انجیل مقدس

باب   1  2  3  4  5  6  7  8  9  10  11  12  13  

  العبرانيين 1

1  اگلے زمانہ میں خُدا نے باپ دادا سے حِصّہ بہ حِصّہ اور طرح بہ طرح نبِیوں کی معرفت کلام کر کے۔

2  اِس زمانہ کے آخِر میں ہم سے بَیٹے کی معرفت کلام کِیا جِسے اُس نے سب چِیزوں کا وارِث ٹھہرایا اور جِس کے وسِیلہ سے اُس نے عالم بھی پَیدا کِئے۔

3  وہ اُس کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہوکر سب چِیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے۔ وہ گُناہوں کو دھو کر عالمِ بالا پر کِبریا کی دہنی طرف جا بَیٹھا۔

4  اور فرِشتوں سے اِسی قدر بُزُرگ ہو گیا جِس قدر اُس نے مِیراث میں اُن سے افضل نام پایا۔

5  کِیُونکہ فرِشتوں میں سے اُس نے کب کِسی سے کہا کہ تُو میرا بَیٹا ہے۔ آج تُو مُجھ سے پَیدا ہُؤا؟ اور پھِر یہ کہ مَیں اُس کا باپ ہُوں گا اور وہ میرا بَیٹا ہوگا؟

6  اور جب پہلوٹھے کو دُنیا میں پھِر لاتا ہے تو کہتا ہے کہ خُدا کے سب فرِشتے اُسے سِجدہ کریں۔

7  اور فرِشتوں کی بابت یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے فرِشتوں کو ہوائیں اور اپنے خادِموں کو آگ کے شَعلے بناتا ہے۔

8  مگر بَیٹے کی بابت کہتا ہے کہ اَے خُدا تیرا تخت ابدُالآباد رہے گا اور تیری بادشاہی کا عصا راستی کا عصا ہے۔

9  تُو نے راستبازی سے محبّت اور بدکاری سے عَداوَت رکھّی۔ اِسی سبب سے خُدا یعنی تیرے خُدا نے خُوشی کے تیل سے تیرے ساتھِیوں کی بہ نِسبت تُجھے زِیادہ مسح کِیا۔

10  اور یہ کہ اَے خُداوند! تُو نے اِبتدا میں زِمین کی نیو ڈالی اور آسمان تیری ہاتھ کی کارِیگری ہیں۔

11  وہ نِیست ہو جائیں گے مگر تُو باقی رہے گا اور وہ سب پوشاک کی مانِند پُرانے ہو جائیں گے۔

12  تُو اُنہِیں چادر کی طرح لپیٹے گا اور وہ پوشاک کی طرح بدل جائیں گے مگر تُو وُہی ہے اور تیرے برس ختم نہ ہوں گے۔

13  لیکِن اُس نے فرِشتوں میں سے کِسی کے بارے میں کب کہا کہ تُو میری دہنی طرف بَیٹھ جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تَلے کی چَوکی نہ کر دُوں؟

14  کیا وہ سب خِدمتگُذار رُوحیں نہِیں جو نِجات کی مِیراث پانے والوں کی خاطِر خِدمت کو بھیجی جاتی ہیں؟

  العبرانيين 2

1  اِس لِئے باتیں ہم نے سُنِیں اُن پر اَور بھی دِل لگا کر غَور کرنا چاہئَ تاکہ بہ کر اُن سے دُور نہ ہوجائیں۔

2 کِیُونکہ جو کلام فرِشتوں کی معرفت فرمایا گیا تھا جب وہ قائِم رہا اور ہر قُصُور اور نافرمانی کا ٹھِیک ٹھِیک بدلہ مِلا۔

3  تو اِتنی بڑی نِجات سے غافِل رہ کر ہم کیونکر بچ سکتے ہیں جِس کا بیان پہلے خُداوند کے وسِیلہ سے ہُؤا اور سُننے والوں سے ہمیں پایٔہ ثبُوت کو پہُنچا۔

4  اور ساتھ ہی خُدا بھی اپنی مرضی کے مُوافِق نِشانوں اور عجِیب کاموں اور طرح طرح کے مُعجزوں اور رُوحُ القدُس کی نعمتوں کے ذریعہ سے اُس کی گواہی دیتا رہا۔

5 اُس نے اُس آنے والے جہان کو جِس کا ہم ذِکر کرتے ہیں فرِشتوں کے تابِع نہِیں کِیا۔

6  بلکہ کِسی نے کِسی مَوقعہ پر یہ بیان کِیا ہے کہ اِنسان کیا چِیز ہے جو تُو اُس کا خیال کرتا ہے؟ یا آدم زاد کیا ہے جو تُو اُس پر نِگاہ کرتا ہے؟

7  تُو نے اُسے فرِشتوں سے کُچھ ہی کم کِیا۔ تُو نے اُس پر جلال اور عِزّت کا تاج رکھّا اور اپنے ہاتھوں کے کاموں پر اُسے اِختیّار بخشا۔

8  تُو نے سب چِیزیں تابِع کر کے اُس کے پاؤں تَلے کر دی ہیں۔ پَس جِس صُورت میں اُس نے سب چِیزیں اُس کے تابِع کر دِیں تو اُس نے کوئی چِیز اَیسی نہ چھوڑی جو اُس کے تابِع نہ کی ہو مگر ہم اَب تک سب چِیزیں اُس کے تابِع نہِیں دیکھتے۔

9  البتّہ اُس کو دیکھتے ہیں جو فرِشتوں سے کُچھ ہی کم کِیا گیا یعنی یِسُوع کو کہ مَوت کا دُکھ سہنے کے سبب سے جلال اور عِزّت کا تاج اُسے پہنایا گیا ہے تاکہ خُدا کے فضل سے وہ ہر ایک آدمِی کے لِئے مَوت کا مزہ چکھّے۔

10  کِیُونکہ جِس کے لِئے سب چِیزیں ہیں اور جِس کے وسِیلہ سے سب چِیزیں ہیں اُس کو یہی مُناسِب تھا کہ جب بہُت سے بَیٹوں کو جلال میں داخِل کرے تو اُن کی نِجات کے بانی کو دُکھوں کے ذرِیعہ سے کامِل کرلے۔

11  اِس لِئے کہ پاک کرنے والا اور پاک ہونے والے سب ایک ہی اصل سے ہیں۔ اِسی باعِث وہ اُنہِیں بھائِی کہنے سے نہِیں شرماتا۔

12  چُنانچہ وہ فرماتا ہے کہ تیرا نام مَیں اپنے بھائِیوں سے بیان کرُوں گا۔ کلِیسیا میں تیری حمد کے گِیت گاؤں گا۔

13  اور پھِر یہ کہ مَیں اُس پر بھروسا رکھُّوں گا اور پھِر یہ کہ دیکھ مَیں اُن لڑکوں سمیت جِنہِیں خُدا نے مُجھے دِیا۔

14  پَس جِس صُورت میں کہ لڑکے خُون اور گوشت میں شرِیک ہیں تو وہ خُود بھی اُن کی طرح اُن میں شرِیک ہُؤا تاکہ مَوت کے وسِیلہ سے اُس کو جِسے مَوت پر قُدرت حاصِل تھی یعنی اِبلِیس کو تباہ کر دے۔

15  اور جو عُمر بھر مَوت کے ڈر سے غُلامی میں گِرفتار رہے اُنہِیں چھُڑا لے۔

16  کِیُونکہ واقِع میں وہ فرِشتوں کا نہِیں بلکہ ابرہام کی نسل کا ساتھ دیتا ہے۔

17  پَس اُس کو سب باتوں میں اپنے بھائِیوں کی مانِند بننا لازِم ہُؤا تاکہ اُمّت کے گُناہوں کا کفارہ دینے کے واسطے اُن باتوں میں جو خُدا سے علاقہ رکھتی ہیں ایک رحمدِل اور دِیانتدار سَردار کاہِن بنے۔

18 کِیُونکہ جِس صُورت میں اُس نے خُود ہی آزمایش کی حالت میں دُکھ اُٹھایا تو وہ اُن کی بھی مدد کر سکتا ہے جِن کی آزمایش ہوتی ہے۔

  العبرانيين 3

1  پَس اَے بھائِیو! تُم جو آسمانی بُلاوے میں شرِیک ہو۔ اُس رَسُول اور سَردار کاہِن یِسُوع پر غَور کرو جِس کا ہم اِقرار کرتے ہیں۔

2  جو اپنے مُقرّر کرنے والے کے حق میں دِیانتدار تھا جِس طرح مُوسیٰ اُس کے سارے گھر میں تھا۔

3  کِیُونکہ وہ مُوسیٰ سے اِس قدر زِیادہ عِزّت کے لائِق سَمَجھا گیا جِس قدر گھر کا بنانے والا گھر سے زِیادہ عِزّت دار ہوتا ہے۔

4  چُنانچہ ہر ایک گھر کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ہوتا ہے مگر جِس نے سب چِیزیں بنائِیں وہ خُدا ہے۔

5  مُوسیٰ تو اُس کے سارے گھر میں خادِم کی طرح دِیانتدار رہا تاکہ آیندہ بیان ہونے والی باتوں کی گواہی دے۔

6  لیکِن مسِیح بَیٹے کی طرح اُس کے گھر کا مُختار ہے اور اُس کا گھر ہم ہیں بشرطیکہ اپنی دِلیری اور اُمِید کا فخر آخِر تک مضبُوطی سے قائِم رکھّیں۔

7  پَس جِس طرح کہ رُوحُ القدُس فرماتا ہے اگر آج تُم اُس کی آواز سُنو۔

8  تو اپنے دِلوں کو سخت نہ کرو جِس طرح غُصّہ دِلانے کے وقت آزمایش کے دِن جنگل میں کِیا تھا۔

9  جہاں تُمہارے باپ دادا نے مُجھے جانچا اور آزمایا اور چالِیس برس تک میرے کام دیکھے۔

10  اِسی لِئے مَیں اُس پُشت سے ناراض ہُؤا اور کہا کہ اِن کے دِل ہمیشہ گُمراہ ہوتے رہتے ہیں اور اُنہوں نے میری راہوں کو نہِیں پہچانا۔

11  چُنانچہ مَیں نے اپنے غضب میں قَسم کھائی کہ یہ میرے آرام میں داخِل نہ ہونے پائیں گے۔

12  اَے بھائِیو! خَبردار! تُم میں سے کِسی کا اَیسا بُرا اور بے اِیمان دِل نہ ہو جو زِندہ خُدا سے پھِر جائے۔

13 بلکہ جِس روز تک آج کا دِن کہا جاتا ہے ہر روز آپس میں نصِیحت کِیا کرو تاکہ تُم میں سے کوئی گُناہ کے فریب میں آ کر سخت دِل نہ ہو جائے۔

14  کِیُونکہ ہم مسِیح میں شریک ہُوئے ہیں بشرطیکہ اپنے اِبتدائی بھروسے پر آخِر تک مضبُوطی سے قائِم رہیں۔

15  چُنانچہ کہا جاتا ہے کہ اگر آج تُم اُس کی آواز سُنو تو اپنے دِلوں کو سخت نہ کرو جِس طرح کہ غُصّہ دِلانے کے وقت کِیا تھا۔

16  کِن لوگوں نے آواز سُن کر غُصّہ دِلایا؟ کیا اُن سب نے نہِیں جو مُوسیٰ کے وسِیلہ سے مِصر سے نِکلے تھے؟

17  اور وہ کِن لوگوں سے چالِیس برس تک ناراض رہا؟ کیا اُن سے نہِیں جِنہوں نے گُناہ کِیا اور اُن کی لاشیں بِیابان میں پڑی رہیں؟

18  اور کِن کی بابت اُس نے قَسم کھائی کہ وہ میرے آرام میں داخِل نہ ہونے پائیں گے سِوا اُن کے جِنہوں نے نافرمانی کی؟

19  غرض ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بے اِیمانی کے سبب سے داخِل نہ ہو سکے۔

  العبرانيين 4

1  پَس جب اُس کے آرام میں داخِل ہونے کا وعدہ باقی ہے تو ہمیں ڈرنا چاہئے۔ اَیسا نہ ہو کہ تُم میں سے کوئی رہا ہُؤا معلُوم ہو۔

2  کِیُونکہ ہمیں بھی اُن ہی کی طرح خُوشخَبری سُنائی گئی لیکِن سُنے ہُوئے کلام نے اُن کو اِس لِئے کُچھ فائِدہ نہ دِیا کہ سُننے والوں کے دِلوں میں اِیمان کے ساتھ نہ بَیٹھا۔

3  اور ہم جو اِیمان لائے اُس آرام میں داخِل ہوتے ہیں جِس طرح اُس نے کہا کہ مَیں نے اپنے غضب میں قَسم کھائی کہ یہ میرے آرام میں داخِل نہ ہونے پائیں گے۔ گو بنایِ عالم کے وقت اُس کے کام ہو چُکے تھے۔

4  چُنانچہ اُس نے ساتویں دِن کی بابت کِسی مَوقع پر اِس طرح کہا ہے کہ خُدا نے اپنے سب کاموں کو پُورا کر کے ساتویں دِن آرام کِیا۔

5  اور پھِر اِس مقام پر ہے کہ وہ میرے آرام میں داخِل نہ ہونے پائیں گے۔

6  پَس جب یہ بات باقی ہے کہ بعض اُس آرام میں داخِل ہوں اور جِن کو پہلے خُوشخَبری سُنائی گئی تھی وہ نافرمانی کے سبب سے داخِل نہ ہُوئے۔

7  تو پھِر ایک خاص دِن ٹھہرا کر اِتنی مُدّت کے بعد داؤد کی کِتاب میں اُسے آج کا دِن کہتا ہے جَیسا پیشتر کہا گیا کہ اگر آج تُم اُس کی آواز سُنو تو اپنے دِلوں کو سخت نہ کرو۔

8  اور اگر یشُوع نے اُنہِیں آرام میں داخِل کِیا ہوتا تو وہ اُس کے بعد دُوسرے دِن کا ذِکر نہ کرتا۔

9  پَس خُدا کی اُمّت کے لِئے سَبت کا آرام باقی ہے۔

10  کِیُونکہ جو اُس کے آرام میں داخِل ہُؤا اُس نے بھی خُدا کی طرح اپنے کاموں کو پُورا کر کے آرام کِیا۔

11  پَس آؤ ہم اُس آرام میں داخِل ہونے کی کوشِش کریں تاکہ اُن کی طرح نافرمانی کر کے کوئی شَخص گِر نہ پڑے۔

12  کِیُونکہ خُدا کا کلام زِندہ اور مؤثّر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زِیادہ تیز ہے اور جان اور رُوح اور بند بند اور گُودے گُودے کو جُدا کر کے گُذر جاتا ہے اور دِل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے۔

13  اور اُس سے مخلُوقات کی کوئی چِیز چھِپی نہِیں بلکہ جِس سے ہم کو کام ہے اُس کی نظروں میں سب چِیزیں کھُلی اور بے پردہ ہیں۔

14  پَس جب ہمارا ایک اَیسا بڑا سَردار کاہِن ہے جو آسمانوں سے گُذر گیا یعنی خُدا کا بَیٹا یِسُوع تو آؤ ہم اپنے اِقرار پر قائِم رہیں۔

15  کِیُونکہ ہمارا اَیسا سَردار کاہِن نہِیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَو بھی بے گُناہ رہا۔

16  پَس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دِلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو اور وہ فضل حاصِل کریں جو ضرُورت کے وقت ہماری مدد کرے۔

  العبرانيين 5

1  کِیُونکہ ہر سَردار کاہِن آدمِیوں میں سے مُنتخب ہوکر آدمِیوں ہی کے لِئے اُن باتوں کے واسطے مُقرّر کِیا جاتا ہے جو خُدا سے علاقہ رکھتی ہیں تاکہ نذریں اور گُناہوں کی قُربانیاں گُذرانے۔

2  اور وہ نادانوں اور گُمراہوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے کے قابِل ہوتا ہے اِس لِئے کہ وہ خُود بھی کمزوری میں مُبتلا رہتا ہے۔

3  اور اِسی سبب سے اُس پر فرض ہے کہ گُناہوں کی قُربانی جِس طرح اُمّت کی طرف سے گُذرانے اُسی طرح اپنی طرف سے بھی چڑھائے۔

4  اور کوئی شَخص اپنے آپ یہ عِزّت اِختیّار نہِیں کرتا جب تک ہارُون کی طرح خُدا کی طرف سے بُلایا نہ جائے۔

5  اِسی طرح مسِیح نے بھی سَردار کاہِن ہونے کی بُزُرگی اپنے تئیں نہِیں دی بلکہ اُسی نے دی جِس نے اُس سے کہا تھا کہ تُو میرا بَیٹا ہے۔ آج تُو مُجھ سے پَیدا ہُؤا۔

6  چُنانچہ وہ دُوسرے مقام پر بھی کہتا ہے کہ تُو ملکِ صِدق کے طریقہ کا ابد تک کاہِن ہے۔

7  اُس نے اپنی بشریّت کے دِنوں میں زور زور سے پُکار کر اور آنسُو بہا بہا کر اُسی سے دُعائیں اور اِلتجائیں کِیں جو اُس کو مَوت سے بَچا سکتا تھا اور خُدا ترسی کے سبب سے اُس کی سُنی گئی۔

8  اور باوجُود بَیٹا ہونے کے اُس نے دُکھ اُٹھا اُٹھا کر فرمانبرداری سِیکھی۔

9  اور کامِل بن کر اپنے سب فرمانبرداروں کے لِئے ابدی نِجات کا باعِث ہُؤا۔

10  اور اُسے خُدا کی طرف سے ملکِ صِدق کے طریقہ کے سَردار کاہِن کا خِطاب مِلا۔

11  اِس کے بارے میں ہمیں بہُت سی باتیں کہنا ہے جِن کا سَمَجھنا مُشکِل ہے اِس لِئے کہ تُم اُونچا سُننے لگے ہو۔

12  وقت کے خیال سے تو تُمہیں اُستاد ہونا چاہئے تھا مگر اَب اِس بات کی حاجت ہے کہ کوئی شَخص خُدا کے کلام کے اِبتدائی اُصُول تُمہیں پھِر سِکھائے اور سخت غذا کی جگہ تُمہیں دُودھ پِینے کی حاجت پڑ گئی۔

13  کِیُونکہ دُودھ پِیتے ہُوئے کو راستبازی کے کلام کا تجربہ نہِیں ہوتا اِس لِئے کہ وہ بچّہ ہے۔

14  اور سخت غذا پُوری عُمر والوں کے لِئے ہوتی ہے جِن کے حواس کام کرتے کرتے نیک و بد میں اِمتیاز کرنے کے لِئے تیز ہو گئے ہیں۔

  العبرانيين 6

1  پَس آؤ مسِیح کی تعلِیم کی اِبتدائی باتیں چھوڑ کر کمال کی طرف قدم بڑھائیں اور مُردہ کاموں سے تَوبہ کرنے اور خُدا پر اِیمان لانے کی۔

2  اور بپتِسموں اور ہاتھ رکھنے اور مُردوں کے جی اُٹھنے اور ابدی عدالت کی تعلِیم کی بُنیاد دوبارہ نہ ڈالیں۔

3  اور خُدا چاہے تو ہم یہی کریں گے۔

4  کِیُونکہ جِن لوگوں کے دِل ایک بار روشن ہوگئے اور وہ آسمانی بخشِش کا مزہ چکھ چُکے اور رُوحُ القدُس میں شرِیک ہو گئے۔

5  اور خُدا کے عُمدہ کلام اور آیندہ جہان کی قُوّتوں کا ذائِقہ لے چُکے۔

6  اگر وہ برگشتہ ہو جائیں تو اُنہِیں تَوبہ کے لِئے پھِر نیا بنانا نامُمکِن ہے اِس لِئے کہ وہ خُدا کے بَیٹے کو اپنی طرف سے دوبارہ مصلُوب کر کے علانیہ ذلِیل کرتے ہیں۔

7 کِیُونکہ جو زمِین اُس بارِش کا پانی پی لیتی ہے جو اُس پر بار بار ہوتی ہے اور اُن کے لِئے کارآمد سبزی پَیدا کرتی ہے جِن کی طرف سے اُس کی کاشت بھی ہوتی ہے وہ خُدا کی طرف سے بَرکَت پاتی ہے۔

8  اور اگر جھاڑیاں اور اُونٹکٹارے اُگاتی ہے تو نامقبُول اور قرِیب ہے کہ لعنتی ہو اور اُس کا انجام جلایا جانا ہے۔

9  لیکِن اَے عزِیزو! اگرچہ ہم یہ باتیں کہتے ہیں تَو بھی تُمہاری نِسبت اِن سے بہُتر اور نِجات والی باتوں کا یقِین کرتے ہیں۔

10  اِس لِئے کہ خُدا بے اِنصاف نہِیں جو تُمہارے کام اور اُس محبّت کو بھُول جائے جو تُم نے اُس کے نام کے واسطے اِس طرح ظاہِر کی کہ مُقدّسوں کی خِدمت کی اور کر رہے ہو۔

11  اور ہم اِس بات کے آرزُومند ہیں کہ تُم میں سے ہر شَخص پُوری اُمِید کے واسطے آخِر تک اِسی طرح کوشِش ظاہِر کرتا رہے۔

12  تاکہ تُم سُست نہ ہوجاؤ بلکہ اُن کی مانِند بنو جو اِیمان اور تحمُّل کے باعِث وعدوں کے وارِث ہوتے ہیں۔

13  چُنانچہ جب خُدا نے ابرہام سے وعدہ کرتے وقت قَسم کھانے کے واسطے کِسی کو اپنے سے بڑا نہ پایا تو اپنی ہی قَسم کھا کر۔

14  فرمایا کہ یقِیناً مَیں تُجھے بَرکَتوں پر بَرکَتیں بخشُوں گا اور تیری اَولاد کو بہُت بڑھاؤں گا۔

15  اور اِس طرح صبر کر کے اُس نے وعدہ کی ہُوئی چِیز کو حاصِل کِیا۔

16  آدمِی تو اپنے سے بڑے کی قَسم کھایا کرتے ہیں اور اُن کے ہر قضِیہ کا آخِری ثبُوت قَسم سے ہوتا ہے۔

17  اِس لِئے جب خُدا نے چاہا کہ وعدہ کے وارِثوں پر اَور بھی صاف طَور سے ظاہِر کرے کہ میرا اِرادہ بدل نہِیں سکتا تو قَسم کو درمِیان میں لایا۔

18  تاکہ دو بے تبدِیل چِیزوں کے باعِث جِن کے بارے میں خُدا کا جھُوٹ بولنا مُمکِن نہِیں ہماری پُختہ طَور سے دِلجمِعی ہو جائے جو پناہ لینے کو اِس لِئے دَوڑے ہیں کہ اُس اُمِید کو جو سامنے رکھّی ہُوئی قبضہ میں لائیں۔

19  وہ ہماری جان کا اَیسا لنگر ہے جو ثابِت اور قائِم رہتا ہے اور پردہ کے اَندر تک بھی پہُنچتا ہے۔

20  جہاں یِسُوع ہمیشہ کے لِئے ملکِ صِدق کے طریقہ کا سَردار کاہِن بن کر ہماری خاطِر پیشرَو کے طَور پر داخِل ہُؤا ہے۔

  العبرانيين 7

1  اور یہ ملکِ صِدق سالِم کا بادشاہ۔ خُدا تعالٰے کا کاہِن ہمیشہ کاہِن رہتا ہے۔ جب ابرہام بادشاہوں کو قتل کر کے واپَس آتا تھا تو اِسی نے اُس کو اِستقبال کِیا اور اُس کے لِئے بَرکَت چاہی۔

2  اِسی کو ابرہام نے سب چِیزوں کی دہ یکی دی۔ یہ اوّل تو اپنے نام کے معنی کے مُوافِق راستبازی کا بادشاہ ہے اور پھِر سالِم یعنی صُلح کا بادشاہ۔

3  یہ بے باپ بے ماں بےنسب نامہ ہے۔ نہ اُس کی عُمر کا شُرُوع نہ زِندگی کا آخِر بلکہ خُدا کے بَیٹے کے مُشابِہ ٹھہرا۔

4  پَس غَور کرو کہ یہ کَیسا بُزُرگ تھا جِس کو قَوم کے بُزُرگ ابرہام نے لُوٹ کے عُمدہ سے عُمدہ مال کی دہ یکی دی۔

5  اب لاوی کی اَولاد میں سے جو کہانت کا عُہدہ پاتے ہیں اُن کو حُکم ہے کہ اُمّت یعنی اپنے بھائِیوں سے اگرچہ وہ ابرہام ہی کی صُلب سے پَیدا ہُوئے ہوں شَرِیعَت کے مُطابِق دہ یکی لیں۔

6 مگر جِس کا نسب اُن سے جُدا ہے اُس نے ابرہام سے دہ یکی لی اور جِس سے وعدے کِئے گئے تھے اُس کے لِئے بَرکَت چاہی۔

7  اور اِس میں کلام نہِیں کہ چھوٹا بڑے سے بَرکَت پاتا ہے۔

8  اور یہاں تو مرنے والے آدمِی دہ یکی لیتے ہیں مگر وہاں وُہی لیتا ہے جِس کے حق میں گواہی دی جاتی ہے کہ زِندہ ہے۔

9  پَس ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاوی نے بھی جو دہ یکی لیتا ہے ابرہام کے ذرِیعہ سے دہ یکی دی۔

10  اِس لِئے کہ جِس وقت ملکِ صِدق نے ابرہام کا اِستقبال کِیا تھا وہ اُس وقت تک اپنے باپ کی صُلب میں تھا۔

11  پَس اگر بنی لاوی کی کہانت سے کامِلیّت حاصِل ہوتی (کِیُونکہ اُسی کی ماتحتی میں اُمّت کو شَرِیعَت مِلی تھی) تو پھِر کیا حاجت تھی کہ دُوسرا کاہِن ملکِ صِدق کے طریقہ کا پَیدا ہو اور ہارُون کے طریقہ کا نہ گِنا جائے؟

12  اور جب کہانت بدل گئی تو شَرِیعَت کا بھی بدلنا ضرُور ہے۔

13  کِیُونکہ جِس کی بابت یہ باتیں کہی جاتی ہیں وہ دُوسرے قبِیلہ میں شامِل ہے جِس میں سے کِسی نے قُربان گاہ کی خِدمت نہِیں کی۔

14  چُنانچہ ظاہِر ہے کہ ہمارا خُداوند یہُوداہ میں سے پَیدا ہُؤا اور اِس فِرقہ کے حق میں مُوسیٰ نے کہانت کا کُچھ ذِکر نہِیں کِیا۔

15  اور جب ملکِ صِدق کی مانِند ایک اَور اَیسا کاہِن پَیدا ہونے والا تھا۔

16  جو جِسمانی احکام کی شَرِیعَت کے مُوافِق نہِیں بلکہ غَیرفانی زِندگی کی قُوّت کے مُطابِق مُقرّر ہو تو ہمارا دعویٰ اَور بھی صاف ظاہِر ہوگیا۔

17  کِیُونکہ اُس کے حق میں یہ گواہی دی گئی ہے کہ تُو ملکِ صِدق کے طرِیقہ کا ابد تک کاہِن ہے۔

18  غرض پہلا حُکم کمزور اور بے فائِدہ ہونے کے سبب سے منسُوخ ہو گیا۔

19  (کِیُونکہ شَرِیعَت نے کِسی چِیز کو کامِل نہِیں کِیا) اور اُس کی جگہ ایک بہُتر اُمِید رکھّی گئی جِس کے وسِیلہ سے ہم خُدا کے نزدِیک جا سکتے ہیں۔

20  اور چُونکہ مسِیح کا تقرُّر بغَیر قَسم کے نہ ہُؤا۔

21  (کِیُونکہ وہ تو بغَیر قَسم کے کاہِن مُقرّر ہُوئے ہیں مگر یہ قَسم کے ساتھ اُس کی طرف سے ہُؤا جِس نے اُس کی بابت کہا کہ خُداوند نے قَسم کھائی ہے اور اُس سے پھِرے گا نہِیں کہ تُو ابد تک کاہِن ہے۔

22  اِسی لِئے یِسُوع ایک بہُتر عہد کا ضامِن ٹھہرا۔

23  اور چُونکہ مَوت کے سبب سے قائِم نہ رہ سکتے تھے اِس لِئے وہ تو بہُت سے کاہِن مُقرّر ہُوئے۔

24  مگر چُونکہ یہ ابد تک قائِم رہنے والا ہے اِس لِئے اِس کی کہانت لازوال ہے۔

25  اِسی لِئے جو اُس کے وسِیلہ سے خُدا کے پاس آتے ہیں وہ اُنہِیں پُوری پُوری نِجات دے سکتا ہے کِیُونکہ وہ اُن کی شِفاعت کے لِئے ہمیشہ زِندہ ہے۔

26  چُنانچہ اَیسا ہی سَردار کاہِن ہمارے لائِق بھی تھا جو پاک اور بے رِیا اور بے داغ ہو اور گُنہگاروں سے جُدا اور آسمانوں سے بُلند کِیا گیا ہو۔

27  اور اُن سَردار کاہِنوں کی مانِند اِس کا محُتاج نہ ہو کہ ہر روز پہلے اپنے گُناہوں اور پھِر اُمّت کے گُناہوں کے واسطے قُربانیاں چڑھائے کِیُونکہ اِسے وہ ایک ہی بار کر گُذرا جِس وقت اپنے آپ کو قُربان کِیا۔

28  اِس لِئے کہ شَرِیعَت تو کمزور آدمِیوں کو سَردار کاہِن مُقرّر کرتی ہے مگر اُس قَسم کا کلام جو شَرِیعَت کے بعد کھائی گئی اُس بَیٹے کو مُقرّر کرتا ہے جو ہمیشہ کے لِئے کامِل کِیا گیا ہے۔

  العبرانيين 8

1  اب جو باتیں ہم کہہ رہے ہیں اُن میں سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمارا اَیسا سَردار کاہِن ہے جو آسمانوں پر کِبریا کے تخت کی دہنی طرف جا بَیٹھا۔

2  اور مَقدِس اور اُس حقِیقی خیمہ کا خادِم ہے جِسے خُداوند نے کھڑا کِیا ہے نہ کہ اِنسان نے۔

3  اور چُونکہ ہر سَردار کاہِن نذریں اور قُربانیاں گُذراننے کے واسطے مُقرّر ہوتا ہے اِس لِئے ضرُور ہُؤا کہ اِس کے پاس بھی گُذراننے کو کُچھ ہو۔

4  اور اگر وہ زمِین پر ہوتا تو ہر گِز کاہِن نہ ہوتا اِس لِئے کہ شَرِیعَت کے مُوافِق نذر گُذراننے والے موجُود ہیں۔

5  جو آسمانی چِیزوں کی نقل اور عکس کی خِدمت کرتے ہیں چُنانچہ جب مُوسیٰ خیمہ بنانے کو تھا تو اُسے یہ ہِدایت ہُوئی کہ دیکھ! جو نمُونہ تُجھے پہاڑ پر دِکھایا گیا تھا اُسی کے مُطابِق سب چِیزیں بنانا۔

6  مگر اَب اُس نے اِس قدر بہُتر خِدمت پائی جِس قدر اُس بہُتر عہد کا درمِیانی ٹھہرا جو بہُتر وعدوں کی بُنیاد پر قائِم کِیا گیا ہے۔

7  کِیُونکہ اگر پہلا عہد بے نقص ہوتا تو دُوسرے کے لِئے مَوقع نہ ڈھونڈا جاتا۔

8  پَس وہ اُن کے نقص بتا کر کہتا ہے کہ خُداوند فرماتا ہے دیکھ! وہ دِن آتے ہیں کہ مَیں اِسرائیل کے گھرانے اور یہُوداہ کے گھرانے سے ایک نیا عہد باندھُوں گا۔

9  یہ اُس عہد کی مانِند نہ ہوگا جو مَیں نے اُن کے باپ دادا سے اُس دِن باندھا تھا جب مُلکِ مِصر سے نِکال لانے کے لِئے اُن کا ہاتھ پکڑا تھا۔ اِس وسطے کہ وہ میرے عہد پر قائِم نہِیں رہے اور خُداوند فرماتا ہے کہ مَیں نے اُن کی طرف کُچھ توُّجہ نہ کی۔

10  پھِر خُداوند فرماتا ہے کہ جو عہد اِسرائیل کے گھرانے سے اُن دِنوں کے بعد باندھُوں گا وہ یہ ہے کہ مَیں اپنے قانُون اُن کے ذِہن میں ڈالوں گا اور اُن کے دِلوں پر لِکھُوں گا اور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا اور وہ میری اُمّت ہوں گے۔

11  اور ہر شَخص اپنے ہم وطن اور اپنے گھائی کو یہ تعلِیم نہ دے گا کہ تُو خُداوند کو پہچان کِیُونکہ چھوٹے سے بڑے تک سب مُجھے جان لیں گے۔

12  اِس لِئے کہ مَیں اُن کی ناراستِیوں پر رحم کرُوں گا اور اُن کے گُناہوں کو پھِر کبھی یاد نہ کرُوں گا۔

13  جب اُس نے نیا عہد کہا تو پہلے کو پُرانا ٹھہرا اور جو چِیز پُرانی اور مُدّت کی ہو جاتی ہے وہ مِٹنے کے قرِیب ہوتی ہے۔

  العبرانيين 9

1  غرض پہلے عہد میں بھی عِبادت کے احکام تھے اور اَیسا مَقدِس جو دُنیوی تھا۔

2  یعنی ایک خیمہ بنایا گیا تھا۔ اگلے میں چراغدان اور میز اور نذر کی روٹِیاں تھِیں اور اُسے پاک مکان کہتے ہیں۔

3  اور دُوسرے پردہ کے پِیچھے وہ خَیمہ تھا جِسے پاک ترین کہتے ہیں۔

4  اُس میں سونے کا عُود سوز اور چاروں طرف سونے سے منڈھا ہُؤا عہد کا صندُوق تھا۔ اِس میں من سے بھرا ہُؤا ایک سونے کا مرتبان اور پھُولا پھَلا ہُؤا ہارُون کا عصا اور عہد کی تختِیاں تھِیں۔

5  اور اُس کے اُوپر جلال کے کرُوبی تھے جو کفّارہ گاہ پر سایہ کرتے تھے۔ اِن باتوں کے مُفصّل بیان کرنے کا یہ مَوقع نہِیں۔

6  جب یہ چِیزیں اِس طرح بن چُکِیں تو پہلے خَیمہ میں تو کاہِن ہر وقت داخِل ہوتے اور عِبادت کا کام انجام دیتے ہیں۔

7  مگر دُوسرے میں صِرف سَردار کاہِن ہی سال بھر میں ایک بار جاتا ہے اور بغَیر خُون کے نہِیں جاتا جِسے اپنے واسطے اور اُمّت کی بھُول چُوک کے واسطے گُذرانتا ہے۔

8  اِس سے رُوحُ القدُس کا یہ اِشارہ ہے کہ جب تک پہلا خَیمہ کھڑا ہے پاک مکان کی راہ ظاہِر نہِیں ہُوئی۔

9  وہ خَیمہ موجُودہ زمانہ کے لِئے ایک مِثال ہے اور اِس کے مُطابِق اَیسی نذریں اور قُربانیاں گُذرانی جاتی تھِیں جو عِبادت کرنے والے کو دِل کے اِعتبار سے کامِل نہِیں کر سکتِیں۔

10  اِس لِئے کہ وہ صِرف کھانے پِینے اور طرح طرح کے غُسلوں کی بِنا پر جِسمانی احکام ہیں جو اِصلاح کے وقت تک مُقرّر کِئے گئے ہیں۔

11  لیکِن جب مسِیح آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا سَردار کاہِن ہو کر آیا تو اُس بُزُرگ تر اور کامِل تر خَیمہ کی راہ سے جو ہاتھوں کا بنا ہُؤا یعنی اِس دُنیا کا نہِیں۔

12  اور بکروں اور بچھڑوں کا خُون لے کر نہِیں بلکہ اپنا ہی خُون لے کر پاک مکان میں ایک ہی بار داخِل ہو گیا اور ابدی خلاصی کرائی۔

13  کِیُونکہ جب بکروں اور بَیلوں کے خُون اور گائے کی راکھ ناپاکوں پر چھڑکے جانے سے ظاہِری پاکِیزگی حاصِل ہوتی ہے۔

14  تو مسِیح کا خُون جِس نے اپنے آپ کو ازلی رُوح کے وسِیلہ سے خُدا کے سامنے بے عَیب قُربان کر دِیا تُمہارے دِلوں کو مُردہ کاموں سے کِیُوں نہ پاک کرے گا تاکہ زِندہ خُدا کی عِبادت کریں۔

15  اور اِسی سبب سے وہ نئے عہد کا درمِیانی ہے تاکہ اُس مَوت کے وسِیلہ سے جو پہلے عہد کے وقت کے قُصُوروں کی مُعافی کے لِئے ہُوئی ہے بُلائے ہُوئے لوگ وعدہ کے مُطابِق ابدی مِیراث کو حاصِل کریں۔

16  کِیُونکہ جہاں وصِیّت ہے وہاں وصِیّت کرنے والے کی مَوت بھی ثابِت ہونا ضرُور ہے۔

17  اِس لِئے کہ وصِیّت مَوت کے بعد ہی جاری ہوتی ہے اور جب تک وصِیّت کرنے والا زِندہ رہتا ہے اُس کا اِجرا نہِیں ہوتا۔

18  اِسی لِئے پہلا عہد بھی بغَیر خُون کے نہِیں باندھا گیا۔

19  چُنانچہ جب مُوسیٰ تمام اُمّت کو شَرِیعَت کا ہر حُکم سُنا چُکا تو بچھڑوں اور بکروں کا خُون لے کر پانی اور لال اُون اور زُوفا کے ساتھ اُس کِتاب اور تمام اُمّت پر چھِڑک دِیا۔

20  اور کہا کہ یہ اُس عہد کا خُون ہے جِس کا حُکم خُدا نے تُمہارے لِئے دِیا ہے۔

21  اور اِسی طرح اُس نے خَیمہ اور عِبادت کی تمام چِیزوں پر خُون چھِڑکا۔

22  اور تقریباً سب چِیزیں شَرِیعَت کے مُطابِق خُون سے پاک کی جاتی ہیں اور بغَیر خُون بہائے مُعافی نہِیں ہوتی۔

23  پَس ضرُور تھا کہ آسمانی چِیزوں کی نقلیں تو اِن کے وسِیلہ سے پاک کی جائیں مگر خُود آسمانی چِیزیں اِن سے بہُتر قُربانیوں کے وسِیلہ سے۔

24  کِیُونکہ مسِیح اُس ہاتھ کے بنائے ہُوئے پاک مکان میں داخِل نہِیں ہُؤا جو حقِیقی پاک مکان کا نمُونہ ہے بلکہ آسمان ہی میں داخِل ہُؤا تاکہ اَب خُدا کے رُوبرُو ہماری خاطِر حاضِر ہو۔

25  یہ نہِیں کہ وہ اپنے آپ کو بار بار قُربان کرے جِس طرح سَردار کاہِن پاک مکان میں ہر سال دُوسرے کا خُون لے کر جاتا ہے۔

26  ورنہ بنایِ عالم سے لے کر اُس کو بار بار دُکھ اُٹھانا ضرُور ہوتا مگر اَب زمانوں کے آخِر میں ایک بار ظاہِر ہُؤا تاکہ اپنے آپ کو قُربان کرنے سے گُناہ کو مِٹا دے۔

27  اور جِس طرح آدمِیوں کے لِئے ایک بار مرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مُقرّر ہے۔

28  اُسی طرح مسِیح بھی ایک بار بہُت لوگوں کے گُناہ اُٹھانے کے لِئے قُربان ہو کر دُوسری بار بغَیر گُناہ کے نِجات کے لِئے اُن کو دِکھائی دے گا جو اُس کی راہ دیکھتے ہیں۔

  العبرانيين 10

1  کِیُونکہ شَرِیعَت جِس میں آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا عکس ہے اور اُن چِیزوں کی اصلی صُورت نہِیں اُن ایک ہی طرح کی قُربانیوں سے جو ہر سال بِلاناغہ گُذرانی جاتی ہیں پاس آنے والوں کو ہرگِز کامِل نہِیں کرسکتی۔

2 ورنہ اُن کا گُذراننا موقُوف نہ ہو جاتا؟ کِیُونکہ جب عِبادت کرنے والے ایک بار پاک ہو جاتے تو پھِر اُن کا دِل اُنہِیں گُنہگار نہ ٹھہراتا۔

3  بلکہ وہ قُربانیاں سال بہ سال گُناہوں کو یاد دِلاتی ہیں۔

4  کِیُونکہ مُمکِن نہِیں کہ بَیلوں اور بکروں کا خُون گُناہوں کو دُور کرے۔

5  اِسی لِئے وہ دُنیا میں آتے وقت کہتا ہے کہ تُو نے قُربانی اور نذر کو پسند نہ کِیا۔ بلکہ میرے لِئے ایک بَدَن تیّار کِیا۔

6  پُوری سوختنی قُربانِیوں اور گُناہ کی قُربانِیوں سے تُو خُوش نہ ہُؤا۔

7  اُس وقت مَیں نے کہا کہ دیکھ! مَیں آیا ہُوں۔ (کِتاب کے ورقوں میں میری نِسبت لِکھا ہُؤا ہے) تاکہ اَے خُدا! تیری مرضی پُوری کرُوں۔

8  اُوپر تو وہ فرماتا ہے کہ نہ تُو نے قُربانیوں اور نذروں اور پُوری سوختنی قُربانیوں اور گُناہ کی قُربانیوں کو پسند کِیا اور نہ اُن سے خُوش ہُؤا حالانکہ وہ قُربانیاں شَرِیعَت کے مُوافِق گُذرانی جاتی ہیں۔

9  اور پھِر یہ کہتا ہے کہ دیکھ مَیں آیا ہُوں تاکہ تیری مرضی پُوری کرُوں۔ غرض وہ پہلے کو موقُوف کرتا ہے تاکہ دُوسرے کو قائِم کرے۔

10  اُسی مرضی کے سبب سے ہم یِسُوع مسِیح کے جِسم کے ایک ہی بار قُربان ہونے کے وسِیلہ سے پاک کِئے گئے ہیں۔

11  اور ہر ایک کاہِن تو کھڑا ہوکر ہر روز عِبادت کرتا ہے اور ایک ہی طرح کی قُربانیاں بار بار گُذرانتا ہے جو ہرگِز گُناہوں کو دُور نہِیں کرسکتِیں۔

12  لیکِن یہ شَخص ہمیشہ کے لِئے گُناہوں کے واسطے ایک ہی قُربانی گُذران کر خُدا کی دہنی طرف جا بَیٹھا۔

13  اور اُسی وقت سے مُنتظِر ہے کہ اُس کے دُشمن اُس کے پاؤں تَلے کی چَوکی بنیں۔

14  کِیُونکہ اُس نے ایک ہی قُربانی چڑھانے سے اُن کو ہمیشہ کے لِئے کامِل کر دِیا ہے جو پاک کِئے جاتے ہیں۔

15  اور رُوحُ القدُس بھی ہم کو یہی بتاتا ہے کِیُونکہ یہ کہنے کے بعد کہ۔

16  خُداوند فرماتا ہے جو عہد مَیں اُن دِنوں کے بعد اُن سے باندھُوں گا وہ یہ ہے کہ مَیں اپنے قانُون اُن کے دِلوں پر لِکھُوں گا اور اُن کے ذِہن میں ڈالُوں گا۔

17  پھِر وہ یہ کہتا ہے کہ اُن کے گُناہوں اور بے دِینوں کو پھِر کبھی یاد نہ کرُوں گا۔

18  اور جب اِن کی مُعافی ہو گئی ہے تو پھِر گُناہ کی قُربانی نہِیں رہی۔

19  پَس اَے بھائِیو! چُونکہ ہمیں یِسُوع کے خُون کے سبب سے اُس نئی اور زِندہ راہ سے پاک مکان میں داخِل ہونے کی دِلیری ہے۔

20  جو اُس نے پردہ یعنی اپنے جِسم میں سے ہوکر ہمارے واسطے مخصُوص کی ہے۔

21  اور چُونکہ ہمارا اَیسا بڑا کاہِن ہے جو خُدا کے گھر کا مُختار ہے۔

22  تو آؤ ہم سَچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ اور دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لِئے دِلوں پر چھِینٹے لے کر اور بَدَن کو صاف پانی سے دھُلوا کر خُدا کے پاس چلیں۔

23  اور اپنی اُمِید کے اِقرار کو مضبُوطی سے تھامے رہیں کِیُونکہ جِس نے وعدہ کِیا ہے وہ سَچّا ہے۔

24  اور محبّت اور نیک کاموں کی ترغِیب دینے کے لِئے ایک دُوسرے کا لِحاظ رکھّیں۔

25  اور ایک دُوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جَیسا بعض لوگوں کا دستُور ہے بلکہ ایک دُوسرے کو نصِیحت کریں اور جِس قدر اُس دِن کو نزدِیک ہوتے ہُوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زِیادہ کِیا کرو۔

26  کِیُونکہ حق کی پہچان حاصِل کرنے کے بعد اگر ہم جان بُوجھ کر گُناہ کریں تو گُناہوں کی کوئی اَور قُربانی باقی نہِیں رہی۔

27  ہاں عدالت کا ایک ہَولناک اِنتظار اور غضبناک آتِش باقی ہے جو مُخالِفوں کو کھا لے گی۔

28  جب مُوسیٰ کی شَرِیعَت کا نہ ماننے والا دو یا تِین شَخصوں کی گواہی سے بغَیر رحم کِئے مارا جاتا ہے۔

29  تو خیال کرو کہ وہ شَخص کِس قدر زِیادہ سزا کے لائِق ٹھہرے گا جِس نے خُدا کے بَیٹے کو پامال کِیا اور عہد کے خُون کو جِس سے وہ پاک ہُؤا تھا ناپاک جانا اور فضل کے رُوح کو بے عِزّت کِیا۔

30  کِیُونکہ اُسے ہم جانتے ہیں جِس نے فرمایا کہ اِنتقام لینا میرا کام ہے۔ بَدلہ مَیں ہی دُوں گا اور پھِر یہ کہ خُداوند اپنی اُمّت کی عدالت کرے گا۔

31  زِندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہَولناک بات ہے۔

32  لیکِن اُن پہلے دِنوں کو یاد کرو کہ تُم نےمُنوّر ہونے کے بعد دُکھوں کی بڑی کھکھیڑ اُٹھائی۔

33  کُچھ تو یُوں کہ لعن طعن اور مُصِیبتوں کے باعِث تُمہارا تماشا بنا اور کُچھ یُوں کہ تُم اُن کے شرِیک ہُوئے جِن کے ساتھ یہ بدسُلُوکی ہوتی تھی۔

34  چُنانچہ تُم نے قَیدیوں کی ہمدردی بھی کی اور اپنے مال کا لُٹ جان بھی خُوشی سے منظُور کِیا۔ یہ جان کر کہ تُمہارے پاس ایک بہُتر اور دائِمی مِلکیّت ہے۔

35  پَس اپنی دِلیری کو ہاتھ سے نہ دو۔ اِس لِئے کہ اُس کا بڑا اجر ہے۔

36  کِیُونکہ تُمہیں صبر کرنا ضرُور ہے تاکہ خُدا کی مرضی پُوری کر کے وعدہ کی ہُوئی چِیز حاصِل کرو۔

37  اور بہُت ہی تھوڑی مُدّت باقی ہے کہ آنے والا آئے گا اور دیر نہ کرے گا۔

38  اور میرا راستباز بندہ اِیمان سے جِیتا رہے گا اور اگر وہ ہٹے گا تو میرا دِل اُس سے خُوش نہ ہوگا۔

39  لیکِن ہم ہٹنے والے نہِیں کہ ہلاک ہوں بلکہ اِیمان رکھنے والے ہیں کہ جان بَچائیں۔

  العبرانيين 11

1  اب اِیمان اُمِید کی ہُوئی چِیزوں کا اِعتماد اور اندیکھی چِیزوں کا ثُبُوت ہے۔

2  کِیُونکہ اُسی کی بابت بُزُرگوں کے حق میں اچھّی گواہی دی گئی۔

3  اِیمان ہی سے ہم معلُوم کرتے ہیں کہ عالم خُدا کے کہنے سے بنے ہیں۔ یہ نہِیں کہ جو کُچھ نظر آتا ہے ظاہِری چِیزوں سے بنا ہو۔

4  اِیمان ہی سے ہابِل نے قائِن سے افضل قُربانی خُدا کے لِئے گُذرانی اور اُسی کے سبب سے اُس کے راستباز ہونے کی گواہی دی گئی کِیُونکہ خُدا نے اُس کی نذروں کی بابت گواہی دی اور اگرچہ وہ مر گیا ہے تَو بھی اُسی کے وسِیلہ سے اَب تک کلام کرتا ہے۔

5  اِیمان ہی سے حنُوک اُٹھا لِیا گیا تاکہ مَوت کو نہ دیکھے اور چُونکہ خُدا نے اُسے اُٹھا لِیا تھا اِس لِئے اُس کا پتہ نہ مِلا کِیُونکہ اُٹھائے جانے سے پیشتر اُس کے حق میں گواہی دی گئی تھی کہ یہ خُدا کو پسند آیا ہے۔

6  اور بغَیر اِیمان کے اُس کو پسند آنا نامِمکِن ہے۔ اِس لِئے کہ خُدا کے پاس آنے والے کو اِیمان لانا چاہئے کہ وہ مَوجُود ہے اور اپنے طالِبوں کو بدلہ دیتا ہے۔

7  اِیمان ہی کے سبب سے نُوح نے اُن چِیزوں کی بابت جو اُس وقت تک نظر نہ آتی تھِیں ہِدایت پاکر خُدا کے خَوف سے اپنے گھرانے کے بَچاؤ کے لِئے کَشتی بنائی جِس سے اُس نے دُنیا کو مُجرِم ٹھہرایا اور اُس راستبازی کا وارِث ہُؤا جو اِیمان سے ہے۔

8  اِیمان ہی کے سبب سے ابرہام جب بُلایا گیا تو حُکم مان کر اُس جگہ چلا گیا جِسے مِیراث میں لینے والا تھا اور اگرچہ جانتا نہ تھا کہ مَیں کہاں جاتا ہُوں تَو بھی روانہ ہوگیا۔

9  اِیمان ہی سے اُس نے مُلکِ مَوعُود میں اِس طرح مُسافِرانہ طَور پر بُود و باش کی کہ گویا غَیرمُلک ہے اور اِضحاق اور یَعقُوب سمیت جو اُس کے ساتھ اُسی وعدہ کے وارِث تھے خَیموں میں سُکُونت کی۔

10  کِیُونکہ اُس پایدار شہر کا اُمِیدوار تھا جِس کا مِعمار اور بنانے والا خُدا ہے۔

11  اِیمان ہی سے سارہ نے بھی سِّنِ یاس کے بعد حامِلہ ہونے کی طاقت پائی اِس لِئے کہ اُس نے وعدہ کرنے والے کو سَچّا جانا۔

12  پَس ایک شَخص سے جو مُردہ سا تھا آسمان کے سِتاروں کے برابر کثِیر اور سَمَندَر کے کِنارہ کی ریت کے برابر بے شُمار اَولاد پَیدا ہُوئی۔

13  یہ سب اِیمان کی حالت میں مرے اور وعدہ کی ہُوئی چِیزیں نہ پائیں مگر دُور ہی سے اُنہِیں دیکھ کر خُوش ہُوئے اور اِقرار کِیا کہ ہم زمِین پر پردیسی اور مُسافِر ہیں۔

14  جو اَیسی باتیں کہتے ہیں وہ ظاہِر کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کی تلاش میں ہیں۔

15  اور جِس مُلک سے وہ نِکل آئے تھے اگر اُس کا خیال کرتے تو اُنہِیں واپَس جانے کا مَوقع تھا۔

16  مگر حقِیقت میں وہ ایک بہُتر یعنی آسمانی مُلک کے مُشتاق تھے۔ اِسی لِئے خُدا اُن سے یعنی اُن کا خُدا کہلانے سے شرمایا نہِیں چُنانچہ اُس نے اُن کے لِئے ایک شہر تیّار کِیا۔

17 اِیمان ہی سے ابرہام نے آزمایش کے وقت اِضحاق کونذر گُذرانا اور جِس نے وعدوں کو سَچ مان لِیا تھا وہ اُس اِکلوتے کو نذر کرنے لگا۔

18  جِس کی بابت یہ کہا گیا تھا کہ اِضحاق ہی سے تیری نسل کہلائے گی۔

19 کِیُونکہ وہ سَمَجھا کہ خُدا مُردوں میں سے جِلانے پر بھی قادِر ہے چُنانچہ اُن ہی میں سے تَمثِیل کے طَور پر وہ اُسے پھِر مِلا۔

20  اِیمان ہی سے اِضحاق نے ہونے والی باتوں کی بابت بھی یَعقُوب اور عیسَو دونوں کو دُعا دی۔

21  اِیمان ہی سے یَعقُوب نے مرتے وقت یُوسُف کے دونوں بَیٹوں میں سے ہر ایک کو دُعا دی اور اپنے عصا کے سِرے پر سہارا لے کر سِجدہ کِیا۔

22  اِیمان ہی سے یُوسُف نے جب وہ مرنے کے قرِیب تھا بنی اِسرائیل کے خرُوج کا ذِکر کِیا اور اپنی ہڈِیوں کی بابت حُکم دِیا۔

23  اِیمان ہی سے مُوسیٰ کے ماں باپ نے اُس کے پَیدا ہونے کے بعد تِین مہِینے تک اُص کو چھِپائے رکھّا کِیُونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ بچّہ خُوبصُورت ہے اور وہ بادشاہ کے حُکم سے نہ ڈرے۔

24  اِیمان ہی سے مُوسیٰ نے بڑے ہوکر فرعون کی بیٹی کا بَیٹا کہلانے سے اِنکار کِیا۔

25 اِس لِئے کہ اُس نے گُناہ کا چند روزہ لُطف اُٹھانے کی نِسبت خُدا کی اُمّت کے ساتھ بدسُلُوکی برداشت کرنا زِیادہ پسند کِیا۔

26  اور مسِیح کے لِئے لعن طعن اُٹھانے کو مِصر کے خزانوں سے بڑی دَولت جانا کِیُونکہ اُس کی نِگاہ اجر پانے پر تھی۔

27  اِیمان ہی سے اُس نے بادشاہ کے غُصّہ کے خَوف نہ کر کے مِصر کو چھوڑ دِیا۔ اِس لِئے کہ وہ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابِت قدم رہا۔

28  اِیمان ہی سے اُس نے فسح کرنے اور خُون چھڑکنے پر عمل کِیا تاکہ پہلوٹھوں کا ہلاک کرنے والا بنی اِسرائیل کو ہاتھ نہ لگائے۔

29  اِیمان ہی سے وہ بحرِ قُلزُم سے اِس طرح گُذر گئے جَیسے خُشک زمِین پر سے اور جب مِصرِیوں نے یہ قصد کِیا تو ڈُوب گئے۔

30  اِیمان ہی سے یریحُو کی شہرِپناہ جب سات دِن تک اُس کے گِرد پھِر چُکے تو گِر پڑی۔

31  اِیمان ہی سے راحب فاحِشہ نافرمانوں کے ساتھ ہلاک نہ ہُوئی کِیُونکہ اُس نے جاسُوسوں کو امن سے رکھّا تھا۔

32  اب اور کیا کہُوں؟ اِتنی فُرصت کہاں کہ جِدعُون اور برق اور سمسُون اور اِفتاہ اور داؤد اور سموئیل اور اَور نبِیوں کا احوال بیان کرُوں؟

33  اُنہوں نے اِیمان ہی کے سبب سے سلطنتوں کو مغلُوب کِیا۔ راستبازی کے کام کِئے۔ وعدہ کی ہُوئی چِیزوں کو حاصِل کِیا۔ شیروں کے مُنہ بند کِئے۔

34  آگ کی تیزی کو بُجھایا۔ تلوار کی دھار سے بچ نِکلے۔ کمزوری میں زورآور ہُوئے۔ لڑائی میں بہادُر بنے۔ غَیروں کی فَوجوں کو بھگا دِیا۔

35  عَورتوں نے اپنے مُردوں کو پھِر زِندہ پایا۔ بعض مار کھاتے کھاتے مر گئے مگر رِہائی منظُور نہ کی تاکہ اُن کو بہُتر قِیامت نصِیب ہو۔

36  بعض ٹھٹھّوں میں اُڑائے جانے اور کوڑے کھانے بلکہ زِنجیروں میں باندھے جانے اور قَید میں پڑنے سے آزمائے گئے۔

37  سنگسار کِئے گئے۔ آرے سے چِیرے گئے۔ آزمایش میں پڑے۔ تلوار سے مارے گئے۔ بھیڑوں اور بکریوں کی کھال اوڑھے ہُوئے مُحتاجی میں۔ مُصِیبت میں۔ بدسُلُوکی کی حالت میں مارے مارے پھِرے۔

38  دُنیا اُن کے لائِق نہ تھی۔ وہ جنگلوں اور پہاڑوں اور غاروں اور زمِین کے گڑھوں میں آوارہ پھِرا کِئے۔

39  اور اگرچہ اِن سب کے حق میں اِیمان کے سبب سے اچھّی گواہی دی گئی تَو بھی اُنہِیں وعدہ کی ہُوئی چِیز نہ مِلی۔

40  اِس لِئے کہ خُدا نے پیش بِینی کر کے ہمارے لِئے کوئی بہُتر چِیز تجوِیز کی تھی تاکہ وہ ہمارے بغَیر کامِل نہ کِئے جائیں۔

  العبرانيين 12

1  پَس جب کہ گواہوں کا اَیسا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہُوئے ہے تو آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اُس گُناہ کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے دور کر کے اُس دوڑ میں صبر سے دُوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔

2  اور اِیمان کے بانی اور کامِل کرنے والے یِسُوع کو تکتے رہیں جِس نے اُس خُوشی کے لِئے جو اُس کی نظروں کے سامنے تھی شرمِندگی کی پروا نہ کر کے صلِیب کا دُکھ سہا اور خُدا کے تخت کی دہنی طرف جا بَیٹھا۔

3  پَس اُس پر غَور کرو جِس نے اپنے حق میں بُرائی کرنے والے گُنہگاروں کی اِس قدر مُخالفت کی برداشت کی تاکہ بے دِل ہوکر ہِمّت نہ ہارو۔

4  تُم نے گُناہ سے لڑنے میں اَب تک اَیسا مُقابلہ نہِیں کِیا جِس میں خُون بہا ہو۔

5  اور تُم اُس نصِیحت کو بھُول گئے جو تُمہیں فرزندوں کی طرح کی جاتی ہے کہ اَے میرے بَیٹے! خُداوند کی تنبِیہ کو ناچِیز نہ جان اور جب وہ تُجھے ملامت کرے تو بے دِل نہ ہو۔

6  کِیُونکہ جِس سے خُدا محبّت رکھتا ہے اُسے تنبِیہ بھی کرتا ہے اور جِس کو بَیٹا بنا لیتا ہے اُس کو کوڑے بھی لگاتا ہے۔

7  تُم جو کُچھ دُکھ سہتے ہو وہ تُمہاری تربِیت کے لِئے ہے۔ خُدا فرزند جان کر تُمہارے ساتھ سُلُوک کرتا ہے۔ وہ کَون سا بَیٹا ہے جِسے باپ تنبِیہ نہِیں کرتا؟

8 اور اگر تُمہیں وہ تنبِیہ نہ کی گئی جِس میں سب شرِیک ہیں تو تُم حرامزادے ٹھہرے نہ کہ بَیٹے۔

9  عِلاوہ اِس کے جب ہمارے جِسمانی باپ ہمیں تنبِیہ کرتے تھے اور ہم اُن کی تعظِیم کرتے رہے تو کیا رُوحوں کے باپ کی اِس سے زِیادہ تابِعداری نہ کریں جِس سے ہم زِندہ رہیں۔

10  وہ تو تھوڑے دِنوں کے واسطے اپنی سَمَجھ کے مُوفِق تنبِیہ کرتے تھے مگر یہ ہمارے فائِدے کے لِئے کرتا ہے تاکہ ہم بھی اُس کی پاکِیزگی میں شامِل ہو جائیں۔

11  اور بِالفعل ہر قِسم کی تنبِیہ خُوشی کا نہِیں بلکہ غم کا باعِث معلُوم ہوتی ہے مگر جو اُس کو سہتے سہتے پُختہ ہو گئے ہیں اُن کو بعد میں چَین کے ساتھ راستبازی کا پھَل بخشتی ہے۔

12  پَس ڈھیلے ہاتھوں اور سُست گھُٹنوں کو درُست کرو۔

13  اور اپنے پاؤں کے لِئے سیدھے راستے بناؤ تاکہ لنگڑا بے راہ نہ ہو بلکہ شِفا پائے۔

14  سب کے ساتھ میل مِلاپ رکھنے اور اُس پاکِیزگی کے طالِب رہو جِس کے بغَیر کوئی خُداوند کو نہ دیکھے گا۔

15  غَور سے دیکھتے رہو کہ کوئی شَخص خُدا کے فضل سے محرُوم نہ رہ جائے۔ اَیسا نہ ہو کہ کوئی کڑوی جڑ پھُوٹ کر تُمہیں دُکھ دے اور اُس کے سبب سے اکثر لوگ ناپاک ہو جائیں۔

16  اور نہ کوئی حرامکار یا عیسَو کی طرح بے دِین ہو جِس نے ایک وقت کے کھانے کے عوض اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق بیچ ڈالا۔

17 کِیُونکہ تُم جانتے ہو کہ اُس کے بعد جب اُس نے بَرکَت کا وارِث ہونا چاہا تو منظُور نہ ہُؤا۔ چُنانچہ اُس کو نِیّت کی تبدِیلی کا مَوقع نہ مِلا گو اُس نے آنسُو بہا بہا کر اُس کی بڑی تلاش کی۔

18  تُم اُس پہاڑ کے پاس نہِیں آئے جِس کو چھُونا مُمکِن تھا اور وہ آگ سے جلتا تھا اور اُس پر کالی گھٹا اور تارِیکی اور طُوفان۔

19  اور نرسِنگے کا شور اور کلام کرنے والے کی اَیسی آواز تھی جِس کے سُننے والوں نے دَرخواست کی کہ ہم سے اَور کلام نہ کِیا جائے۔

20 کِیُونکہ وہ اِس حُکم کی برداشت نہ کر سکے کہ اگر کوئی جانور بھی اُس پہاڑ کو چھُوئے تو سنگسار کِیا جائے۔

21 اور وہ نظارہ اَیسا ڈراؤنا تھا کہ مُوسیٰ نے کہا مَیں نِہایت ڈرتا اور کانپتا ہُوں۔

22  بلکہ تُم صِیُّون کے پہاڑ اور زِندہ خُدا کے شہر یعنی آسمانی شروشِلیم کے پاس اور لاکھوں فرِشتوں۔

23  اور اُن پہلوٹھوں کی عام جماعت یعنی کلِیسیا جِن کے نام آسمان پر لِکھے ہیں اور سب کے مُنصِف خُدا اور کامِل کِئے ہُوئے راستبازوں کی رُوحوں۔

24 اور نئے عہد کے درمِیانی یِسُوع اور چھِڑکاؤ کے اُس خُون کے پاس آئے ہو جو ہابِل کے خُون کی نِسبت بہُتر باتیں کہتا ہے۔

25  خَبردار! اُس کہنے والے کا اِنکار نہ کرنا کِیُونکہ جب وہ لوگ زمِین پر ہِدایت کرنے والے کا اِنکار کر کے نہ بچ سکے تو ہم آسمان پر کے ہِدایت کرنے والے سے مُنہ موڑ کر کیونکر بچ سکیں گے؟

26  اُس کی آواز نے اُس وقت تو زمِین کو ہِلا دِیا مگر اَب اُس نے یہ وعدہ کِیا ہے کہ ایک بار پھِر مَیں فقط زمِین ہی کو نہِیں بلکہ آسمان کو بھی ہِلا دُوں گا۔

27  اور یہ عِبارت کہ ایک بار پھِر اِس بات کو ظاہِر کرتی ہے کہ جو چِیزیں ہِلا دی جاتی ہیں مخلُوق ہونے کے باعِث ٹل جائیں گی تاکہ بے ہِلی چِیزیں قائِم رہیں۔

28  پَس ہم وہ بادشاہی پاکر جو مِلنے کی نہِیں اُس فضل کو ہاتھ سے نہ دیں جِس کے سبب سے پسندِیدہ طَور پر خُدا کی عِبادت خُدا ترسی اور خَوف کے ساتھ کریں۔

29  کِیُونکہ ہمارا خُدا بھسم کرنے والی آگ ہے۔

  العبرانيين 13

1  برادرانہ محبّت قائِم رہے۔

2  مُسافِر پروری سے غافِل نہ رہو کِیُونکہ اِسی کی وجہ سے بعض نے بے خَبری میں فرِشتوں کی مہمانداری کی ہے۔

3  قَیدیوں کو اِس طرح یاد رکھّو کہ گویا تُم اُن کے ساتھ قَید ہو اور جِن کے ساتھ بدسُلُوکی کی جاتی ہے اُن کو یہ سَمَجھ کر یاد رکھّو کہ ہم بھی جِسم رکھتے ہیں۔

4  بیاہ کرنا سب میں عِزّت کی بات سَمَجھی جائے اور بِستر بے داغ رہے کِیُونکہ خُدا حرامکاروں اور زانِیوں کی عدالت کرے گا۔

5  زر کی دوستی سے خالی رہو اور جو تُمہارے پاس ہے اُسی پر قناعت کرو کِیُونکہ اُس نے خُود فرمایا ہے کہ مَیں تُجھ سے ہرگِز دست بردار نہ ہُوں گا اور کبھی تُجھے نہ چھوڑُوں گا۔

6  اِس واسطے ہم دِلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ خُداوند میرا مدد گار ہے۔ مَیں خوف نہ کرُوں گا۔ اِنسان میرا کیا کرے گا؟

7  جو تُمہارے پیشوا تھے اور جِنہوں نے تُمہیں خُدا کا کلام سُنایا اُنہِیں یاد رکھّو اور اُن کی زِندگی کے انجام پر غَور کر کے اُن جَیسے اِیماندار ہو جاؤ۔

8  یِسُوع مسِیح کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے۔

9  مُختلِف اور بیگانہ تعلِیموں کے سبب سے بھٹکتے نہ پھِرو کِیُونکہ فضل سے دِل کا مضبُوط رہنا بہُتر ہے نہ کہ اُن کھانوں سے جِن کے اِستعمال کرنے والوں نے کُچھ فائِدہ نہ اُٹھایا۔

10  ہماری ایک اَیسی قُربان گاہ ہے جِس میں سے خَیمہ کی خِدمت کرنے والوں کو کھانے کا اِختیّار نہِیں۔

11  کِیُونکہ جِن جانوروں کا خُون سَردار کاہِن پاک مکان میں گُناہ کے کفّارہ کے واسطے لے جاتا ہے اُن کے جِسم خَیمہ گاہ کے باہِر جلائے جاتے ہیں۔

12  اِسی لِئے یِسُوع نے بھی اُمّت کو خُود اپنے خُون سے پاک کرنے کے لِئے دروازہ کے باہِر دُکھ اُٹھایا۔

13  پَس آؤ اُس کی ذِلّت کو اپنے اُوپر لِئے ہُوئے خَیمہ گاہ سے باہِر اُس کے پاس چلیں۔

14  کِیُونکہ یہاں ہمارا کوئی قائِم رہنے والا شہر نہِیں بلکہ ہم آنے والے شہر کی تلاش میں ہیں۔

15  پَس ہم اُس کے وسِیلہ سے حمد کی قُربانی یعنی اُن ہونٹوں کا پھَل جو اُس کے نام کا اِقرار کرتے ہیں خُدا کے لِئے ہر وقت چڑھایا کریں۔

16  اور بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھُولو اِس لِئے کہ خُدا اَیسی قُربانِیوں سے خُوش ہوتا ہے۔

17  اپنے پیشواؤں کے فرمانبردار اور تابِع رہو کِیُونکہ وہ تُمہاری رُوحوں کے فائِدہ کے لِئے اُن کی طرح جاگتے رہتے ہیں جِنہِیں حِساب دینا پڑے گا تاکہ وہ خُوشی سے یہ کام کریں نہ کہ رنج سے کِیُونکہ اِس صُورت میں تُمہیں کُچھ فائِدہ نہِیں۔

18  ہمارے واسطے دُعا کرو کِیُونکہ ہمیں یقِین ہے کہ ہمارا دِل صاف ہے اور ہم ہر بات میں نیکی کے ساتھ زِندگی گُذارنا چاہتے ہیں۔

19  مَیں تُمہیں یہ کام کرنے کی اِس لِئے بھی نصِیحت کرتا ہُوں کہ مَیں جلد تُمہارے پاس پھِر آنے پاؤں۔

20  اب خُدا اِطمینان کا چشمہ جو بھیڑوں کے بڑے چرواہے یعنی ہمارے خُداوند یِسُوع کو ابدی عہد کے خُون کے باعِث مُردوں میں سے زِندہ کر کے اُٹھا لایا۔

21  تُم کو ہر نیک بات میں کامِل کرے تاکہ تُم اُس کی مرضی پُوری کرو اور جو کُچھ اُس کے نزدِیک پسندِیدہ ہے یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے ہم میں پَیدا کرے جِس کی تمجِید ابدُالآباد ہوتی رہے۔ آمِین۔

22 اَے بھائِیو! مَیں تُم سے اِلتماس کرتا ہُوں کہ اِس نصِیحت کے کلام کی برداشت کرو کِیُونکہ مَیں نے تُمہیں مُختصر طَور پر لِکھا ہے۔

23  تُم کو واضح ہو کہ ہمارا بھائِی تِیمُتھِیُس رہا ہو گیا ہے۔ اگر وہ جلد آگیا تو مَیں اُس کے ساتھ تُم سے مِلُوں گا۔

24  اپنے سب پیشواؤں اور سب مُقدّسوں سے سَلام کہو۔ اِطالیہ والے تُمہیں سَلام کہتے ہیں۔

25  تُم سب پر فضل ہوتا رہے۔ آمین۔