انجيل مقدس

باب   1  2  3  4  5  6  7  8  9  10  11  12  13  14  15  16  17  18  19  20  21  22  

  أیسعیاہ 1

1  یسعیاہ بن آموص کی رویاجو اُس نے یہوداہ اوریروشلیم کی بابت یہوادہ کےبادشاہوں عُزیاہ اور یوتام اورآخز اور حزقیاہ کی آیام میں دیکھی۔

2 سُن اے آسمان اورکان لگا اے زمین کہ خداوند یوں فرماتاہے کہ میں نے لڑکوں کو پالا اور پوسا اورانہوں نے مجھ سےسر کشی کی

3  بیل اپنے مالک کو پہچانتاہے اور گدھا اپنے مالک کی چرنی کو لیکن بنی اسرائیل نہیں جانتے ۔ میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے۔

4  آہ خطا کار گروہ۔ بد کرداری سے لدی ہوئی قوم۔ بدکرداروں کی نسل مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا اِسرائیل کے قُدوس کو حقیر جانا اورگمراہ برگشتہ ہو گئے۔

5  تم کیوں زیادہ بغاوت کر کے اور مار کھاؤ گے ؟ تمام سر بیمار ہے اور دل بِاکُل سُست ہے۔

6 تلوے سے لیکر چاندی تک اُس میں کہیں صحت نہیں۔ فقط زخم اور چوٹ اورسڑے ہوئے گھاؤ ہی ہیں جو نہ دبائے گئے نہ باندھےگئے نہ تیل سے نرم کئے گئے۔

7 تُمہارا مُلک اُجاڑ ہے۔ تمہاری بستیاں جل گئیں ۔ پردیسی تمہاری زمین کو تمہارے سامنے نگلتے ہیں۔ وہ ویران ہے گویا اُسے اجنبی لوگوں نے اُجاڑا ہے۔

8 اور صیون کی بیٹی چھوڑدی گئی ہے جیسی جھونپڑی تاکستان میں اور چھپر ککڑی کےکھیت میں یا اُس شہر کی مانند جو محصور ہو گیا ہے۔

9 اگر رب الافواج ہمارا تھوڑا سا بقیہ باقی نہ چھوڑتا توہم سدوم کی مثل اورعمورہ کی مانند ہوجاتے۔

10  اے سدوم کے حاکمو خداوندکا کلام سُنو! اے عمورہ کے لوگو ہمارے خدا کی شریعت پر کان لگاؤ۔

11  خداوند فرماتا ہے تمہارے ذبیحوں کی کثرت مجھے کیا کام؟ میں مینڈھوں کی سوختنی قربانیوں اورفربہ بچھڑوں کی چربی سےبیزار ہوں اوربیلوں اوربھیڑوں اوربکروں کےخون میں میری خوشنُودی نہیں ۔

12  جب تُم میرے حضور آکر میرے دیدار کے طالب ہوتے ہو توکون تم سے یہ چاہتا ہے کہ میری بارگاہوں کو روندو؟۔

13  آئیندہ کوباطل ہدیہ نہ لانا۔ بخور سے مجھے نفرت ہے ۔ نئے چاند اور سبت اورعیدی جماعت سے بھی کیونکہ مجھ میں بدکرداری کے ساتھ عید کی برداشت نہیں ۔

14 میرے دل کو تُمہارے نئےچاندوں اور تُمہاری مُقررہ عیدوں سے نفرت ہے ۔ وہ مجھ پر بار ہیں۔ میں اُن کی برداشت نہیں کر سکتا۔

15  جب تُم اپنے ہاتھ پھیلاؤ گے تو میں تُم سے آنکھ پھیر لوں گا۔ ہاں جب تُم دُعا پر دُعا کرو گے تو میں نہ سُنوں گا۔ تُمہارے ہاتھ تو خون آلودہ ہیں۔

16  اپنےآپکو دھو۔ اپنےآپکو پاک کرو۔ اپنے بُرےکاموں کو میرے سامنے سے دُور کرو۔ بدفعلی سے باز آؤ۔

17  نیکو کاری سیکھو۔ انصاف کے طالب ہو۔ مظلوموں کی مدد کرو۔ یتیموں کی فریاد رسی کرو۔ بیواؤں کے حامی ہو۔

18  اب خداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حُجت کریں۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گےاور ہر چند اورارغوانی ہو تو بھی اوُن کی مانند اُجلے ہونگے ۔

19  اگر تم راضی اورفرمانبردار ہو تو زمین کےاچھےاچھےپھل کھاؤ گے۔

20  پر اگرتم انکارکرو اور باغی ہو تو تلوار کا لقمہ ہو جاؤ گے کیونکہ خداوند نے اپنے مُنہ سے یہ فرمایا ہے۔

21  وفا داربستی کیسی بدکار ہو گئی! وہ تو انصاف سے معمور تھی اورراستبازی اُس میں بستی تھی لیکن اب خونی رہتےہیں۔

22  تیری چاندی مِیل ہو گئی ۔ تیری مَے میں پانی مِل گیا۔

23  تیری سردارگردن کش اورچوروں کے ساتھی ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک رشوت دوست اور انعام کا طالب ہے۔ وہ یتیموں کوانصاف نہیں کرتے اور بیواؤں کی فریاد اُن تک نہیں پہنچتی۔

24  اِسلیے خداوند رب الافواج اسرائیل کا قادر یوں فرماتا ہے کہ آہ میں ضروراپنے مُخالفوں سے آرام پاؤنگا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لونگا۔

25  اور میں تُجھ پر اپنا ہاتھ بڑھاؤنگا اور تیری مَیل بالکُل دُور کر دوں گااور اُس رانگے کو جو تُجھ میں مِلا ہے جُداکرونگا۔

26  اور میں تیرےقاضیوں کو پہلے کی طرح اورتیرے مُشیروں کو ابتدا کی طرح بحال کرونگا۔ اِس کے بعد توراستبازبستی اور وفادارآبادی کہلائے گی۔

27  صیون عدالت کےسبب سے اور وہ جو اُس میں گُناہ سے باز آئے ہیں راستبازی کےباعث نجات پائینگے۔

28  لیکن گنہگار اور بدکردار سب اکٹھے ہلاک ہونگے اورجو خداوند سےباغی ہوئے فنا کئے جائینگے۔

29  کیونکہ وہ اُن بلوطوںسے جنکو تم نے چاہا شرمندہ ہونگے اور تُم اُن باغوں سے جنکو تُم نے پسند کیا خجل ہو گے۔

30  اورتُم اُس بلوط کی مانند ہو جاؤ گے جسکے پتے جھڑ جائیں اوراُس باغ کی مِثل جو بے آبی کی سبب سے سوکھ جائے۔

31  وہاں کا پہلوان ایسا ہو جائیگا جیسا سَن اوراُسکا کام چنگاری ہو جائیگے۔ وہدونوں باہم جَل جائینگے اور کوئی اُن کی آگ نہ بھجائیگا

  أیسعیاہ 2

1  وہ بات جو یسعیاہ بن آموص نے یہوادہ اور یروشلیم کےحق میں رویا دیکھی ۔

2  آخری دنوںمیں یوں ہو گا کہ خداوند کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائیگا اور ٹیلوں سے بُلند ہو گا اور سب قومیں وہاں پہنچینگی۔

3  بلکہ بہت سی اُمتیں آئینگی اور کہینگی آو خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوب کے خداکے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُسکے راستوں پر چلیں گے کیونکہ شریعت صیون سے اور خداوند کا کلام یروشلیم سے صادر ہو گا۔

4  اورقوموں کے درمیان عدالت کریگا اور بہت سی اُمتوں کو ڈانٹے گااور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھرکبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔

5  اے یعقوب کے گھرانے آؤ ہم خداوند کی روشنی میں چلیں ۔

6  تُو نے تواپنے لوگوں یعنی یعقوب کےگھرانے کو ترک کیا اس لیے کہ وہ اہل مشرق کی رسوم سے پُر ہیں اور فلستیوں کی مانند شگون لیتے اور بیگانوں کی اولاد کی مانند ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں ۔

7 اور اُن کا مُلک سونے چاندے سے مالا مال ہےاور اُن کے خزانوں کی کُچھ انتہا نہیں اور اُن کا مُلک گھوڑوں سے بھرا ہے اور اُنکے رتھوں کا کُچھ شُمار نہیں۔

8  اور اُنکی سر زمین بُتوں سے بھی پُر ہے وہ اپنے ہی ہاتھوں کی صعنت یعنی اپنی اُنگلیوں کی کاریگری کو ہی سجدہ کرتےہیں۔

9  اِس سبب سے چھوٹا آدمی پست کیا جاتا ہے اوربڑا آدمی ذلیل ہوتا ہے اور تُو اُنکو ہرگز مُعاف نہ کریگا۔

10  خداوند کے خوف سے اور اُسکے جلال کی شوکت سے چٹان میں گھُس جا اور خاک میں چھِپ جا۔

11  اِنسان کی اونچی نگاہ نیچی کی جائیگی اور بنی آدمی کا تکبر پست ہو جائیگا اوراُس روز خداوند ہی سر بُلند ہو۔

12  کیونکہ رب الافواج کا دن تمام مغرورں، بُلند نظروں اور مُتکبروں پر آئیگا اور وہ پست کئیے جائینگے ۔

13  اورلُبنان کےسب دیوداروں پر جو بُلند اوراونچے ہیں اور بسن کے سب بلوطوں پر۔

14  اور سب اونچے پہاڑوں اور سب ٹیلوں پر ۔

15  اور ہر ایک اونچےبُرج پر اور ہر ایک فصیلی دیوار پر۔

16  اورترسِیس کے سب جہازوں پر غرض ہر ایک خوشنما منظر پر۔

17  اور آدمی کا تکبر ذیر کیا جائیگا اور لوگوں کی بُلند بینی پست کی جائیگی اور اُس روز خداوند ہی سر بُلند ہو گا۔

18  اور تمام بُت بالکل فنا ہونگے۔

19 اور جب خدواند اُٹھیگا کہ زمین کو شدت سے ہلائے تو لوگ اُسکے ڈر سے اور اُسکے جلال کی شوکت سے پہاڑوں کے غاروں میں اور زمین کے شگافوں میں گھُسینگے۔

20  اُس روز لوگ اپنی سونے چاندی کی مورتوں کو جو انہوں نے اپنے پوجنے کے لیے بنائی چھچھُورندوں اور چمگادڑوں کے آگے پھینکیں گے ۔

21  تاکہ جب خداوند زمین کو شدت سے ہلانے کے لیےاُٹھے تو اُسکے خوف سے اور اُس کے جلال کی شوکت سے چٹانوں کےغاروں اور نا ہموارپتھروں کے شگافوں میں گھُس جائیں۔

22  پس تُم انسان سے جسکا دم اُسکے نتھنوں میں ہےباز رہو کیونکہ اُسکی کیا قدر ہے؟۔

  أیسعیاہ 3

1  کیونکہ دیکھو خداوند رب الافواج یروشلیم اور یہوادہ سے سہارا اور تکیہ ۔ روٹی کا تمام سہارا اور پانی کا تمام تکیہ دور کر دے گا۔

2  یعنی بُہادر اور صاحب جنگ کو قاضی اور نبی کو فالگیر اور کُہن سال کو۔

3  پچاس پچاس کی سرداروں اورعزت داروں اورصلاحکاروں اور ہوشیار کاریگروں اور ماہر جادوگروں کو۔

4  اور میں لڑکوں کو اُنکے سردار بناؤنگا اور ننھے لڑکے اُن پر حکمرانی کریں گے۔

5  لوگوں میں سے ہر ایک دوسرے پر اور ہر ایک اپنے ہمسایہ پرستم کریگا اور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گُستاخی کریں گے۔

6  جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھرمیں اپنے بھائی کا دامن پکڑکر کہے کہ تو پوشاک والا ہے ۔ آ تو ہماراحاکم ہواور اِس اُجڑےدیس پر قابض ہو جا ۔

7  اُس وقت وہ بُلند آواز سے کہے گا کہ مُجھ سے انتظام نہیں ہو گا کیونکہ میرے گھرمیں نہ روٹی ہے نہ کپڑا۔ مُجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔

8  کیونکہ یروشلیم کی بربادی ہوگئی اور یہوادہ گِر گیا۔ اسلیےکہ اُنکی بول چال اورچال چلن خداوند کی خلاف ہے کہ اُسکی جلالی آنکھوں کو غضب ناک کریں۔

9  اُنکے مُنہ کی صورت اُن پر گواہی دیتی ہے ۔ وہ اپنے گناہوں کو سدوم کی مانند ظاہر کرتےہیں اورچھپاتے نہیں۔ اُنکی جانوں پر واویلا ہے!کیونکہ وہ آپ اپنے اوپر بلا لاتے ہیں ۔

10  راستبازوں کی بابت کہو کہ بھلا ہوگا کیونکہ وہ اپنے کاموں کا پھل کھائینگے۔

11  شریروں پر واویلا ہے! کہ اُنکو بدی پیش آئیگی کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا پائنگے۔

12  میرے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ لڑکے اُن پر ظُلم اور عورتیں اُن پر حکمرانی کرتی ہیں۔ اے میرے لوگو! تُمہارے پیشوا تُم کو گُمراہ کرتےہیں اورتُمہارے چلنے کی راہوں کو بگاڑتےہیں۔

13 خداوند کھڑا ہے کہ مقدمہ لڑے اور لوگوں کی عدالت کرے۔

14  خداوند اپنے لوگوں کے بزرگوں اوراُنکے سرداروں کی عدالت کرنےکو آئیگا ۔ تُم ہی ہو جا تاکستان چٹ کر گئے ہواور مسکینوں کی لوٹ تُمہارے گھروں میں ہے۔

15  خداوند رب الافواج فرماتاہے کہ اِسکے کیا معنی ہیں کہ تُم میرے لوگوں کو دباتےاور مسکینوں کے سرکُچلتے ہو ؟۔

16  اور خداوند فرماتا ہے چونکہ صیون کی بیٹیاں مُتکبر ہیں اورگردن کشی اورشوخ چشمی سے خرامان ہوتی ہیں اور اپنے پاؤں سے نازرفتاری کرتی اورگھنگھرو بجاتی جاتی ہیں ۔

17  اسلیے خداوند صیون کی بیٹیوں کے سرگنجے اور یہوادہ اُن کےبدن بےپردہ کر دےگا۔

18  اُس دن خداوند اُنکے خلخال کی زیبائش اور جالیاں اورچاند لے لے گا۔

19  اورآویزے اور پہنچیاں اور نقاب۔

20  اور تاج اور پازیب اورپٹکے اورعِطردان اور یعِویذ ۔

21 اور انگوٹھیاں اور نتھ۔

22  اور نفیس پوشاکیں اوراوڑھنیاں اوردوپٹے اورکیِسے ۔

23  اور آرسیاں اور باریک کتانی لِباس اور دستاریں اوربُرقعے بھی۔

24  اور یوں ہو گا کہ خوشبو کے عوض سڑاہٹ ہو گی اور پٹکےکےبدلے رسی اورگُندھے ہوئے بالوں کی جگہ چندلاپن اورنفیس لباس کے عوض ٹاٹ اور حُسن کے بدلے داغ۔

25 تیرے بہادرتِہ تیغ ہونگے اورتیرے پہلوان جنگ میں قتل ہونگے اور تیرے پہلوان جنگ میں قتل ہونگے۔

26 اُسکے پھاٹک ماتم اور نوحہ کریں گے اور وہ اُجاڑ ہو کر خاک پر بیھٹے گی ۔

  أیسعیاہ 4

1  اُس وقت سات عورتیں ایک مردکو پکڑ کر کہیں گی کہ ہم اپنی روٹی کھائینگی اور اپنے کپڑے پہنیں گی تو ہم سب سے صرف اتنا کر کہ ہم تیرےنام سے کہلائیں تاکہ ہماری شرمندگی مِٹے۔

2  تب خداوند کی طرف سے روئیدگی خوبصورت و شاندار ہو گی اور زمین کا پھل اُن کے لیے جو بنی اسرائیل میں سے بچ نکلے گالذیذ اورخوشنما ہو گا۔

3  اور یوں ہو گا کہ جو کوئی صیون میں چھٹ جائیگا اور جوکوئی یروشلیم میں باقی رہے گا بلکہ ہرایک جسکا نام یروشلیم کے باشندوں میں لکھا ہو گا مُقدس کہلائیگا ۔

4  جب خداوند صیون کی بیٹیوں کی گندگی دور کریگا اور یروشلیم کا خون رُوحِ عدل اور رُوحِ سوزان کے ذریعہ سے دھو ڈالیگا۔

5  تب خداوند پھر کوہ صیون کےہر ایک مکان پر اوراُس کی مجلس گاہوں پردن کو بادل اوردھواں اوررات کو روشن شعلہ پیدا کریگا۔ تمام جلال پر ایک سایبان ہو گا۔

6  اور ایک خیمہ ہو گا جو دن کو گرمی میں سایہ دار مکان اور آندھی اور جھڑی کے وقت آرامگاہ اور پناہ کی جگہ ہو۔

  أیسعیاہ 5

1  اب میں اپنے محبوب کے لیے اپنے محبوب کا ایک گیت اُس کےتاکستان کےلیےگاونگا۔ میرے محبوب کا تاکستان ایک زرخیز پہاڑ پر تھا۔

2  اور اُس نے اُسے کھودا اور اُس میں سے پتھر نکال دئیے اور اچھی سے اچھی تاکیں اُس میں لگائی ارو اُس میں برج بنایااور ایک کولھو بھی اُس میں لگایا اور انتظار کیا کہ اُس میں اچھے انگور لگیں لیکن اُسمیں جنگلی انگور لگے۔

3  اب اےیروشلیم کے باشندہ اور یہوداہ کے لوگو میرے اور میرے تاکستان میں تم ہی انصاف کرو۔

4  کہ میں اپنے تاکستان کے لیے اور کیا کر سکتا تھا جومیں نےنہ کیا؟ اوراب جو میں اچھے انگوروں کی اُمیدکی تو اس میں جنگلی انگور کیوں لگے؟۔

5  میں تم کو بتاتا ہوں کہ اب میں اپنے تاکستان سے کیا کرونگا میں اُسکی باڑ گرادونگا اور وہ چراگاہ ہو گا۔ اُس کا احاطہ توڑڈالونگا اوروہ پامال کیا جائیگا۔

6  اورمیں اُسے بالکل ویران کردونگا۔ وہ نہ چھانٹا جائیگا نہ نرایا جائیگا۔ اُس میں اونٹ کٹارے اور کانٹ اگیں گے اور میں بادلوں کو حکم کرونگا کہ اس پر مینہ نہ برسائیں۔

7  سو رب الافواج کا تاکستان اسرائیل کا گھرانہ ہے اور بنی یہوادہ اُس کا خوشمنا پودا ہے اُس نےانصاف کا انتظار کیا پر خونریزی دیکھی وہ داد کا مُنتظر رہاپر فریاد سُنی۔

8  اُن پر افسوس جو گھر سے گھر اور کھیت سے کھیت ملا دیتے ہیں یہاں تک کہ کوئی جگہ باقی نہ بچےاور وہی مُلک میں اکیلےبسیں۔

9  رب الافواج نےمیرے کان میں کہا یقیناً بہت سےگھر اجڑ جائیں گے اور بڑے بڑے عالیشان اور خوبصورت مکان بھی بے چراغ ہونگے۔

10  کیونکہ پندرہ بیگھے تاکستان سے صرف ایک بت مے نکلے گی اور ایک خومر بیج سے ایکایفہ غلہ۔

11  اُن پر افسوس جو صبح سویرے اٹھتے ہیں تاکہ نشہ بازی کے درپے ہو اور رات کو جاگتے ہیں جب کہ شراب اُن کو بھڑکا نہ دے ۔

12  اور اُن کے جشن کی محفلوں میں ستار، بربط اور دف اور بین اور شراب ہیں لیکن وہ خدا کے کام کو نہیں سوچتے اور اُس کے ہاتھوں کی کایگری پر غور نہیں کرتے۔

13  اس لیے میرے لوگ جہالت کے سبب سے اسیری میں جاتے ہیں اُن کے بزرگ بھوکوں مرتے اورعوام پیاس میں جلتے ہیں۔

14  بس پاتال اپنی ہوس بڑھاتا ہے اور اپنا منہ بے انتہا پھاڑتاہے اور ان کے شریف اور عام لوگ اور غوگائی اور جو کوئی ان میں فخر کرتاہے اُس میں اُتر جائینگے۔

15  اورچھوٹا آدمی جھکایا جائیگا اوربڑا آدمی پست ہو گا اور مغرورں کی آنکھیں نیچی ہو جائیں گی۔

16  لیکن رب الافواج عدالت میں سر بُلند ہو گا اور خدائے قدوس کی تقدیس صداقت سے کی جائیگی۔

17  تب برے گویا اپنی چراگاہوں میں چریں گے اوردولتمندوں کے ویران کھیت پردیسیوں کے گلے کھائیں گے۔

18  اُن پر افسوس جو بطالت کے طنابوں سے بدکرداری کو اور گویاگاڑی کے رسوں سے گناہ کو کھینچ لاتے ہیں ۔

19  اور جو کہتے ہیں کہ وہ جلدی کرےاور پُھرتی سے اپنا کام کرےکہ ہم دیکھیں اور اسرائیل کے قُدوُس کی مشورت نزدیک ہو اورآن پہنچے تاکہ ہم اسے جانیں۔

20  اُن پر افسوس جو بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتےہیں اور نور کی جگہ تاریکی کو او ر تاریکی کی جگہ نور کر دیتے ہیں اور شیرینی کے بدلے تلخی اور تلخی کے بدلے شیرینی رکھتے ہیں۔

21  اُن پر افسوس جو اپنی نظر میں دانشمند اوراپنی نگاہ میں صاحب امتیاز ہیں۔

22  اُن پر افسوس جو مے پینے میں زور آوراور شراب ملانے میں پہلوان ہیں۔

23  جو رشوت لے کر شریروں کو صادق اورصادقوں کو شریر ٹھہراتے ہیں۔

24  پس جس طرح آگ بھوسے کو کھا جاتی ہے اور جلتاہوا پھوُس بیٹھ جاتا ہے اُسی طرح اُن کی جڑ بوسیدہ ہوگی اوراُن کی کلی گرد کی طرح اُڑ جائیگی کیونکہ انہوں نے رب الافواج کی شریعت کو ترک کیا اوراسرائیل کے قُدوس کے کلام کو حقیر جانا۔

25  اس لیے خداوند کا قہر اُس کے لوگوں پر بھڑکا اور اُس نے اُن کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا اوراُنکو مارا چنانچہ پہاڑ کانپ گئے اوراُن کی لاشیں بازاروں میں غلاظت کی مانند پڑی ہیں۔ باوجود اُس کا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُس کا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے ۔

26  اور وہ قوموں کے لیے دورسےجھنڈا کھڑا کریگا اوراُن کو زمین کی انتہا سے سُسکار کر بُلائیگا اور دیکھ وہ دوڑےچلے آئینگے۔

27  نہ کوئی اُن میں تھکے گا اور نہ پھسلے گا۔ نہ کوئی اونگھیگا اورنہ سوئیگا۔ نہ اُن کا کمر بند کھُلے گا اور نہ جوتیوں کا تسمہ ٹوٹے گا۔

28  اُنکے تیر تیز ہیں اور اُن کی سب کمانیں کشیدہ ہونگی۔ اُنکے گھوڑوں کےسم چقماق اوراُنکی گاڑیاں گردباد کی مانند ہونگی۔

29  وہ شیرنی کی مانند گرجیں گے ہاں وہ جوان شیروں کی مانند دھاڑیں گے وہ غُرا کر شکار پکڑینگے اوراُسے بےروک ٹوک لےجائیں گے اورکوئی بچانے والا نہ ہوگا۔

30  اور اُس روز وہ اُن پر ایسا شور مچائیں گے جیساسمندر کا شورہوتاہے اور اگر کوئی اس ملک پر نظر کرے تو تو بس اندھیرا اور تنگ حالی ہے اورروشنی اُسکے بادلوں سےتاریک ہو جاتی ہے ۔

  أیسعیاہ 6

1  جس سال میں عُزیاہ بادشاہ نے وفات پائی اُس سال میں نے خداوند کو بڑی بُلندی پر اونچے تخت پر بیٹھے دیکھا او اُسکے لباس کےدامن سے ہیکل معمور ہو گئی۔

2  اُس کے آس پاس سرافیم کھڑے تھے جن میں سے ہر ایک کے چھ بازو تھے اور ہر ایک دو سے اپنا مُنہ ڈھانپے ہوئےتھا اور دو سے پاؤں اوردوسے اڑتا تھا۔

3  اور ایک نے دوسرے کو پُکارا اورکہا قدوس قدوس قدوس رب الافواج ہے۔ ساری زمین اُسکے جلال سے معمور ہے۔

4  اور پُکارنے والے کی آواز سے آستانوں کی بنیادیں ہل گئی اور مکان دھوئیں سے بھر گیا۔

5  تب میں بول اُٹھا کہ مجھ پر افسوس ! میں تو برباد ہوگیا! کیونکہ میرے ہونٹ ناپاک ہیں اورنجس لب لوگوں میں بستا ہوں کیونکہ میری آنکھوں نے بادشاہ رب الافواج کو دیکھا۔

6  اُس وقت سرافیم میں سے ایک سُلگا ہوا کوئلہ جو اُس نے دست پناہ سے مذبح پر سےاٹھالیاتھا لیکر اڑتا ہوا میرے پاس آیا۔

7  اور اُس نے میرےمنہ کو چھوا اورکہا دیکھ اس نے تیرے لبوں کو چُھؤا۔ پس تیری بد کرداری دور ہوئی اور تیرے گناہ کا کفارہ ہو گیا۔

8  اُس وقت میں نے خداوند کی آواز سُنی جس نے فرمایا میں کس کو بھیجوں اور ہماری طرف سے کون جائے گا؟ تب میں نے عرض کی کہ میں حاضر ہوں مجھے بھیج۔

9  اوراُسنے فرمایا کہ کہ جا اور اُن لوگوں سے کہہ کہ تم سُنا کرو پر سمجھونہیں۔ تم دیکھا کرو پربوجھو نہیں ۔

10  تواُن لوگوں کےدلوں کو چربا دے اوراُن کے کانوں کو بھاری کر اور ان کی آنکھیں بند کر دے تا نہ ہوں کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے کانوں سے سُنیں اور اپنےدلوں سے سمجھ لیں اور باز آئیں اورشفا پائیں۔

11  تب میں نے کہا کہ اے خداوند یہ کب تک؟ اُس نے کہا کہ جب تک بستیاں ویران نہ ہوں اورکوئی بسنےوالا نہ رہے اورگھر بےچراغ نہ ہوں اور زمین سرا سر اجاڑ نہ ہو جائے ۔

12  اور خداوند آدمیوں کو دور کر دے اور اس زمین میں متروک مقام بکثرت ہوں۔

13  اور اگراُس میں دسواں حصہ باقی بھی بچ جائے تر وہ پھر بھسم کیا جائے گا لیکن وہ بُطم اوربلوط کی مانند ہو گا کہ باوجود وہ کاٹے بھی جائیں تو بھی اُن کاٹنڈ بچ رہتا ہے ۔ سو اُسکا ٹنڈ ایک مقدس تخم ہو گا۔

  أیسعیاہ 7

1  اور شاہ یہوداہ آخز بن یوتام بن عُزیاہ کے آیام میں یہ ہوا کہ رضین شاہ ارام اور فقح بن رملیاہ شاہ اسرائیل نے یروشلیم پر چڑھائی کی لیکن اُس پر غالب نہ آسکے۔

2  اُس وقت داؤد کے گھرانے کو یہ خبر دی گئی کہ ارام افرائیم کے ساتھ متحد ہے۔ پس اُس کے دل نےاور اُس کے لوگوں کےدلوں نے یوں جنبش کھائی جیسےجنگل کےدرخت آندھی سےجنبش کھاتےہیں۔

3  تب خداوند نے یسعیاہ کو حکم کیا کہ تو اپنےبیٹے شیار یاشوب کو لےکر اوپر کے چشمہ کی نہر کے سرے پر جو دھوبیوں کے میدان کی راہ میں ہے آخز سے ملاقات کر۔

4  اوراُسے کہہ کے خبردار ہو اوربےقرار نہ ہو۔ ان لکٹیوں کے دودھوئیں والے ٹکڑوں سے یعنی ارامی رضین اوررملیاہ کے بیٹےکی قہر انگیزی سے نہ ڈر اور تیرا دل نہ گھبرائے۔

5  چونکہ ارام اورافرائیم اوررملیاہ کا بیٹا تیرے خلاف مشورت کر کے کہتےہیں۔

6  کہ آؤ ہم یہوادہ پر چڑھائی کریں اوراُسے تنگ کریں اور اپنے لیے اُس میں رخنہ پیدا کریں اور طابیل کے بیٹے کو اُسکے درمیان تخت نشین کریں ۔

7  اس لیے خداوند خدافرماتا ہے کہ اسکو پایداری نہیں بلکہ ایسا ہو بھی نہیں سکتا ۔

8  کیونکہ ارام کا دالسلطنت دمشق ہی ہو گا اور دمشق کا سردار رضین اورپینسٹھ برس کےاندر افرائیم ایسا کٹ جائے گا کہ قوم نہ رہیگا۔

9  افرائیم کا بھی دارالسلطنت سامریہ ہی ہو گا اور سامریہ دا سردار رملیاہ کا بیٹا۔ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو یقیناً تم بھی قائم نہ رہو گے۔

10  پھر خداوند نے آخز سے فرمایا۔

11  خداوند اپنے خدا سے کوئی نشان طلب کر خواہ نیچے پاتال میں خواہ اُوپر بلندی پر ۔

12  لیکن آخز نے کہا کہ میں طلب نہیں کروں گا اور خداوند کو نہیں آزماونگا۔

13  تب اُن نے کہا اے داؤد کے خاندان اب سنو ! کیا تمہارا انسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خدا کو بھی بیزار کروگے؟۔

14  لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی۔

15  وہ دہی اورشہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کےرد و قبول کے قابل نہ ہو جائے۔

16  پراس سے پیشتر کہ یہ لڑکا نیکی اوربدی کے رد و قبول کے قابل ہو یہ ملک جس کے دونوں بادشاہوں سے تجھ کو نفرت ہے ویران ہو جائیگا۔

17  خداوند تجھ پر اورتیرے لوگوں اورتیرے باپ کےگھرانے پر ایسے دن لائیگا جیسے اُس دن سے جب افرائیم یہوادہ سے جُدا ہوا آج تک کبھی نہ لایا یعنی شاہ اسور کے دن۔

18  اُس وقت یوں ہو گا کہ خداوند مصر کی نہروں کے اُس سرے سے مکھیوں کو اور اسور کے ملک سے زنبوروں کو سسکار کر بُلائیگا۔

19  سو وہ سب آئینگے اور ویران وادیوں میں اور چٹانوں کی دراڑوں میں اور سب خارستانوں میں اور سب چراگاہوں میں چھا جائیں گے ۔

20  اسی روز خداوند اس اُسترے سے جو دریایِ فرات کے پار سے کرایہ پر لیا یعنی اسور کے بادشاہ سے سر اور پاؤں کے بال مونڈیگا اور اس سے ڈاڑھی بھی کھرچی جائیگی۔

21  اور اُسوقت ایساہو گا کہ آدمی صرف ایک گائے اوردو بھیڑیں پالیگا ۔

22  اور ان کے دودھ کی فراوانی سے لوگ مکھن کھائینگے کیونکہ ہر ایک جو اُس ملک میں بچ رہیگا مکھن اورشہد ہی کھایا کرےگا۔

23  اور اس وقت یہ حالت ہو جائیگی کہ ہر جگہ ہزاروں روپیہ کے تاکستانوں کی جگہ خار دار جھاڑیاں ہونگی۔

24  لوگ تیر اور کمانیں لیکر وہاں آئینگے کیونکہ تمام ملک کانٹوں اور جھاڑیوں سے پُر ہو گا۔

25  مگر ان سب پہاڑیوں پر جو کدالی سےکھودی جاتی تھیں جھاڑیوں اور کانٹوں کے خوف سے تو پھر نہ چڑھیگا لیکن وہ گائے بیل اوربھیڑ بکریوں کہ چراگاہ ہونگی۔

  أیسعیاہ 8

1 پھر خداوند نے مجھے فرمایا کہ ایک بڑی تختی لے اور اُس پر لکھ مہیر شالال حاش بز کے لیے۔

2  اوردودیانتدار گواہوں کو یعنی اوریا کاہن کو اور زکریاہ بن یبرکیاہ کو شاہد بنا۔

3  اور میں نبیہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور بیٹا پیدا ہوا۔ تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ اُس کا نام مہیر شالال حاش بز رکھ۔

4  کیونکہ اس سے پیشتر کہ یہ لڑکا ابا اور امّاں کہنا سیکھے دمشق کا مال اور سامریہ کی لوٹ کو اٹھوا کر شاہ اسور کےحضور لےجائیں گے۔

5 پھر خداوند نے یہ فرمایا ہے۔

6  چونکہ ان لوگوں نے چشمہ شیلوخ کے آہستہ رو پانی کو رد کیا اور رضین اوررملیاہ کے بیٹے پر مائل ہوئے۔

7  اسلیے اب دیکھ خداوند دریایِ فرات کے سخت شدید سیلاب کو یعنی شاہ اسور اوراُس کی ساری شوکت کو ان پر چڑھا لائیگا اور وہ اپنے سب نالوں پر اور اپنے سب کناروں سے بہہ نکلے گا۔

8  اور وہ یہوادہ میں بڑھتا چلا جائیگا اور اسکی طغیانی بڑھتی چلی جائیگی۔ وہ گردن تک پہنچےگا اوراسکے پروں کے پھیلاؤ سےتیرے ملک کی ساری وسعت اَے عمانوئیل چھپ جائیگی۔

9  اے لوگو دھوم مچاؤ پر تم ٹکڑے ٹکڑے کیے جاؤ گے اور اے دوردور کے ملکوں کے باشندو سُنو! کمر باندھو پر تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے ۔ کمر باندھو پر تمہارے پُرزے پُرزے ہونگے۔

10  تم منصوبہ باندھو پر وہ باطل ہو گا ۔ تم کچھ کہو اور اُسے قیام نہ ہو گا کیونکہ خدا ہمارےساتھ ہے۔

11  کیونکہ خداوند نے جب اُسکا ہاتھ مجھ پر غالب ہوا اور ان لوگوں کی راہ میں چلنے سے مجھ کو منع کیا تو مجھ سے یوں فرمایا کہ۔

12  تم اُس سب کو جسے یہ لوگ سازش کہتے ہیں سازش نہ کہو اورجس سے وہ ڈرتے ہیں تم نہ ڈرو اور گھبراؤ۔

13  تم رب الافواج کو ہی مقدس جانو اور اُسی سےڈرو اور اُسی سے خائف رہ۔

14  اور وہ ایک مقدس ہو گا لیکن اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لیے صدمہ اور ٹھوکر کا پتھر اور یروشلیم کے لوگوں کے لئے پھندا اوردام ہو گا۔

15  ان میں سے بہتیرے اس سے ٹھوکر کھائینگے اور گرینگے اور پاش پاش ہونگے اور دام میں پھنسینگے اور پکڑے جائیں گے۔

16  شہادت نامہ بند کر دو اور میرے شاگردوں کے لیے شریعت پر مہر کرو۔

17  میں بھی خداوند کی راہ دیکھونگا اب جو یعقوب کے گھرانےسے اپنا منہ چھپاتا ہے ۔ میں اسکا انتظار کرونگا۔

18 دیکھ میں ان لڑکوں سمیت جو خداوند نے مجھے بخشے رب الافواج کی طرف سے جو کوہ صیون میں رہتا ہے بنی اسرائیل کے درمیان نشانوں اورعجائب وہ غرائب کے لیے ہوں۔

19  اور جب وہ تم سے کہیں تم جنات کے یاروں اورافسونگرں کی جو پُھسپُھساتے اور بڑبڑاتےہیں تلاش کرو تو تم کہو کیا لوگوں کو مناسب نہیں کہ اپنے خدا کے طالب ہوں ؟ کیا زندوں کی بابت مردوں سے سوال کریں؟ ۔

20  شریعت اور شہادت پر نظر کرو۔ اگر وہ اس کلام کے مطابق نہ بولیں تو انکے لیے صبح نہ ہو گی۔

21  تب وہ ملک میں بھوکے اور خستہ حال پھریں گے اور یوں ہو گا کہ جب وہ بھوکے ہوں تو جان سے بیزار ہونگے اور اپنے بادشاہ اور خدا پر لعنت کریں گے اور اپنے منہ آسمان کی طرف اٹھائیں گے۔

22  پھر زمین کی طرف دیکھیں گے اور ناگہان تنگی اور تاریکی یعنی ظلمتِ اندوہ اور تیرگی میں کھدیڑے جائینگے

  أیسعیاہ 9

1  لیکن اندوہگین کی تیرگی جاتی رہیگی۔ اُس نے قدیم زمانے میں زبولون اورنفتالی کے علاقوں کو ذلیل کیا پر آخری زمانہ میں قوموں کے گلیل میں دریا کی سمت یردن کے پاربزرگی دیگا۔

2  جو لوگ تاریکی میں چلتے تھےانہوں نے بڑی روشنی دیکھی ۔ جو موت کے سایہ کے ملک میں رہتے تھے ان پر نور چمکا۔

3  تو نے قوم کو بڑھایا۔ تو نے انکی شادمانی کو زیادہ کیا۔ وہ تیرے حضور ایسے خوش ہیں جیسے فصل کاٹتے وقت اور غنیمت کی تقسیم کے وقت لوگ خوش ہوتے ہیں۔

4  کیونکہ تو نے انکے بوجھ کے جوئے اور انکے کندھے کے لٹھاور اُن پر ظلم کرنے والے کے عصا کو ایسا توڑاجیسا مدیان کے دن میں کیا تھا ۔

5  کیونکہ جنگ میں مسّلح مردوں کے تمام سلاح اور خون آلودہ کپڑے جلانے کے لئے ایندھن ہونگے۔

6  اس لیے ہمارے لیے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹابخشا گیا اور سلطنت اُسکے کندھے پر ہو گی اور اُس کا نام عجیب مشیرخدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہو گا۔

7  اُسکی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہو گی۔ وہ داؤد کے تخت اور اُسکی مملکت پر آج سے ابد تک حکمران رہیگا اور عدالتاورصداقت سے اُسے قیام بخشے گا رب الافواج کی غیوری یہ کرے گی۔

8  خداوند نے یعقوب کے پاس پیغام بھیجا اور وہ اسرائیل پر نازل ہوا۔

9  اور سب لوگ معلوم کرینگے یعنی بنی افرائیم اور اہل سامریہ جو تکبر اور سخت دلی سے کہتے ہیں۔

10  کہ اینٹیں گر گئیں اورہم تراشتے ہوئے پتھروں کی عمارت بنائینگے ۔ گولر کے درخت کاٹے گئے پر ہم دیودار لگائینگے۔

11  اسلیے خداوند رضین کے مخالف گروہوں کو اُن پر چڑھا لائیگا اور اُن کے دشمنوں کو خود مسلح کریگا۔

12  آگے ارامی ہونگے اور پیچھے فلستی اور وہ منہ پسار کر اسرائیل کو نگل جائینگے۔ باوجود اسکے اُسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔

13  تو بھی لوگ اپنے مارنے والے کیطرف نہ پھرے اوررب الافواج کے طالب نہ ہوئے۔

14  اسلیے خداونداسرائیل کے سر اور دُم اورخاص و عام کو ایک ہی دن میں کاٹ ڈالیگا۔

15  بزرگ اورعزت دار آدمی سر ہے اور جو نبی جھوٹی باتیں سکھاتا ہے وہی دم ہے۔

16  کیونکہ جو ان لوگوں کے پیشوا ہیں ان سے خطاکاری کراتے ہیں اور انکے پیرو نگلے جائیں گے۔

17  پس خداوند ان کے جوانو سے خوشنود نہ ہو گا اور ان کے یتیموں اور ان کی بیواں پر کبھی رحم نہ کریگا کیونکہ ان میں سے ہر ایک بے دین اور بدکردار ہے اور ہر ایک منہ حماقت اگلتا ہے باوجود اُسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔

18  کیونکہ شرارت آگ کی طرح جلاتی ہے ۔ وہ خس و خار و کھا جاتی ہے بلکہ وہ جنگل کی گنجان جھاڑیوں میں شعلہ زن ہوتی ہے اور وہ دھوئیں کےبادل میں اوپر کو اڑ جاتی ہے۔

19  رب الافواج کےقہر سے یہ مُلک جلایا گیاہے اور لوگ ایندھن کی مانند ہیں کوئی اپنےبھائی پر رحم نہیں کرتا۔

20  اورکوئی دہنی طرف سےچھینےگا پر بھوکا نہ رہیگا اور وہ بائیں طرف سے کھائے گا سیر نہ ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اپنےبازو کا گوشت کھائیگا ۔

21  منسی افرائیم کا اورافرائیم منسی کا اور وہ ملکر یہوداہ کے مخالف ہونگے ۔ باوجود اسکے اسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اسکا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے۔

  أیسعیاہ 10

1  ان پر افسوس جو بے انصافی سے فیصلے کرتے ہیں اور ان پر جو ظلم کی روبکائیں لکھتے ہیں۔

2  تاکہ مسکینوں کو عدالت سے محروم کریں اور جو میرے لوگوں میں محتاج ہیں انکا حق چھین لیں اور بیواؤں کو لوٹیں اور یتیم ان کا شکار ہوں! ۔

3  سو تم مطالبہ کے دن اور اُس خرابی کے دن جو دور سے آئیگی کیا کرو گے ؟ تم کمک کے لیے کس کے پاس دوڑو گے؟ اور تم اپنی شوکت کہاں رکھ چھوڑو گے؟۔

4  وہ قیدیوں میں گھسینگے اور مقتولوں کے نیچےچھپینگے ۔ باوجود اسکے اسکا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُسکا ہاتھ ہنوزبڑھا ہوا ہے ۔

5  اسور یعنی میرے قہر کے عصا پر افسوس! جو لٹھ اسکے ہاتھ میں ہے سو میرے قہر کا ہتھیار ہے ۔

6  میں اسے ایک ریا کارقوم پر بھیجونگا اور اُن لوگوں کی مخالفت میں جن پر میرا قہر ہے میں اُسے حکم قطعی دونگا کہ مال لوٹے اور غنیمت لے لے اور انکو بازاروں کی کیچڑ کی مانند لتاڑے۔

7  لیکن اسکا یہ خیال نہیں ہے اور اسکے دل میں یہ خواہش نہیں کہ ایساکرے بلکہ اسکا دل یہ چاہتا ہے کہ قتل کرے اور بہت سی قوموں کو کاٹ ڈالے۔

8  کیونکہ وہ کہتا ہے کہ کیا میرے امرا سب کے سب بادشاہ نہیں؟۔

9  کیا کلنو کرکمیس کی مانند نہیں ہے؟ اور حمات ارفاد کی مانند نہیں؟ اور سامریہ دمشق کی مانندنہیں ہے ؟۔

10  جس طرح میرے ہاتھوں نے بتوں کی مملکتیں حاصل کیں جنکی کھودی ہوئی مورتیں یروشلم اور سامریہ کی مورتوں سے کہیں بہتر ہیں۔

11  کیا جیسا میں نے سامریہ اور اس کے بتوں سے کیا ویسا ہی یروشلیم اور اسکےبتوں سے نہیں کرونگا؟ ۔

12  لیکن یوں ہو گا کہ جب خداوند کوہ صیون پر اور یروشلیم میں اپنا سب کام مکمل کرچکے گا تب ( وہ فرماتا ہے ) میں شاہ اسور کو اسکے گستاخ دل کے ثمرہ کی اور اسکی بلند نظری اور گھمنڈ کی سزا دونگا۔

13  کیونکہ وہ کہتا ہے میں نے اپنے زور بازو سے اور اپنی دانش سے یہ کیا ہے کیونکہ میں دانشمند ہوں ۔ ہاں میں نے قوموں کی حدود کو سرکا دیا اور انکے خزانے لوٹ لیے اور میں نے جنگی مرد کی مانند تخت نشینوں کو اُتار دیا۔

14  اور میرے ہاتھ نے لوگوں کی دولت کو گھونسے کی طرح پایا اور جیسے کوئی ان انڈوں کو جو متروک پڑے ہوں سمیٹ لے ویسے ہی میں ساری زمین پر قابض ہوا اور کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ پر ہلائے یا چونچ کھولے یا چہچہائے ۔

15  کیا کلہاڑا اس کے روبرو جو اُس سے کاٹتا ہے لاف زنی کریگا ؟ کیا ارّہ ارّہ کش کے سامنے شیخی مارے گا ؟ گویا عصا اپنے اٹھانے والے کو حرکت دیتا ہے اور چھڑی آدمی کو اٹھاتی ہے۔

16  اس سبب سے خداوند رب الافواج اسکے فربہ جوانوں پر لاغری بھیجے گا اور اسکی شوکت کے نیچے ایک سوزش آگ کی سوزش کی مانند بھڑکائیگا۔

17  بلکہ اسرائیل کا نور ہی آگ بن جائے گا اور اس کا قدوس ایک شعلہ ہو گا اور وہ اسکے خس و خار کو ایک دن میں جلا کر بھسم کر دے گا۔

18  اور اس کے بن اور باغ کی خوشنمائی کو بالکل نیست ونابود کردیگا اور وہ ایساہو جائیگا جیسا کوئی مریض جو غش کھائے ۔

19  اور اسکے باغ کے درخت ایسے تھوڑے باقی بچینگے کہ ایک لڑکابھی اُنکو گن کرلکھ لے ۔

20  اور اسوقت یوں ہو گا کہ وہ جو بنی اسرائیل میں سے باقی رہ جائینگے اوریعقوب کے گھرانے میں بچ رہینگے اُس پر جس نے اُنکو مارا پھر تکیہ نہ کرینگےبلکہ خداوند اسرائیل کے قدوس پر سچےدل سےتوکل کرینگے ۔

21  ایک بقیہ یعنی یعقوب کا بقیہ خدایِ قادر کی طرف پھریگا۔

22  کیونکہ اے اسرائیل اگرچہ تیرے لوگ سمندر کی ریت کی مانند ہوں تو بھی ان کا صرف ایک بقیہ واپس آئے گا اور بربادی پورے عدل سےمقرر ہو چکی ہے۔

23  کیونکہ خداوند رب الافواج مقررہ بربادی تمام رُوی زمین پر ظاہر کریگا ۔

24 لیکن خداوند رب الافواج فرماتا ہے اے میرے لوگو جو صیون میں بستے ہو اسور سے نہ ڈرو۔ اگرچہ وہ تم کو لٹھ سے مارے اور مصر کی طرح تم پر اپنا عصا اُٹھائے۔

25  لیکن تھوڑی ہی دیر ہےکہ جوش و خروش موقوف ہو گا اور انکی ہلاکت سے میرےقہر کی تسکین ہو گی۔

26  کیونکہ رب الافواج مدیان کی خونریزی کے مطابق جو عوریب کی چٹان پر ہوئی اُس پر ایک کوڑا اُٹھائیگا ۔ اسکا عصا سمندر پر ہو گا ہاں وہ اسے مصر کی طرح اٹھائیگا ۔

27  اور اسوقت یوں ہو گا کہ اسکا بوجھ تیرے کندھے پر سے اور اسکا جوا تیری گردن پر سے اٹھا لیا جائیگا اور وہ جوا مسح کے سبب سے توڑا جائیگا ۔

28  وہ عیات میں آیا ہے ۔ مجرون میں سے ہو کر گذر گیا ۔ اُس نے اپنا اسباب مِکماس میں رکھا ہے۔

29  وہ گھاٹی سے پار گئے ۔ انہوں نے جبعہ میں رات کاٹی ۔ رامہ ہراسان ہے جبعہ ساؤل بھاگ نکلا ہے ۔

30  اے حلیم کی بیٹی چیخ مار! اے مسکین عنتوت اپنی آواز لیس کو سنا۔

31  مدمینہ چل نکلا جیبیم کے رہنے والے نکل بھاگے۔

32  وہ آج کے دن نوب میں خیمہ زن ہو گا ۔ تب وہ دختر صیون کے پہاڑ یعنی کوہ یروشلیم پرہاتھ اُٹھا کر دھمکائیگا۔

33  دیکھو خداوند رب الافواج ہیبتناک طور سے مار کر شاخوں کو چھانٹ ڈالیگا۔ قد آور کاٹ ڈالے جائینگے اور بلند پست کیے جائینگے۔

34  اور وہ جنگل کی گنجان جھاڑیوں کو لوہے سے کاٹ ڈالیگا اور لُبنان ایک زبردست کے ہاتھ سے گر جائیگا۔

  أیسعیاہ 11

1  اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلیگی اور اسکی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔

2  اور خداوند کی روح اُس پر ٹھہرے گی ۔حکمت اور خرد کی روح مصلحت اور قدرت کی روح معرفت اور خداوند کے خوف کی روح ۔

3  اوراسکی شادمانی خداوند کے خوف میں ہو گی اور وہ نہ اپنی آنکھوں کے دیکھنےکے مطابق انصاف کریگا اور نہ اپنے کانوں کے سننے کے مطابق فیصلہ کریگا۔

4  بلکہ وہ راستی سے مسکینوں کا انصاف کریگا اور عدل سے زمین کے خاکساروں کا فیصلہ کریگا اور اپنی زبان کلے عصا سے زمین کو ماریگا اور اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو فنا کرڈالیگا۔

5  اور اسکے کمر کا پٹکا راستبازی ہو گی اور اسکے پہلو پر راستبازی کا پٹکا ہو گا۔

6  پس بھیڑ یا بّرہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑااور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہینگے اور ننھا بچہ انکی پیش روی کریگا۔

7  گائے اور ریچھنی ملکر چرینگی ۔ انکے بچے اکٹھے بیٹھیں گے اور شیر ببر بیل کی طرح بھوسا کھائیگے۔

8  اوردودھ پیتا بچہ سانپ کی بل کے پاس کھیلے گا اور وہ لڑکا جسکا دودھ چھڑایا گیا ہو افعی کی بل میں ہاتھ ڈالیگا۔

9  وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضررپہچائینگے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کےعرفان سے معمور ہو گی۔

10  اور اسوقت یوں ہو گاکہ لوگ یسی کی اُس جڑ کےطالب ہونگے جو لوگوں کے لیے ایک نشان ہے اوراسکی آرامگاہ جلالی ہو گی۔

11  اور اسوقت یوں ہو گا کہ خداوند دوسری بار اپنے ہاتھ بڑھائیگا کہ اپنے لوگوں کا بقیہ جو بچ رہا ہو اسور اور مصر اور فتروس اور کوش اور عیلام اورسنعار اور حمات اور سمندر کے اطراف سے واپس لائے ۔

12  اور وہ قوموں کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کریگا اور ان اسرائیلیوں کو جو خارج کیے گئے ہوں جمع کریگا اور سب بنی اسرائیل کو جو پراگندہ ہو نگے زمین کی چاروں اطراف سے فراہم کریگا۔

13  تب بنی افرائیم میں حسد نہ رہیگا اور بنی یہوادہ کے دشمن کاٹ ڈالے جائیں گے بنی افرائیم بنی یہوادہ پر حسد نہ کرینگے اور بنی یہوادہ بنی افرائیم سے کینہ نہ رکھینگے۔

14  اور وہ مغرب کی طرف فلستیوں کے کندھوں کی طرف جھپٹیں گے اور وہ مل کر مشرق کے بسنے والوں کو لوٹیں گے اور ادوم اور موآب پر ہاتھ ڈالیں گے اور بنی عمون انکے فرمانبردار ہونگے۔

15  تب خداوند بحر مصر کی خلیج کو بالکل نیست کر دیگا اور اپنی باد سموم سے دریایِ فرات پر ہاتھ چلائے گا اور اسکو سات نالے کردیگا اور ایسا کرے گا کہ لوگ جوتے پہنے ہوئے پار چلے جائیں گے اور اسکے باقی لوگوں کے لیے جو اسور میں سے بچ رہینگے اور ایک ایسی شاہراہ ہو گی جیسی بنی اسرائیل کے لیے تھی جب وہ ملک مصر سے نکلے ۔

16  

  أیسعیاہ 12

1  اور اس وقت توکہیگا اے خداوند میں تیری ستائش کرونگا اگرچہ تو مجھ سے ناخوش تھا تو بھی تیرا قہر ٹل گیااور تو نے مجھے تسلی دی۔

2  دیکھو خدا میری نجات ہے میں اُس پر توکل کرونگا اور نہ ڈرونگا کیونکہ یاہ یہوواہ میرا زور اور میرا سرور ہے اور وہ میری نجات ہوا ہے ۔

3  پس تم خوش ہو کر نجات کے چشموں سےپانی بھرؤ گے۔

4  اور اسوقت تم کہو گے کہ خداوند کی ستائش کرو اُس سے دعا کرو۔ لوگوں کےدرمیان اُس کے کاموں کا بیان کرو اور کہو کہ اُس کا نام بلند ہے۔

5  خداوند کی مداح سرائی کرو کیونکہ اُس نے جلالی کام کیے جنکو تمام دنیا جانتی ہے۔

6  اے صیون کی بسنے والی تو چلا اور للکار کیونکہ تجھ میں اسرائیل کاقُدُوس بزرگ ہے

  أیسعیاہ 13

1 بابل کی بابت بار بنوت جو یسعیاہ بن عاموس نے رویا میں پایا۔

2  تم ننگے پہاڑ پر ایک جھنڈا کھڑا کرو۔ انکو بُلند آواز سے پکارو اور ہاتھ سے اشارہ کرو کہ وہ سرداروں کے دروازوں کے اندر جائیں۔

3  میں نے اپنے مخصوص لوگوں کو حکم کیا ۔ میں نے اپنے بہادروں کو جو میری خداوندی سے مسرور ہیں بُلایا ہے کہ وہ میرے قہر کو انجام دیں۔

4  پہاڑوں میں ایک ہجوم کا شور ہے ۔ گویا بڑے لشکر کا ! مملکتوں کی قوموں کے اجتماع کا غوغا ہے ! رب الافواج جنگ کے لیے لشکر جمع کرتا ہے ۔

5  وہ دور کے ملک سے آسمان کی انتہا سے آتے ہیں ۔ ہاں خداوند اوت اسکے قہر کے ہتھیارتاکہ تمام ملک کو برباد کریں۔

6  اب تم واویلا کرو کیونکہ خداوند کا دن نزدیک ہے۔ وہ قادر مطلق کی طرف سےبڑی ہلاکت کی مانند آئیگا۔

7  اس لیے سب ہاتھ ڈھیلے ہوں گے اور ہر ایک کا دل پگھل جائیگا ۔

8  اور وہ ہراسان ہوں گے جانکنی اورغمگینی ان کو آ لے گی وہ ایسے درد میں مبتلا ہوں گے جیسے عورت زہ کی حالت میں ۔ وہ سراسیمہ ہو کر ایک دوسرے کا منہ دیکھیں گے اور انکے چہرے شعلہ نما ہونگے۔

9  دیکھو خداوند کا وہ دن آتا ہے جو غضب میں اور قہر شدید میں سخت درشت ہے تاکہ ملک کو ویران کرے اور گنہگاروں کو اس پر سے نیست و نابود کردے۔

10  کیونکہ آسمان کے ستارے اور کواکب بے نور ہو جائیں گے اورسورج طلوع ہوتے ہوتے تاریک ہو جائیگا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔

11  اور میں جہان کو اس کی برائی کے سبب سے اورشریروں کو ان کی بدکرداری کے سبب سزا دوں گا اور میں مغرورں کو نیست اور ہیبتناک لوگوں کا گھمنڈ پست کردونگا۔

12  میں آدمی کو خالص سونے سے بلکہ انسان اوفیر کے کندن سے بھی کمیاب بناونگا ۔

13  اس لیے میں آسمانوں لرزاونگا اوررب الافواج کے غضب سے اور اسکے قہر شدید کےزورسے زمین اپنی جگہ سے جھٹکی جائیگی۔

14  اور یوں ہو گا کہ وہ کھدیڑے ہوئے آہو اور لاوارث بھیڑوں کی مانند ہونگے ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے لوگوں کی طرف متوجہ ہو گا اور ہر ایک اپنے وطن کو بھاگے گا۔

15  ہر ایک جو مل جائے آر پار چھیدا جائیگا اور ہر ایک جو پکڑا جائے تلوار سے قتل کیا جائیگا۔

16  اور انکے بال بچےانکی آنکھوں کے سامنے پارہ پارہ ہونگے ۔ انکے گھر لوٹے جائیں گے اور انکی عورتوں کیبے حرمتی ہو گی ۔

17  دیکھو میں بادلوں کو انکے خلاف برانگیختہ کرونگا جو چاندی کو خاطر میں نہیں لاتے اورسونے سے خوش نہیں ہوتے۔

18  انکی کمانیں جوانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینگی اور وہ شیر خواروں پر ترس نہ کھائینگے اور چھوٹے بچوں پر رحم کی نظر نہ کرینگے۔

19  اور بابل جو مملکتوں کی حشمت اور کسدیوں کی بزرگیکی رونق ہے سدوم اورعمورہ کی مانند ہو جائیگا جنکو خدا نے الٹ دیا ۔

20  اور وہ ابد تک آباد نہ ہو گا اور پشت در پشت اس میں کوئی نہ بسے گا۔ وہاں عرب ہرگز خیمے نہ لگائینگے اوروہاں گڈرے گلوں کو نہ بٹھائیں گے۔

21  پر بن کے جنگلی درندے وہاں بیٹھینگے اور ان کے گھروں میں اُلو بھرے ہونگے ۔ وہاں شتر مرغ بسیں گے اور چھگمانس وہاں ناچینگے۔

22  اور گیدڑ انکے عالیشان مکانوں میں اور بھیڑیے انکے رنگ محلوں میں چلائینگے۔ اسکا وقت نزدیک آ پہنچا ہے اور اسکے دنوں کو اب طول نہیں ہو گا۔

  أیسعیاہ 14

1  کیونکہ خداوند یعقوب پر رحم فرمائیگا بلکہ وہ اسرائیل کو ہنوز برگزیدہ کرے گا اور انکو انکے ملک میں پھر قائم کریگا اور پردیسی ان کے ساتھ میل کرینگے اور یعقوب کے گھرانے سے مل جائینگے۔

2  اور لوگ انکو لا کر انکے ملک میں پہچائینگے اوراسرائیل کا گھرانہ خداوند کی سر زمین میں انکا مالک ہو کر انکو غلام اور لونڈیاں بنائےگا کیونکہ وہ اپنے اسیرکرنے والوں کو اسیرکرینگے اور اپنے ظلم کرنے والوں پر حکومت کرینگے ۔

3  اور یوں ہو گا کہ جب خداوند تیری محنت و مشقت سے اورسخت خدمت سےجو انہوں نے تجھ سے کرائی راحت بخشے گا۔

4  تب توشاہ بابل کے خلاف یہ مثل لائیگا اور کہیگا کہ ظالم کیسا نابود ہو گیا! اور غاصب کیسا نیست ہوا ! ۔

5  خداوند نے شریروں کا لٹھ یعنی بےانصاف حاکموں کاعصا توڑڈالا۔

6  وہی جو لوگوں کو قہر سے مارتا رہا اورقوموں پر غضب کے ساتھ حکمرانی کرتا رہا اور کوئی روک نہ سکا ۔

7  ساری زمین پر آرام و آسائش ہے ۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔

8  ہاں صنوبر کےدرخت اور لبنان کے دیودار تجھ پر یہ کہتے ہوئے خوشی کرتے ہیں کہ جب سے تو گرایا گیا تب سے کوئی کاٹنے والا ہماری طرف نہیں آیا۔

9  پاتال نیچے سے تیرےسبب سے جنبش کھاتا ہے کہ تیرے آتے وقت تیرا استقبال کرے وہ تیرے لئےمردوں کو یعنی زمین کے سب سرادروں کو جگاتا ہے۔ وہ قوموں کے سب بادشاہوں کو ان کے تختوں پر سے اٹھا کھڑا کرتا ہے۔

10  وہ سب تجھ سے کہیں گے کیا تو بھی ہماری مانند عاجز ہو گیا؟ تو ایسا ہو گیا جیسے ہم ہیں؟ ۔

11  تیری شان و شوکت اور تیرے سازوں کی خوش آوازی پاتال میں اتاری گئی تیرے نیچے کپڑوں کا فرش ہوا اور کپڑے ہی تیرے بالا پوش بنے۔

12  اےصبح کے روشن ستارے تو کیونکرآسمان سے گر پڑا! اے قوموں کر پست کرنے والے توکیونکر زمین پر ٹپکا گیا ! ۔

13  تُو تو اپنے دل میں کہتا تھا کہ میں آسمان پر چڑھ جاونگا میں اپنے تخت کو خدا کے ستاروں سے بھی اونچا کرونگا اور میں شمالی اطراف میں جماعت کے پہاروں پربیٹھوں گا۔

14  میں بادلوں سے بھی اوپر چڑھ جاونگا ۔ میں خدا تعالیٰ کی مانند ہونگا۔

15  لیکن تو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اتارا جائیگا۔

16  اور جنکی نظر تجھ پر پڑےگی تجھے غور سے دیکھ کر کہیں گے کیا یہ وہی شخص ہے جس نے زمین کو لرزایا اور مملکتوں کو ہلا دیا۔

17  جس نے جہان کو ویران کیا اور اسکی بستیاں اجاڑ دیں ۔ جس نے اپنے اسیروں کو آزاد نہ کیا کہ گھر کی طرف جائیں؟ ۔

18  قوموں کے تمام بادشاہ سب کے سب اپنے اپنےمسکن میں شوکت کے ساتھ آرام کرتے ہیں۔

19  لیکن تو اپنی گور سے باہر نکمی شاخ کی مانند نکال پھینکا گیا۔ تو اُن مقتولوں کے نیچے دبا ہے جو تلوار سے چھیدے گئے اور گڑھے کے پتھروں پر گرے ہیں ۔ اُس لاش کی مانند جوجو پاؤں سے لتاڑی گئی ہو ۔

20  تو انکے ساتھ کبھی قبر میں دفن نہ کیا جائے گا کیونکہ تو نے اپنے مملکت کو ویران کیا اور اپنی رعیت کو قتل کیا ۔بدکرداروں کی نسل کا نام باقی نہ رہیگا۔

21  اسکے فرزندوں کے لئے انکے باپ دادا کےگناہوں کے سبب سے قتل کے سامان تیار کرو تاکہ وہ پھر ملک کے مالک نہ ہو جائیں اور رُویِ زمین کو شہروں سے معمور نہ کریں۔

22  کیونکہ رب الافواج فرماتا ہے میں انکی مخالفت کو اٹھونگا اور میں بابل کا نام مٹاونگا اور انکو جو باقی ہیں بیٹوں اور پوتوں سمیت کاٹ ڈالونگا ۔ یہ خداوند کا فرمان ہے۔

23  رب الافواج فرماتا ہے میں اسے خار پشت کی میراث اور تالاب بناونگا اور میں اسے فنا کے جھاڑو سے صاف کردونگا۔

24  رب الافواج قسم کھا کر فرماتا ہےکہ یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔

25  میں اپنے ہی ملک میں اسوری کی شکست دونگا اور اپنے پہاڑوں میں اُسے پاؤں تلے لتاڑونگا ۔ تب اُسکا جُوا ان پر سے اتریگا اور اسکا بوجھ ان کے کندھو ں پر سے ٹلیگا۔

26  ساری دنیا کی بابت یہی ہے اور سب قوموں پر یہی ہاتھ بڑھایا گیا ہے ۔

27  کیونکہ رب الافواج نے ارادہ کیا ہے۔ کون اسے باطل کریگا ؟ اور اسکا ہاتھ بڑھایا گیا ہے اُسے کون روکیگا؟ ۔

28  جس سال آخز بادشاہ نے وفات پائی اُسی سال یہ بار بنوت آئی۔

29  اے کل فلستین تو اس پر خوش نہ ہو کہ تجھے مارنے والا لٹھ ٹوٹ گیا کیونکہ سانپ کی اصل سے ایک ناگ نکلیگا اور اُس کا پھل ایک اڑنےوالا آتشی سانپ ہو گا ۔

30  تب مسکینوں کے پہلوٹھے کھائینگے اور محتاج آرام سے سوئیں گے پر میں تیری جڑ کال سے برباد کردونگا اور تیرے باقی لوگ قتل کیے جائینگے۔

31  اے پھاٹک تو واویلا کر اے شہر تو چلا اے فلستین تو بالکل گداز ہو گئی کیونکہ شمال سے ایک دھواں اُٹھیگااور اسکے لشکروں میں سے کوئی پیچھے نہ رہے گا ۔

32  اس وقت قوم کے قاصدوں کو کوئی کیا جواب دیگا؟ کہ خداوند نے صیون کو تعمیر کیا ہے اور اس میں اسکے مسکین بندے پناہ لیں گے۔

  أیسعیاہ 15

1 موآب کی بار بنوت۔ ایک ہی رات میں موآب خراب و نابود ہو گیا ایک ہی رات میں قیر موآب خراب و نیست ہو گیا۔

2  بیت اوردیبون اونچے مقاموں پر رونے کے لیے چڑھ گئے ہیں ۔ نبو اور میدبا پر اہل موآب واویلا کرتے ہیں ۔ اُن سب کے سر منڈائے گئے اور ہر ایک کی داڑھی کاٹی گئی۔

3  وہ اپنی راہوں میں ٹاٹ کا کمر بند باندھتے ہیں اور اپنے گھروں کی چھتوں پر اوربازاروں میں نوحہ کرتے ہوئے سب کے سب زارزار روتے ہیں۔

4  حسبون اور الیعالہ واویلا کرتے ہیں۔ اُنکی آواز یہض تک سُنائی دیتی ہے۔ اِس پر موآب کے مسلح سپاہی چلا چلا کر روتے ہیں۔ اسکی جان اس میں تھرتھراتی ہے۔

5  میرا دل موآب کے لیے فریاد کرتا ہے۔ اسکے بھاگنے والے ضغر تک عجلت شلیشیاہ تک پہنچے۔ ہاں وہ لوحیت کی چڑھائی پر روتےہوئے چڑھ جاتے اور حورونایم کی راہ میں ہلاکت پر واویلا کرتے ہیں۔

6  کیونکہ نمریم کی نہریں خراب ہو گئی کیونکہ گھاس کملا گئی اور سبزہ مرجھا گیا اورروئیدگی کا نام نہ رہا۔

7  اس لیے وہ فراون مال جو انہوں نے حاصل کیا تھا اور ذخیرہ جو انہوں نے رکھ چھوڑا تھا بید کی ندی کے پار لے جائیں گے۔

8  کیونکہ فریاد موآب کی سرحدوں تک اور انکا نوحہ اجلائم تک اور انکا ماتم بیرایلیم تک پہنچ گیا ہے۔

9  کیونکہ دیمون کی ندیاں لہو سے بھری ہیں۔ میں دیمون پر زیادہ مصیبت لاونگا کیونکہ اُس پر جو موآب میں سے بچ کر بھاگے گا اور اس ملک کے باقی لوگوں پر ایک شیر ببر بھیجوں گا۔

  أیسعیاہ 16

1  سِلع سے بیابان کی راہ دُخترِ صیون کے پہاڑ پر ملک کے حاکم کے پاس بّرے بھیجو۔

2  کیونکہ ارنون کے گھاٹوں پر موآب کی بیٹیاں آوارہ پرندوں اور انکے پراگندہ بچوں کی مانند ہوں گی۔

3  صلاح دو۔ انصاف کرو۔ اپنا سایہ دوپہر کو رات کی مانند بناؤ۔ جلاوطنوں کو پناہ دو۔ فراریوں کو حوالہ نہ کرو۔

4  میرے جلاوطن تیرے ساتھ رہیں۔ تو موآب کو غارتگروں سےچھپا لےکیونکہ ستمگرموقوف ہوں گے اور غارتگری تمام ہو جائیگی اور سب ظالم ملک سے فنا ہونگے۔

5  یوں تخت رحمت سے قائم ہوگا اور ایک شخص راستی سے داؤد کےخیمہ میں اُس پر جلوس فرما کر عدل کی پیروی کریگا اورراستبازی پر مستعد رہیگا۔

6  ہم نے موآب کے گھمنڈ کی بابت سنا ہے کہ وہ بڑا گھمنڈی ہے۔ اسکا تکبر اور گھمنڈ اورواویلا بھی سنا ہے۔ اسکی شیخی ہیچ ہے۔

7  سو موآب واویلا کرےگا۔ موآب کے لیے ہر ایک وایلا کریگا۔ قیِر حراست کی کِشمِش کی ٹکیوں پر تم سخت تباہ حالی میں ماتم کرو گے۔

8  کیونکہ حسبون کے کھیت سوکھ گئے۔ قوموں کے سرداروں نے سبماہ کی تاک کی بہترین شاخوں کو توڑڈالا۔ وہ یعزیر تک بڑھیں گے۔ وہ جنگل میں بھی پھیلیں۔ اسکی شاخیں دور تک پھیل گئی۔ وہ دریا پار گذریں۔

9  پس میں یعزیر کے آہ و نالہ سے سبماہ کی تاک کے لیےزاری کرونگا ۔ اے حسبون اے الیعالہ میں تجھےاپنے آنسوؤں سے ترکردونگا کیونکہ تیرے آیام گرمی کے میوؤں اور غلہ کی فصل کو غوغای جنگ نے آ لیا۔

10  اور شادمانی چھین لی گئی اور ہرے بھرے کھیتوں کی خوشی جاتی رہی اور تاکستانوں میں گانا اور للکارنا بند ہو جائیگا ۔ پامال کرنےوالے انگوروں کوپھر حوضوں میں پامال نہ کرینگے۔ میں نے انگور کی فصل کےغوغا کو موقوف کر دیا۔

11  اسلیے میرا اندرون موآب پر اور میرا دل قیر حارس پر بربط کی مانند فغان خیز ہے۔

12  اور یوں ہو گا کہ جب موآب حاضر ہو اور اونچے مقام پر اپنے آپکو تھکائے بلکہ اپنے معبد میں جا کر دعا کرے تو اُسے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔

13  یہ وہ کلام ہے جو خداوند نے موآب کے حق میں زمانہ ماضی میں فرمایا تھا۔

14  پر اب خداوند یوں فرماتا ہے کہ تین برس کے اندر جو مزدوروں کے برسوں کی مانند ہوں موآب کی شوکت اسکے تمام لشکروں سمیت حقیر ہو جائیگی اور بہت تھوڑے باقی بچیں گے اور وہ کسی حساب میں نہ ہونگے۔

  أیسعیاہ 17

1  دمشق کی بابت بار بنوت۔ دیکھو دمشق اب تو شہر نہ رہیگا بلکہ کھنڈر کا ڈھیر ہوگا۔

2  عروعیر کی بستیاں ویران ہیں اور گلوں کی چراگاہیں ہوں گیس ۔ وہ وہاں بیٹھینگے اور کوئی انکے ڈرانے کو بھی وہاں نہ ہو گا۔

3  اورافرائیم میں کوئی قلعہ نہ رہیگا۔ دمشق اورارام کے بقیہ سے سلطنت جاتی رہیگی۔ ر ب الافواج فرماتا ہے جو حال بنیہ اسرائیل کی شوکت کا ہوا وہی انکا ہو گا۔

4  اور اس وقت یوں ہو گا کہ یعقوب کی حشمت گھٹ جائیگی اوراسکا چربی داربدن دُبلا ہو جائیگا۔

5  یہ ایسا ہو گا کہ جیسے کوئی کھڑے کھیت کاٹ کر غلہ جمع کرے اور اپنے ہاتھ سے بالیں توڑے بلکہ ایسا ہو گا جیسےکوئی افرائیم کی وادی میں خوشہ چینی کرے۔

6  خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ تب اسکا بقیہ بہت ہی تھوڑاہو گا جیسے زیتون کےدرخت کا جب وہ ہلایا جائےیعنی دو تین دانے چوٹی کی شاخ پر۔ چار پانچ پھل والے درخت کی بیرونی شاخوں پر۔

7  اس روز انسان اپنے خالق کی طرف نظر کریگا اور اسکی آنکھیں اسرائیل کی قدوس کی طرف دیکھیں گی۔

8  اور وہ مذبحوں یعنی اپنے ہاتھ کے کام پر نظرنہ کریگا اور اپنی دستکاری یعنی یسرتوں اور بتوں کی پرواہ نہ کریگا۔

9  اس وقت اسکے فصیل دار شہر اجڑے جنگل اور پہاڑ کی چوٹی پر کےمقامات کی مانند ہوں گے جو بنی اسرائیل کے سامنے اجڑ گئے اور وہاں ویرانی ہوگی۔

10  چونکہ تو نے اپنےنجات دینے والے خدا کو فراموش کیا اور اپنی توانائی کی چٹان کو یادنہ کیا اسلیے تو خوبصورت پودے لگاتا اور عجیب قلمیں اُس میںجماتا ہے ۔

11  لگاتےوقت اسکے گرد احاطہ بناتا ہے اورصبح کو اس میں پھول کھلتے ہیں لیکن اسکا حاصل سخت دکھ اور مصیبت کے وقت ہیچ ہے۔

12  آہ! بہت سے لوگوں کا ہنگامہ ہے جو سمندر کے شور کی مانند شور مچاتے ہیں اور امتوں کا دھاوا بڑے سیلاب کے ریلے کی مانند ہے!۔

13  اُمتیں سیلاب عظیم کی مانند آ پڑینگی پر وہ انکو ڈانٹیگا اور وہ دور بھاگ جائینگی اور اُس بھوسے کی مانند جو ٹیلوں کے اوپر آندھی سے اڑتاپھرے اور اس گرد کی مانند جو بگولے کی مانند چکر کھائے رگیدی جائینگی۔

14  شام کے وقت تو ہیبت ہے۔ صبح ہونے سے پیشتر وہ نابود ہیں۔ یہ ہمارے غارتگروں کا حصہ ہے اور ہم کو لوٹنے والوں کا بخرہ ہے۔

  أیسعیاہ 18

1  آہ پروں کےپھڑپھرانے کی سرزمین جو کوش کی ندیوں کے پار ہے۔

2  جو دریا کی راہ سے بردی کی کشتیوں میں سطح آب پر ایلچی بھیجتی ہے ۔ اے تیز رفتارایلچیو! اس قوم کے پاس جاؤ جو خوبصورت اور زور آور ہے۔ اس قوم کے پاس جو ابتدا سے اب تک مُہیب ہے۔ ایسی قوم جو زبردست اورفتحیاب ہے۔ جسکی زمین ندیوں سے منقسم ہے۔

3  اے جہان کے تمام باشندو اور اے زمین کے رہنے والو! جب پہاڑوں پر جھنڈا کھڑا کیا جائے تو دیکھو اور جب نرسنگا پھونکا جائے تو سنو۔

4  کیونکہ خداوند نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے مسکن میں تابش آفتاب کی مانند اور موسم درو کی گرمی میں شبنم کے بادل کی طرح سکون کے ساتھ نظر کروں گا۔

5  کیونکہ فصل سے پیشتر جب کلی کھل چکے اور پھول کی جگہ انگور پکنے پر ہوں تو وہ ٹہنیوں کو ہنسوے سے کاٹ ڈالیگا اور پھیلی ہوئی شاخوں کو چھانٹ دیگا۔

6 اور وہ پہاڑ کے شکاری پرندوں اور میدان کے درندوں کےلیے پڑی رہینگی اور شکاری پرندےگرمی کے موس میں ان پر بیٹھینگے اور زمین کے سب ڈرندے جاڑے کے موسم میں ان پر لیٹیں گے۔

7  اس وقت رب الافواج کے حضوراس قوم کی طرف سے جو زورآوراورخوبصورت ہے اُس گروہ کی طرف سے جو ابتدا سے آج تک مہیب ہے۔ اس قوم سے جو زبردست اورظفریاب ہے جسکی زمین ندیوں سے منقسم ہے ایک ہدیہ رب الافواج کے نام کے مکان پر جو کوہ صیون ہے پہنچایا جائیگا۔

  أیسعیاہ 19

1  مِصر کی بابت بار نبوت۔ دیکھو خداوند ایک تیز رو بادل پر سوار ہو کر مصر میں ہےاور مصرکے بُت اسکے حضورلرزاں ہوں گے اورمصرکا دل پگھل جائیگا۔

2  اور میںمصریوں کو آپس میں مخالف کردونگا۔ ان میں سے ہر ایک اپنےبھائی سے اور ہر ایک اپنے ہمسایہ سے لڑےگا۔ شہر شہر اورصوبہ صوبہ سے۔

3  اور مصر کی روح افسردہو جائیگی اور میں اسکے منصوبہ ہو فناکرونگا اور وہ بتوں اورافسونگروں اور جنات کے یاروں اورجادو گروں کی تلاش کرینگے۔

4  پر میں مصریوں کو ایک ستمگر حاکم کے قابو میں کر دونگا اورزبردست بادشاہ ان پر حکومت کریگا۔ یہ خداوند رب الافواج کا فرمان ہے ۔

5  اوردریا کا پانی سوکھ جائے گا اور ندی خشک اور خالی ہو جائے گی۔

6  اور نالے بدبو ہو جائینگے اور مصر کی نہریں خالی ہونگی اور سوکھ جائینگی اور بید اورنے مرجھا جائیں گے۔

7  دریایِ نیل کے کنارے کی چراگاہیں اور وہ سب چیزیں جو اسکےآس پاس بوئی جاتی ہیں مرجھا جائینگی اور بالکل نیست و نابود ہو جائیں گی۔

8  تب ماہی گیر ماتم کرینگے اور وہ سب جو دریا میں شست ڈالتے ہیں غمگین ہونگے اور پانی میں جال ڈالنے والے بیتاب ہو جائینگے۔

9  اور سن جھاڑنے اور کتان بُننے والے گھبرا جائیں گے۔

10  ہاں اسکے ارکان شکستہ اور تمام مزدور رنجیدہ خاطر ہونگے۔

11  ضُعن کے شاہزادے بالکل احمق ہیں۔ فرعون کے سب سے دانشمند مشیروں کی مشورت وحشیانہ ٹھہری۔ پس تم کیونکر فرعون سے کہتےہو کہ میں دانشمند کا فرزند اور شاہانِ قدیم کی نسل ہوں؟۔

12  اب تیرے دانشور کہاں ہیں؟ وہ تجھے خبر دیں اگر وہ جانتے یوں کہ خداوند رب الافواج نے مصرکے حق میں کیا ارادہ کیاہے۔

13  ضُعن کے شاہزادے احمق بن گئے ہیں۔ نوف کے شاہزادوں نے فریب کھایا اور جن پر مصری قبائل کو بھروسہ تھا ان ہی نے گمراہ کیا ۔

14  خدا نے کجروی کی روح ان میں ڈالدی ہےاور انہوں نے مصریوں کو انکے سب کاموں میں اس متوالے کی طرح بھٹکایا جو قے کرتےہوئے ڈگمگاتا ہے۔

15  اور مصریوں کا کوئی نام نہ ہو گا جو سر یا دم یا خاص و عام کر سکے۔

16  اس وقت رب الافواج کے ہاتھ چلانے سے جو ہو مصر پر چلائیگا مصری عورتوں کی مانند ہو جائینگے اور ہیبت زدہ اورہراسان ہونگے۔

17  تب یہودہ کا ملک مصر کے لیے دہشت ناک ہو گا ۔ ہر ایک جس سے اسکا ذکر ہو خوف کھائے گا۔ اس ارادہ کے سبب سے جو رب الافواج نےانکے خلاف کر رکھا ہے۔

18  اس روز ملک مصر میں پانچ شہری ہونگے جو کنعانی زبان بولیں گے اور رب الافواج کی قسم کھائینگے۔ ان میں سے ایک کا نام شہر آفتاب ہو گا۔

19  اس وقت ملک مصر کے وسط میں خداوند کا ایک مذبح اور اسکی سرحد پر خداوند کا ایک ستون ہو گا۔

20  اور وہ ملک مصرمیں رب الافواج کے لیے نشان اور گواہ ہو گا اس لیے کہ وہ ستمگروں کے ظلم سے خداوند سےفریاد کریں گے اور وہ انکے لیے رہائی دینے والا اور حامی بھیجے گا اور وہ انکو رہائی دیگا۔

21  اور خداوند اپنے آپ کو مصریوں پر ظاہر کریگا اس وقت مصری خداوند کو پہچانینگے اور ہدیے اور ذبیحے گذرانینگے ہاں وہ خداوند کے لیے منت مانینگے اور ادا کریں گے۔

22  اور خداوند مسریوںکو مارے اگ۔ ماریگا اورشفابخشے گا اور وہ خداوند کی طرف رجوع لائینگے اور وہ انکی دعا سنے گا اور انکو صحت بخشے گا۔

23  اس وقت مصر سے اسور تک ایک شاہراہ ہو گی اور اسوری مصر آئینگے اور مصری اسور جائینگے۔ اور مصری اسوریوں کے ساتھ مل کر عبادت کرینگے۔

24  تب اسرائیل مصر اوراسور کے ساتھ تیسرا ہو گا اور رویِ زمین پر برکت کا باعث ٹھہرےگا۔

25  کیونکہ رب الافواج انکو برکت بخشیگا اور فرمائیگا مبارک ہو مصر میری امت اسور میرے ہاتھ کی صعنت اور اسرائیل میری میراث۔

  أیسعیاہ 20

1  جس سال سرجون شاہ اسور نے ترتان کو اشدود کی طرف بھیجا اور اس نے آ کر اشدود سے لڑائی کی اور اسے فتح کر لیا۔

2  اسوقت خداوند نے یسعیاہ بن آموص کی معرفت یوں فرمایا کہ جا اور ٹا ٹ کا لباس اپنی کمر سےکھول ڈال اور اپنے پاؤں سے جوتے اتار۔ سو اس نے ایسا ہی کیا ۔ وہ برہنہ اور ننگے پاؤں پھرا کرتا تھا۔

3  تب خداوند نے فرمایا جس طرح میرا بندہ یسعیاہ تین برس تک برہنہ اور ننگے پاؤں پھر کیا تاکہ مصریوں اور کوشیوں کےبارے نشان اور اچنبھا ہو۔

4  اسی طرح شاہ اسور مصری اسیروں اور کوشی جلاوطنوں کو کیا بوڑھے کیاجوان برہنہ اور ننگے پاؤں اور بے پردی سُرنیوں کے ساتھ مصریوں کی رسوائی کے لیے لے جائے گا۔

5  تب وہ ہراسان ہونگے اور کوش سے جو انکی اُمید گاہ تھی اور مصر سے جو انکا فخر تھا شرمندہ ہونگے۔

6  اوراسوقت اس ساحل کےباشندے کہینگے دیکھوہماری اُمید گاہ کا یہ حال ہوا جس میں ہم مدد کے لیے بھاگے تاکہ اسور کے بادشاہ سے بچ جائیں۔ پس ہم کس طرح رہائی پائیں ؟ ۔

  أیسعیاہ 21

1  دشتِ دریا کی بابت بار نبوت۔ جس طرح جنوبی گرد باد زور سے چلا آتا ہے اسی طرح وہ دشت سے اور مہیب سر زمین سے نزدیک آ رہا ہے ۔

2  ایک ہولناک رویا مجھے نظر آئی ۔ دغا باز دغابزی کرتا ہے اور غارتگر غارت کرتا ہے۔ اے عیلام چڑھائی کر ۔ اے مادی محاصرہ کر ۔ میں وہ سب کراہنا جو اسکے سبب سے ہوا موقوف کرتا ہوں ۔

3  سو میری کمر میں سخت درد ہے اور میں گویا دردِ زہ میں تڑپتا ہوں ۔ میں ایسا ہراسان ہوں کہ سن نہیں سکتا میں ایسا پریشان ہوں کہ دیکھ نہیں سکتا۔

4  میرا دل دھڑکتا ہے اور ہول یکایک مجھ پر غالب آ گیا۔ شفق شام جسکا میں آرزو مند تھا میرے لئے خوفناک ہو گئی۔

5  دستر خوان بچھایا گیا۔ نگہبان کھڑا کیا گیا۔ وہ کھاتے ہیں اور پیتے ہیں۔ اٹھو اے سردارو سپر پر تیل ملو۔

6  کیونکہ خداوند نے مجھے یوں فرمایا کہ جا نگہبان بٹھا۔ وہ جو کچھ دیکھے سو بتائے۔

7  اس نے سواردیکھے جو دودوآتے تھے اور گدھوں اور اونٹوں پر سوار۔ اور اس نے بڑے غور سے سنا۔

8  تب اسنے شیر کیسی آواز سے پکارا اے خداوند! میں اپنی دیدگاہ پر تمام دن کھڑا رہا اور میں نے ہر رات پہرے کی جگہ پر کاٹی۔

9  اور دیکھ سپاہیوں کےغول اور انکے سوار دو دوکر کے آتے ہیں۔ پھر اس نے یوں کہا کہ بابل گر پڑا گر پڑا اور اسکے معبودوں کی سب تراشی ہوئی مورتیں بالکل ٹوٹی پڑی ہیں۔

10  اے میرے گاہے ہوئے اور میرے کھلیہان کے غلہ جو کچھ میں نے رب الافواج اسرائیل کے خدا سے سنا تم سے کہہ دیا۔

11  دومہ کی بابت بار نبوت۔ کسی نے مجھ کو شعیر سے پکارا کہ اے نگہبان رات کی کیا خبر ہے؟ اے نگہبان رات کی کیا خبر ہے؟ ۔

12  نگہبان نے کہا صبح ہوتی ہے اوررات بھی۔ اگر تم پوچھنا چاہتے ہو تو پوچھو۔ تم پھر آنا ۔

13  عرب کی بابت بار نبوت ۔ اے دوانیوں کے قافلو تم عرب کے جنگل میں رات کاٹوگے۔

14  وہ پیاسے کے پاس پانی لائے۔ تیما کی سر زمین کے باشندے روٹی لیکر بھاگنےوالے سے ملنے کو نکلے۔

15  کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اورجنگ کی شدت سےبھاگے ہیں۔

16  کیونکہ خداوند نے مجھ سے یہ فرمایا کہ مزدور کے برسوں کے مطابق ایک برس کے اندراندر قیدار کی ساری حشمت جاتی رہیگی۔

17  اورتیرانداوں کی تعداد کا بقیہ یعنی بنی قیدار کے بہادر تھوڑے سے ہونگے کیونکہ خداونداسرائیل کے خدا نے یو ں فرمایا ہے۔

  أیسعیاہ 22

1  رویا کی وادی کی بابت بار نبوت ۔ اب تم کو کیا ہوا کہ تم سب کے سب کوٹھوں پر چڑھ گئے؟ ۔

2  اےپر شور اور غوغائی شہر! اے شادمان بستی! تیرے مقتول نہ تلوارسےقتل ہوئے نہ لڑائی میں مارے گئے۔

3  تیرے سب سردار اکٹھے بھاگ نکلے۔ انکو تیر اندازوں نے اسیر کر لیا جتنے تجھ میں پائےگئے سب کے سب بلکہ وہ بھی جو دوربھاگ گئے تھے اسیر کئے گئے ہیں۔

4  اسی لیے میں نے کہا میری طرف مت دیکھو کیونکہ میں زار زار رونگا میری تسلی کی فکر مت کرو کیونکہ میری دختر قوم برباد ہو گئی ۔

5  کیونکہ خداوند رب الافواج کی طرف سے رویا کی وادی میں یہ دکھ اور پامالی و بیقراری اور دیواروں کو گرانے اور پہاڑوں تک فریاد پہچانے کا دن ہے۔

6  کیونکہ عیلام نے جنگی رتھوں اورسواروں کے ساتھ ترکش اٹھا لیا اورقیر نے سپر کا غلاف اتار دیا۔

7  اور یوں ہوا کہ بہترین وادیاں جنگی رتھوں سے معمور ہو گئیں اورسواروں نے پھاٹک پر صف آرائی کی۔

8  اور یہوداہ کا نقاب اتار گیا اور تو اب دشت محل کے سلاح خانہ پر نگاہ کرتاہے۔

9  اورتم نے داؤد کے شہر کےرخنے دیکھے کہ بے شمار ہیں اورتم نے نیچے کے حوض میں پانی جمع کیا۔

10  اورتم نے یروشلیم کے گھروں کو گنا اورانکو گرایا تاکہ شہر پناہ کو مضبوط کرو۔

11  اورتم نے پرانے حوض کے پانی کے لیے دونوں دیواروں کے درمیان ایک اور حوض بنایا لیکن تم نے اسکے پانی پر نگاہ نہ کی اور اسکی طرف جس نے قدیم سے اسکی تدبیر کی متوجہ نہ ہوئے۔

12  اور اسوقت خداوند رب الافواج نے رونے اور ماتم کرنے اور سر منڈوانے اور ٹاٹ سے کمر باندھنے کا حکم دیا تھا۔

13  لیکن دیکھو خوشی اور شادمانی ۔ گائے بیل کو ذبح کرنا اور بھیڑ بکری کو حلال کرنا اور گوشت خواری اور مے نوشی کہ آؤ کھائیں اور پئیں کیونکہ کل تو ہم مرینگے۔

14  اور رب الافواج نے کہا کہ تمہاری اس بدکرداری کا کفارہ تمہارے مرنے تک بھی نہ ہو سکے گا۔ یہ خداوند رب الافواج کا فرمان ہے۔

15  خداوند رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ اُس خزانچی شبناہ کے جو محل میں معّین ہے جا اور کہہ ۔

16  تو یہاں کیا کرتا ہے؟ اورتیرا یہاں کون ہے کہ تو یہاں اپنے لیے قبر تراشتا ہے؟ بلندی پر اپنی گور تراشتا ہے اورچٹان میں اپنے لیے گھر کھدواتا ہے۔

17  دیکھ اے زبردست! خداوند تجھ کو زور سے دور پھینک دے گا ۔ وہ یقیناً تجھے پکڑ رکھیگا۔

18  وہ تجھ کو بے شک گیند کی مانند گھما گھما کر وسیع ملک میں اچھالیگا۔ وہاں تو مرے گا اورتیری حشمت کے رتھ وہیں رہیں گے اے اپنے آقا کے گھر کی رسوائی۔

19  اور میں تجھے تیرے منصب سے برطرف کرونگا۔ ہاں وہ تجھے تیری جگہ سے کھینچ کر اتاریگا۔

20  اور اس روز یوں ہو گا کہ میں اپنے بندہ الیاقیم بن خلقیاہ کو بُلاونگا ۔

21  اور میں تیرا خلعت اُسے پہناونگا اورتیرا پٹکا اس پر کسونگا اور تیری حکومت اُس کے ہاتھ میں سپرد کردونگا اور وہ اہل یروشلیم اور بنی یہوادہ کا باپ ہو گا۔ (22 اور میں داؤد کے گھر کی کنجی اسکے کندھے پر رکھونگا پس وہ کھولیگا اور کوئی بند نہ کریگا اور کوئی نہ کھولیگا۔

22  

23  اورمیں اسکو کھونٹی کی مانندمضبوط جگہ پر محکم کرونگا اور وہ اپنےباپ کے گھرانے کے لیے جلالی تخت ہو گا۔

24  اور اسکے باپ کے خاندان کی ساری حشمت یعنی آل و اولاد اور سب چھوٹے بڑے برتن پیالوں سےلیکر قرابوں تک سب کو اسی سے منسوب کرینگے۔

25  رب الافواج فرماتا ہے اس وقت وہ کھونٹی جو مضبوط جگہ میں لگائی گئی تھی ہلائی جائیگی اور وہ کاٹی جائیگی اور اس پر کا بوجھ گر پڑیگا کیونکہ خداوند نے یوں فرمایا ہے۔