انجيل مقدس

باب   1  2  3  4  5  6  7  8  9  10  11  12

  دانی ایل 1

1  شاہ یہُوداہ یہُو یقیم کی سلطنت کے تیسرے سال میں شاہ بابل نبُوکد نضر نے یروشلیم پر چڑاھائی کر کے اُس کا مُحاصرہ کیا۔

2  اور خُداوند نے شاہ یہُوداہ یہُو یقیم کو اور خُدا کے گھر کے بعض ظروُف کو اُس کے حوالہ کر دیا اور وہ اُن کو سنعار کی سر زمین میں اپنے بُت خانہ میں لے گیا چُنانچہ اُس نے طروُف کو اپنے بُت کے خزانہ میں داخل کیا۔

3  اور بادشاہ نے اپنے خواجہ سراوں کے سردار اسپنز کو حُکم کیا بنی اسرائیل میں سے اور بادشاہ کی نسل میں سے اور شرفا میں سے لوگوں کو خاضر کرے۔

4  وہ بے عیب جوان بلکہ خُوب صورت اور حکمت میں ماہر اور ہرطرح سے دانش ور اور صاحب علم ہوں جن میں یہ لیاقت ہو کہ شاہی قصر میں کھڑے رہیں اور وہ اُن کو کسدیوں کے علم اور اُن کی زُبان کی تعلیم دے۔

5  اور بادشاہ نے اُن کے لے شاہی خُوراک سے اور اپنے بیٹے کی مے میں سے روزانہ و ظیفہ مُقرر کیا کہ تین سال تک اُن کی پرورش ہو تاکہ اس کے بعد وہ بادشاہ کےحضور کھڑے ہو سکیں۔

6  اور میں اُن میں بنی یہُوداہ میں سے دانی ایل اور حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ تھے۔

7  اور خواجہ سراوں کے سردار نے اُن کے نام رکھے۔ اُس نے دانی ایل کو بیلطشضر اور حننیاہ کو سدرک اور مسیاایل کو میسک اور عزریاہ کو عبدنجو کہا۔

8  لیکن دانی ایل نے اپنے دل میں ارادہ کیا کہ اپنے آپ کو شاہی خُوراک سے اور اُس کی مے سے جو وہ پیتا تھا ناپاک نہ کرے اس لے اُس نے خواجہ سراوں کے سردار سے درخواست کی کہ وہ اپنے آپ کو ناپاک کرنے سے معذور رکھا جائے۔

9  اور خُدا نے دانی ایل کو خواجہ سراوں کے سرداری کی نظر میں مُقبول و محبُوب ٹھہرایا۔

10  چنانچہ خواجہ سراوں کے سردار نے دانی ایل سے کہا کہ میں اپنے خُداوند بادشاہ سے جس نے تمہارا کھانا پینا مُقرر کیا ہے ڈرتا ہُوں ۔ تمہارے چہرے اُس کی نظر میں تمہارے ہم عُمروں کے چہروں سے کیوں زبُون ہُوں اور یُوں تم میرے سر کو بادشاہ کے حُضور خطرہ میں ڈالو؟۔

11  تب دانی ایل نے داروغہ سے جس کو خُواجہ سراوں کے سردار نے دانی ایل اور حننیاہ اور میسا ایل اور عزریاہ پر مُقرر کیا تھا کہا۔

12  میں تیری منت کرتا ہُوں کہ تو دس روز تک اپنے خادموں کو ُزما کر دیکھ اور کھانے کو ساگ پات اور پینے کو پانی ہم کودلوا۔

13  تب ہمارے چہرے اور اُن لوگوں کے چہرے جو شاہی کھانا کھاتے ہیں تیرے حُضور دیکھے جائیں ۔ پھر اپنے خادموں سے جو تو مُناسب سمجھے سو کر۔

14  چُنانچہ اُس نے اُن کی یہ بات قبُول کی اور دس روز تک اُن کو آزمایا۔

15  اور دس روز کے بعد اُن کے چہروں پر اُن سب جوانوں کے چہروں کی نسبت جو شاہی کھانا کھاتے تھے زیادہ رونق اور تازگی نظر آئی۔

16  تب داروغہ نے اُن کی خُوراک اور مے کو جو اُن کے لے مُقرر تھی موقوف تھی موقوف کیا اور اُن کو ساگ پات کھانے کو دیا۔

17  تب خُدا نے اُن چاروں جوانوں کو معرفت اور ہر طرح کی حکمت اور علم میں مہارت بخشی اور دانی ایل ہر طرح کی رویا اور خواب فہم تھا۔

18  اور جب وہ دن گُزر گئے جن کے بعد بادشاہ فرمان کے مُطابق اُن کو حاضر ہونا تھا تو خواجہ سراوں کا سردار اُن کو نبُوکد نضر کے حُضور لے گیا۔

19  اور بادشاہ نے اُن سے گُفتگو کی اور اُن میں سے دانی ایل اور حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ کی مانند کوئی نہ تھا۔ اس لے وہ بادشاہ کے حُضور کھڑے رہنے لگے۔

20  اور ہر طرح کی خرد مندی اور دانش وری کے باب میں جو کُچھ بادشاہ نے اُن سے پُوچھا اُن کو تمام فالگیروں اور نُجومیوں سے جو اُس کے تمام مُلک میں تھے دس درجہ بہتر پایا۔

21  اور دانی ایل خورس بادشاہ کے پہلے سال تک زندہ تھا۔

  دانی ایل 2

1  اور نبُوکد نضر نے اپنی سلطنت کے دُوسرے سال میں ایسے خواب دیکھے جن سے اُس کا دل گھبرا گیا اور اُس کی نیند جاتی رہی۔

2  تب بادشاہ نے حُکم دیا کہ فالگیروں اور نبُومیوں اور جادُوں گروں اور کسدیوں کو بُلائیں کہ بادشاہ کےخواب اُسے بتائیں چُنانچہ وہ آے اور بادشاہ کے حُضور کھڑے ہُوئے۔

3  اور بادشاہ نے اُن سے کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور اُس خواب کو دریافت کرنے کے لے میری جان بےتاب ہے۔

4  تب کسدیوں نے بادشاہ کے حُضور ارامی زُبان میں عرض کی کہ اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ ! اپنے خادموں سے خواب بیان کر اور ہم اُس کی تعمیر کریں گے۔

5 بادشاہ نے کسدیوں کو جواب دیا کو جواب دیا کہ میں تو یہ حکُم دے چُکا ہُوں کہ اگرتم خواب نہ بتاو اور اُس کی تعبیر نہ کرو تو ٹکرے ٹکرے کئے جاو گے اور تمہارے گھر مزبلہ ہو جائیں گے۔

6  لیکن اگر خواب اور اُس کی تعبیر بتاو تو مجھ سے انعام اور صلہ اور بڑی عزت حاصل کرو گے۔ اس لئے خواب اور اُس کی تعبیر مُجھ سے بیان کرو۔

7 انہوں نے پھر عرض کی کہ بادشاہ اپنے خادموں سے خواب بیان کرے تو ہم اُس کی تعبیر کریں گے۔

8  بادشاہ نے جواب دیا میں خُواب جانتا ہوں کہ تم ٹالنا چاہتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ میں حُکم دے چُکا ہُوں ۔

9  لیکن اگر تم مجھ کو اپنا خواب نہ بتاو گے تو تمہارے لئے ایک ہی حُکم ہے کیونکہ تم نے جُھوٹ اور حیلہ کی باتیں بنائیں تا کہ میرے حضُور بیان کرو کہ وقت ٹل جائے۔ پس خواب بتاو تو میں جانوں کہ تم اُس کی تعبیر بھی کرسکتے ہو۔

10  کسدیوں نے بادشاہ سے عرض کی کہ رُوی زمین پر ایسا تو کوئی بھی نہیں جو بادشاہ کی بات بتا سکے اور نہ کوئی بادشاہ یا امیر یا حاکم ایسا ہُوا ہے جس نے کبھی ایسا سوال کسی فالگیریا نجُومی یا کسدی سے کیا ہو۔

11  اور جو بات بادشاہ طلب کرتا ہے نہایت مُشکل ہے اور دیوتاوں کے سوا جن کی سُکونت انسان کے ساتھ نہیں بادشاہ کے حضُور کوئی اس کو بیان نہیں کر سکتا۔

12  اس لے بادشاہ غضب نال اور سخت قہر آُلودہ ہُوا اور اُس نے حُکم کیا کہ بابل کے تمام حکیموں کو ہلاک کریں۔

13  سُو یہ حکُم جا بجا پہُنچا کہ حکیم قتل کئے جائیں تب دانی ایل اور اُس کے رفیقوں کو بھی ڈھونڈنے لگے کہ اُن کو قتل کریں۔

14  تب دانی ایل نے بادشاہ کے جلوداروں کے سردار اریُوک کو جو بابل کے حکیموں کو قتل کرنے کو نکلا تھا خردمندی اور عقل سے جواب دیا۔

15  اُس نے بادشاہ کے جلوداروں اریُوک سے پُوچھا کہ بادشاہ نے ایسا سخت حُکم کیوں جاری کیا؟ تب اریُوک نے دانی ایل سے اس کی حقیقت کہی۔

16 اور دانی ایل نے اندر جا کر بادشاہ سے عرض کی کہ مُجھے مُہلت ملے تو میں بادشاہ کے حُضور تعبیر بیان کُروں گا۔

17  تب دانی ایل نے اپنے گھر جا کر حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ اپنے رفیقوں کو اطلاع دی۔

18  تا کہ وہ اس راز کے باب میں آسمان کے خُدا سے رحمت طلب کریں کہ دانی ایل اور اُس کے رفیق بابل کے باقی حکیموں کے ساتھ ہلاک نہ ہُوں ۔

19  پھر رات کو خواب میں دانی ایل پر وہ راز کُھل گیا اور اُس نے آسمان کے خُدا کو مُبارک کہا۔

20  دانی ایل نے کہا خُدا کا نام تا ابد مُبارک ہو کیونکہ حکمت اور قُدرت اُسی کی ہے۔

21  وہی وقتوں اور زمانوں کو تبدیل کرتا ہے۔وہی بادشاہوں کو معزُول اور قائم کرتا ہےوہی حکیموں کو حکمت اور دانش مندوں کو دانش عنایت کرتا ہے۔

22  وہی گہری اور پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا اور جو کُچھ اندھیرے میں ہے اُسے جانتا ہےاور نُور اُسی کے ساتھ ہے۔

23  میں تیرا شکُر کرتا ہوں اور تیری ستایش کرتا ہُوں اے میرے باپ دادا کے خُدا جس نے مُجھے حکمت اور قدُرت بخشی اور جو کُچھ ہم نے تُجھ سے مانگا تو نے مجھ پر ظاہر کیا کیونکہ تو نے بادشاہ کا معاملہ ہم پر ظاہر کیا ہے۔

24  پس دانی ایل اریُوک کے پاس گیا جو بادشاہ کی طرف سے بابل کے حکیموں کے قتل پر مُقرر ہُوا تھا اور اُس سے یُوں کہا کہ بابل کے حکیموں کو ہلاک نہ کر ۔ مُجھے بادشاہ کے حضُور لے چل میں بادشاہ کو تعبیر بتُادوں گا۔

25  تب اریُوک دانی ایل کو شتابی سے بادشاہ کے حُضور لے گیا اور عرض کی مُجھے یہُودی کے اسیروں میں ایک شخص مل گیا ہے جو بادشاہ کو تعبیر بتا دے گا۔

26  بادشاہ نے دانی ایل سے جس کا لقب بیلطشضر تھا پُوچھا کیا تو اُس خواب کو جو میں نے دیکھا اور اُس کی تعبیر کو مجھ سے بیان کر سکتا ہے؟۔

27  دانی ایل نے بادشاہ کے حضُور عرض کی کہ وہ بھید جو بادشاہ نے پُوچھا حُکما اور نجومی اور جادو گر اور فالگیر بادشاہ کو بتا نہیں سکتے۔

28  لیکن آسمان پر ایک خُدا ہے جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے اور اُس نے نبُوکزنضر بادشاہ پر ظاہر کیا ہے کہ آخری ایّام میں کیا وقوع میں آئے گا۔ تیرا خواب اور تیرے دماغی خیال جو تو نے اپنے پلنگ پر دیکھے یہ ہیں۔

29  اے بادشاہ تو اپنے پلنگ پر لیٹا ہُوا خیال کرنے لگا کہ آئندہ کو کیا ہو گا۔سو وہ جو رازوں کا کھولنے والا ہے تجھ پر ظاہر کرتا ہے کہ کیا کچھ ہوگا۔

30  لیکن اس راز کے مُجھ پر آشکار ہونے کا سبب یہ نہیں کہ مجھ ممیں کسی اور ذی حیات سے زیادہ حکمت ہے بلکہ یہ کہ اس کی تعبیر بادشاہ سے بیان کی جائے اور تو اپنے دل کے تصورات کو پہچانے۔

31  اے بادشاہ تو نے ایک بڑی مُورت دیکھی۔ وہ بڑی مُورت جس کی رونق بے نہایت تھی تیرے سامنے کھڑی ہُوئی اور اُس کی صورت ہیبت ناک تھی۔

32  اُس مُورت کا سر خالص سونے کاتھا ااُس کا سینہ اور اُس کے بازُو چاندی کے۔ اُس کا شکم اور اُس کی رانیں تانبے کی تھیں۔

33  اُس کی ٹانگیں لوہے کی اور اُس کے پاوں کُھ لوہے کے اور کُچھ مٹی کے تھے۔

34  تو اُسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر ہاتھ لگائے بغیر ہی کاٹا گیا اور اُس مُورت کے پاوں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور اُن کو ٹکرے ٹکرے کر دیا۔

35  تب لوہا اور مٹی اور تابنا اور چاندی اور سونا ٹکرے ٹکرے کئے گئے اور تابستانی کھلیہان کے بُھوسے کی مانند ہُوئے اور ہوا اُن کو اُڑا لے گئی یہاں تک کہ اُن کا پتہ نہ ملا اور وہ پھتر جس نے اُس مُورت کو توڑا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین میں پھیل گیا۔

36  وہ خُواب یہ ہے اور اُس کی تعبیر بادشاہ کے حُضور بیان کرتا ہُوں۔

37  اے بادشاہ تو شہنشاہ ہے جس کو آسمان کے خُدا نے بادشاہی و توانائی اور قدرت و شوکت بخشی ہے۔

38  اور جہاں کہیں بنی آدم سکُونت کرتے ہیں اس نے میدان کے چرندے اور ہوا کے پرندے تیرے حوالہ کر کے تجھ کو اُن سب کا حاکم بنایا ہے۔وہ سونے کا سر تو ہی ہے۔

39  اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہوگی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اُس کے بعد ایک اور سلطنت تابنے کی جو تمام زمین پر حکُومت کرے گی۔

40  اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضُبوط ہو گی اور جس طرح لوہا توڑڈالتا ہے اور سب چیزیں پر غالب آتا ہے ہاں جس طرح لوہاسب چیزوں کو ٹکڑے ٹکرے کرتا اور کُچلتا ہے اُسی طرح وہ ٹکرے ٹکرے کرے گی اور کُچل ڈالے گی۔

41  اور جُو تونے دیکھا کہ اُس کے پاوں اور اُنگلیاں کُچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کُچھ لوہے کی تھیں سو اُس سلطنت میں تفرقہ ہو گا مگر جیسا کہ تونے دیکھا کہ اُس میں لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا اُس میں لوہے کی مُضبوطی ہوگی۔

42  اور چُونکہ پاوں کی اُنگلیاں کُچھ لوہے کی اور کُچھ مٹی کی تھیں اس لئے سلطنت کُچھ قوی اور کُچھ ضیعف ہو گئی۔

43  اور جیسا تونے دیکھا کہ لوہا مٹی سے ملا ہُوا تھا وہ بنی آدم سے آمخیتہ ہوں گےلیکن جیسے لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسے ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائیں گے۔

44  اور اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خُدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو گی بلکہ وہ ان تمام مُملکتوں کو ٹکرے ٹکرے اور نیست کرے گی اور وُہی ابد تک قائم رہے گی۔

45  جیسا تو نے دیکھا کہ وہ پھتر ہاتھ لگائے بغیر ہی پہاڑ سے کاٹا گیا اور اُس نے لوہے اور تابنے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکرے ٹکرے کیا خُدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقنیی ہے اور اس کی تعبیر یقینی۔

46  تب بنُوکدنضر بادشاہ نےمُنہ کے بل گر کر دانی ایل کوسجدہ کیا اور حُکم دیا کہ اُسے ہدیہ دیں اور اُس کے سامنے بخُور جلائیں۔

47  بادشاہ نے دانی ایل سے کہا فی الحقیقت تیرا خُدا معبُودوں کا معبُود اور بادشاہوں کا خُداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے کیونکہ تو اس راز کو کھول سکا۔

48  تب بادشاہ نے دانی ایل کو سرفراز کیا اور اُسے بُہت سے بڑے بڑے تحفے عطا کئےاور اُس کو بابل کے تمام صُوبہ پر فرمانروائی بخشی اور بابل کے تمام حکیموں پر حکُمرانی عنایت کی۔

49  تب دانی ایل نے بادشاہ سے درخواست کی اور اُس نے سدرک اور میسک اور عبد نجو کو بابل کے صُوب کی کار پر دازی پر مُقرر کیا لیکن دانی ایل بادشاہ کے دربار میں رہا۔

  دانی ایل 3

1  نبُوکدنضر بادشاہ نے ایک سونے کی مُورت بنوائی جس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور اُسے دُرا کے میدان صُوبہ بابل میں نصب کیا۔

2  تب نبُوکدنضر بادشاہ نے لوگوں کو بھیجا کہ ناظموں اور حاکموں اور سرداروں اور قاضیوں اور خزانچیوں اور مشیروں اور مُفتیوں اور تمام صُوبوں کے منصب داروں کو جمع کریں تا کہ وہ اُس مُورت کی تقدیس پر حاضر ہوں جس کو نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا تھا۔

3  تب ناظم اور حاکم اور سردار اور قاضی اور خزانچی اور مُشیر اور مُفتی اور صُوبوں کے تمام منصب دار اُس مُورت کی تقدیس کے لے جسے نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا تھا جمع ہُوئے اور وہ اُس مُورت کے سامنے جس کو نبُوکدنضر نے نصب کیا تھا کھڑے ہُوئے۔

4  تب ایک مُناد نے بلند آواز سے پُکار کر کہا اے لوگو! اے اُمتو اور اے مُختلف زُبانیں بولنے والو! تمہارے لے یہ حُکم ہے کہ۔

5  جس وقت قرنا اور نے اور ستار اور باب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنو تو اُس مُورت کے سامنے کس کو نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا ہے گر کر سجدہ کرو۔

6 اور جو کوئی گر کر سجدہ نہ کرے اآسی وقت آگ کی جلتی ہُوئی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔

7 اس لے جس وقت سب لوگوں نے قرنا اور نے اور ستار اور رباب اور بربط اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنی تو سب لوگوں اور اُمتوں اور مُختلف زُبانیں بولنے والوں نے اُس مُورت کے سامنے جس کو نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا تھا گر کر سجدہ کیا۔

8 پس اُس وقت چند کسدیوں نے آکر یہُوداہ پر الزام لگایا۔

9 اُنہوں نے نبُوکدنضر بادشاہ سے کہا اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔

10  اے بادشاہ تو نے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ جو کوئی قرنا اور نے اور ستار اور رباب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنے گر کر سونے کی مُورت کو سجدہ کرے۔

11  اور جو کوئی سجدہ نہ کرے آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔

12  اب چند یہُودی ہیں جن کو تونے بابل کے صُوبہ کی کار پر دازی پر مُعین کیا ہے یعنی سدرک اور میسک اور عبد نجو۔ ان آدمیوں نے اے بادشاہ تیری تعظیم نہیں کی۔ وہ تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اُس سونے کی مُورت کو جسے تو نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے۔

13  تب نبُوکدنضر نے قہر و غضب سے حُکم کیا کی سدرک اور میسک اور عبد نجو کو حاضر کریں اور انُہوں نے اُن آدمیوں کو بادشاہ کے حضُور حاضر کیا ۔

14  نبُوکدنضر نے اُن سے کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو کیا یہ سچ ہے کہ تم میرے معبُودوں کی عبادت نہیں کرتےاور اُس سونے کی مُورت کو جسے میں نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے ؟۔

15  اب اگر تم مُستعد رہو کہ جس وقت قرنا اور نے ستار اور رباب اور بربط اور چغار اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنو تو اُس مُورت کے سامنے جو میں نے بنوائی ہے گر کر سجدہ کروتو بہتر پر اگر سجدہ نہ کرو گے تو اُسی وقت آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالے جاو گے اور کون سا معبُود تم کو میرے ہاتھ سے چُھڑائے گا؟۔

16  سدرک اور میسک اور عبد نجو بے بادشاہ سے عرض کی کہ اے نبُوکدنضر اس امر میں ہم تجھے جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے ۔

17  دیکھ ہمارا خُدا جس کی ہم عبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کی جلتی ہُوئی بھٹی سے چھُڑانے کی قدرت رکھتا ہے اور اے بادشاہ وہی ہم کو تیرے ہاتھ سے چُھڑائے گا۔

18 اور نہیں تو اے بادشاہ تجھے معلُوم ہو کہ ہم تیرے معبُودوں کی عبادت نہیں کریں گے اور اُس سونے کی مُورت کو جو تونے نصب کی ہے سجدہ نہیں کریں گے۔

19  تب نبُوکدنضر قہر سے بھر گیا اور اُس کے چہرہ کا رنگ سدرک اور میسک اور عبد نجو پر مُبدل ہُوا اور اُس نے حُکم دیا کہ بھٹی کی آنچ معمول سے سات گُنا زیادہ کریں ۔

20  اور اُس نے اپنے لشکر کے چند زور آور پہلوانوں کو حُکم کیا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کو باندھ کر آگ کی جلتی ہُوئی بھٹی میں ڈال دیں ۔

21  تب یہ مرد اپنے زیر جاموں قمیضوں اور عماموں سمیت باندھے گئے اور آگ کی جلتی بھٹی میں پھینک دے گئے۔

22  پس چُونکہ بادشاہ کا حکم تاکیدی تھا اور بھٹی کی آنچ نہایت تیز تھی اس لے سدرک اور میسک اور عبد نجو کو اُٹھانے والے آگ کے شُعلوں سے ہلاک ہو گئے۔

23  اور یہ تین مرد یعنی سدرک اور میسک اور عبد نجو بندھے ہُوئے آگ کی جلتی بھٹی میں جا پڑے۔

24  تب نبُوکدنضر بادشاہ سراسیمہ ہو کر جلد اُٹھا اور ارکان دولت سے مُخاطب ہو کر کہنے لگا کیا ہم نے تین شخصوں کو بندھوا کر آگ میں نہیں ڈلوایا؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ نے سچ فرمایا ہے۔

25  اُس نے کہا دیکھو میں چار شخص آگ میں کھلے پھرتے دیکھتا ہُوں اور اُن کو کُچھ ضرر نہیں پُہنچا اور چوتھے کی صُورت الہٰ زادہ کی سی ہے۔

26  تب نبُوکدنضر نے آگ کی جلتی بھٹی کے دروازہ پر آ کر کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو خُدا تعالیٰ کے بندہ! باہر نکلو اور ادھر آو۔ پس سدرک اور میسک اور عبد نجو آگ سے نکل آے۔

27  تب ناظموں اور حاکموں اور سرداروں اور بادشاہ کے مُشیروں نے فراہم ہو کر اُن شخصوں پر نظر کی اور دیکھا کہ آگ نے اُن کے بدنوں پر کچھ تاثیر نی کی اور اُن کے سر کا ایک بال بھی نہ جلایا اور اُن کی پوشاک میں مُطلق فرق نہ آیا اور اُن سے آگ سے جلنے کی بُو بھی نہ آتی تھی۔

28  پس نبُوکدنضر نے پُکار کر کہا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کا خُدا مُبارک ہو جس نے اپنا فرشتہ بھیج کر اپنے بندوں کو رہائی بخشی جہنوں نے اُس پر توکل کر کے بادشاہ کے حُکم کو ٹال دیا اور اپنے بدنوں کو نثار کیا کہ اپنے خُدا کے سوا کسی دُوسرے معبُود کی عبادت اور بندگی نہ کریں۔

29  اس لئے میں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ جو قوم یا اُمت یا اہل لُغت سدرک اور میسک اور عبد نجو کے خُدا کے حق میں کوئی بامُناسب بات کہیں اُن کے ٹکرے ٹکرے کئے جائیں گے اور اُن کے گھر مزبلہ ہو جائیں گے کیونکہ کوئی دُوسرا معبُود نہیں جو اس طرح رہائی دے سکے۔

30  پھر بادشاہ نے سدرک اور میسک اور عبد نجو کو صُوبہ بابل میں سرفراز کیا۔

  دانی ایل 4

1  نبُوکدنضر بادشاہ کی طرف سے تمام لوگوں اُمتوں اور اہل لُغت کے لے جو تمام رُوی زمین پر سکُونت کرتے ہیں تمہاری سلامتی افزون ہو۔

2  میں نے مُناسب جانا کہ اُن نشانوں اور عجائب کو ظاہر کرُوں جو خُدا تعالیٰ نے مجھ پر آشکارا کے ہیں ۔

3  اس کے نشان کیسے عظیم اور اُس کے عجائب کیسے مُہیب ہیں! اُس کی ممُلکت ابدی ممُلکت ہے اور اُس کی سلطنت پُشت در پُشت۔

4 میں نبُوکدنضر اپنے گھر میں مُطمن اور اپنے قصر میں کامران تھا ۔

5  میں نے ایک خواب دیکھا جس سے میں ہراسان ہو گیا اور اُن تصُورات سے جو میں نے پلنگ پر کئے اور اُن خیالوں سے جو میرے دماغ میں آے مُجھے پریشانی ہُوئی ۔

6  اس لئے میں نے فرمان جاری کیا کہ بابل کے تمام حکیم میرے حضُور حاضر کئے جائیں تا کہ مجھ سے اُس خواب کی تعبیر بیان کریں۔

7  چُنانچہ ساحر اور نجومی اور کسدی اور فال گیر حاضر ہُوے اور میں نے اُن سے اپنے خواب کا بیان کیا پر اُنہوں نے اُس کی تعبیر مجھ سے بیان نہ کی۔

8  آخر کار دانی ایل میرے سامنے آیا جس کا نام بیلطشضر ہے جو میرے معبُود کا بھی نام ہے۔ اُس میں مُقدس الٰہوں کی رُوح ہے ۔ پس میں نے اُس کے رُوبرُو خواب کا بیان کیا اور کہا ۔

9  اے بیلطشضر ساحروں کے سردار چُونکہ میں جانتا ہُوں کہ مُقدس الٰہوں کی رُوح تجھ میں ہے اور کہ کوئی راز کی بات تیرے لے مُشکل نہیں اس لے جو خواب میں نے دیکھا اُس کی کیفیت اور تعبیر بیان کر۔

10  پلنگ پر میرے دماغ کی رویا یہ تھی ۔ میں نے نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ زمین کے وسط ایک نہایت اُونچا درخت ہے ۔

11  وہ درخت بڑھا اور مُضبوط ہُوا اور اُس کی چوٹی آسمان تک پُہنچی اور وہ زمین کی انہتا تک دکھائی دینے لگا۔

12  اُس کے پتے خُوش نما تھے اور میوہ فراوان تھا اور اُس میں سب کے لئے خُوراک تھی۔ میدان کے چرندے اُس کے سایہ میں اور ہوا کے پرندے اُس کی شاخوں پر بسیرا کرتے تھے اور تمام بشر نے اُس سے پرورش پائی۔

13  میں نے اپنے پلنگ پر اپنی دماغی رویا پر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نگہبان ہاں ایک قُدسی آسمان سے اُترا۔

14  اُس نے بُلند آواز سے پُکار کر یُوں کہا کہ درخت کو کاٹو۔ اُس کی شاخیں تراشو اور اُس کے پتے جھاڑو اور اُس کا پھل بکھیر دو چندے اُس کے نیچے سے چلے جائیں اور پرندے اُس کی شاخوں پر سے اُڑ جائیں ۔

15  لیکن اُس کی جڑوں کا کُندہ زمین میں باقی رہنے دو۔ ہاں لوہے اور تابنے کے بندھن سے بندھا ہُوا میدان کی ہری گھاس میں رہنے دو اور وہ آسمان کی شبنم سے تر ہو اور اُس کا حصہ زمین کی گھاس میں حیوانوں کے ساتھ ہو۔

16  اُس کا دل انسان کا دل نہ رہے بلکہ اُس کو حیوان کا دل دیا جاے اور اُس پر سات رود گُزر جائیں ۔

17  یہ حُکم نگہبانوں کے فیصلہ سے ہے اور یہ امر قُدسیوں کے کہنے کے مُطابق ہے تاکہ سب دی حیات پہچان لیں کہ حق تعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے ادنیٰ آدمیوں کی مُملکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے آدنیٰ آدمی کو اُس پر قائم کرتا ہے۔

18  میں نبُوکدنضر بادشاہ نے یہ خواب دیکھا ہے اے بیلطشضر تو اس کی تعبیر بیان کر کیونکہ میری مملکت کے تمام حکیم مجھ سے اُس کی تعبیر بیان نہیں کر سکتے لیکن تو کر سکتا ہے کیونکہ مُقدس الہٰوں کی رُوح تجھ میں مُوجود ہے۔

19  تب دانی ایل جس کا نام بیلطشضر ہے ایک ساعت تک سراسیمہ رہا اور اپنے خیالات میں پریشان ہُوا۔ بادشاہ نے اُس سے کہا اے بیلطشضر خواب اور اُس کی تعبیر سے تو پریشان نہ ہو۔ بیلطشضر نے جواب دیا اے میرے خُداوند یہ خواب تجھ سے کینہ رکھنے والوں کے لے اور اُس کی تعبیر تیرے دُشمنوں کے لئے ہو۔

20  وہ درخت جو تونے دیکھا کہ بڑھا اور مضبوط ہوا جس کی چوٹی آسمان تک پہُنچی اور زمین کی انتہا تک دکھائی دیتا تھا۔

21  جس کے پتے خُوش نما تھے اور میوہ فراوان تھا ۔ جس میں سب کے لئے خوراک تھی۔ جس کے سایہ میں میدان کے چرندے اور شاخوں پر ہوا کے پرندے بسیرا کرتے تھے۔

22  اے بادشاہ وہ تو ہی ہے جو بڑھا اور مُضبوط ہُوا کیونکہ تیری بُزرگی بڑھی اور آسمان تک پُہنچی اور تیری سلطنت زمین کی انتہا تک ۔

23  اور جو بادشاہ نے دیکھا کہ ایک نگہبان ہاں ایک قُدسی آسمان سے اُترا اور کہنے لگا کہ درخت کو کاٹ ڈالو اور اُسے برباد کرو لیکن اُس کی جڑوں کا کُندہ زمین میں باقی رہنے دو بلکہ اُسے لوہے اور تابنے کے بندھن سے بندھا ہُوا میدان کی ہری گھاس میں رہنے دو کہ وہ آسمان کی شبنم سے تر ہواور جب تک اُس پر سات دور نہ گُزر جائیں اُس کا بخرہ زمین کے حیوانوں کے ساتھ ہو۔

24  اے بادشاہ اس کی تعبیر اور حق تعالیٰ کا وہ حُکم جو بادشاہ میرے خُداوند کے حق میں ہُوا ہے یہی ہے۔

25  کہ تجھے آدمیوں میں سے ہانک کر نکال دیں گے اور تو میدان کے حیوانوں کے ساتھ رہے گا اور تو بیل کی طرح گھاس کھائے گا اور آسمان کی شبنم سے تر ہوگا اور تجھ پر سات دور گزر جائیں گے۔ تب تجھ کو معلوم ہو گا کی حق تعالیٰ انسان کی مملُکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور اُسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے ۔

26  اور یہ جو انُہوں نے حُکم کیا کہ درخت کی جڑوں کے کُندہ کو باقی رہنے دُو اُس کا مطلب یہ ہے کہ جب تو معلوم کر چُکے گا کہ بادشاہی کا اقتدار آسمان کی طرف سے ہے تو تو اپنی سلطنت پر پھر قائم ہو جائے گا۔

27  اس لئے اے بادشاہ تیرے حُضور میری صلاح قبُول ہو اور تو اپنی خطاوں کو صداقت سے اور اپنی بدکرداری کو مسکینوں پر رحم کرنے سے دُور کر۔ مُمکن ہے کہ اس سے تیرا اطمینان زیادہ ہو۔

28  یہ سب کچھ نبُوکدنضر بادشاہ پر گُزرا۔

29  ایک سال کے بعد وہ بابل کے شاہی محل میں ٹہل رہا تھا۔

30  بادشاہ نے فرمایا کیا یہ بابل اعظم نہیں جس کو میں نے اپنی توانائی کی قُدرت سے تعمیر کیا ہے کہ داراُلسّلطنت اور میرے جاہ و جلال کا نمونہ ہُو؟۔

31  بادشاہ یہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ آسمان سے آواز آئی کہ اے نبُوکدنضر بادشاہ تیرے حو میں یہ فتٰوی ہے کہ سلطنت تجھ سے جاتی رہی۔

32  اور تجھے آدمیوں میں سے ہانک کر نکال دیں گے اور تو میدان کے حیوانوں کے ساتھ رہے گا اور بیل کی طرح گھاس کھائے گا اور سات دور تجھ پر گُزریں گے تب تجھ کو معلوم ہو گا کہ حق تعالیٰ آدمیوں کی ممُلکت میں حکمرانی کرتا ہے اور اُسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔

33  اُسی وقت نبُوکدنضر بادشاہ پر یہ بات پُوری ہُوئی اور وہ آدمیوں میں سے نکالا گیا اور بیلوں کی طرح گھاس کھاتا رہا اور اُس کا بدن آسمان کی شبنم سے تر ہُوا یہاں تک کہ اُس کے بال عُقاب کے پروں کی مانند اور اُس کے ناخن پرندوں کے چنگل کی مانند بڑھ گئے۔

34  اور ان ایّام کے گُزرنے کے بعد میں نبُوکدنضر نے آسمان کی طرف آنکھیں آٹھائیں اور میری عقل مجھ میں پھر آئی اور میں نے حق تعالیٰ کا شُکر کیا اور اُس حیّ القیوم کی حمدو ثنا کی جس کی سلطنت ابدی اور جس کی مملکت پُشت در پُشت ہے۔

35  اور زمین کے تمام باشندے ناچیز گنے جاتے ہیں اور وہ آسمانی لشکر اور اہل زمین کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کا ہاتھ روک سکے یا اُس سے کہے کہ تو کیا کرتا ہے؟۔

36  اُسی وقت میری عقل مجھ میں آئی اور میری سلطنے کی شوکت کے لے میرا رُعب اور دبدبہ پھر مجھ میں بحال ہو گیا اور میرے مُشیروں اور امیروں نے مُجھے پھر ڈھونڈا اور میں اپنی ممُلکت میں قائم ہُوا اور میری عظمت میں افزونی ہُوئی۔

37  اب میں نبُوکدنضر آسمان کے بادشاہ کی ستائش اور تکریم و تعظیم کرتا ہُوں کیونکہ وہ اپنے کاموں میں راست اور اپنی سب راہوں میں عادل ہے اور جو مغروری میں چلتے ہیں اُن کو ذلیل کر سکتا ہے۔

  دانی ایل 5

1  بیلطشضر بادشاہ نے اپنے ایک ہزار اُمرا کی بڑی دُھوم دھام سے ضیافت کی اور اُن کے سامنے مے نوشی کی۔

2  بیلطشضر نے مے سے مسرور ہو کر حُکم کیا کہ سونے اور چاندی کے ظروف جو نبُوکدنضر اُس کا باپ یروشیلم کی ہیکل سے نکال لایا تھا لائیں تا کہ بادشاہ اور اُس کے اُمرا اور اُس کی بیویاں اور حرمیں اُن میں مے خواری کریں۔

3  تب سونے کے ظروف کو جو ہیکل سے یعنی خُدا کے گھر سے جو یروشیلم میں ہے لے گئے تھے لائے اور بادشاہ اور اُس کے اُمرا اور اُس کی بیویوں اور حرموں نے مے پی۔

4  اُنہوں نے مے پی اور سونے اور چاندی اور پیتل اور لوہے اور لکڑی اور پتھر کے بُتوں کی حمد کی۔

5  اُسی وقت آدمی کے ہاتھوں کی اُنگلیاں ظاہر ہُوئیں اور اُنہوں نے شمعدان کے مُقابل بادشاہی محل کی دیوار کے گچ پر لکھا اوربادشاہ نے ہاتھ کا وہ حصہ جو لکھتا تھا دیکھا۔

6  تب بادشاہ کے چہرہ کا رنگ اُڑ گیا اور اُس کے خیالات اُس کو پریشان کرنے لگے یہاں تک کہ اُس کی کمر کے جوڑ ڈھیلے ہو گئے اور اُس کے گُھٹنے ایک دُوسرے سے ٹکرانے لگے۔

7 بادشاہ نے چلا کر کہا کہ نجُومیوں اور کسدیوں اور فال گیروں کو حاضر کریں۔ بادشاہ نے بابل کے حکیموں سے کہا کہ جو کوئی اس نوشتہ کو پڑھے اور اس کا مطلب مجھ سے بیان کرے ارغوانی خلعت پائے گا اور اُس کی گردن میں زرین طوق پہنایا جائے گا اور وہ ممُلکت میں تیسرے درجہ کا حاکم ہوگا۔

8  تب بادشاہ کے تمام حکیم حاضر ہُوے لیکن نہ اُس نوشتہ کو پڑھ سکے اور نہ بادشاہ سے اُس کا مطلب بیان کر سکے۔

9  تب بیلطشضر بادشاہ بُہت گھبرایا اور اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا اور اُس کے اُمرا پریشان ہوگے۔

10  اب بادشاہ اور اُس کے اُمرا کی باتیں سن کر بادشاہ کی والدہ جشن گاہ میں آئی اور کہنے لگی اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔ تیرے خیالات تجھ کو پریشان نہ کریں اور تیرا چہرہ مُتغیرنہ ہو۔

11  تیری مملکت میں ایک شخص ہے جس میں قدُوس الہٰوں کی روح ہے اور تیرے باپ کے ایّام میں نور اور دانش اور حکمت الٰہوں کی حکمت کی مانند اُس میں پائی جاتی رہی اور اُس کو نبُکدنضر بادشاہ تیرے باپ نے ساحروں اور نجومیوں اور کسدیوں اور فال گیروں کا سردار بنایا تھا۔

12  کیونکہ اس میں میں ایک فاضل رُوح اور دانش اور عقل اور خوابوں کی تعبیر اور عُقدہ کشائی اور حل مُشکلات کی قُوتّ تھی۔ اُسی دانی ایل میں جس کا نام بادشاہ نے بیلطشضر رکھا تھا۔ پس دانی ایل کو بُلوا۔ وہ مطلب بتائے گا۔

13  تب دانی ایل بادشاہ کے حضُور حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے دانی ایل سے پُوچھا کیا تو وُہی دانی ایل ہے جو یہُوداہ کے اسیروں میں سے ہے جن کو بادشاہ میرا باپ یہُوداہ سے لایا؟۔

14  میں نے تیری بابت سُنا ہے کہ الٰہوں کی رُوح مجھ میں ہے اور نُور اور دانش اور کامل حکمت تجھ میں ہیں۔

15  حکیم اور نجُومی میرے حضُور حاضر کئے گے تاکہ اس نوشتہ کو پڑھیں اور اس کا مطلب مجھ سے بیان کریں لیکن وہ اس کا مطلب بیان نہیں کر سکے۔

16  اور میں نے تیری بابت سُنا ہے کہ تو تعبیر اور حل مُشکلات پر قادر ہے۔ پس اگر تو اس نوشتہ کو پڑھے اور اس کا مطلب مجھ سے بیان کرے تو ارغوانی خلعت پائے گا اور تیری گردن میں زرین طوق پہنایا جائے گا اور تو ممُلکت میں تیسرے درجہ کا حاکم ہو گا۔

17  تب دانی ایل نے بادشاہ کو جواب دیا کہ تیرا انعام تیرے ہی پاس رہے اور اپنا صلہ کسی دُوسرے کو دے تو بھی میں بادشاہ کے لے اس نوشتہ کو پُڑھوں گا اور اس کا مطلب اس سے بیان کُروں گا۔

18  اے بادشاہ خُدا تعالیٰ نے نبُدکدنضر تیرے باپ کو سلطنت اور حشمت اور شوکت اور عزت بخشی۔

19  اور اس حشمت کے سبب سے جو اس نے اُسے بخشی تمام لوگ اور اُمتیں اور اہل لُغت اس کے حُضور لرزان و ترسان ہُوے۔ اُس نے جس کو چاہا ہلاک کیا اور جس کو چاہا زندہ رکھا۔ جس کو چاہا سرفراز کیا اور جس کو چاہا ذلیل کیا۔

20  لیکن جب اُس کی طعبیت میں گُھمنڈ سمایا اور اُس کا دل غُرور سے سخت ہو گیا تو وہ تخت سلطنت سے اُتا دیا گیا اور اُس کی حشمت جاتی رہی۔

21  اور وہ بنی آدم کے درمیان سے ہانک کر نکال دیا گیا اور اُس کا دل حیوانوں کا سا بنا اور گورخروں کے ساتھ رہنے لگا اور اسے بیلوں کی طرح گھاس کھلاتے تھے اور اُس کا بدن آسمان کی شبنم سے تر ہُوا جب تک اُس نے معلوم نہ کیا کہ خُدا تعالیٰ انسان کی ممُلکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُس پر قائم کرتا ہے۔

22  لیکن تو اے بیلطشضر جو اُس کا بیٹا ہے باوجُودیکہ تو اس سب سے واقف تھا تو بھی تو نے اپنے دل سے عاجزی نہ کی۔

23  بلکہ آسمان کے خُداوند کے حضُور اپنے آپ کو بُلند کیا اور اُس کی ہیکل کے ظروف تیرے پاس لائے اور تو نے اپنے اُمرا اور اپنی بیویوں اور حرموں کے ساتھ اُن میں مے خواری کی اور تو نے چاندی اور سونے اور پیتل اور لوہے اور لکڑی اور پتھر کے بُتوں کی حمد کی جو نہ دیکھتے اور نہ سُنتے اور نہ جانتے ہیں۔ اور اُس خُدا کی تمجید نہ کی جس کے ہاتھ میں تیرا دم ہے اور جس کے قابُو میں تیری سب راہیں ہیں۔

24  پس اُس کی طرف سے ہاتھ کا وہ حصہ بھیجا گیا اور یہ نوشتہ لکھا گیا۔

25  اور وہ نوشتہ یہ ہے منے منے تقیل و فرسین ۔

26  اور اس کے معنی یہ ہیں منے یعنی خُدا نے تیری ممُلکت کا حساب کیا اور اُسے تمام کر ڈالا۔

27  تقیل یعنی تو ترازو تولا گیا اور کم نکلا۔

28  فریس یعنی تیری مملکت مُنقسم ہُوئی اور مادیوں اور فارسیوں کو دی گئی۔

29  تب بیلطشضر نے حکم کیا اور دانی ایل کو ارغوانی خلعت پہنایا گیا اور زریں طوق اس کے گلے میں ڈالا گیا اور مُنادی کرائی گے کہ وہ مملکت میں تیسرے درجہ کا حاکم ہو ۔

30  اُسی رات کو بیلطشضر کسدیوں کا بادشاہ قتل ہُوا۔

31  اور دار مادی نے باسٹھ برس کی عُمر میں اُس کی سلطنت حاصل کی ۔

  دانی ایل 6

1  دارا کو پسند آیا کہ ممُلکت پر ایک سو بیس ناظم مُقرر کرے جو تمام مملکت پر حکومت کریں۔

2  اور اُن پر تین وزیر ہو جن میں سے ایک دانی اٰیل تھا تا کہ ناظم اُن کو حساب دیں اور بادشاہ خسارت نہ اُٹھائے۔

3  اور چُونکہ دانی ایل میں فاضل رُوح تھی اس لئے وہ اُن وزیروں اور ناظموں پر سبقت لے گیا اور بادشاہ نے چاہا کہ اُسے تمام مُلک پر مُختار ٹھہرائے۔

4  تب اُن وزیروں اور ناظموں نے چاہا کہ مُلک داری میں دانی ایل پر قصُور ثابت کریں لیکن وہ کوئی یا قصُور نہ پا سکے کیونکہ وہ دیانت دار تھا اور اُس میں کوئی خطا یا تقصیر نہ تھی۔

5  تب انُہوں نے کہا کہ ہم اس دانی ایل کو اُس کے خُدا کی شریعت کے سوا کسی اور بات میں قصور وار نہ پائیں گے۔ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم اس دانی ایل کو اُس کے خُدا کی شریعت کے سوا کسی اور بات میں قصور وار نہ پائیں گے۔

6  پس یہ وزیر اور ناظم بادشاہ کے حضُور جمع ہُوئے اور اُس سے یُوں کہنے لگے کہ اے دارا بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔

7  مملکت کے تمام وزیروں اور حاکموں اور ناظموں اور مُشیروں اور سرداروں نے باہم مشورت کی ہے کہ ایک خُسروانہ آئین مُقرر کریں اور ایک امتناعی فرمان جاری کریں تا کہ اے بادشاہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبُود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے۔

8  اب اے بادشاہ اس فرمان کو قائم کر اور نوشتہ پر دستخط کرتا کہ تبدیل نہ ہو جیسے مادیوں اور فارسیوں کے آئین جو تبدیل نہیں ہوتے۔

9  پس دارا بادشاہ نے اُس نوشتہ اور فرمان پر دستخط کر دے۔

10  اور جب دانی ایل نے معلوم کیا کہ اُس نوشتہ پر دستخط ہو گئے تو اپنے گھر میں آیا اور اُس کی کوٹھری کا دریچہ یروشلیم کی طرف کُھلا تھا وہ دن میں تین مرتبہ حسب معمول گھنٹے ٹیک کر خُدا کے حضُور دُعا اور اُس کی شکر گُزاری کرتا رہا۔

11  تب یہ لوگ جمع ہُوئے اور دیکھا کہ دانی ایل اپنے خُدا کے حضُور دُعا اور التماس کر رہا ہے ۔

12  پس انُہوں نے بادشاہ کے پاس آکر اُس کے حُضور اُس کے فرمان کا یُوں ذکر کیا کہ اے بادشاہ کیا تو نے اس فرمان پر دستخط نہیں کئے کہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبُود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے گا؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ مادیوں اور فارسیوں کے لا تبدیل آئین کے مُطابق یہ بات سچ ہے۔

13  تب اُنہوں نے بادشاہ کے حضُور عرض کی کہ اے بادشاہ یہ دانی ایل جو یہُوداہ کے اسیروں میں سے ہے نہ تیری پروا کرتا ہے اور نہ اُس امتناعی فرمان کو جس پر تونے دستخط کئے ہیں خاطر میں لاتا ہے بلکہ ہر روز تین بار یہ دُعا کرتا ہے۔

14  جب بادشاہ نے یہ باتٰیں سُنیں تو نہایت رنجیدہ ہُوا اور اُس نے دل میں چاہا کہ دانی ایل کو چُھڑائے اور سورج ڈُوبنے تک اُس کے چُھڑانے میں کوشش کرتا رہا ۔

15  پھر یہ لوگ بادشاہ کے حُضور فراہم ہُوئے اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ اے بادشاہ تو سمجھ لے کہ مادیوں اور فارسیوں کا آئین یُوں ہے کہ جو فرمان اور قانُون بادشاہ مُقرر کرے کبھی نہیں بدلتا۔

16  تب بادشاہ نے حُکم دیا اور وہ دانی ایل کو لائے اور شیروں کے ماند میں ڈال دیا پر بادشاہ نے دانی ایل سے کہا تیرا خُدا جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا ہے تجھے چُھڑائے گا۔

17  اور ایک پتھر لا کر اُس کے مُنہ پر رکھ دیا گیا اور بادشاہ نے اپنی اور اپنے امیروں کی مُہر اُس پر کر دی تا کہ وہ بات جو دانی ایل کے حق میں ٹھہرائی گئی تھی تبدیل نہ ہو۔

18  تب بادشاہ اپنے قصر میں گیا اور اُس نے ساری رات فاقہ کیا اور مُوسیقی کے ساز اُس کے سامنے نہ لائے اور اُس کی نیند جاتی رہی۔

19  اور بادشاہ صُبح بُہت سویرے اُٹھا اور جلدی سے شیروں کی ماند طرف چلا۔

20  اور جب ماند پر پُہنچا تو غم ناک آواز سے دانی ایل کو پُکارا۔ بادشاہ نے دانی ایل کو خطاب کر کے کہا اے دانی ایل زندہ خُدا کے بندے کیا تیرا خُدا جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا ہے قادر ہُوا کہ تجھے شیروں سے چُھڑائے؟۔

21  تب دانی ایل نے بادشاہ سے کہا اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔

22  میرے خُدا نے اپنے فرشتہ کو بھیجا اور شیروں کے مُنہ بند کر دے اور اُنہوں نے مُجھے ضرر نہیں پُہنچایا کیونکہ میں اُس کے حُضور بے گُناہ ثابت ہُوا اور تیرے حُضور بھی اے بادشاہ میں نے خطا نہیں کی۔

23  پس بادشاہ نہایت شادمان ہُوا اور حُکم دیا کہ دانی ایل کو اُس ماند سے نکالیں ۔ پس دانی ایل اُس ماند سے نکالا گیا اور معلوم ہُوا کہ اُسے کُچھ ضرر نہیں پُہنچا کیونکہ اُس نے اپنے خُدا پر توکل کیا تھا۔

24  اور بادشاہ نے حُکم دیا اور وہ اُن شخصوں کو جہنوں نے دانی ایل کی شکایت کی تھی لائے اور اُن کے بچوں اور بیویوں سمیت اُن کو شیروں کی ماند میں ڈال دیا اور شیر اُن پر غالب آے اور اس سے پیشتر کہ ماند کی تہ تک پُہنچیں شیروں نے اُن کی سب ہڈیوں توڑ ڈالیں۔

25  تب دارا بادشاہ نے سب لوگوں اور قوموں اور اہل لُغت کو جو رُوی زمین پر بستے تھے نامہ لکھا۔ تمہاری سلامتی افزون ہو۔

26  میں یہ فرمان جاری کرتا ہُوں کہ میری ممُلکت کے ہر ایک صُوبہ کے لوگ دانی ایل کے خُدا کے حضُور ترسان و لرزان ہوں کیونکہ وُہی زندہ خُدا ہے اور ہمیشہ قائم ہے اور اُس کی سلطنت لازوال ہے اور اُس کی ممُلکت ابد تک رہے گی۔

27  وُہی چُھڑاتا اور بچاتا ہے اور آسمان اور زمین میں وہی نشان اور عجائب دکھاتا ہے اُسی نے دانی ایل کو شیروں کے پنجوں سے چُھڑایا ہے ۔

28  پس یہ دانی ایل دارا کی سلطنت اور خورس فارسی کی سلطنت میں کامیاب رہا۔

  دانی ایل 7

1  شاہ بابل بیلطشضر کے پہلے سال میں دانی ایل نے اپنے بستر پر خواب میں اپنے سر کے دماغی خیالات کی رویا دیکھی۔ تب اُس نے اُس خواب کو لکھا اور اُن حالات کا مجمل بیان کیا۔

2  دانی ایل نے یُوں کہا کہ میں نے رات کو ایک رویا دیکھی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ آسمان کی چاروں ہوائیں سمندر پر زور سے چلیں ۔

3  اور سُمندر سے چار بڑے حیوان جو ایک دُوسرے سے مُختلف تھے نکلے۔

4  پہلا شیر ببر کی مانند تھا اور عقاب کے سے بازو رکھتا تھا اور میں دیکھتا رہا جب تک اُس کے سر پر اُکھاڑے گئے اور وہ زمین سے اُٹھایا گیا اور آدمی کی طرح پاوں پر کھڑا کیا گیا اور انسان کا دل اُسے دیا گیا۔

5  اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک دُوسرا حیوان ریچھ کی مانند ہے اور وہ ایک طرف سیدھا کھڑا ہُوا اور اُس کے مُنہ میں اُس کے دانتوں کے درمیان تین پسلیاں تھیں اور اُنہوں نے اُسے کہا کہ اُٹھ اور کثرت سے گوشت کھا۔

6  پھر میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک اور حیوان تیندوے کی مانند اُٹھا جس کی پیٹھ پر پرندے کے سے چار بازو تھے اور اُس حیوان کے چار سر تھے اور سلطنت اُسے دی گئی۔

7  پھر میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کی چوتھا حیوان ہولناک اور ہیبت ناک اور نہایت زبردست ہے اور اُس کے دانت لوہے کے بڑے بڑے تھے۔ وہ نگل جاتا اور ٹکرے ٹکرے کرتا تھا اور جو کُچھ باقی بچتا اُس کو پاوں سے لتاڑتا تھا اور یہ اُن سب پہلے حیوانوں سے مُختلف تھا اور اُس کے دس سینگ تھے۔

8  میں نے اُن سینگوں پر غور سے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ اُن کے درمیان سے ایک اور چھوٹا سا سینگ نکلا جس کے آگے پہلوں میں تین سینگ جڑ سے اُکھاڑے گئے اور کیا دیکھتا ہُوں کہ اُس سینگ میں انسان کی سی آنکھیں ہیں اور ایک مُنہ ہے جس سے گھمنڈ کی باتیں نکلتی ہیں۔

9  میرے دیکھتے ہُوئے تخت لگائے گئے اور قدیم الایّام بیٹھ گیا۔ اُس کا لباس برف سا سفید تھا اور اُس کے سر کے بال خالص اُون کی مانند تھے۔ اُس کا تخت آگ کے شُعلہ کی مانند تھا اور اُس کے پہیے جلتی آگ کی مانند تھے۔

10  اُس کے حضُور سے ایک آتشی دریا جاری تھا۔ ہزاروں ہزار اُس کی خدمت میں حاضر تھے اور لاکھوں لاکھ اُس کے حضور کھڑے تھے۔ عدالت ہو رہی تھی اور کتابیں کھلی تھیں۔

11  میں دیکھ ہی رہا تھا کہ اُس کے سینگ کی گھمنڈ کی باتوں کی آواز کے سبب سے میرے دیکھتے ہُوے وہ حیوان مارا گیا اور اُس کا بدن ہلاک کر کے شُعلہ زن آگ میں ڈالا گیا۔

12  اور باقی حیوانوں کی سلطنت بھی اُن سے لے لی گئی لیکن وہ ایک زمانہ اور ایک دور زندہ رہے۔

13  میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایّام تک پُہنچا۔ وہ اُسے اُس کے حضُور لائے۔

14  اور سلطنت اور حشمت اور مملکت اُسے دی گئی تا کہ سب لوگ اور اُمتیں اور اہل لُغت اُس کی خدمت گُزاری کریں ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اُس کی مملکت لازوال ہو گئ۔

15  مجھ دانی ایل کی رُوح میرے بدن میں ملُول ہُوئی اور میرے دماغ کے خیالات نے مُجھے پریشان کر دیا۔

16  س جو میرے نزدیک کھڑے تھے اُن میں سے ایک کے پاس گیا اور اُس سے ان سب باتوں کی حقیقت دریافت کی۔ پس اُس نے مُجھے بتایا اور ان باتوں کا مطلب سمجھا دیا۔

17  یہ چار بڑے حیوان چار بادشاہ ہیں جو زمین پر برپا ہوں گے۔

18  لیکن حق تعالیٰ کے مُقدس لوگ سلطنت لے لیں گے اورابد تک ہاں ابد الاآباد تک اُس سلطنت کے مالک رہیں گے۔

19  تب میں نے چاہا کہ چوتھے حیوان کی حقیقت سُمجھوں جو اُن سب سے مختلف اور نہایت ہولناک تھا۔ جس کے دانت لوہے کے ناخن پیتل کے تھے۔ جو نگلتا اور ٹکرے ٹکرے کرتا اور جو کچھ باقی بچتا اُس کو پاوں سے لتاڑتا تھا۔

20  اوردس سینگوں کی حقیقت جو اُس کے سر پر تھے اور اُس سینگ کی جو نکلا اور جس کے آگے تین گر گئے یعنی جس سینگ کی آنکھیں تھیں اور ایک مُنہ تھا جو بڑے گھمنڈ کی باتیں کرتا تھا اور جس کی صُورت اُس کے ساتھیوں سے زیادہ رُعب دار تھی۔

21  میں نے دیکھا کہ وہی سینگ مُقدسوں سے جنگ کرتا اور اُن پر غالب آتا رہا۔

22  جب تک کہ قدیم الایّام نہ آیا اور حق تعالیٰ کے مُقدسوں کا انصاف نہ کیا گیا اور وقت آنہ پُہنچا کہ مُقدس لوگ سلطنت کے مالک ہوں۔

23  اُ س نے کہا کہ چوتھا حیوان دُنیا کی چوتھی سلطنت ہے جو تمام سلطنتوں سے مُختلف ہے اور تمام زمین کو نگل جائے گی اور اُسے لتاڑ کر ٹکرے ٹکرے کرے گی۔

24  اور وہ دس سینگ دس بادشاہ ہے جو اس سلطنت پر برپا ہوں گے اور اُن کے بعد ایک اور برپا ہو گا اور وہ پہلوں سے مُختلف ہو گا اور تین بادشاہوں کو زیر کرے گا۔

25  اور وہ حق تعالٰی کے مُقدسوں کو تنگ کرے گا اور مُقررہ اُوقات و شریعت کو بدلنے کی کوشش کرے گا اور وہ ایک دور اور دوروں اور نیم دور تک اُس کے حوالہ کئے جائیں گے۔ تب عدالت قائم ہوگی اور اُس کی سلطنت اُس سے لے لیں گے کہ اُسے ہمیشہ کے لے نیست و نابُود کریں ۔

26  

27  اور تمام آسمان کے نیچے سب مُلکوں کی سلطنت اور ممُلکت اور سلطنت کی حشمت حق تعالٰی کے مُقدس لوگوں کو بخشی جائے گی ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے اور تمام مُملکتیں اُس کی خدمت گُزار اور فرما نبردار ہوں گی۔

28  یہاں پر یہ امر تمام ہُوا۔ میں دانی ایل اپنے اندیشوں سے نہایت گھبرایا اور میرا چہرہ مُتغیر ہُوا لیکن میں نے یہ بات دل ہی میں رکھی۔

  دانی ایل 8

1  بیلطشضر بادشاہ کی سلطنت کے تیسرے سال کی مجھ کو ہاں مُجھ دانی ایل کو ایک رویا نظر آئی یعنی میری پہلی رویا کے بعد۔

2  اور میں نے عالم رویا میں دیکھا اور جس وقت میں نے دیکھا ایسا معلوم ہُوا کہ کہ میں قصر سوسن میں تھا جو صُوبہ عُیلام میں ہے ۔ پھر میں نے عالم رویا ہی میں دیکھا کہ میں دریای اُولائی کے کنارہ پر ہُوں ۔

3  تب میں نے آنکھ اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ دریا کے پاس ایک مینڈھا کھڑا ہے جس کے دو سینگ ہیں۔ دونوں سینگ اُونچےتھے لیکن ایک دُوسرے سے بڑا تھا اور بڑا دُوسرے کے بعد نکلا تھا۔

4  میں نے اُس مینڈھے کو دیکھا کہ مغرب و شمال و جنوب کی طرف سینگ مارتا ہے یہاں تک کہ نہ کوئی جانور اُس کے سامنے کھڑا ہو سکا اور نہ کوئی اُس سے چُھڑا سکا پر وہ جو کُچھ چاہتا تھا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ بُہت بڑا ہو گیا۔

5  اور میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک بکرا مغرب کی طرف سے آ کر تمام رُوی زمین پر ایسا پھرا کہ زمین کو بھی نہ چُھوا اور اُس بکرے کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک عجیب سینگ تھا۔

6  اور وہ اُس دو سینگ والے مینڈھے کے پاس جسے میں نے دریا کے کنارے کھڑا دیکھا آیا اور اپنے زور کے قہر سے اُس پر حملہ آور ہُوا۔

7  اور میں نے دیکھا کہ وہ مینڈھے کے قریب پُہنچا اور اُس کا غضب اُس پر بھڑکا اور اُس نے مینڈھے کو مارا اور اُس کے دونوں سینگ توڑ ڈالے اور مینڈھے میں اُس کے مُقابلہ کی تاب نہ تھی ۔ پس اُس نے اُسے زمین پر پٹک دیا اور اُسے لتاڑ اور کوئی نہ تھا کہ مینڈھے کو اُس سے چُھڑا سکے۔

8  اور وہ بکرا نہایت بُرگ ہُوا اور جب وہ نہایت زور آور ہُوا تو اُس کا بڑا سینگ ٹُوٹ گیا اور اُس کی جگہ چار عجیب سینگ آسمان کی چاروں ہواوں کی طرف نکلے۔

9  اور اُن میں سے ایک سے ایک چھوٹا سینگ نکلا جو جُنوب اور مشرق اور جلالی مُلک کی طرف بے نہایت بڑھ گیا۔

10  اور وہ بڑھ کر اجرام فلک تک پُہنچا اور اُس نے بعض اجرام فلک اور ستاروں کو زمین پر گرا دیا اور اُن کو لتاڑا۔

11  بلکہ اُس نے اجرام کے فرما نروا تک اپنے آپ کو بُلند کیا اور اُس سے دائمی قُربانی کو چھین لیا اور اُس کا مُقدس گرا دیا ۔

12  اور اجرام خطا کاری کے سبب سے دائمی قربانی سمیت اُس کے حوالہ کئے گئے اور اُس نے سچائی کو زمین پر پٹک دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ یُوں ہی کرتا رہا ۔

13  تب میں نے ایک قُدسی کو کلام کرتے سُنا اور دُوسرے قدسی سے جو کلام کرتا تھا پوچھا کہ دائمی قربانی اور ویران کرنے والی خطاکاری کی رویا جس میں مقدس اور اجرام پایمال ہوتے ہیں کب تک رہے گی؟۔

14  اور اُس نے مُجھ سے کہا کہ دو ہزار تین سو صُبح و شام تک اُس کے بعد مقدس پاک کیا جائے گا۔

15  پھر یُوں ہُوا کہ جب میں دانی ایل نے یہ رویا دیکھی اور اُس کی تعبیر کی فکر میں تھا تو کیا دیکھتا ہُوں کہ میرے سامنے کوئی انسان صُورت کھڑا ہے۔

16  اور میں نے اُولائی میں سے آدمی کی آواز سُنی جس نے بُلند آواز سے کہا کہ اے جبرائیل اس شخص کو اس رویا کے معنی سمجھا دے۔

17  چُنانچہ وہ جہاں میں کھڑا تھا نزدیک آیا اور اُس کے آنے سے میں ڈر گیا اور مُنہ کے بل گرا پر اُس نے مُجھ سے کہا اے آدم زاد! سمجھ لے کہ یہ رویا آخری زمانہ کی بابت ہے ۔

18  اور جب وہ مُجھ سے باتیں کر رہا تھا میں گہری نیند میں مُنہ کے بل زمین پر پڑا تھا لیکن اُس نے مُجھے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا۔

19  اور کہا دیکھ میں تُجھے سمجھاوں گا کہ قہر کے آخر میں کیا ہوگا کیونکہ یہ امر آخری مُقررہ وقت کی بابت ہے ۔

20  جو مینڈھا تو نے دیکھا اُس کے دونوں سینگ مادی اور فارس کے بادشاہ ہیں۔

21  اور وہ جسیم بکرا یُونان کا بادشاہ ہے اور اُس کی آنکھوں کے درمیان کا بڑا سینگ پہلا بادشاہ ہے۔

22  اور اُس کے ٹوٹ جانے کے بعد اُس کی جگہ جو چار اور نکلے وہ چار سلطنتیں ہیں جو اُس کی قوم میں قائم ہوں گی لیکن اُن کا اقتدار اُس کا سانہ ہو گا۔

23 اور اُن کی سلطنت کے آخری ایّام میں جب خطا کار لوگ حد تک پُہنچ جائیں گے تو ایک رُو اور رمز شناس بادشاہ ہو گا۔

24  یہ بڑا زبردست ہو گا لیکن اپنی قوت سے نہیں اور عجیب طرح سے برباد کرے گا اور برومند ہو گا اور کام کرے گا اور زور آوروں اور مُقدس لوگوں کو ہلاک کرے گا۔

25  اور اپنی چترائی سے ایسے کام کرے گا کہ اُس کی فطرت کے منصوبے اُس کے ہاتھ میں خُوب انجام پائیں گے اور دل میں بڑا گھمنڈ کرے گا اور صُلح کے وقت میں بہتیروں کو ہلاک کرے گا۔ وہ بادشاہوں کے بادشاہ سے بھی مُقابلہ کرنے کے لے اُٹھ کھڑا ہو گا لیکن بے ہاتھ ہلائے ہی شکست کھائے گا۔

26  اور یہ صُبح و شام کی رویا بیان ہُوئی یقینی ہے لیکن تو اس رویا کو بند کر رکھ کیونکہ اس کا علاقہ بُہت دُور کے ایّام سے ہے ۔

27  اور مجھ دانی ایل کو غش آیا اور میں چند روز تک بیمار پُڑا رہا۔ پھر میں اُٹھا اور بادشاہ کا کاروبار کرنے لگا اور میں رویا سے پریشان تھا لیکن اس کو کوئی نہ سمجھا۔

  دانی ایل 9

1  دارا بن اخسویرس جو مادیوں کی نسل سے تھا اور کسدیوں کی ممُلکت پر بادشاہ مُقرر ہُوا اس کے پہلے سال میں ۔

2  یعنی اُس کی سلطنت کے پہلے سال میں دانی ایل نے کتابوں میں اُن برسوں کا حساب سمجھا جن کی بابت خُداوند کا کلام پر میاہ نبی پر نازل ہُوا کہ یروشیلم کی بربادی پر ستر برس پُورے گُزریں گے۔

3  اور میں نے خُداوند خُدا کی طرف رُخ کیا اور میں منت اور مُناجات کر کے اور روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور راکھ پر بیٹھ کر اُس کا طالب ہُوا۔

4  اور میں نے خُداوند اپنے خُدا سے دُعا کی اور اقرار کیا اور کہا کہ اے خُداوند عظیم اور مُہیب خُدا تو اپنے فرمانبردار مُحبت رکھنے والوں کے لے اپنے عہد و رحم کو قائم رکھتا ہے۔

5  ہم نے گُناہ کیا۔ ہم بر گشتہ ہُوئے ۔ ہم نے شرارت کی۔ ہم نے بغاوت کی بلکہ ہم نے تیرے احکام و آئین کو ترک کیا ہے۔

6  اور ہم تیرے خدمت گُزار نبیوں کے شنوا نہیں ہُوئے جنہوں نے تیرا نام لے کر ہمارے بادشاہوں اور اُمرا سے اور ہمارے باپ دادا اور مُلک کے سب لوگوں سے کلام کیا۔

7  اے خُداوند صداقت تیرے لے ہے اور رُسوائی ہمارے لے جیسے اب یہُوداہ کے لوگوں اور یروشلیم کے باشندوں اور دُور دُور نزدیک کے تمام بنی اسرائیل کے لے ہے جن کو تو نے تمام ممُالک میں ہانک دیا کیونکہ اُنہوں نے تیرے خلاف گُناہ کیا۔

8  اے خُداوند رُسوائی ہمارے لے ہے۔ ہمارے بادشاہوں ہمارے اُمرا اور ہمارے باپ دادا کے لے کیونکہ ہم تیرے گُنہگار ہُوئے۔

9  ہمارا خُداوند ہمارا خُدا رحیم و غفور ہے اگرچہ ہم نے اُس سے بغاوت کی۔

10  ہم خُداوند اپنے خُدا کی آواز کے شنوا نہیں ہُوئے کہ اُس کی شریعت پر جو اُس نے اپنے خدمت گُزار نبیوں کی معرفت ہمارے لے مُقرر کی عمل کریں۔

11  ہاں تمام بنی اسرائیل نے تیری شریعت کو توڑا اور برگشتگی اختیار کی تا کہ تیری آواز کے شنوا نہ ہُوں ۔ اس لئے وہ لُغت اور قسم جوخُدا کے خادم مُوسٰی کی توریت میں مرقوم ہیں ہم پُوری ہُوئیں کیونکہ ہم اس کے گُنہگار ہُوئے۔

12  اور اس نے جو کچھ ہمارے اور ہمارے قاضیوں کے خلاف جو ہماری عدالت کرتے تھے فرمایا تھا ہم پر بلای عظیم لا کر ثابت کر دکھایا کیونکہ جو کُچھ یروشیلم سے کیا گیا وہ تمام جہان میں اور کہیں نہیں ہوا۔

13  جیسا موسٰی کی توریت میں مرقوم ہے یہ تمام مُصیبت ہم پر آئی تو بھی ہم نے خُداوند اپنے خُدا سے التجا نہ کی کہ ہم اپنی بدکرداری سے باز آتے اور تیری سچائی کو پہچانتے۔

14  اس لے خُداوند نے بلا کو نگاہ میں رکھا اور اُس کو ہم پر نازل کیا کیونکہ خُداوند ہمارا خُدا اپنے سب کاموں میں جو وہ کرتا ہے صادق ہے لیکن ہم اس کی آواز کے شنوا نہ ہُوئے۔

15  اور اب اے خُدا وند ہمارے خُدا جو زور آور بازُو سے اپنے لوگوں کو مُلک مصر سے نکال لایا اور اپنے لے نام پیدا کیا جسیا آج کے دن ہے ہم نے گُناہ کیا۔ ہم نے شرارت کی۔

16  اے خُدا وند میں تیری منت کرتا ہُوں کہ تو اپنی تمام صداقت کے مطابق اپنے قہر و غضب کو اپنے شہر یروشیلم یعنی اپنے کوہ مُقدس سے مُوقوف کر کیونکہ ہمارے گُناہوں اور ہمارے باپ دادا کی بدکرداری کے سبب سے یروشیلم اور تیرے لوگ اپنے سب آس پاس والوں کے نزدیک جای ملامت ہُوئے۔

17  پس اب اے ہمارے خُدا اپنے خادم کی دُعا اور التماس سُن اور اپنے چہرہ کو اپنی ہی خاطر اپنے مقدس پر جو ویران ہے جلوہ گر فرما۔

18  اے میرے خُدا کان لگا کر سُن اور آنکھیں کھول کر ہمارے ویرانوں کو اور اُس شہر کو جو تیرے نام سے کہلاتا ہے دیکھ کہ ہم تیرے حضُور اپنی راست بازی پر نہیں بلکہ تیری بے نہایت رحمت پر تکیہ کر کے مُناجات کرتے ہیں۔

19  اے خُداوند سُن ۔ اے خُداوند مُعاف فرما۔ اے خُداوند سُن لے اور کُچھ کر۔ اے میرے خُدا اپنے نام کی خاطر دیرنہ کر کیونکہ تیرا شہر اور تیرے لوگ تیرے ہی نام سے کہلاتے ہیں۔

20  اور جب میں یہ کہتا اور دُعا کرتا اور اپنے اور اپنی قوم اسرائیل کے گُناہوں کا اقرار کرتا تھا اور خُداوند اپنے خُدا کے حضُور اپنے خُدا کے کوہ مُقدس کے لے مُناجات کر رہا تھا۔

21  ہاں میں دُعا میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ وہی شخص جبرائیل جسے میں نے شروع میں رویا دیکھا تھا حُکم کے مُطابق تیز پروازی کرتا ہُوا آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔

22  اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا سے دانی ایل میں اب اس لے آیا ہُوں کہ تجھے دانش و فہم بخُشوں ۔

23  تیری مُناجات کے شُروع ہی میں حُکم صادر ہُوا اور میں آیا ہُوں کہ تجھے بتاوں کیونکہ تو بہت عزیز ہے۔ پس تو غور کر اور رویا کو سمجھ لے۔

24  تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جاے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔

25  پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔

26  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔

27  اور وہ ایک ہفتے کے لے بُہتوں سے عہد قائم کرے گا اور نصف ہفتہ میں ذبیحہ اور ہدیہ موقوف کرے گا اور فصیلوں پر اُجاڑنے والی مکُروہات رکھی جائیں گی یہاں تک کہ بربادی کمال کو پُہنچ جائے گی اور وہ بلا جو مُقرر کی گئی ہے اُس اجاڑ نے والے پر واقع ہو گئی۔

  دانی ایل 10

1  شاہ فارس خورس کے تیسرے سال میں دانی ایل پر جس کا نام بیلطشضر رکھا گیا ایک بات ظاہر کی گئی اور وہ بات سچ اور بڑی لشکر کشی کی تھی اور اُس نے اُس بات پر غور کیا اور اُس رویا کا بھید سمجھا۔

2  میں دانی ایل ان دُونوں میں تین ہفتوں تک ماتم کرتا رہا۔

3  نہ میں نے لذیذ کھانا کھایا نہ گوشت اور مے نے میرے مُنہ میں دخل پایا اور نہ میں نے تیل ملا جب تک کہ پُورے تین ہفتے گُزر نہ گئے۔

4  اور پہلے مہینے کی چوبیسویں تاریخ کو جب میں بڑے دریا یعنی دریای دجلہ کے کنارے پر تھا۔

5  میں نے آنکھ اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص کتانی پیراہن پہنے اور اوفاز کے خالص سونے کا پٹکا کمر پر باندھے کھڑا ہے ۔

6  اس کا بدن زبرجد کی مانند اور اُس کا چہرہ بجلی سا تھا اور اُس کی آنکھیں آتشی چراغوں کی مانند تھیں۔ اُس کے بازو اور پاوں رنگت میں چمکتے ہُوئے پیتل سے تھے اور اُس کی آواز نبوہ کے شور کی مانند تھی۔

7  میں دانی ایل ہی نے یہ رویا دیکھی کیونکہ میرے ساتھیوں نے رویا نہ دیکھی لیکن اُن پر بڑی کپکپی طاری ہُوئی اور وہ اپنے آپ کو چُھپانے کو بھاگ گئے۔

8  سو میں اکیلا رہ گیا اور یہ بڑی رویا دیکھی اور مُجھ میں تاب نہ رہی کیونکہ میری تازگی پژمردگی سے بدل گئی اور میری طاقت جاتی رہی۔

9  پر میں نے اُس کی آواز اور باتیں سُنیں اور میں اُس کی آواز اور باتیں سُنتے وقت مُنہ کے بل بھاری نیند میں پڑ گیا اور میرا مُنہ زمین کی طرف تھا۔

10  اور دیکھ ایک ہاتھ نے مُجھے چُھوا اور مُجھے گھٹنوں اور ہتھلییوں پر بٹھایا۔

11  اور اُس نے مجھ سے کہا اے دانی ایل عزیز مردجو باتیں میں تجھ سے کہتا ہُوں سمجھ لے اور سیدھا کھڑا ہو جا کیونکہ اب میں تیرے پاس بھیجا گیا ہُوں اور جب اُس نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں کانپتا ہُوا کھڑا ہو گیا۔

12  تب اُس نے مُجھ سے کہا اے دانی ایل خوف نہ کر کیونکہ جس روز سے تو نے دل لگایا کہ سمجھے اور اپنے خُدا کے حضُور عاجزی کرے تیری باتیں سُنی گیئں اور تیری باتوں کے سبب سے میں آیا ہُوں ۔

13  پر فارس کی ممُلکت کے مُوکل نے اکیس دن تک میرا مُقابلہ کیا پھر میکائیل جو مُقرب فرشتوں میں سے ہے میری مدد کو پُہنچا اور میں شاہان فارس کے پاس رُکا رہا۔

14  پر اب میں اس لئے آیا ہُوں کہ جو کچھ تیرے لوگوں پر آخری ایّام آنے کو ہے تجھے اُس کی خبر دُوں کیونکہ ہُنوزیہ رویا زمانہ دراز کے لئے ہے۔

15  اور جب اُس نے یہ باتیں مجھ سے کہیں میں سر جُھا کر خاموش ہو رہا۔

16  تب کسی نے جو آدم زاد کی مانند تھا میرے ہونٹوں کو چُھو ا اور میں نے مُنہ کھولا اور جو میرے سامنے کھڑا تھا اُس سے کہا اے خُداوند اس رویا کے سبب سے مجھ پر غم کا ہجُوم ہے اور میں ناتوان ہُوں ۔

17  پس یہ خادم اپنے خُداوند سے کیونکر ہم کلام ہو سکتا ہے؟ پس میں بالکل بے تاب و بیدم ہو گیا۔

18  تب ایک اور نے جس کی صُورت آدمی کی سی تھی آ کر مُجھے چُھوا اور مجھ کو تقویت دی۔

19  اور اُس نے کہا اے عزیز مرد خوف نہ کر ۔ تیری سلامتی ہو۔ مضُبوط و توانا ہو اور جب اُس نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے توانائی پائی اور کہا اے میرے خُداوند فرما کیونکہ تو ہی نے مجھے قوت بخشی ہے۔

20  تب اُس نے کہا کیا تو جانتا ہے کہ میں تیرے پاس کس لے آیا ہُوں ؟ اور اب میں فارس کے مُوکل سے لڑنے کو واپس جاتا ہُوں اور میرے جاتے ہی یُونان کا مُوکل آے گا۔

21  لیکن جو کچھ سچائی کی کتاب میں لکھا ہے تجھے بتاتا ہُوں اور تمہارے موکل میکائیل کے سوا اس میں مرا کوئی مدگار نہیں ہے۔

  دانی ایل 11

1  اور دار مادی کی سلطنت کے پہلے سال میں ہی اُس کو قائم کرنے اور تقویت دینے کو کھڑا ہُوا۔

2  اور اب میں تجھ کو حقیقت بتاتا ہُوں۔ فارس میں ابھی تین بادشاہ اور برپا ہوں گے اور چوتھا اُن سب سے زیادہ دولت مند ہو گا اور جب وہ اپنی دولت سے تقویت پائے گا تو سب کو یُونان کی سلطنت کے خلاف اُبھارے گا۔

3  لیکن ایک زبردست بادشاہ برپا ہوگا جو بڑے تسلط سے حُکمران ہو گا اور جو کچھ چاہے گا کرے گا۔

4  اور اُس کے برپا ہوتے ہی اُس کی سلطنت کو زوال آے گا اور آسمان کی چاروں ہواوں کی اطراف پر تقسیم ہو جائے گی لیکن نہ اُس کی نسل کو ملے گی اور نہ اُس کا اقبال باقی رہے گا بلکہ وہ سلطنت جڑ سے اکھڑ جاے گی اور غیروں کے لے ہو گی۔

5  اور شاہ جنُوب زور پکڑے گا اور اُس کے اُمرا میں سے ایک اُس سے زیادہ اقتدار و اختیار حاصل کرے گا اور اُس کی سلطنت بُہت بڑی ہو گی۔

6  اور چند سال کے بعد وہ آپس میں میل کریں گے کیونکہ شاہ جنُوب کی بیٹی شاہ شُمال کے پاس آے گی تا کہ اتحاد قائم ہو لیکن اُس میں قوت بزو نہ رہے گی اور نہ وہ بادشاہ قائم رہے گا نہ اُس کا اقتدار بلکہ اُن ایّام میں وہ اپنے باپ اور اپنے لانے والوں اور تقویت دینے والے سمیت ترک کی جاے گی۔

7  لیکن اُس کی جڑوں کی ایک شاخ سے ایک شخص اُس کی جگہ برپا ہو گا۔ وہ سپہ سالار ہو کر شاہ شمال کے قلعہ میں داخل ہو گا اور اُن پر حملہ کرے گا اور غالب آے گا۔

8  اور اُن کے بُتوں اور ڈھالی ہُوئی مُورتوں کو سونے چاندی کے قمیتی ظروف سمیت اسیر کر کے مصر کو لے جاے گا اور چند سال تک شاہ شمال سے دست بردار رہے گا۔

9  پھر وہ شاہ جنُوب کی مملکت میں داخل ہو گا پر اپنے مُلک کو واپس جاے گا۔

10  لیکن اُس کے بیٹے برانگخیتہ ہوں گے جو بڑا لشکر جمع کریں گے اور وہ چڑھائی کر کے پھیلے گا اور گُزر جاے گا اور وہ لُوٹ کر اس کے قلعہ تک لڑیں گے۔

11  اور شاہ جنوب غضب ناک ہو کر نکلے گا اور شاہ شمال سے جنگ کرے گا اور وہ بڑا لشکر لے کر آے گا اور وہ بڑا لشکر اُس کے حوالہ کر دیا جائے گا۔

12  اور جب وہ لشکر پراگندہ کر دیا جائے گا تو اُس کے دل میں گھمنڈ سماے گا ۔ وہ لاکھوں کو گراے گا لیکن غالب نہ آے گا۔

13  اور شاہ شمال دوبارہ حملہ کرے گا اور پہلے سے زیادہ لشکر جمع کرے گا اور چند سال کے بعد بُہت سے لشکر و مال کے ساتھ پھر حملہ آور ہو گا۔

14  اور اُن دنوں میں بُہیترے شاہ جنوب پر چڑھائی کریں گے اور تیری قوم کے قزاق بھی اُٹھیں گے کہ اُس رویا کو پُورا کریں پر وہ گر جائیں گے۔

15  چُنانچہ شاہ شمال آے گا اور دمدمہ باندھے گا اور حصین شہر لے لے گا اور جُنوب کی طاقت قائم نہ رہے گی اور اُس کے پیدہ مردوں میں مُقابلہ کی تاب نہ ہوگی۔

16  اور حملہ آور جو کچھ چاہے گا کرے گا اور کوئی اُس کا مُقابلہ نہ کر سکے گا۔ وہ اُس جلالی مُلک میں قیام کرے گا اور اُس کے ہاتھ میں تباہی ہو گی۔

17  اور وہ یہ ورادہ کرے گا کہ اپنی مملکت کی تمام شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہو اور صادق اُس کے ساتھ ہوں گے۔ وہ کامیاب ہوگا اور وہ اُسے جوان کُنواری دے گا کہ اُس کی بربادی کا باعث ہو لیکن یہ تدبیر قائم نہ رہے گی اور اُس کو اُس سے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔

18  پھر وہ بحری ممالک کا رُخ کرے گا اور بُہت سے لے لے گا لیکن ایک سردار اُس کی ملامت کو موقوف کرے گا بلکہ اُسے اُسی کے سر پر ڈالے گا۔

19  تب وہ اپنے مُلک کے قلعوں کی طرف مُڑے گا لیکن ٹھوکر کھا کر گرپڑے گا اور معدوم ہو جاے گا۔

20  اور اُس کی جگہ ایک اور برپا ہوگا جو اُس خُوبصورت مملکے میں خراج گیر بھیجے گا لیکن وہ چند روز میں بے قہرو جنگ ہی ہلاک ہو جاے گا۔

21  پھر اُس کی جگہ ایک پاجی برپا ہوگا جو سلطنت کی عزت کا حق دار نہ ہوگا لیکن وہ ناگہان آے گا اور چاپُلوسی کر کے مملکت پر قابض ہو جاے گا۔

22  اور وہ سیلاب افواج کو اپنے سامنے رگیدے گا اور شکست دے گا اور امیر عہد کو بھی نہ چھوڑے گا۔

23  اور جب اُس کے ساتھ عہد و پیمان ہو جاے گا تو دغا بازی کرے گا کیونکہ وہ بڑھے گا اور ایک قلیل جماعت کی مدد سے اقتدار حاصل کرے گا۔

24  اور ایّام امن میں مُلک کے زرخیر مقامات میں داخل ہو گا اور جو کُچھ اُس کے باپ دادا اور اُن کے آباواجداد سے نہ ہُوا تھا کر دکھاے گا۔وہ غنمیت اور لُوٹ اور مال اُن میں تقسیم کرے گا اور کچھ عرصہ تک مُضبوط قلعوں کے خلاف مُنصوبہ باندھے گا۔

25  وہ اپنے زور اور دل کو اُبھارے گا کہ بڑی فوج کے ساتھ شاہ جنوب پر حملہ کرے اور شاہ جنوب نہایت بڑا اور زبردست لشکر لے کر اُس کے مُقابلہ کو نکلے گا پر وہ نہ ٹھہرے گا کیونکہ وہ اُس کے خلاف منصوبے باندھیں گے۔

26  بلکہ جو اُس کا دیا کھاتے ہیں وہی اُسے شکست دیں گے اور اُس کی فوج پراگندہ ہوگی اور بُہت سے قتل ہوں گے۔

27  اور اُن دونوں بادشاہوں کے دل شرارت کی طرف مائل ہوں گے۔ وہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر جھوٹ بولیں گے پر کامیابی نہ ہوگی کیونکہ خاتمہ مقررہ وقت پر ہو گا۔

28  تب وہ بہت سی غنیمت لے کر اپنے مُلک کو واپس جائے گا اور اُس کا دل عہد مقدس کے خلاف ہوگا اور وہ اپنی مرضی پُوری کر کے اپنے مُلک کو واپس جائے گا۔

29  مقررہ وقت پر وہ پھر جنوب کی طرف خروج کرے گا لیکن یہ حملہ پہلے کی مانند نہ ہوگا۔

30  کیونکہ اہل کتُّیم کے جہاز اُس کے مُقابلہ کو نکلیں گے اور وہ رنجیدہ ہو کر مُڑے گا اور عہد مقدس پر اُس کا غضب بھڑکے گا اور وہ اُس کے مُطابق عمل کرے گا۔ بلکہ وہ مُڑ کر اُن لوگوں سے جو عہد مقدس کو ترک کریں گے اتفاق کرے گا ۔

31  اور افواج اُس کی مدد کریں گی اور وہ مُحکم مقدس کو ناپاک اور دائمی قربانی کو موقوف کریں گے اور اُجاڑنے والی مکروہ چیز کو اُس میں نصب کریں گے۔

32  اور وہ عہد مقدس کے خلاف شرارت کرنے والوں کو خُوشامد کر کے برگشتہ کرے گا لیکن اپنے خُدا کو پہچاننے والے تقویت پا کر کچھ کر دکھائیں گے۔

33  اور وہ جو لوگوں میں اہل دانش ہیں بُہتوں کو تعلیم دیں گے لیکن وہ کچھ مدت تک تلوار اور آگ اور اسیری اور لوٹ مار سے تباہ حال رہیں گے۔

34  اور جب تباہی میں پڑیں گے تو اُن کو تھوڑی سی مدد سے تقویت پُہنچے گی لیکن بُہیترے خُوشامد گوئی سے اُن میں آملیں گے۔

35  اور بعض اہل فہیم تباہ حال ہوں گے جب تک آخری وقت نہ آجائے کیونکہ یہ مُقررہ وقت تک مُلتوی ہے۔

36  اور بادشاہ اپنی مرضی کے مطابق چلے گا اور تکُبر کرے گا اور سب معبُودوں سے بڑا بنے گا اور الٰہوں کے الہٰ کے خلاف بُہت سی حیرت انگیز باتیں کہے گا اور اقبال مند ہوگا یہاں تک کہ قہر کی تسکین ہو جاے گی کیونکہ جو کچھ مُقرر ہو چُکا ہے واقع ہو گا۔

37  وہ اپنے باپ دادا کے معبُودوں کی پروانہ کرے گا اور نہ عورتیں کی مرغوبہ کو اور نہ کسی اور معبود کو مانے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو سب سے بالا جانے گا ۔

38  اور اپنے مکان پر معبُود حصار کی تعظیم کرے گا اور جس معبُود کو اُس کے باپ دادا نہ جانتے تھے سونا اور چاندی اور قیمتی پتھر اور نفیس ہدے دے کر اُس کی تکریم کرے گا۔

39  وہ بیگانہ معبُود کی مدد سے مُحکم قلعوں پر حملہ کرے گا۔ جو اس کو قبول کریں گے اُن کو بڑی عزت بخشے گا اور بُہتوں پر حاکم بنائے گا اور رشوت میں مُلک کو تقسیم کرے گا۔

40  اور خاتمہ کے وقت میں شاہ جُنوب اس پر حملہ کرے گا اور شاہ شمال اتھ اور سوارا اور بُہت سے جہاز لے کر گردباد کی مانند اُس پر چڑھ آے گا اور ممالک میں داخل ہو کر سیلاب کی مانند گُزرے گا۔

41  اور جلالی مُلک میں بھی داخل ہوگا اور بُہت سے مغُلوب ہوجائیں گے لیکن اُدوم اور مو آب اور بنی عمون کے خاص لوگ اُس کے ہاتھ سے چُھڑا لے جائیں گے۔

42  وہ دیگر مُمالک پر بھی ہاتھ چلائے گا اور مُلک مصر بھی بچ نہ سکے گا۔

43  بلکہ وہ سونے چاندی کے خزانوں اور مصر کی تمام نفیس چیزوں پر قابض ہوگا اور لُوبی اور کُوشی بھی اُس کے ہمرکاب ہوں گے۔

44  لیکن مشرقی اور شمالی اطراف سے افواہیں اُسے پریشان کریں گی اور وہ بڑے غضب سے نکلے گا کہ بُہتوں کی نیست و نابُود کرے۔

45  اور وہ شاندار خیمے لگائے گا لیکن اُس کا خاتمہ ہو جائے گا اور کوئی اُس کا مدد گار نہ ہوگا۔

  دانی ایل 12

1  اور اُس وقت میکائیل مُقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزند وں کی حمایت کے لے کھڑا ہے اُٹھے گا اور وہ ایسی تکلیف کا وقت ہوگا کہ ابتدائی اقوام سے اُس وقت تک کبھی نہ ہُوا ہوگا اور اُس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہوگا رہائی پائے گا۔

2  اور جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بُہیترے جاگ اُٹھیں گے ۔ بعض حیات ابدی کے لئے اور بعض رُسوائی اور ذلت ابدی کے لئے۔

3  اور اہل دانش نُور فلک کی مانند چمکیں گے اور جن کی کوشش سے بُہیترے صادق ہو گے ستاروں کی مانند ابدالآباد تک روشن ہوں گے۔

4  لیکن تو اے دانی ایل ان باتوں کو بند کر رکھ اور کتا پر آخری زمانہ تک مُہر لگا دے ۔ بُہیترے اس کی تفتیش و تحقیق کریں گے اور دانش افزوں ہو گی۔

5  پھر میں دانی ایل نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ دو شخص اور کھڑے تھے۔ ایک دریا کے اس کنارہ پر اور دوسرا دریا کے اُس کنارہ پر۔

6  اور ایک نے اس شخص سے جو کتانی لباس پہنے تھا اور دریا کے پانی پر کھڑا تھا پُوچھا کہ ان عجائب کے انجام تک کتنی مُدت ہے؟۔

7  اور میں نے سُنا کہ اُس شخص نے جو کتانی لباس پہنے تھا جو دریا کے پانی کے اُوپر کھڑا تھا دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر حُیّ القُیوم کی قسم کھائی اور کہا کہ ایک دور اور دور نیم دور۔ اور جب وہ مقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست کر چُکیں گے تو یہ سب کچھ پُورا ہو جائے گا۔

8  اور میں نے سُنا پر سمجھ نہ سکا۔ تب میں نے کہا اے میرے خُداوند ان کا انجام کیا ہوگا؟۔

9  اُس نے کہا اے دانی ایل تو اپنی راہ لے کیونکہ یہ باتیں آخری وقت تک بندو سر بُمہر رہیں گی۔

10  اور بُہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور صاف و براق ہوں گے لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانش ور سمجھیں گے۔

11  اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اُجاڑنے والی مُکروہ چیز نصب کی جائے گی ایک ہزار دوسو نوے دن ہو گے۔

12  مُبارک ہی وہ جو ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک انتظار کرتا ہے۔

13  پر تو اپنی راہ لے جب تک کہ مُدت پُوری نہ ہو کیونکہ تو آرام کرے گا اور ایّام کے اختتام پر اپنی میراث میں اُٹھ کھڑا ہو گا۔