سے نکلا تھا ) اور کو ئی میرے آگے خالی ہاتھ نہ آئے ۔

16  اور جب تیرے کھیت میں جِسے تُو نے محنت سے بویا پہلا پھل آئے تو فصل کا ٹنے کی عید ماننا اور سال کے آخر میں جب تُو اپنی مِحنت کا پھل کھیت سے جمع کرے تو جمع کرنے کی عید منانا ۔

17  اور سال میں تینوں مرتبہ تُمہارے ہاں کے سب مرد خُداوند خُدا کے آگے حاضر ہو ا کریں ۔

18  تُو خمیری روٹی کے ساتھ میرے ذبیحہ کا خُون نہ پڑھا نا اور میری عید کی چربی صُبح تک باقی نہ رہنے دینا ۔

19  تُو اپنی زمین کے پہلے پھلوں کا پہلا حِصہ خُداوند اپنے خُدا کے گھر میں لانا ۔ تُو حلوان کو اُسکی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا ۔

20  دیکھ مَیں ایک فرشتہ تیرے آگے بھیجتا ہوں کہ راستہ میں تیرا نگہبان ہو اور تجھے اُس جگہ پہنچا دے جسے مَیں نے تیار کیا ہے ۔

21  تُم اُسکے آگے ہوشار رہنا اور اُسکی بات ماننا ۔ اُسے ناراض نہ کرنا کیو نکہ وہ تُمہاری خطا نہیں بخشیگا اِسلئے کہ میرا نام اُس میں رہتا ہے ۔

22  پر اگر تُو سچ مچ اُسکی بات مانے اور جو مَیں کہتا ہوں وہ سب کرے تو مَیں تیرے دُشمنوں کا دُشمن اور تیرے مُخالِفوں کا مُخالف ہُونگا ۔

23  اِسلئے کہ میرا فرشتہ تیرے آگے آگے چلیگا اور تجھے اموریوں اور حِتّیوں اور فرزّیوں اور کنعانیوں اور حوّیوں اور یبوسیوں میں پہنچا دیگا اور مَیں انکو ہلاک کر ڈالُونگا ۔

24  تُو اُنکے معُنودوں کو سجدہ نہ کر نا نہ اُنکی عبادت کر نا نہ انکے سے کام کر نا بلکہ اُنکو بالکل اُلٹ دینا اور اُنکے سُتونوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالنا ۔

25  اور تُم خُداوند اپنے خُدا کی عبادت کرنا تب وہ تیری روٹی اور پانی پر برکت دیگا اور مَیں تیرے بیچ سے بیماری کو دُور کر دُونگا ۔

26  اور تیرے مُلک میں نہ تو کسی کے اِسقاط ہو گا اور نہ کوئی بانجھ رہیگی اور مَیں تیری عمر پوری کرونگا ۔

27  مَیں اپنی ہیبت کو تیرے آگے آگے بھیجونگا اور مَیں اُن سب لوگوں کو جنکے پاس تُو جائیگا شکت دُونگا اور مَیں اَیسا کرونگا کہ تیرے سب دُشمن تیرے آگے اپنی پُشت پھیردینگے ۔

28  مَیں تیرے آگے زنبوُروں بھیجونگا جو حوّی اور کنعانی اور حِتّی کو تیرے سامنے سے بھگا دینگے ۔

29  مَیں اُنکو ایک ہی سال میں تیرے آگے سے دُور نہیں کرونگا تا نہ ہو کہ زمین ویِران ہو جائے اور جنگلی دِرندے زیادہ ہو کر تجھے ستانے لگیں ۔

30  بلکہ مَیں تھوڑا تھوڑا کر کے اُنکو تیرے سامنے سے دُور کرتا رہونگا جب تک تُو شُمار میں بڑھ کر مُلک کا وارث نہ ہو جائے ۔

31  مَیں بِحرقُلزم سے لے کر فلستیوں کے سمندر تک اور بیابان سے لےکر نِہر فرات تک تیری حدّیں با ندھُونگا کیونکہ مَیں اُس مُلک کے باشندوں کو تُمہارے ہاتھ میں کردُونگا اور تُو اُنکو اپنے آگے سے نکا ل دیگا ۔

32  تُو اُن سے یا اُنکے معبودوں سے کوئی عہد نہ باندھنا ۔

33  وہ تیرے مُلک میں رہنے نہ پایئں تا نہ ہو کہ وہ تجھ سے میرے خِلاف گُناہ کرایئں کیو نکہ اگر تُو اُن کے معبودوں کی عبا دت کرے تو یہ تیرے لِئے ضرور پھنداہوجائیگا۔

  خُروج 24

1  اور اُس نے مُوسیٰ سےکہا کہ تُو ہارُون اور ندب اور ابہیو اور بنی اِسرائیل کے ستر بُزرگو ں کو لیکر خپداوند کے پاس اُوپر آاور تُم دُور ہی سے سجدہ کرنا۔

2  اور مُو سیٰ اکیلا خُداوند کے نزدیک آئے پر وہ نزدیک نہ آئیں اور اَور لو گ اُسکے ساتھ اُوپر نہ چڑھیں ۔

3  اور مُو سیٰ نے لو گو ں کے پاس جا کر خُداوند کی سب با تیں اوراحکام اُنکو بتا دِئے اور سب لو گو ں نے ہم آواز ہو کر جو اب دِیا کہ جِتنی با تیں خُداوند نے فرما ئی ہیں ہم اُن سب ما ئنیگے ۔

4  اور مُو سیٰ نے خُداوند کیسب با تیں لکھ لیں اور صُبح کو سو یرے اُٹھ کر پہاڑ کے نیچے ایک قُر با نگاہ اور بنی اِسرائیل کے بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ سُتون بنائے۔

5  اور اُس نے بنی اِسرائیل کے جو انو ں کو بھیجا جنہوں نے سو ختنی قُر با نیاں چڑھا ئیں اور بیلوں کو ذبح کر کے سلامتی کے ذبحیے خُداوند کے لئے گُذرانے ۔

6  اور مُوسیٰ نے آدھا خُون لیکر با سنوں میں رکھّا اور آدھا قُربانگاہ پر چھڑک دیا ۔

7  پھر اُس نے عہد نامہ لیا اور لو گوں کو پڑھکر سُنا یا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ خُداوند نے فرما یا ہے اُس سب کو ہم کر نیگے اور تا بع رہے گئے ۔

8  تب مُو سیٰ نے اُس خُون کو لیکر لو گوں پر چھڑکا اور کہا دیکھو یہ اُس عہدکا خُون ہے جو خُداوند نے اِن سب با توں کے بارے میں تُمہارے ساتھ با ند ھا ہے ۔

9  تب مُو سیٰ اور ہا رُون اور ندب اور ابہیو اور بنی اِسرائیل کے ستّربُزرگ اُوپر گئے ۔

10  اور اُنہوں نے اِسرائیل کے خُدا کو دیکھا اور اُسکے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبُوترا سا تھا جو آسمان کی ما نند شفاف تھا۔

11  اور اُس نے بنی اِسرائیل کے شرفا پر اپنا ہا تھ نہ بڑھا یا ۔ سو اُنہوں نے خُدا کو دیکھا اور کھا یا اور پِیا۔

12  اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ پہاڑپر میرے پاس آاور وہیں ٹھہرا رہ اور مَیں تجھے پتھر کی لَو حیں اور شریعت اور احکام جو مَیں نے لکھّےہیں دُونگا تاکہ تُو اُنکو سکھا ئے ۔

13  اور مُوسیٰ اور اُسکا خادم یشوع اُٹھے اور مُوسیٰ خُدا کے پہاڑ کے اُوپر گیا ۔

14  اور بُزرگوں سے کہہ گیا کہ جب تک ہم لَوٹکر تُمہارے پاس نہ آجا ئیں تُم ہمارے لئے یہیں ٹھہر ے ر ہو اور دیکھو ہا رُون اور جو تُمہارے ساتھ ہیں ۔ جِس کسی کا کو ئی مُقدّمہ ہو وہ اُنکے پاس جا ئے ۔

15  تب مُوسیٰ پہاڑ کے اُوپر گیا اور پہاڑ پر گھٹا چھا گئی ۔

16  اور خُداوند کا جلال کوہِ سینا پر آکر ٹھہر ا اور چھ دن تک گھٹا اُس پر چھا ئی ر ہی اور ساتویں دن اُس نے گھٹا میں سے مُوسیٰ کو بُلایا ۔

17  اور بنی اِسرائیل کی نگاہ میں پہاڑ کی چو ٹی پر خُداوند کے جلال کا منظربھسم کر نے والی آگ کی مانند تھا ۔

18  اور مُوسیٰ گھٹا کے بیچ میں ہو کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہ پہاڑ پر چا لیس دن اور چا لیس رات ر ہا ۔

  خُروج 25

1  اور خُداوند نے مُوسیٰ کو فرمایا ۔

2  بنی اِسرائیلی سے یہ کہنا کہ میرے لئے نذر لا ئیں اور تُم اُن ہی سے میری نذر لینا جو اپنے دل کی خُوشی سے دیں ۔

3  اور جن چیزوں کی نذر تُمکو اُن سے لینی ہے وہ یہ ہیں :۔ سو نا اور چاند ی اور پیتل ۔

4  اور آسمانی اور ارغوانی اور سُر خ رنگ کا کپڑا اور باریک کتان اور بکری کی پشم ۔

5  اور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھالیں اور تخس کی کھالیں اور لیکر کی لکڑی ۔

6  اور چراغ کے لئے تیل اور مسح کر نے کے تیل کے لئے اور بخُور کے لئے مصا لح ۔

7  اور سنگ سلُیمانی اور افُود اور سینہ بند میں جڑانے کے نگینے ۔

8  اور وہ میرے لئے ایک مُقدس بنائیں تاکہ مَیں اُنکے درمیان سکُونت کُروں ۔

9  اور مسکن اور اُسکے سارے سامان کا جو نمونہ مَیں تجھے دکھاؤں ٹھیک اُسی کے مُطابق تُم اُسے بنانا ۔

10  اور وہ لیکر کی لکڑی کی ایک صنُدوق بنا ئیں جسکی لمبائی ڈھائی ہا تھ اور چوڑائی ڈیڑھ ہاتھ اور اُونچائی ڈیڑھ ہا تھ ہو ۔

11  اور تُو اُسکے اندر اور با ہر خا لص سو نا منڈھنا اور اُسکے اُوپر گرداگرد ایک زرّین تا ج ۔

12 اور اُسکے لئے سو نے کے چار کڑے ڈھالکراُسکے چاروں پا یوں میں لگا نا ۔ دو کڑے ایک طرف ہو ں اور دوہی دُوسری طرف ۔

13  اور لیکر کی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُن پر سو نا منڈھنا ۔

14  اور اِن چوبوں کو صنُدوق کے اطراف کے کڑوں میں ڈالنا کہ اُنکے سہارے صنُدوق اُٹھ جا ئے ۔

15  چو بیں صنُدوق کے کڑوں کے اندر لگی رہیں اور اُس سے الگ نہ کی جا ئیں ۔

16  اور تُو اُس شہادت نا مہ کو جو مَیں تجھےدُونگا اُسی صنُدوق میں رکھنا ۔

17  اور تُو کفّارہ کا سر پوش خالص سو نے کا بنا نا جِسکا طُول ڈھائی ہاتھ اور عرض ڈیڑھ ہاتھ ہو ۔

18  اور سونے کے دو کروبی سرپوش کے دونوں سروں پر گھڑکر بنا نا ۔

19  ایک کر وبی کو ایک سرے پر اور دُوسرے کروبی کو دُوسرے سرے پر لگانا اور تُم سر پو ش کو اور دونو ں سروں کے کروبیوں کو ایک ہی ٹُکڑے سے بنا نا ۔

20  اور وہ کروبی اِس طرح اوپر کواپنے پر پھیلاےہوں کہ سر پوش کو اپنے پروش ڈھانک لے اور اُن کے منہ آمنے سامنے سر پوش کی طرح ہوں۔

21  اور تُو اُس سر پوش کو اُس صنُدوق کے اُوپر لگا یا اور وہ عہد نا مہ جو مَیں دُونگا اُسے اُس صنُدوق کے اندر رکھنا ۔

22  وہاں مَیں تجھ سے ملا کرونگا اور اُس سر پوش کے اُوپر سے اور کروبیوں کے بیچ میں سے جو عہد نا مہ کے صنُدوق کے اُوپر ہو نگے اُن سب احکام کے بارے میں جو مَین بنی اِسرائیل کے لئے تجھے دُونگا تجھ سے بات چِیت کیا کرُرنگا ۔

23  اور تُو دو ہا تھ لمبی اور ایک ہاتھ چو ڑی اور ڈیڑھ ہا تھ اُونچی کیکر کی لکڑی کی ایک میز بھی بنا نا ۔

24  اور اُسکو خا لص سو نے سے منڈھنا اور اُسکے گردا گرد ایک زرّین تاج بنا نا ۔

25  اور اُسکے چَوگردچار اُنگل چوڑی ایک کنگنی لگانا اور اُس کنگنی کے گردا گرد ایک زرّین تا ج بنا نا ۔

26  اور سو نے کے چار کڑے اُسکے لئے بنا کر کڑوں کو چاروں کو نو ں میں لگا نا جو چاروں پایوں کے مُقابل ہو نگے ۔

27  وہ کڑے کنگنی کے پاس ہی ہوں تاکہ چوبوں کے واسطے جنکے سہارے میز اُٹھائی جا ئے گھروں کا کام دیں ۔

28  اور کیکر کی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُنکو سونے سے منڈ ھنا تاکہ میز اُنہی سے اُٹھائی جائے ۔

29  اور تُو اُسکے طباق اور چمچے اور آفتابے اور اُنڈیلنے کے بڑے بڑے کٹورے سب خالص سو نے کے بنا نا ۔

30  اور تُو اُس میز پر نذر کی رو ٹیاں ہمیشہ میرے رُو برُو رکھنا ۔

31  اور تُوخالص سو نے کا ایک شمعدان بنا نا ۔ وہ شمعدان اور اُسکا پایہ اور ڈنڈی سب گھڑ کر بنا ئے جا ئیں اور اُسکی پیالیاں اور لٹو اور اُسکے پُھول سب ایک ہی ٹُکڑے کے بنے ہوں ۔

32  اور اُسکے دونوں پہلُوؤں سے چھ شا خیں با ہر کو نکلتی ہو ں ۔تین شا خیں شمعدان کے ایک پہلُو سے نکلیں اور تین دُوسرے پہلُو سے ۔

33  ایک شا خ میں با دام کے پُھول کی صورت کی تین پیا لیا ں ۔ ایک لٹو اور ایک پُھول ہو اور دُوسری شا خ میں بھی با دام کے پُھو ل کی صُورت کی تین پیا لیا ں ایک لٹو اور ایک پُھول ہو ۔ اِسی طرح شمعدان کی چھؤں شا خوں میں یہ سب لگا ہو ا ہو ۔

34  اور خُود شمعدان میں بادام کے پُھول کی صُورت کی چار پیا لیا اپنے اپنے لٹو اور پھول سمیت ہو ں ۔

35  اور دو شا خوں کے نیچے ایک لٹو ۔ سب ایک ہی ٹُکڑے کے ہوں اور پھر دو شاخو ں کے نیچے ایک لٹو ۔ سب ایک ہی ٹُکڑے کے ہوں ۔ شمعدان کی چھؤں با ہر کو نکلی ہو ئی شا خیں اَیسی ہی ہو ں ۔

36  یعنی لٹو اور شاخیں اور شمعدان سب ایک ہی ٹُکڑے کے بنے ہوں ۔ یہ سب کا سب خا لص سو نے کے ایک ہی ٹُکڑے سے گھڑ کر بنا یا جا ئے ۔

37  اور تُو اُسکے لئے چراغ بنا نا ۔ یہی چرالائیں تاکہ شمعدان کے سامنے روشنی ہو ۔

38  اور اُسکے گُلگیر اور گُلدان خا لص سو نے کے ہوں ۔

39  شمعدان اور یہ سب ظروف ایک قنطار خا لص سو نے کے بنے ہُو ئے ہوں ۔

40  اور دِیکھ تُو اِنکو ٹھیک اِنکے نمونہ کے مُطابق جو تجھے پہاڑ پر دکھایا گیا بنا نا ۔

  خُروج 26

1  اور تُو مسکن کے لئے دس بنانا ۔ یہ بٹے ہو ئے باریک کتان اور آسمانی قِرمزی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں کے ہو ں اور اِن میں کسی ماہر اُستاد سے کروبیوں کی صُورت کڑھوانا ۔

2  ہر پردہ کی لمبائی اٹھائیس ہاتھ اور چوڑائی چار ہاتھ ہو اور سب پردے ایک ہی نا پ کے ہوں ۔

3  اور پا نچ پر دے ایک دُوسرے سے جو ڑے جا ئیں ۔

4  اور تُو ایک بڑے پردہ کے حا شیہ میں بٹے ہُو ئے کنا رے کی طرف جو جو ڑا جا ئیگا آسمانی رنگ کے تُکمے بنا نا اور اَیسے ہ دُوسرے بڑے پردہ کے حا شیہ میں جو اِسکے ساتھ ملا یا جا ئیگا تُکمے بنا نا ۔

5  پچاس تُکمے ایک بڑے پردہ میں بنا نا اور پچاس ہی دُوسرے بڑے پردہ کے حا شیہ میں جو اِسکے ساتھ ملا یا جا ئیگا بنا نا اور سب تُکمے ایک دُوسرے کے آمنے سا منے ہو ن ۔

6  اور سو نے کی پچاس گُھنڈیا ں بنا کر اِن پردوں کو اِن ہی گُھنڈیوں سے ایک دُوسر ے کے ساتھ جوڑ دینا ۔ تب وہ مسکن ایک ہو جائیگا ۔

7  اور تُو بکری کے بال کے پردے بنا نا تاکہ مسکن کے اُوپر خیمہ کا کام دیں ۔ اَیسے پردے گیارہ ہو ں ۔

8  اور ہر پردہ کی لمبا ئی تیس ہاتھ اور چو ڑائی چار ہا تھ ہو ۔ وہ گیارہ ہوں ۔ پردے ایک ہی نا پ کے ہو ں ۔

9  اور تُو پا نچ پردے ایک جگہ اور چھ پر دے ایک جگہ آپس میں جوڑ دینا اور چھٹے پردہ کو خیمہ کے سامنے موڑ کر دُہرا کر دینا ۔

10  اور تُو پچا س تُکمے اُس پردہ کے حاشیہ میں جو با ہر سے ملا یا جائیگا اور پچاس ہی تُکمے دُوسری طرف کے پردے کے حاشیہ میں جو با ہر سے ملا یا جا ئیگا بنا نا ۔

11  اور پیتل کی پچاس گُھنڈیاں بنا کر اِن گُھنڈیوں کو تُکموں میں پہنا دینا اور خیمہ کو جو ڑ دینا تاکہ وہایک ہو جا ئے ۔

12  اور خیمہ کے ہر دوں کا لٹکا ہو ا حصّہ یعنی آدھا پردہ جو بچ رہیگاوہ مسکن کی پچھلی طرف لٹکا ر ہے ۔

13  اور خیمہ کے پردوں کی لمبائی کئ با قی حصّہ میں سے ایک ہا تھ پر دہ اِدھر سے اور ایک ہا تھ پر دہ اُدھر سے مسکن کی دونوں طرف اِدھر اور اُدھر لٹکا ر ہے تا کہ اُسے ڈھا نک لے ۔

14  اور تُو اِس خیمہ کے لئے مینڈھو ں کی سُرخ رنگی ہو ئی کھالوں کا غلاف اور اُسکے اُوپر تخسوں کی کھا لو ں کا غلاف بنانا ۔

15  اور تُو مسکن کے لئے کیکر کی لکڑی کے تختے بنانا کہ کھڑے کئے جائیں ۔

16  ہر تختہ کی لمبا ئی دس ہا تھ اور چوڑائی ڈیڑھ ہا تھ ہو۔

17  اور ہر تختہ میں دو دو چُولیں ہو ں جو ایک دُو سری سے ملی ہو ئی ہو ں ۔ مسکن کے سب تختے اِسی طرح کے بنا نا ۔

18  اور مسکن کے لئے جو تختے تُو بنا ئیگا اُن میں سے بیس تختے جنوبی سمت کے لئے ہوں ۔

19  اور اِن بیسوں تختوں کے نیچے چا ندی کے چا لیس خا نے بنا نا یعنی ہر ایک تختہ کے نیچے اُسکی دونوں چُولوں کے لئے دو دو خا نے ۔

20  اور مسکن کی دُوسری طرف یعنی شما لی سمت کے لئے بیس تختے ہو ں

21  اور اُنکے لئے بھی چا ندی کے چا لیس ہی خا نے ہو ں یعنی ایک تختہ کے نیچے دو دو خا نے ۔

22  اور مسکن کے پچھلے حصّہ کے لئے مغربی سمت میں چھ تختے بنا نا ۔

23  اور اُسی پچھلے حصّہمیں مسکن کے کو نو ں کے لئے دو تختے بنا نا ۔

24  یہ نیچے سے دُہر ے ہو ں اور اِسی طرح اُوپر کے سر ے تک آکر ایک حلقہ میں ملا ئے جا ئیں ۔ دو نو ں تختے اِسی ڈھب کے ہو ں ۔ یہ تختے دو نو ں کو نو ں کے لئے ہو نگے ۔

25  پس آٹھ تختے اور چا ندی کے سو لہ خا نے ہو نگے یعنی ایک ایک تختہ کے لئے دو دو خا نے ۔

26  اور تُو کیکر کی لکڑی کے بینڈے بنا نا ۔ پا نچ بینڈے مسکن کے ایک پہلو کے تختوں کے لئے ۔

27  اور پا نچ بینڈے مسکن کے دُوسرے پہلُو کے تختوں کے لئے اور پا نچ بینڈے مسکن کے پچھلے حصّہ یعنی سمت کے تختوں کے لئے ۔

28  اور وسطی مینڈا جو تختوں کے بیچ میں ہو وہ خیمہ کی ایک حدّ سے دُوسری حدّتک پہنچے۔

29  اور تُو تختوں کو سو نے سے منڈھنا اور بینڈوں کے گھروں کے لئے سو نے کے کڑے بنا نا اور بینڈوں کو بھی سو نے سے منڈھنا ۔

30  اور تُو مسکن کو اُسی نمونہ کے مُطابق بنا نا جو پہا ڑ پر تجھے دکھا یا گیا ہے ۔

31  اور تُو آسما نی ۔ ارغوانی اور سُرخ کے کپڑوں اور با ریک بٹے ہُو ئے کتان کا ایک پردہ بنا نا اور اُس میں کسی ما ہر اُستاد سے کروبیوں کی صُورت کڑھوانا ۔

32  اور اُسے سو نے سے منڈھے ہو ئے کیکر کے چا ر سُتونوں پر لٹکا نا ۔ اُنکے کُنڈے سو نے کے ہو ں اور چا ند ی کے چار خا نوں پر کھڑے کئے جا ئیں ۔

33  اور پردہ کو گھُنڈیو ں کے نیچے لٹکا نا اور شہادت کے صنُدوق کو وہیں پردہ کے اندر لے جا نا اور یہ پردہ تُمہارے لئے پا ک مقام کو پاک ترین مقام سے الگ کریگا ۔

34 اور تُو سر پوش کو پاک ترین مقام میں شہادت کے صنُدوق پر رکھنا ۔

35  اور میز کو پردہ کے باہر دھر کر شمعدان کو اُسکے مقابل مسکن کی جنوبی سمت میں رکھنا یعنی میز شمالی سمت میں رکھنا ۔۔

36  اور تُو ایک پردہ کے دروازہ کے لئے آسمانی ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور باریک بٹے ہو ئے کتان اور اُس پر بیل بُو ٹے کڑھے ہُوئے ہوں ۔

37  اور اِس پردہ کے لئے کیکر کی لکڑی کے پانچ ستُون بنانا اور اُنکو سونے سے منڈھنا اور اُنکے کُنڈے سونے کے ہو ں جنکے لئے تُو پِیتل کے پانچ خانے ڈھا لکر بنا نا ۔