انجيل مقدس

باب   23  24  25  26  27  28  29  30  31  32  33  34  35  36  37  38  39  40  41  42  43  44  

  أیسعیاہ 23

1  صور کی بابت بار نبوت۔ اے ترسیس کے جہازو واویلا کرو کیونکہ وہ اجڑ گیا وہاں کوئی گھر اور کوئی داخل ہونے کی جگہ نہیں۔ کتیم کی زمین سے انکو یہ خبر پہنچی ہے۔

2  اے ساحل کے باشندہ جنکو صیدانی سوداگروں نے جو سمندر کے پار آتےجاتےتھے مالا مال کر دیا خاموش رہا۔

3  سمندر کے پار سے سیحور کا غلہ اوروادیِ نیل کی فصل کی آمدنی تھی۔ سو وہ قوموں کی تجارت گاہ بنا ۔

4  اے صیدا تو شرما کیونکہ سمندر نے کہا سمندر کی گڑھی نہ کہا مجھے دردزہ نہیں لگا اور میں نے بچے نہیں جنے میں جوانوں کو نہیں پالتی اور کنواریوں کی پرورش نہیں کرتی ہوں۔

5  جب اہل مصرکو یہ خبر پہنچے گی تو وہ صور کی خبر سے بہت غمگین ہونگے۔

6  اے ساحل کے باشندہ تم زارزار روتے ہوئے ترسیس کو چلے جاؤ ۔

7  کیا یہ تمہاری شادمان بستی ہے جسکی ہستی قدیم سے ہے ؟ اُسی کے پاؤں اُسے دور دور لے جاتے ہیں کہ پردیس میں رہے۔

8  کس نے یہ منصوبہ صور کے خلاف باندھا جو تاج بخش ہے ۔ جسکے سوداگر اُمرا اور جس کے بیوپاری دنیا بھرکے عزت دار لوگ ہیں ؟ ۔

9  رب الافواج نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ساری حشمت کے گھمنڈ کو نیست کرے اوردنیا بھر کے عزت داروں کو ذلیل کرے۔

10  اے دُخترِ ترسیس! دریایِ نیل کی طرح اپنی سر زمین پر پھیل جا ۔ اب کوئی بند باقی نہیں رہا۔

11  اس نے سمندر پر اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ اس نےمملکتوں کو ہلا دیا۔ خداوند نے کنعان کے حق میں حکم کیا ہے کہ اسکے قلعے مسمار کیے جائیں۔

12  اور اس نے کہا اے مظلوم کنواری دختر صیدا! تو پھر کبھی فخر نہ کریگی ۔ اٹھ کتیم میں چلی جا۔ تجھے وہاں بھی چین نہ ملے گا ۔

13  کسدیوں کے ملک کو دیکھ یہ قوم موجود نہ تھی ۔ اسور نےاسے بیابان میں رہنے والوں کاحصہ ٹھہرایا۔ انہوں نے اپنے برج بنائے انہوں نے اسکے محل غارت کیے اور اسے ویران کیا۔

14 اے ترسیس کے جہاز واویلا کرو کیونکہ تمہارا قلعہ اڑا گیا۔

15  اوراُس وقت یوں ہو گاکہصور کسی بادشاہ کے آیام کے مطابق ستر برس تک فراموش ہو جائیگا اورستر برس کے بادشاہ صور کی حالت فاحشہ کےگیت کے مطابق ہو گی ۔

16  اے فاحشہ تو جو فراموش ہو گئی ہے بربط اٹھا کے اور شہر میں پھرا کر ۔ راگ کو چھیڑ اور بہت سی غزلیں گا کہ لوگ تجھے یاد کریں۔

17  اور ستر برس کےبعد یوں ہو گا کہ خداوند صور کی خبر لےگا اوروہ اجرت پر جائیگی اوررویِ زمین پر کی تمام مملکتوں سے بدکاری کریگی ۔

18  لیکن اسکی تجارت اور اسکی اجرت خداوند کے لئےمقدس ہو گی اور اسکا مال نہ ذخیرہ کیا جائیگا اور نہ جمع رہیگا بلکہ اسکی تجارت کا حاصل انکے لیےہو گا جو خداوند کے حضوررہتے ہیں کہ کھا کر سیر ہوں اورنفیس پوشاک پہنیں۔

  أیسعیاہ 24

1  دیکھو خداوند زمین کو خالی اور سر نگوں کر کے ویران کرتاہے اور اسکے باشندوں کر تِتر بِتر کر دیتا ہے۔

2  اور یوں ہو گا کہ جیسا رعیت کا حال ہو گا ویسا ہی کاہن کا۔ جیسا نوکر کا ویسا ہی اسکے صاحب کا ۔ جیسا لونڈی کاویسا ہی اسکی بی بی کا۔ جیسا خریدار کا ویسا ہی بیچنے والے کا جیسا قرض دینے والے کا ویسا ہی فرض لینے والے کا ۔ جیسا سود دینے والے کا ویسا ہی سود لینےوالے کا۔

3  زمین بالکل خالی کی جائیگی اوربہ شدت غارت ہو گی کیونکہ یہ کلام خداوند کا ہے ۔

4  زمین غمگین ہوتی اور مرجھاتی ہے جہان بےتاب اور پژمردہ ہوتاہے ۔ زمین کے عالی قدر لوگ ناتوان ہوتےہیں۔

5  زمین اپنے باشندوں سے نجس ہوئی کیونکہ انہوں نے شریعت کو عدول کیا ۔ آئین سے منحرف ہوئے ۔ عہد ابدی کو توڑا۔

6  اس سبب سے لعنت نے زمین کو نگل لیا اور اسکے باشندے مجرم ٹھہرے اور اسکی لیے زمین کے لوگ بھسم ہوئے اورتھوڑے سے آدمی بچ گئے ۔

7  نئی مے غمزدہ اور تاک پژمردہ ہے اور سب جو دلشاد تھے آہ بھرتے ہیں ۔

8  ڈھولکوں کی خوشی بند ہو گئی ۔ خوشی منانےوالوں کا غل و شور تمام ہوا۔ بربط کی شادمانی جاتی رہی ۔

9  وہ پھر گیت کے ساتھ مے نہیں پیتے ۔ پینے والوں کو شراب تلخ معلوم ہو گی۔

10  سنسان شہر ویران ہو گیا ہر ایک گھر بند ہو گیا کہ کوئی اندر نہ جا سکے ۔

11  مے کے لیے بازاروں میں واویلا ہو رہا ہے۔ ساری خوشی پر تایکی چھا گئی ۔ ملک کی عشرت جاتی رہی۔

12  شہر میں ویرانی ہی ویرانی ہے اور پھاٹک توڑ پھوڑدئیے گئے۔

13  کیونکہ زمین میں لوگوں کے درمیان یوں ہو گا جیسا زیتون کا ڈرخت جھاڑا جائے ۔ جیسے انگور توڑے نے بعد خوشہ چینی ۔

14  وہ اپنی آواز بلند کرینگے وہ گیت گائینگے۔ خداوند کے جلال کے سبب سے سمندر للکاریں گے۔

15  پس تم مشرق میں خداوند کی اور سمندر کے جزیروں میں خداوند کے نام کی جو اسرائیل کا خدا ہے تمجید کرو۔

16  انتہایِ زمین سے نغموں کی آواز ہم کو سنائی دیتی ہے۔ جلال و عظمت صادق کے لیے ! پر میں نے کہا میں گداز ہو گیا۔ میں ہلاک ہوا مجھ پر افسوس دغابازوں نے دغا کی۔ ہاں دغابازوں نے بڑی دغا کی۔

17  اے زمین کے باشندے خوف اور گڑھااور دام تجھ پر مسلط ہیں۔

18  اور یوں ہو گا کہ جو کوئی خوفناک آواز سن کر بھاگے گڑھے میں گرے گا اور گڑھے سے نکل آئے دام میں پھنسے گا کیونکہ آسمان کی کھڑکیاں کھل گئ اور زمین کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔

19  زمین بالکل اجڑ گئی ۔ زمین یکسر شکستہ ہوئی اور شدت سے ہلائی گئی۔

20  وہ متوالے کی مانند ڈگمگائیگی اور جھونپڑی کی طرح آگے پیچھے سرکائی جائیگی کیونکہ اسکے گناہ کا بوجھ اس پر بھاری ہوا۔ وہ گریگی اور پھر نہ اٹھیگی۔

21  اور اس وقت یوں ہو گا کہ خداوند آسمانی لشکر کو آسمان پر اور زمین کے بادشاہوں ہو زمین پر سزا دے گا۔

22  اور وہ ان قیدیوں کی مانند جو گڑھے میں ڈالے جائیں جمع کیے جائیں گے اور وہ قید خانے میں قید کیے جائیں گے اور بہت دنوں کے بعد ان کی خبر لی جائیگی۔

23  اور جب رب الافواج کوہ صیون پر اور یروشلیم میں اپنے بزرگ بندوں کے سامنے حشمت کے ساتھ سلطنت کریگا تو چاند مضطرب اور سورج شرمندہ ہو گا۔

  أیسعیاہ 25

1  اے خداوند تو میرا خدا ہے۔ میں تیری تمجید کرونگا ۔ تیرے نام کی ستایش کرونگا کیونکہ تو عجیب کام کیے ہیں تیری مصلحتیں قدیم سے وفاداری اور سچائی ہیں۔

2  کیونکہ تو نے شہر کو خاک کا ڈھیرکیا۔ ہاں فصیل دور شہر کو کھنڈر کاڈھیر بنا دیا اورپردیسیوں کے محل کو بھی یہاں تک کہ شہر نہ رہا۔ وہ پھر تعمیرنہ کیا جائیگا۔

3  اسلیے زبردست لوگ تیری ستایش کرینگے اور ہیبتناک قوموں کا شہر تجھ سے ڈریگا۔

4 کیونکہ تومسکین کے لیے قلعہ اورمحتاج کے لیے پریشانی کے وقت ملجا اور آندھی سے پناہ گاہ اور گرمی سے بچانے کو سایہ ہوا جس وقت ظالموں کی سانس دیوار کن طوفان کی مانند ہو۔

5  تو پردیسیوں کے شور کو خشک مکان کی گرمی کی مانند دور کریگااور جس طرح ابر کے سایہ سے گرمی نیست ہوتی ہے اسی طرح ظالموں کا شادیانہ بجانا موقوف ہو گا۔

6  اوررب الافواج اس پہاڑ پر سب قوموں کے لیے فربہ چیزوں سے ایک ضیافت تیار کریگا بلکہ ایک ضیافت تلچھٹ پر سے نتھری ہوئی مے سے۔ ہاں فربہ چیزوں سے جو پر مغز ہوں اور مے سے جو تلچھٹ پر سےخوب نتھری ہوئی ہو۔

7  اور وہ اس پہاڑپر اس پردہ کو جو تمام لوگوں پر گر پڑا اور اس نقاب کو جو سب قوموں پرلٹک رہا ہےدورکریگا۔

8  وہ موت کو ہمیشہ کے لیے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا اور اپنےلوگوں کی رسوائی تمام زمین پر سے مٹا ڈالیگا کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے۔

9  اور اس وقت یوں کہا جائیگاکہ لو یہ ہماراخدا ہے۔ ہم اسکی راہ تکتے تھے اور وہی ہم کو بچائے گا ۔ یہ خداوند ہے اور ہم اسک انتظار میں تھے اور ہم اسکی نجات سے خوش و خرم ہونگے۔

10  کیونکہ اس پہاڑ پر خداوند کا ہاتھ برقرار رہیگا اور موآب اپنی ہی جگہ میں ایسا کچلا جائے گا جیسے مزبلہ کے پانی میں گھاسکچلی جاتی ہے۔

11  اور وہ اس کی مانند جو تیرتے ہوئے ہاتھ پھیلاتا ہے اپنے ہاتھ پھیلائیگا پر وہ اس غرور کو اسکے ہاتھوں کتے فن فریب سمیت پست کریگا۔

12  اور وہ تیری فصیل کے اونچے برجوں کو توڑ پر پست کریگا اور زمین کے بلکہ خاک کےبرابر کردیگا۔

  أیسعیاہ 26

1  اس وقت یہوادہ کے ملک میں یہ گیت گایا جائیگا ۔ ہمارا ایک محکم شہر ہے جس کی فصیل اورپشتوں کی جگہوہ نجات کو ہی مقررکریگا۔

2  تم دروازے کھولو تاکہ صادق قوم کو وفادار رہی داخل ہو۔

3  جسکا دل قائم ہے تو اسے سلامت رکھیگا کیونکہ اس کا توکل تجھ پر ہے۔

4  اب تک خداوند پر اعتماد رکھو کیونکہ خداوند یہواہ ابدی چٹان ہے۔

5  کیونکہ اس نے بلندی پر بسنے والوں کو نیچے اتارا بلند شہر کو زیر کیا۔ اس نے اسے زیر کر کے خاک میں ملایا۔

6  وہ پاؤں تلے روندا جائیگا۔ ہاں مسکینوں کے پاؤں اور محتاجوں کے قدموں سے ۔

7  صادق کی راہ راستی ہے ۔ تو جو حق ہے صادق کی راہبری کرتا ہے۔

8  ہاں تیری عدالت کی راہ میں اے خداوند ہم تیرے منتظر ہیں ہماری جان کا اشتیاق تیرے نام اور تیری یاد کی طرف ہے۔

9  رات کو میری جان تیری مشتاق ہےہاں میری روح تیری جستجو میں کوشان رہیگی کیونکہ جب تیری عدالت زمین پر جاری ہے تو دنیا کے باشندی صداقت سیکھتےہیں۔

10  ہر چند شریر پر مہربانیکی جائے پر وہ صداقت نہ سیکھے گا ۔ راستی کے ملک میں ناراستی کریگا اور خداوند کی عظمت کو نہ دیکھے گا۔

11  اے خداوند تیرا ہاتھ بلند ہے پر وہ نہیں دیکھتے لیکن وہ لوگوں کےلیے تیری غیرت کو دیکھنگے اورشرمسار ہونگے بلکہ آگ تیرے دشمنوں کو کھا جائیگی۔

12  اے خداوند تو ہی ہم کو راستی بخشے گا کیونکہ تو نے ہی ہمارے سب کامں کو ہمارےلیے سر انجام دیا ہے۔

13  اے خداوند ہمارے خدا تیرے سوا دوسرے حاکموں نے ہم پر حکومت کی ہے لیکن تیری مدد سے ہم صرف تیرا ہی نام لینگے۔

14  وہ مر گئے پھر زندہ نہ ہو نگے۔ وہ رحلت کر گئے پھر نہ اٹھینگے کیونکہ تو نے ان پر نظر کی اور انکو نابود کیا اور انکی یاد کو بھی مٹا دیا ہے ۔

15  اے خداوند تو نے اس قوم کو کثرت بخشی ہے۔ تو نے اس قوم کو بڑھایا ہے تو ہی دوالجلال ہے۔ تو ہی نے ملک کی حدود کو بڑھا دیا۔

16  اے خداوند وہ مصیبت میں تیرے طالب ہوئے ۔ جب تو نے انکو تادیب کی تو نہوں نے گریہ و زاری کی ۔

17  اے خداوند تیرے حضورمیں اس حاملہ کی مانند ہیں جسکی ولادت کا وقت نزدیک ہو ۔ جو دکھ میں ہے اور اپنےدرد سے چلاتی ہے۔

18  ہم حاملہ ہوئے ہم کو درد زہ لگا پر پیدا کیا ہوا ؟ ہوا! ہم نے زمین پر آزادی کو قائم نہ کیا اور نہ دنیا میں بسنے والے پیدا ہوئے۔

19  تیرے مردے جی اٹھینگے ۔ میری لاشیں اٹھ کھڑی ہونگی تم جو خاک میں جا بسے ہو جاگو اور گاؤ کیونکہ تیری اوس اُس اوس کی مانند ہے جو نباتات پر پڑتی ہے اور زمین مردوں کو اگل دے گی۔

20  اے میرے لوگو اپنے خلوت خانے میں داخل ہو اور اپنے پیچھے دروازے بند کر لو اور اپنے آپ کو تھوڑی دیر تک چھپا رکھو جب تک کہ غضب ٹل نہ جائے۔

21  کیونکہ دکھو خداوند اپنے مقام سے چلا آتا ہے تاکہ زمین کے باشندوں کو انکی بدکرداری کی سزا دے اور زمین اس خون کو ظاہر کریگی جواس میں ہے اوراپنے مقتولوں کو ہرگز نہ چھپائے گی۔

  أیسعیاہ 27

1  اس وقت خداونداپنی سخت اور بڑی مضبوط تلوار سے اژدھا یعنی تیز رو سانپ کو اوراژدھا یعنی پیچیدہ سانپ کو سزادیگا اوردریائی اژدہا کو قتل کریگا۔

2  اس وقت تم خوشنما تاکستان کا گیت گانا ۔

3 میں خداوند اسکی حفاظت کرتا ہوں میں اسے ہر دم سینچتا ہوں۔ میں دن رات اسکی نگہبانی کرونگا کہ اسے نقصان نہ پہنچے۔

4  مجھ میں قہر نہیں تو بھی کاش کہ جنگ گاہ میں جھاڑیاں اور کانٹے میرے خلاف ہوتے! میں ان پر خروج کرتا اور ان کو بالکل جلا دیتا۔

5  پر اگر کوئی میری توانائی کا دامن پکڑے تو مجھ سے صلح کرے۔ ہاں وہ مجھ سے صلح کرے۔

6  اب آئیندہ آیام میں یعقوب جڑ پکڑے گا اوراسرائیل پنپیگا اور پھولیگا اور روئِ زمین کو میووں سے مالامال کریگا۔

7  کیا اس نے مارا جسطرح اس نے اسکے مارنے والوں کو مارا؟ یا کیا وہ قتل ہوا جس طرح اسکے قاتل قتل ہوئے؟ ۔

8  تو نےعدل کے ساتھ اسکو نکالتےوقت اس سے حجت کی ۔ اس نے مشرقی ہوا کےدن اپنے سخت طوفان سے اسکو نکال دیا۔

9  اسلیےاس سے یعقوب کےگناہ کا کفارہ ہو گااور اسکا گناہ دور کرنے کا کل نتیجہ یہی ہے جس وقت وہ مذبح کے سب پتھروں کو ٹوٹے کنکرں کی مانند ٹکڑے ٹکڑے کرے کہ یسیرتیں اور سورج کے بت قائم نہ ہوں۔

10  کیونکہ فصیل دار شہر ویران ہے اور وہ بستی اجاڑ اوربیابان کی مانند خالی ہے وہاں بچھڑا چرے گا اور وہیں لیٹ رہیگا اور اسکی ڈالیاں بالکل کاٹ کھائیگا۔

11  جب اسکی شاخیں مرجھا جائیں گی تو توڑی جائینگی ۔ عورتیں آئینگی اور انکو جلائینگی کیونکہ لوگ دانش سے خالی ہیں اسلیے انکا خالق ان پر رحم نہیں کرے گا اور انکا بنانے والا ان پر ترس نہیں کھائیگا۔

12  اور اس وقت یوں ہو گا کہ خداوند دریائے فرات کی گذر گاہ سے رودِ مصرتک جھاڑ ڈالیگا اورتم اے بنی اسرائیل ایک ایک کر کے جمع کیے جاؤ گے۔

13  اور اس وقت یوں ہو گاس کہ بڑا نرسنگا پھونکا جائیگا اور وہ جو اسور کے ملک میں قریبُ المو تھے اور وہ جو ملک مصر میں جلاوطن تھے آئینگے اور یروشلیم کے مقدس پہاڑ پر خداوند کی پرستش کرینگے۔

  أیسعیاہ 28

1  افسوس افرائیم کے متوالوں کے گھمنڈ کے تاج پر اور اسکی شاندار شوکت کے مرجھائے ہوئے پھول پر جو ان لوگوں کی شاداب وادی کے سرے پر ہے جو مے کے مغلوب ہیں!۔

2  دیکھو خداوند کے پاس ایک زبردست اور زور آور شخص ہے جو اس آندھی کی مانند ہے جس میں اولے ہوں اور باد سموم کی مانند اور سیلاب شدید کی مانند زمین پر ہاتھ سے پٹک دیگا۔

3  افرائیم کے متوالوں کے گھمنڈ کا تاج پامال کیا جائیگا۔

4  اور اس شاندارشوکت کا مرجھایا ہوا پھول جو اس شاداب وادی کے سرے پر ہے پہلے پکے انجیر کی مانند ہو گا جو گرمی کے آیا م سے پیشتر لگے جس پر کسی کی نگاہ پڑے اور وہ اسے دیکھتے ہیں اور ہاتھ میں لیتےہی نگل جائے۔

5  اس وقت رب الافواج اپنے لوگوں کے بقیہ کے لیے شوکت کا افسر اور حسن کا تاج ہو گا۔

6  اورعدالت کی کرسی پر بیٹھنے والے کےلیے انصاف کی روح اور پھاٹکوں سے لڑائی کو دفع کرنے والوں کے لیے توانائی ہوگا۔

7  لیکن یہ بھی مے خواری سے ڈگمگاتےاور نشہ میں لڑکھڑاتے ہیں۔ کاہن اور نبی بھی نشہ میں چوراور مے میں گرق ہیں۔ وہ نشہ میں جھومتےاور دریا میں خطا کرتے اورعدالت میں لغزش کھاتے ہیں۔

8  کیونکہ سب دستر خوان قے اور گندگی سے بھرے ہیں کوئی جگہ باقی نہیں۔

9  وہ کس کو دانش سکھائیگا؟ کس کو وعظ کرے کے سمجھائے گا؟ کیا انکو جنکا دودھ چھڑایا گیا اور جو چھاتیوں سے جداکیے گئے ؟ ۔

10  کیونکہ حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون ہے۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔

11  لیکن وہ بیگانوں لبوں اور اجنبی زبان سے ان لوگوں سے کلام کریگا۔

12  جن کو اس نے فرمایا یہ آرام ہے تم تھکے ماندوں کو آرام دو اور یہ تازگی ہے پر وہ شنوا نہ ہوئے۔

13  پس خداوند کا کلام انکے لیے حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون ہے۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ہو گا تاکہ وہ چلے جائیں اور پیچھے گریں اور شکست کھائیں اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہوں۔

14  پس اے ٹھٹھا کرنے والو جو یروشلیم کے ان باشندوں پر حکمرانی کرتے ہو! خداوند کا کلام سنو۔

15  چونکہ تم کہا کرتے ہو کہ ہم نے موت سے عہد باندھا اور پاتال سے پیمان کر لیاہے۔ جب سزا کا سیلاب آئیگا تو ہم تک نہیں پہنچیگا کیونکہ ہم نے جھوٹ کو اپنی پناہ گاہ بنایا ہے اور دروغ گوئی کی آڑ میں چھپ گئے ہیں۔

16  اس لیے خداوند خدا یوں فرماتا ہے دیکھو میں صیون میں بنیاد کے لیے ایک پتھر رکھونگا ۔ آزمودہ پتھر۔ محکم بنیاد کے لیے کونے کے سرے کا قیمتی پتھر جو کوئی ایمان لاتا ہے قائم رہیگا۔

17  اور میں عدالت کو سوت اور صداقت کو ساہول بناونگا اور اسلے جھوت کی پناہ گاہ کو صاف کر دینگے اور پانی چھپنے کے مکان پر پھیل جائیگا۔

18  اور تمہارا عہد جو موت سے ہوا منسوخ ہو جائیگا اور تمہارا پیمان جو پاتال سے ہوا قام نہ رہیگا ۔ جب سزا کا سیلاب آئیگا تو تم کو پامال کریگا۔

19  اور گذرتے وقت تم کو بہا لے جائیگا ۔ ہر صبح اور شب و روز آئیگا بلکہ اسکا چرچا سننا بھی خوفناک ہو گا ۔

20  کیونکہ پلنگ ایسا چھوٹا ہے کہ آدمی اس پر دارز نہیں ہو سکتا اور لحاف اتنا تنگ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس میں لپیٹ نہیں سکتا۔

21  کیونکہ خداوند اٹھیگا جیسا کوہ پراضیم میں اور وہ غضبناک ہو گا جیسا جبعون کی وادی میں تاکہ اپنا کام بلکہ اپنا عجیب کام کرے اور اپنا ہاں اپنا انوکھا کام پورا کرے۔

22  سو اب تم ٹھٹھا نہ کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے بند سخت ہو جائیں کیونکہ میں نے خداوند رب الافواج سے سنا ہے کہ اس نے کامل اور مصصم ارادہ کیا ہے کہ ساری سر زمین کو تباہ کرے۔

23  کان لگا کر میری آواز سنو ۔ شنوا ہو کر میری بات پر دل لگاؤ ۔

24  کیا کسان بونےکے لیے ہر روز ہل چلایا کرتا ہے؟ کیا وہ ہر وقت اپنے زمین کو کھودتا اور اسکے ڈھیلے پھوڑا کرتا ہے؟ ۔

25  جب اسکو ہموار کر چکا تو کیا وہ اجوائن کو نہیں چھینٹتا اور زیرہ کو ڈال نہیں دیتا اور گیہوں کو قطاروں میں نہیں بوتا اور جو کو اسکے معین مکان میں اور کٹھیا گیہوں کو اسکی خاص کیاری میں نہیں بوتا؟ ۔

26  کیونکہ اسکا خدا اسکو تربیت کر کے اسکو سکھاتا ہے۔

27  کیا اجوائن کو داونے کے ہینگے کے ساتھ نہیں داؤتے اور زیرے کے اوپر گاڑی کے پہیے نہیں گھماتے بلکہ اجوائن کو لاٹھی سے جھاڑتا ہے اورزیرے کو چھڑی سے۔

28  روٹی کے غلہ پر دائیں چلاتا ہے لیکن وہ ہمیشہ اسے کوٹتا نہیں رہتا اور اپنی گاڑی کے پہیوں اورگھوڑوں کو اس پر پھراتا نہیں رہتا۔ وہ اسے سراسر نہیں کچلیگا۔

29  یہ بھی رب الافواج سے مقرر ہوا ہے جسکی مصلحت عظیم اوردانائی عجیب ہے۔

  أیسعیاہ 29

1  ارایئیل پر افسوس۔ اریئیل اس شہر پر جہاں داؤد خیمہ زن ہوا ! سال پر سال زیادہ کرو۔ عید پر عید منائی جائے ۔

2  تو بھی میں اریئیل کو دکھ دونگا اور وہاں نوحہ اور ماتم ہو گا پر میرے لیے وہ اریئیل ہی ٹھہریگا۔

3  میں تیرے خلاف گرداگرد خیمہ زن ہونگا اور مورچہ بندی کر کے تیرا محاصرہ کرونگا اور تیرے خلاف دمدمہ باندھونگا۔

4  اورتو پست ہو گا اور زمین پر سے بولیگا اور خاک پر سےتیری آواز دھیمی آئیگی ۔ تیری صدا بھوت کی سی ہو گی جو زمین کےاندر سے نکلیگی اورتیری بولی خاک پر سے چُرُگنے کی آواز معلوم ہو گی۔

5  لیکن تیرے دشمنوں کا غول باریک گرد کی مانند ہو گا اور ان ظالموں کی گروہ اڑنے والے بھوسے کی مانند ہو گی اور یہ ناگہان ایک دم میں واقع ہو گا۔

6  رب الافواج خود گرجنے اور زلزلہ کے ساتھ اور بڑی آواز اور آندھی اور طوفان اور آگ کے مہلک شعلہ کے ساتھ تجھے سزا دینے کو آئے گا۔

7  اور ان سب قوموں کو انبوہ جو اریئیل سے لڑےگا یعنی وہ سب جو اس سے اور اسکے قلعہ سے جنگ کرینگے اور اسے دکھ دینگے خواب یا رات کی رویا کی مانند ہو جائینگے ۔

8  جیسے بھوکا آدمی خواب میں دیکھے کہ کھا رہا ہے پرجاگ اٹھے تو اسکا دل نہ بھرا ہو یا پیاسا آدمی خواب میں دیکھے کہ پانی پی رہا ہے پر جاگ اٹھے تو پیاس سے بیتاب ہو اور اسکی جان آسودہ نہ ہو ویسا ہی ان سب قوموں کے انبوہ کا حال ہو گا جو کوہ صیون سے جنگ کرتی ہیں۔

9  ٹھہر جاؤ اور تعجب کرو ۔ عیش و عشرت کرو اور اندھے ہو جاؤ ۔ وہ مست ہیں پر مے سے نہیں ۔ وہ لڑکھڑاتے ہیں پر نشے میں نہیں ۔

10  کیونکہ خداوند نے تم پر گہری ننید کی روح بھیجی ہے اور تمہاری آنکھوں یعنی نبیوں کو نابینا کر دیا اورتمہارے سروں یعنی غیب بینوں پر حجاب ڈال دیا۔

11  اورساری رویا تمہارے نزدیک سر بمہر کتاب کے مضمون کی مانند ہو گی جسے لوگ کسی پڑھے لکھے ہو دیں اور کہیں اسکو پڑھ اور وہ کہے کہ میں اسکو پڑھ نہیں سکتا کیونکہ یہ سر بمہر ہے۔

12  اور پھر وہ کتاب کسی نا خواندہ کو دیں اور کہیں اسکو پڑھ اور وہ کہے کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔

13  پس خداوند فرماتاہے کہ یہ لوگ زبان سے میری نزدیکی چاہتےہیں اور ہونٹوں سے میری تعظیم کرتے ہیں لیکن انکے دل مجھ سے دور ہیں کیونکہ میرا خوف جو انکو ہوا فقط آدمیوں کی تعلیم سننے سے ہوا۔

14  اس لیے میں ان لوگوں کے ساتھ عجیب سلوک کرونگا جو حیرت انگیز اورتعجب خیز ہو گا اور ان کے عاقلوں کی عقل زائل ہو جائیگی۔ اور ان کے داناؤں کی دانائی جاتی رہیگی۔

15  ان پر افسوس جو اپنی مشورت خداوندسے چھپاتے ہیں ۔ جنکا کاروبار اندھیرے میں ہوتا ہے اور کہتے ہیں کون ہم کو دیکھتا ہے؟ کون ہم کو پہچانتا ہے؟ ۔

16  آہ! تم کیسے ٹیڑھے ہو! کیا کمہار مٹی کےبرابر گنا جائیگا یا مصنوع اپنے صانع سے کہے گاکہ میں تیری صنت نہیں ؟ کیا مخلوق اپنے خالق سےکہے گا کہ تو کچھ نہیں جانتا؟ ۔

17  کیا تھوڑا ہی عرصہ باقی نہیں کہ لبنان شاداب میدان ہو جائیگا اور شاداب میدان جنگل گنا جائیگا۔

18  اور اس وقت بہرے کتاب کی باتیں سنیں گے اور اندھوں کی آنکھیں تاریکی اوراندھیرے میں سے دیکھیں گی۔

19  تب مسکین خداوند میں زیادہ خوش ہونگے اورغریب و محتاج اسرائیل کے قدوس میں شادمان ہونگے ۔

20  کیونکہ ظالم فنا ہو جائیگا اورٹھٹھا کرنے والا نابود ہو گا اور سب جو بدکرداری کے لیے بیدار رہتے ہیں کاٹ ڈالے جائینگے۔

21  یعنی جو آدمی کو اسکے مقدمے میں مجرم ٹھہراتے اور اسکے لیے جس نے عدالت سے پھاٹک پر مقدمہ فصیل کیا پھندا لگاتے اور راستباز کو بےسبب برگشتہ کرتےہیں۔

22  اس لیے خداوند جو ابرہام کا نجات دینےوالا ہے یعقوب کے خاندان کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ یعقوب اب شرمندہ نہ ہو گا اور وہ ہرگز زود رو نہ ہو گا۔

23  بلکہ اسکے فرزند اپنے درمیان میری دستکاری دیکھ کر میری تقدیس کرینگے۔ ہاں وہ یعقوب کےقدوس کی تقدیس کرینگے اوراسرائیل کے خدا ڈرینگے۔ اور وہ بھی جو روح میں گمراہ ہیں فہم حاصل کرینگے اوربڑبڑانے والے تعلیم پذیر ہونگے۔

24  

  أیسعیاہ 30

1  خداوند فرماتا ہے ان باغی لڑکوں پر افسوس جو ایسی تدبیر کرتے ہیں جو میری طرف سے نہیں اور عہد و پیمان کرتے ہیں جو میری روح کی ہدایت سے نہیں تاکہ گناہ پر گناہ کریں۔

2  وہ مجھ سے پوچھے بغیر مصر کو جاتے ہیں تاکہ فرعون کے پاس پناہ لیں اور مصر کے سایہ میں امن سے رہیں۔

3  لیکن فرعون کی حمایت تمہارے لیے خجالت ہو گی اور مصرکے سایہ میں پناہ لینا تمہارے راسطے رسوائی ہو گا۔

4  کیونکہ اسکے سرادر ضعن میں ہیں اور اسکے ایلچی حنیس میں جا پہنچے۔

5  وہ اس قوم کو جو انکو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے اور مدد و یاری نہیں بلکہ خجالت اور ملامت کا باعث ہو شرمندہ ہونگے۔

6  جنوب کے جانوروں کی بابت بار نبوت۔ دکھ اور مصیبت کی سر زمین جہاں سے نر و مادہ شیر ببر اور افعی اور اڑنے والے آتشی سانپ آتے ہیں وہ اپنی دولت گدھوں کی پیٹھ پر اور اپنے خزانے اونٹوں کی کوہان پر لاد کر اس قوم کے پاس لے جاتےجس سے انکو کچھ فائدہ نہ پہنچیگا۔

7  کیونکہ مصریوں کی کمک باطل اور بے فائدہ ہو گی اسی سبب سے میں نے اسے رہب کہا جوسُست بیٹھی ہے ۔

8  اب جا کر انکے سامنے اسے تختی پر لکھ اور کتاب میں قلمبند کر تاکہ آئیندہ ابدالاباد رہے۔

9  کیونکہ یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں جو خدا کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔

10  جو غیب بینوں سے کہتے ہیں غیب بینی کرو اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں ظاہر کرو۔ ہمکو خوشگوار باتیں سناؤ اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو۔

11  راہ سے باہر جاؤ راستہ سے برگشتہ ہو اور اسرائیل کےقدوس کو ہمارے درمیان سے موقوف کرو۔

12  پس اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے ہو اور ظلم اور کجروی پر بھروسہ رکھتے اور اسی پر قائم ہو ۔

13  اس لیے یہ بدکرداری تمہارے لئے ایسی ہو گی جیسی پھٹی ہوئی دیوار جو گرا چاہتی ہو۔ اونچی ابھری ہوئی دیوار جس کا گرنا ناگہان ایک دم میں ہو۔

14  وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑ ڈالے گا اسے بے دریغ چکنا چور کریگا چنانچہاس کے ٹکڑوں میں ایک ٹھیکرا بھی نہ ملے گا جس میں چولہے پر سے آگے اٹھائی جائے یا حوض سے پانی لیا جائے۔

15  کیونکہ خدا یہوواہ اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ واپس آنے اورخاموش بیٹھنے میں تمہاری سلامتی ہے ۔ خاموشی اورتوکل میں تمہاری قوت ہے پر تم نے یہ نہ چاہا۔

16  تم نے کہا نہیں ہم تو گھوڑوں پر چڑھ کر بھاگینگے اس لیے تم بھاگو گے اور کہا ہم تیز رفتار جانوروں پر سوار ہونگے پس تمہارا پیچھا کرنے والے تیز رفتار ہونگے۔

17  ایک کی جھڑکی سے ایک ہزاربھاگینگے ۔ پانچ کی جھڑکی سے تم ایسے بھاگو گے کہ تم اس علامت کی مانند جو پہاڑ کی چوٹی پر اور اس نشان کی مانند جو کوہ پر نصب کیا گیا ہو رہ جاؤ گے۔

18  تو بھی خدا تم پر مہربانی کرنے کے لیے انتظار کریگااورتم پر رحم کرنے کےلیے بلند ہو گا کیونکہ خداوند عادل خدا ہے ۔ مبارک ہیں وہ سب جو اسکا انتظار کرتے ہیں۔

19  کیونکہ اے صیونی قوم جو یروشلیم میں بسے گی تو پھر نہ روئیگی۔ وہ تیری فریاد کی آواز سن کر یقیناً تجھ پر رحم فرمائیگا ۔ وہ سنتےہی جواب دیگا۔

20  اور اگرچہ خداوند تجھ کو تنگی کی روٹی اور مصیبت کا پانی دیتاہے تو بھی تیرا معلم پھر تجھ سے روپوش نہ ہو گا بلکہ تیری آنکھیں اسکو دیکھیں گی۔

21  اور جب تو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اس پر چل۔

22  اس وقت تو اپنی کھودی ہوئی مورتوں پر مڑھی ہوئی چاندی اورڈھالے ہوئے سونے کو ناپاک کریگا ۔ تو اسے حیض کی لتّہ کی مانند پھینک دیگا۔ تو اسے کہیگا نکل دورہو۔

23  تب وہ تیرے بیج کے لیے جو تو بوئے بارش بھیجے گا اورزمین کی افزائش کی روٹی کا غلہ عمدہ اورکثرت سے ہو گا۔ اس وقت تیرے جانور وسیع چراگاہوں میں چرینگے۔

24  اور بیل اور جوان گدھے جن سے زمین جوتی جاتی ہے لذیذ چارا کھائینگے جو بیلچہ اور چھاج سے پھٹکا گیا ہو۔

25  اور جب برج گرینگے اور بڑی خونریزی ہو گی تو ہر ایک اونچے پہاڑ اور بلند ٹیلے پر چشمے اور پانی کی ندیاں ہونگے۔

26  اور جس وقت خداوند اپنے لوگوں کی شکستگی کو درست کریگا اور انکے زخموں کو اچھا کریگا تو چاند کی چاندنی ایسی ہو گی جیسی سورج کی روشنی اورسورج کی روشنی سات گنی بلکہ سات دن کے برابر ہو گی۔

27  دیکھو خداوند سے چلا آتا ہے ۔ اسکا غضب بھڑکا اوردھوئیں کا بادل اٹھا! اسکے لب قہر آلود اور اسکی زبان بھسم کرنے والی آگ کی مانند ہے۔

28  اسکا دم ندی کے سیلاب کی مانند ہے جو گردن تک پہنچ جائے ۔ وہ قوموں کو ہلاکت کے چھاج میں پھٹکے گا اور لوگوں کے جبڑوں میں لگام ڈالیگا تاکہ انکو گمراہ کرے۔

29  تب تم گیت گاؤ گے جیسے اس رات گاتے ہو جب مقدس عید مناتےہو اور دل کی ایسی خوشی ہو گی جیسی اس شخص کی جو بانسری لئے ہوئے خرامان ہو کہ خداوند کے پہاڑ میں اسرائیل کی چٹان کے پاس جائے ۔

30  کیونکہ خداوند اپنی جلالی آواز سنائے گا اور اپنے قہر کی شدت اور آتش سوزان کے شعلے اورسیلاب اور آندھی اور اولوں کے ساتھ اپنا بازو نیچے لائیگا۔

31  ہاں خداوند کی آواز ہی سے اسور تباہ ہو جائیگا ۔ وہ اسے لٹھ سے ماریگا ٍ۔

32  اور اس قضا کے لٹھ کی ہر ایک ضرب جو خداوند اس پر لائیگا دف اوربربط کے ساتھ ہو گی اور وہ اس سے سخت لڑائی لڑے گا ۔

33  کیونکہ توفت مدت سے تیار کیا گیا ہاں وہ بادشاہ کے لیے گہرا اور وسیع بنایا گیا ہے۔ اسکا ڈھیر آگ اور بہت سا ایندھن ہے اور خداوند کی سانس گندھک کے سیلاب کی مانند اسکو سلگاتی ہے۔

  أیسعیاہ 31

1  ان پر افسوس جو مدد کے لیے مصر کو جاتے اور گھوڑوں پر اعتماد کرتے ہیں اوررتھوں پر بھروسہ رکھتےہیں اس لیے کہ وہ بہت سے ہیں اورسواروں پر کیونکہ وہ بہت زورآور ہیں لیکن اسرائیل کے قدوس پر نگاہ نہیں کرتے اور خداوند کے طالب نہیں ہوئے!۔

2  پر وہ بھی تو عقل مند ہے اور بلا نازل کریگا اور اپنے کلام کو باطل نہیں ہونے دیگا ۔ وہ شریروں کے گھرانے پر اور ان پر جو بدکرداروں کی حمایت کرتے ہیں چڑھائی کریگا۔

3  کیونکہ مصری تو انسان ہیں خدا نہیں اور انکے گھوڑے گوشت ہیں روح نہیں۔ سو جب خداوند اپنا ہاتھ بڑھائیگا تو حمایتی گر جائیگا اور وہ جسکی حمایت کی گئی پست کیا جائیگا اور وہ سب کے سب اکٹھے ہلاک ہو جائینگے۔

4  کیونکہ خداوند نے مجھ سے یوں فرمایا ہے کہ جس طرح شیر ببر ہاں جوان شیر ببر اپنے شکار پر غراتا ہے اور بہت سے گڈائے اسکے مقابلہ کو بلائے جائیں تو انکی للکار سے نہیں ڈرتا اور انکے ہجوم سے دب نہیں جاتا اسی طرح رب الافواج کوہ صیون اور اسکے ٹیلے پر لڑنے کو اتریگا۔

5  منڈلاتے ہوئے پرندے کی طرح رب الافواج یروشلیم کی حمایت کریگااوررہائی بخشیگا ۔ رحم کریگا اور بچا لیگا۔

6  اے بنی اسرائیل تم اسکی طرف پھرو جس سے تم نے سخت بغاوت کی ہے۔

7  کیونکہ اس وقت ان میں سے ہر ایک اپنے چاندی کے بت اور اپنے سونے کی مورتیں جنکو تمہارے ہاتھوں نے خطاکاری کے لیے بنایا نکال پھینکے گا۔

8  تب اسور اسی تلوار سے گر جائیگا جو انسان کی نہیں اور وہی تلوار جو آدمی کی نہیں اسے ہلاک کریگی۔ وہ تلوار کے سامنے سے بھاگے گا اور اسکے جوان مرد خراج گذار بنیگے۔

9  اور وہ خوف کے سبب سے اپنے حصین مکان سے گزر جائیگا اور اسکے سردار جھنڈے سے خوفزدہ ہو جائیں گے۔ یہ خداوند فرماتا ہے جسکی آگ صیون میں اوربھٹی یروشلیم میں ہے۔

  أیسعیاہ 32

1  دیکھ ایک بادشاہ صداقت سے سلطنت کریگا اورشاہزادے عدالت سے حکمرانی کرینگے۔

2  اور ایک شخص آندھی سے پناہ گاہ کی مانند ہو گا اورطوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی زمین میں بڑی چٹان کی مانند ہو گا۔

3  اس وقت دیکھنے والوں کی آنکھیں دھندلی نہ ہونگی اور سننے والوں کے کان شنوا ہونگے۔

4  جلد باز کا دل عرفان حاصل کریگا اور لکنتی کی زبان صاف بولنے میں مستعد ہو گی۔

5  تب احمق بامروت نہ کہلائیگا اور بخیل کو کوئی سخی نہ کہیے گا۔

6  کیونکہ احمق حماقت کی باتیں کریگا اوراسکا دل بدی کا منصوبہ باندھے گا کہ بے دینی کرے اور خداوند کے خلاف دروغگوئی کرے اور بھوکے کے پیٹ کو خالی کرےاور پیاسے کو پانی سے محروم رکھے۔

7  اور بخیل کے ہتھیار زبون ہیں ۔ وہ برے منصوبے باندھا کرتا ہے تاکہ جھوٹی باتوں سے مسکین کو اور محتاج کو جب کہ وہ حق بیان کرتا ہو ہلاک کرے۔

8  لیکن صاحب مروت سخاوت کی باتیں سوچتا ہے اور وہ سخاوت کے کاموں میں ثابت قدم رہیگا۔

9  اے عورتو تم جو آرام میں ہو اٹھو ! میری آواز سنو! اے بے پرواہ بیٹیو! میری باتوں پر کان لگاؤ۔

10  اے بے پرواہ عورتو! سال سے کچھ زیادہ عرصہ میں تم بے آرام ہو جاؤ گی کیونکہ انگور کی فصل جاتی رہیگی۔ پھل جمع کرنے کی نوبت نہ آئیگی۔

11  اے عورتو تم جو آرام میں ہو تھرتھراؤ اے بے پرواؤ مضطرب ہو۔ کپڑے اتار کر برہنہ ہو جاؤ۔ کمر پر ٹاٹ باندھو۔

12  وہ دلپذیر کھیتوں اور میوہ دار تاکوں کے لیے چھاتی پیٹنگی۔

13  میرے لوگوں کی سر زمین میں کانٹے اور جھاڑیاں ہونگی بلکہ خوش وقت شہر کے تمام شادمان گھروں میں بھی۔

14  کیونکہ قصر خالی ہو جائیگا۔ عوفل اور دیدبانی کا بُرج ہمیشہ تک ماند بنکر گورخروں کی آرام گاہیں اور گلوں کی چراگاہیں ہونگے۔

15  تا وقت کے عالم بالا سے ہم پر روح نازل نہ ہو اور بیابان شاداب میدان نہ نے اورشاداب میدان جنگل نہ گنا جائے۔

16  تب بیابان میں عدل بسیگا اورصداقت شاداب میدان میں رہا کریگی۔

17  اورصداقت کا انجام صلح ہو گا اورصداقت کا پھل ابدی آرام و اطمینان ہو گا ۔

18  اور میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بے خطر گھروں میں اور آسودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہینگے۔

19  لیکن جنگل کی بربادی کے وقت اولے پڑینگے اور شہر بالکل پست ہو جائیگا۔

20  تم خوش نصیب ہو جو سب نہروں کے آس پاس بوتےہو اور بیلوں اور گدھوں کو ادھر لے جاتےہیں۔

  أیسعیاہ 33

1  تجھ پر افسوس کہ تو غارت کرتا ہے اورغارت نہ کیا گیا تھا! تو دغابازی کرتا تھا اور کسی نے تجھ سے دغا بازی نہ کی تھی۔ جب تو غارت کر چکیگا اور تو غارت کیا جائیگااور جب تو دغابازی کر چکیگا تو اور لوگ تجھ سے دغابازی کرینگے۔

2  اے خداوند! ہم پر رحم کر کیونکہ ہم تیرے منتظر ہیں ۔ تو ہر صبح انکا بازو ہو اور مصیبت ے وقت ہماری نجات۔

3  ہنگامہ کی آواز سنتے ہی لوگ بھاگ گئے ۔ تیرے اٹھتےہیں قومیں تتر بتر ہو گئیں۔

4  اورتمہاری لوٹ کا مال اسی طرح بٹورا جائیگا جس طرح کیڑے بٹور لیتےہیں۔ لوگ اس پر ٹڈی کی طرح ٹوٹ پڑینگے۔

5  خداوند سرفراز ہے کیونکہ وہ بلندی پر رہتا ہے ۔ اس نے عدالتاورصداقت سے صیون کو معمور کر دیا ہے۔

6  اورتیرے زمانہ میں امن ہو گا نجات و حکمت اور دانش کی فراوانی ہو گی ۔ خداوند کا خوف اسکا خزانہ ہے ۔

7  دیکھ انکے بہادرباہر فریاد کرتے ہیں اورصلح کے ایلچی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں ۔

8  شاہرائیں سنسان ہیں ۔ کوئی چلنے والا نہ رہا۔ اس نے عہد شکنی کی ۔ شہروں کو حقیر جانا اورانسان کو حساب میں نہیں لاتا۔

9  زمین کڑھتی اور مرجھاتی ہے ۔ لبنان رسوا ہوا اور مرجھا گیا۔ شارون بیابان کی مانند ہے۔ بسن اور کرمل بے برگ ہو گئے۔

10  خداوند فرماتا ہے اب میں اٹھونگا۔ اب میں سرفراز ہونگا۔ اب میں سر بلند ہو نگا۔

11  تم بھوسے سے باردار ہو گے پھوس تم سے پیدا ہو گا۔ تمہارا دم آگ کی طرح تم کو بھسم کریگا۔

12  اور لوگ جلے چونے کی مانند ہونگے۔ وہ ان کانٹوں کی مانند ہونگے جو کاٹ کر آگ میں جلائے جائیں۔

13  تم جو دور ہو سنو کہ میں نے کیا کیا اورتم جو نزدیک ہو میری قدرت کا اقرار کرو۔

14  وہ گنہگار جو صیون میں ہیں ڈر گئے ۔ کپکپی نے بے دینوں کو آ دبایا ہے۔ کون ہم میں سے اس مہلک آگ میں رہ سکتا ہے ؟ اور کون ہم میں سے ابدی شعلوں کے درمیان بس سکتا ہے؟ ۔

15  وہ جو راست رفتار اور درست گفتار ہیں ۔ جو ظلم کے نفع کو حقیر جانتا ہے ۔ جو رشوت سے دست بردارہے جو اپنے کان بند کرتا ہے تاکہ خونریزی کے مضمون نہ سنے اور آنکھیں موندتا ہے تاکہ زیان کاری نہ دیکھے۔

16  وہ بلندی پر رہیگا اسکی پناہ گاہ پہاڑ کا قلعہ ہو گا ۔ اسکو روٹی دی جائیگی اسکا پانی مقرر ہو گا۔

17  تیری آنکھیں بادشاہ کا جمال دیکھیں گی اور وہ بہت دور تک وسیع ملک پر نظر کرینگی۔

18 تیرا دل اس دہشت پر سوچیگا کہاں ہے وہ گننے والا؟ کہاں ہے وہ تولنے والا؟ کہاں ہے وہ جو برجوں کو گنتا تھا۔

19  تو پھر ان تند خو لوگوں کو نہ دیکھے گا جنکی بولی تو سمجھ نہیں سکتا جنکی زبان بیگانہ ہے جو تیری سمجھ میں نہیں آتی۔

20  ہماری عید گاہ صیون پر نظر کر۔ تیری آنکھیں یروشلیم کو دیکھیں گی جو سلامتی کا مقام ہے بلکہ ایسا خیمہ جو ہلایا نہ جائے گا۔ جسکی میخوں میں سے ایک بھی اکھاڑی نہ جائیگی اور اسکی ڈوریوں میں سے ایک بھی توڑی نہ جائیگی۔

21  بلکہ وہاں ذوالجلال خداوند بڑی بڑی ندیوں اور نہروں کی مانند ہماری گنجائش کے لیے آپ موجود ہو گا کہ وہاں ڈانڈ کی کوئی کشتی نہ جائیگی اور نہ شاندار جہازوں کا گذر اس میں ہو گا۔

22  کیونکہ خداوند ہمارا حاکم ہے۔ خداوند ہمارا شریعت دینے والا ہے۔ خداوند ہمارا بادشاہ ہے وہی ہم کو بچائیگا۔

23  تیری رسیاں ڈھیلی ہیں۔ لوگ مستول کی چول کو مضبوط نہ کر سکے وہ بادبان نہ پھیلا سکے۔ سو لوٹ کا وافر مال تقسیم کیا گیا لنگڑے بھی غنیمت کر قابض ہو گئے۔

24  وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ میں بیمار ہوں اور انکے گناہ بخشے جائینگے۔

  أیسعیاہ 34

1  اے قومو! نزدیک آ کے سنو۔ اے اُمتو کان لگاؤ۔ زمین اور اسکی معموری دنیا اور اسکی سب چیزیں جو اس میں ہیں سنیں۔

2  کیونکہ خداوند کا قہر تمام قوموں پر اور اسکا غضب انکی سب فوجوں پر ہے۔ اس نے انکو ہلاک کر دیا اس نے انکو ذبح ہونے کے لیے حوالہ کیا۔

3  اور انکے مقتول پھینک دئے جائینگے بلکہ ان کی لاشوں سے بدبو اٹھیگیاور پہاڑ انکے لہو سے بہہ جائینگے۔

4  اورتمام اجرامِ فلک گداز ہو جائینگے اور آسمان طومار کی مانند لپیٹے جائینگے اور انکی تمام افواج تاک اور انجیر کے مرجھائے ہوئے پتوں کی مانند گر جائینگی۔

5  کیونکہ میری تلوار آسمان میں مست ہو گی دیکھو وہ ادوم پر اور ان لوگوں پر جنکو میں نے ملعون کیا سزا دینے کو نازل ہو گی ۔

6  خداوند کی تلوار خون آلودہ ہے ۔ وہ چربی اور اور بکروں اور بروں کےلہو سے اورمینڈھوں کے گردوں کے خون سے چکنا گئی کیونکہ خداوند کے لیے بصراہ میں ایک قربانی اور ادوم کے ملک میں بڑی خونریزی ہے ۔

7  اور انکے ساتھ جنگلی سانڈ اور بچھڑے اور بیل ذبح ہونگے اور انکا ملک خون سے سیراب ہو جائیگا اور انکی گرد چربی سے چکنا جائیگی۔

8  کیونکہ یہ خداوند کا انتقام لینے کا دن اور بدلہ لینے کا سال ہے جس میں وہ صیون کا انصاف کریگا۔

9  اور اسکی ندیاں رال ہو جائینگی اور اسکی خاک گندھک اور اسکی زمین جلتی ہوئی رال ہو گی۔

10  جو شب و روز کبھی نہ بھجے گی۔ اس سے ابد تک دھواں اٹھتا رہیگا۔ نسل در نسل وہ اجاڑ رہیگی ۔ ابدالاباد تک کوئی ادھر سے نہ گذرے گا۔

11  لیکن حواصل اور خار پشت اسکے مالک ہونگے ۔ الو اور کوئے اس میں بسینگے اور اس پر ویرانی کا سوت پڑیگا اورسنسانی کا ساہول ڈالا جائیگا۔

12  اسکے اشراف میں سے کوئی نہ ہو گا جسے وہ بلائیں کہ حکمرانی کرے اور اسکے سب سردار ناچیز ہونگے۔

13  اور اسکے قصروں میں کانٹے اور اسکے قلعوں میں بچھو بوٹی اور اونٹ کٹارے اُگینگے اور وہ گیدڑوں کی ماندیں اور شتر مرغوں کے رہنے کا مقام ہو گا۔

14  اوردشتی درندے بھیڑیوں سے ملاقات کرینگے اور چھگمانس اپنے ساتھی کو پکارے گا ۔ ہاں عفریت شب وہاں آرام کریگا اور اپنے ٹکنے کو جگہ پائیگا ۔

15  وہاں اڑنے والے سانپ کا آشیانہ ہو گا اور انڈے دینا اور سینا اور اپنے سایہ میں جمع کرنا ہو گا وہاں گدھ جمع ہونگے اور ہر ایک کے ساتھ اسکی مادہ ہو گی۔

16  تم خداوند کی کتاب میں ڈھونڈو اور پڑھو ۔ ان میں سے ایک بھی کم نہ ہو گا اور کوئی بے جفت نہ ہوگا کیونکہ میرے منہ نے یہی حکم کیا ہے اور اسکی روح نے انکو جمع کیا ہے ۔

17  اور اس نے انکے لیے قرعہ ڈالا ہے اور اسکے ہاتھ نے انکے لیے جریب کو تقسیم کیا ۔ سو وہ ابد تک اسکے مالک ہونگے اور پشت در پشت اس میں بسینگے۔

  أیسعیاہ 35

1  بیابان اور ویرانہ شادمان ہونگے اور دست خوشی کریگا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہو گا۔

2  اس میں کثرت سے کلیاں نکلیں گے ۔ وہ شادمانی سے گا کر خوشی کریگا۔ لبنان کی شوکت اور کرمل اورشارون کی زینت اسے دی جائیگی ۔ وہ خداوند کا جلال اور ہمارے خداوند کی حشمت دیکھنگے۔

3  کمزور ہاتھوں کو زور اور ناتوان گھٹنوں کو توانائی دو۔

4  ان کو کج دلے ہیں کہو ہمت باندھو مت ڈرو ۔ دیکھو تمہارا خدا سزا اور جزا کے لیے آتا ہے۔ ہاں خدا ہی آئیگا اورتم کو بچائیگا۔

5  اس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی اور بہروں کے کان کھولے جائینگے ۔

6  تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرینگے اور گونگے کی زبان گائیگی کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلینگی۔

7  بلکہ سراب تالاب ہو جائیگا اور پیاسی زمین چشمہ بن جائیگی ۔ گیدڑوں کی ماندوں میں جہاں وہ پڑےتھے نَے اور نل کا ٹھکانا ہو گا ۔

8  اور وہاں ایک شاہراہ اور گذرگاہ ہو گی جو مقدس راہ کہلائیگی جس سے کوئی ناپاک گذر نہ کریگا ۔ لیکن یہ مسافروں کے لیے ہو گی ۔ احمق بھی اس میں گمراہ نہ ہونگے۔

9  وہاں شیر ببر نہ ہو گا اورنہ کوئی درندہ اُس پر چڑھیگا نہ وہاں پایا جائیگا لیکن جنکا فدیہ دیا گیا وہاں سیر کرینگے۔

10  اورجنکو خداوند نے مخلصی بخشی لوٹینگے اورصیون میں گاتے ہوئے آئینگے اور ابدی سرور انکے سروں پر ہوگا۔ وہ خوشی اور شادمانی حاصل کرینگے اور غم و اندوہ کافور ہو جائینگے۔

  أیسعیاہ 36

1  اور حزقیاہ بادشاہ کی سلطنت کے چودھویں برس یوں ہوا کہ شاہ اسور سنحیرب نے یہوادہ کے سب فصیلدار شہروں پر چڑھائی کی اور انکو لے لیا۔

2  اورشاہ اسور نے ربشاقی کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ لکیس سے حزقیاہ کے پاس یروشلیم کو بھیجا اور اس نے اوپر کے تالاب کی نالی پر دھوبیوں کےمیدان کی راہ میں مقام کیا۔

3  تب الیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اور شبناہ منشی اور محرر یوآخ بن آسف نکل کر اسکے پاس آئے ۔

4  اور ربشاقی نے انکے سے کہا تم حزقیاہ سے کہو کہ ملک معظم شاہ اسور فرماتا ہے کہ تو کیا اعتماد کیے بیٹھا ہے؟۔

5  کیا مشورت اور جنگ کی قوت منہ کی باتیں ہی ہیں؟ آخر کس کے برتے پر تو نے مجھ سے سرکشی کی ہے؟۔

6  دیکھ تجھے اُس مسلے ہوئے سرکنڈے کے عصا یعنی مصر پر بھروسہ ہے اس پر اگر کوئی ٹیک لگائے تو وہ اس کے ہاتھ میں گڑجائیگا اور اسے چھید دیگا ۔ شاہ مصر فرعون ان سب کے لیے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں ایسا ہی ہے ۔

7  پر اگر تو مجھ سے یوں کہے کہ ہمارا توکل خداوند ہمارے خدا پر ہے تو کیا وہ وہی نہیں ہے جس کے اونچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا کر حزقیاہ نے یہوادہ اوریروشلیم سے کہا کہ تم اس مذبح کے آگے سجدہ کیا کرو ؟۔

8  اس لیے اب ذرا میرے آقا شاہ اسور کے ساتھ شرط باندھ اورمیں تجھے دو ہزار گھوڑے دونگا بشرطیکہ تو اپنی طرف سے ان پر سوارچڑھا سکے ۔

9  بھلا پھر تو کیونکر میرے آقا کے کمترین ملازموں میں سے ایک سردار کا بھی منہ پھیر سکتا ہے؟ اورتو رتھوں اورسواروں کے لیے مصر پر بھروسہ کرتاہے ؟ ۔

10  اور کیا اب میں نے خدا کے بے کہے ہی اس مقام کو غارت کرنے کے لیے چڑھائی کی ہے ؟ خداوند نے ہی تو مجھ سے کہا کہ اس ملک پر چڑھائی کر اور اسے غارت کر دے ۔س

11  تب الیاقیم اور شبناہ اور یوآخ نے ربشاقی سے عرض کی کہ اپنے خادموں سے آرامی زبان میں بات کر کیونکہ ہم اسے سمجھتے ہیں اوردیوار پر کے لوگوں کے سنتےہوئے یہودیوں کی زبان میں ہم سے بات نہ کر۔

12  لیکن ربشاقی نے کہا کیا میرے آقا نے مجھے یہ باتیں کہنے کو تیرے آقا کے پاس یا تیرے پاس بھیجا ہے ؟ کیا اس نے مجھے ان لوگوں کے پاس نہیں بھیجا جو تمہارے ساتھ اپنی ہی نجاست کھانے اوراپنا ہی قارورہ پینے کو دیوار پر بیٹھے ہیں؟ ۔

13  پھر ربشاقی کھڑا ہو گیا اور یہودیوں کی زبان میں بلند آواز سے کہنے لگا کہ ملک معظم شاہ اسور کا کلام سنو۔

14  بادشاہ یوں کہتاہے کہ حزقیاہ تم کو فریب نہ دے کیونکہ وہ تم کو چھڑا نہیں سکیگا ۔

15  اور نہ وہ یہ کہہ کر تم سے خداوند پر بھروسہ کرائے کہ خداوند ضرور ہم کو چھڑائے گا اور یہ شہر شاہ اسور کے حوالہ نہ کیا جائیگا۔

16  حزقیاہ کی نہ سنو کیونکہ شاہ اسور یوں فرماتا ہے کہ تم مجھ سے صلح کر لو اورنکل کر میرے پاس آؤ اور تم میں سے ہر ایک اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کا میوہ کھاتا اور اپنے حوض کا پانی پیتا رہے۔

17  جب تک کہ میں تم کو آکر ایک ایسے ملک میں نہ لے جاؤں جو تمہارے ملک کی مانند غلہ اور مے کا ملک روٹی اور تاکستانوں کا ملک ہے ۔

18  خبردار ایسا نہ ہو کہ حزقیاہ تم کو یہ کہہ کر ترغیب دے کہ خداوند ہم کو چھڑائیگا کیا قوموں کے معبودوں میں سے کسی نے بھی اپنے ملک کو شاہ اسور کے ہاتھ سے چھڑایا ہے؟ ۔

19  حمات اور ارفاد کے دیوتا کہاں ہیں؟ سفر وائیم کے دیوتا کہاں ہیں؟ کیا انہوں نے سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچا لیا؟ ۔

20  ان ملکوں کے تمام دیوتاؤں میں سے کس کس نے اپنے ملک کو میرے ہاتھ سے چھڑا لیا جو خداوند بھی یروشلیم کو میرے ہاتھ سے چھڑائیگا؟ ۔

21  لیکن وہ خاموش رہےاوراسکے جواب میں انہوں نے ایک بات بھی نہ کہی کیونکہ بادشاہ کا حکم یہ تھا کہ اسے جواب نہ دینا۔

22  اورالیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اورشبناہ منشی اور یوآخ بن آسف محرر اپنے کپڑے چاک کیے ہوئے حزقیاہ کے پاس آئے اورربشاقی کی باتیں اسے سنائیں۔

  أیسعیاہ 37

1  جب حزقیاہ بادشاہ نے یہ سنا تو اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اوڑھکر خداوند کے گھر میں گیا۔

2  اوراس نے گھر کے دیوان الیاقیم اور شبناہ منشی اورکاہنوں کے بزرگوں کو ٹاٹ اوڑھا کر آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کے پاس بھیجا ۔

3  اورانہوں نے اس سے کہا کہ حزقیاہ یوں کہتاہے کہ آج کا دن دکھ اور ملامت اورتوہین کا دن ہے کیونکہ بچے پیدا ہونے پر ہیں اور ولادت کی طاقت نہیں۔

4  شاید خداوند تیرا خدا ربشاقی کی باتیں سنے گا جسے اسکے آقا شاہ اسور نے بھیجا ہے کہ زندہ خدا کی توہین کرے اورجو باتیں خداوند تیرے خدانے سنیں ان پر وہ ملامت کریگا پس تو اس بقیہ کے لیے جو موجود ہے دعا کر۔

5  پس حزقیاہ بادشاہ کے ملازم یسعیاہ کے پاس آئے ۔

6  اور یسعیاہ نے ان سے کہا تم اپنے آقا سے یوں کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو ان باتوں سے جو تونے سنی ہیں جس سے شاہ اسورکے ملازموں نے میری تکفیر کی ہے ہراسان نہ ہو۔

7  دیکھ میں اس میں ایک روح ڈال دونگا اوروہ ایک افواہ سن کر اپنے ملک کو لوٹ جائیگا اور میں اسے اسی کے ملک میں تلوار سے مروا ڈالونگا۔

8  سو ربشاقی لوٹ گیا اور اس نے شاہ اسورکو لبناہ سے لڑتے پایا کیونکہ اس نے سنا تھا کہ وہ لکیس سے چلا گیا ہے۔

9  اور اس نے کوش کے بادشاہ ترہاقہ کی بابت سنا کہ وہ تجھ سے لڑنے کو نکلا ہے اورجب اس نے یہ سنا تو حزقیاہ کے پاس ایلچی بھیجے اور کہا ۔

10  شاہ یہوادہ حزقیاہ سے یوں کہنا کہ تیرا خدا جس پر تیرا بھروسہ ہے تجھے یہ کہکر فریب نہ دے کہ یروشلیم شاہ اسورکے قبضہ میں نہ کیا جائے گا۔

11  دیکھ تو نے سنا ہے کہ اسور کے بادشاہ نےتمام ممالک کو غارت کر کے انکا کیا حال بنایا ہے سو کیا تو بچا رہیگا؟ ۔

12  کیا ان قوموں کے دیوتاؤں نے انکو یعنی جوزان اور حاران اوررصف اور بنی عدن کو جو تلسار میں تھے جنکو ہمارے باپ دادا نے ہلاک کیا چھڑایا؟ ۔

13  حمات کا بادشاہ اورارفاد کا بادشاہ اور شہر سفر وائیم اور ہینع اور عواہ کا بادشاہ کہاں ہیں؟۔

14  حزقیاہ نے ایلچیوں کے ہاتھ سے نامہ لیا اور اسے پڑھا اور حزقیاہ نے خداوند کے گھر جا کر اسکے خداوند کے حضورپھیلا دیا ۔

15  اور حزقیاہ نے خداوند سے یوں دعا کی ۔

16  اے خداوند رب الافواج اسرائیل کے خدا ۔ کروبیوں کے اوپر بیٹھنے والے ! تو ہی اکیلا زمین کی سب سلطنتوں کا خدا اے۔ تو ہی نے آسمان اوت زمین کو پیدا کیا۔

17  اے خداوند کان لگا اور سن ۔ اے خداوند اپنی آنکھیں کھول اوردیکھ اور سنحیرب کی ان سب باتوں کو جو اس نے زندہ خدا کی توہین کرنے کے لیے کہلا بھیجی ہیں سن لے۔

18  اے خداوند در حقیقت اسور کے بادشاہ نے سب قوموں کو انکے ملکوں سمیت تباہ کیا۔

19  اور انکے دیوتاؤں کو آگ میں ڈالا کیونکہ وہ خدا نہ تھے بلکہ آدمیوں کی دستکاری تھے۔ لکڑی اورپتھر۔ اس لیے انہوں نے انکو نابود کیا۔

20  سو اب اے خداوند ہمارے خدا تو ہمکو اس کے ہاتھ سےبچا لے تاکہ زمین کی سب سلطنتیں جان لیں کہ تو ہی اکیلا خداوند ہے۔

21  تب یسعیاہ بن آموص نے حزقیاہ کو کہلا بھیجا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے چونکہ تو نے شاہ اسور سنحیرب کے خلاف مجھ سے دعا کی ہے ۔

22  اس لیے خداوند نے اسکے حق میں یوں فرمایا کہ کنواری دخترِ صیون نے تیری تحقیر کی اورتیرا مضحکہ اڑایا۔ یروشلیم کی بیٹی نے تجھ پر سر ہلایا ہے۔

23  تو نے کس کی توہین و تکفیر کی ہے ؟ تونے کس کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور اپنی آنکھیں اوپر اٹھائیں؟ اسرائیل کے قدوس کے خلاف؟ ۔

24  تو نے اپنے خادموں کے ذریعے سے خداوند کی توہین کی اورکہا کہ میں اپنے بہت سے رتھوں کو لیکر پہاڑوں کی چوٹیوں پر بلکہ لبنان کے وسطی حصہ تک چڑھ آیا ہوں اور میں اسکے اونچے اونچے دیوداروں اور اچھے سے اچھے صنوبر کے درختوں کو کاٹ ڈالونگا اورمیں اسکے چوٹی پر کے زرخیز جنگل میں جا گھسونگا۔

25  میں نے کھود کھود کر پانی پیا ہے اور میں اپنے پاؤں کے تلوے سے مصر کی سب ندیاں سکھا ڈالونگا ۔

26  کیا تو نے یہ نہیں سنا کہ مجھے یہ کیے ہوئے مدت ہوئی اورمیں نے قدیم آیام سے ٹھہرا دیا تھا ؟ اب میں نے اسی کو پورا کیا ہے کہ تو فصیلدار شہروں کو اجاڑ کر کھنڈر بنا دینے کے لیے برپا ہو۔

27  اسی سبب سے انکے باشندے کمزورہوئے اور گھبرا گئے اور شرمندہ ہوئے ۔ وہ میدان کی گھاس اور پود چھتوں پر کی گھاس اور کھیت کے اناج کی مانند ہو گئی جو ابھی بڑھا نہ ہو۔

28  لیکن میں تیری نشست اور آمدورفت اورتیرا مجھ پر جھنجھلانا جانتا ہوں۔

29  تیرے مجھ پر جھنجھلانے کے سبب سے اور اس لیے کہ تیرا گھمنڈ میرے کانوں تک پہنچا میں اپنی نکیل تیرے ناک میں اور اپنی لگام تیرے منہ میں ڈالونگا اورتو جس راہ سے آیا ہے میں تجھے اسی راہ سے واپس لوٹا دونگا۔

30  اورتیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ تم اس سال وہ چیزیں جو خود اگتی ہیں اوردوسرے سال وہ چیزیں جو ان سے پیدا ہوں کھاؤ گے اورتیسرے سال تم بونا اورکاٹنا اورتاکستان لگا کر ان کا پھل کھانا۔

31  اوروہ بقیہ جو یہوادہ کے گھرانے سے بچ رہا ہے پھر نیچے کی طرف جڑ پکڑے گا اور اوپر کی طرف پھل لائیگا۔

32  کیونکہ ایک بقیہ یروشلیم میں سے اور وہ جو بچ رہے ہیں کوہ صیون سے نکلینگے۔ رب الافواج کی غیوری یہ کر دکھائیگی۔

33  سو خداوند شاہ اسور کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ وہ اس شہر میں آنے یا یہاں تیر چلانے نہ پائے گا ۔ وہ نہ تو سپر کے کر اسکے سامنے آنے اور نہ اسکے مقابل دمدمہ باندھنے پائے گا۔

34  بلکہ خداوند فرماتا ہے کہ جس راہ سے وہ آیا اسی سے لوٹ جائیگا اور اس شہر میں آنے نہ پائیگا۔

35  کیونکہ میں اپنی خاطر اپنے بندہ داؤد کی خاطر اس شہر کی حمایت کر کے اسے بچاونگا۔

36  پس خداوند کے فرشتہ نے اسوریوں کی لشکر گاہ میں جا کر ایک لاکھ پچاسی ہزار آدمی جان سے مار ڈالے اورصبح کو جب لوگ سویرے اٹھے کہ وہ سب مرے پڑے ہیں۔

37  تب شاہ اسور سنحیرب کوچ کر کے وہاں سے چلا گیا اورلوٹ کر نینوہ میں رہنے لگا۔

38  اور جب وہ اپنے دیوتا نسروک کےمندر میں پوجا کر رہا تھا تو ادرملک اورشراضر اسکے بیٹوں نے اسکے تلوار سے قتل کیا اوراراراط کی سرزمین کو بھاگ گئے اوراسکا بیٹا اسرحدون اسکی جگہ بادشاہ ہوا۔

  أیسعیاہ 38

1  ان ہی دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا اور یسعیاہ نبی آموص کے بیٹے نے اسکے پاس آ کر اس سےکہا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے گھر کا انتظام کر دے کیونکہ تو مر جائے گا اوربچنے کا نہیں ۔

2  تب حزقیاہ نے اپنے منہ دیوارکی طرف کیا اورخداوند سے دعا کی۔

3  اور کہا اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں یاد فرما کہ میں تیرے حضور سچائی اورپورے دل چلتا رہا ہوں اور جو تیر ی نظر میں بھلا ہے وہی کیا اورحزقیاہ زارزار رویا۔

4  تب خداوند کا یہ کلام یسعیاہ پر نازل ہوا ۔

5  کہ جا اورحزقیاہ سےکہہ کے خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے تیری دعا سنی ۔ میں نے تیرے آنسو دیکھے ۔ سودیکھ میں تیری عمر پندرہ برس اور بڑھا دونگا۔

6  اور میں تجھ کو اور اس شہر کو شاہ اسور کے ہاتھ سے بچا لونگا اور میں اس شہر کی حمایت کرونگا۔

7  اورخداوند کی طرف سے تیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ خداوند اس بات کو جو اس نے فرمائی پورا کریگا ۔

8  دیکھ میں آفتاب کے ڈھلے ہوئے سایہ کے درجوں میں سے آخز کی دھوپ گھڑی کے مطابق دس درجے پیچھے کو لوٹا دونگا۔ چنانچہ آفتاب جن درجوں سے ڈھل گیا تھا ان میں کے دس درجے پھر لوٹ گیا۔

9  شاہ یہوادہ حزقیاہ کی تحریر جب وہ بیمار تھا اور اپنی بیماری سے شفا یاب ہوا۔

10  میں نے کہا کہ میں اپنی آدھی عمر میں پاتال کے پھاٹکوں میں داخل ہونگا۔ میری زندگی کے باقی برس مجھ سے چھین لئے گئے۔

11  میں کہا میں خداوند کو ہاں خداوند زندوں کی زمین میں پھر کبھی نہ دیکھونگا۔ انسان اوردنیا کے باشندے مجھے پھر دکھائی نہ دینگے۔

12  میرا گھر اجڑ گیا اور گڈریے کے خیمے کی مانند مجھ سےدورکیا گیا۔ میں نے جلاہے کی مانند اپنی زندگانی کو لپیٹ لیا ۔ وہ مجھ کو تانت سے کاٹ ڈالیگا۔ صبح سے شام تک تو مجھ کو تمام کر ڈالتا ہے۔

13  میں نے صبح تک تحمل کیا ۔ تب وہ شیر ببر کی مانند میری سب ہڈیاں چور کر ڈالتا ہے ۔ صبح سے شام تک تو مجھے تمام کر ڈالتا ہے۔

14  میں ابابیل اورسارس کی طرح چیں چیں کرتا رہا۔ میں کبوتر کی طرح کڑھتا رہا ۔ میری آنکھیں اوپر دیکھتے دیکھتےپتھرا گئیں۔ اے خداوند میں بے کس ہوں تو میرا کفیل ہو۔

15  میں کہا کہوں؟ اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا اور اسی نے پورا کیا۔ میں اپنی باقی عمر اپنی جان کی تلخی کے سبب سے آہستہ آہستہ پوری کرونگا۔

16  اے خداوند ان ہی چیزوں سے انسان کی زندگی ہے اور ان ہی میں میری روح کی حیات ہے۔ سو تو ہی شفا بخش اورمجھے زندہ رکھ۔

17  دیکھ میرا سخت رنج راحت میں تبدیل ہوا۔ اورمیری جان پر مہربان ہو کر تو نے اسے نیستی کے گڑھے سے رہائی دی۔ کیونکہ تو نے میرے گناہوں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔

18  اس لیے کہ پاتال تیری ستایش نہیں کر سکتا اور موت سے تیری حمد نہیں ہو سکتی۔ وہ جو گور میں اترنے والے ہیں تیری سچائی کے امیدوار نہیں ہو سکتے ۔

19  زندہ ہاں زندہ ہی تیری ستایش کریگا جیسا آج کے دن میں کرتا ہوں۔ باپ اپنی اولاد کو تیری سچائی کی خبر دیگا۔

20  خداوند مجھے بچانے کو تیار ہے اس لیے ہم اپنےتاردار سازوں کے ساتھ عمر بھر خداوند کے گھر میں سرود خوانی کرتے رہینگے۔

21  یسعیاہ نے کہا تھا کہ انجیر کی ٹکیہ لیکر پھوڑے پر باندھیں اوروہ شفا پائے گا ۔

22  اورحزقیاہ نے کہا تھا کہ اسکا کیا نشان ہےکہ میں خداوند کے گھر میں جاونگا؟۔

  أیسعیاہ 39

1  اس وقت مردوک بلدان بن بلدان شاہ بابل نے حزقیاہ کے لیے نامے اورتحائف بھیجے کیونکہ اس نے سنا تھا کہ وہ بیمارتھا اور شفا یاب ہوا۔

2  اور حزقیاہ ان سے بہت خوش ہوا اوراپنے خزانے یعنی چاندی اورسونا اورمصالح اور بیش قیمت عطر اورتمام سلاح خانہ اورجو کچھ اسکے خزانوں میں موجود تھا انکو دکھایا۔ اسکے گھر میں اور اسکی مملکت میں ایسی کوئی چیز نہ تھی جو انکو نہ دکھائی۔

3  تب یسعیاہ نبی نے حزقیاہ بادشاہ کے پاس آ کر اس سے کہا کہ یہ لوگ کیا کہتےہیں اور یہ کہاں سے تیرے پاس آئے ؟ حزقیاہ نے کہا کہ یہ ایک دورکے ملک یعنی بابل سے میرے پاس آئے ہیں۔

4  تب اس نے پوچھا انہوں نے تیرے گھر میں کیا کیا دیکھا ؟ حزقیاہ نے کہا سب کچھ جو میرے گھر میں ہے انہوں نے دیکھا۔ میرے خزانوں میں ایسی کوئی چیز نہیں جو میں نے انکو نہ دکھائی ہو۔

5  تب یسعیاہ نے حزقیاہ سے کہا کہ رب الافواج کا کلام سن لے۔

6  دیکھ وہ دن آتےہیں کہ سب کچھ جو تیرے گھر میں ہے اور جو کچھ تیرےباپ دادا نے آج کے دن تک جمع کر کے رکھا ہے بابل کو لے جائینگے۔ خداوند فرماتا ہے کچھ بھی باقی نہ رہیگا۔

7  اوروہ تیرے بیٹوں میں سے جو تجھ سے پیدا ہونگے اور جنکا باپ تو ہی ہو گا کتنوں کو لے جائینگے اور وہ شاہ بابل کے ملک میں خواجہ سرا ہونگے۔

8  تب حزقیاہ نے یسعیاہ سے کہا خداوند کا کلام جو تو نے سنایا بھلا ہے اور اس نے یہ بھی کہا کہ میرے آیام میں تو سلامتی اورامن ہو گا۔

  أیسعیاہ 40

1  تسلی دو تم میرے لوگوں کو تسلی دو۔ تمہارا خدا فرماتا ہے۔

2  یروشلیم کو دلاسا دو اور اسے پکار کر کہو کہ اسکی مصیبت کے دن جو جنگ و جدل کے تھے گذر گئے۔ اسکے گناہ کا کفارہ ہوا اور اس نے خداوند کے ہاتھ سے اپنے سب گناہوں کا بدلہ دو چند پایا۔

3  پُکارنے والے کی آواز! بیابان میں خداوند کی راہ درست کرو۔ صحرا میں ہمارے خداوند کے لیے شاہراہ ہموار کرو۔

4  ہر ایک نشیب اونچا کیا جائے گا اور ہر ایک ٹیڑھی چیز سیدھی اور ہر ایک ناہموار جگہ ہموار کی جائے۔

5  اور خداوند کا جلال آشکارا ہو گا اورتمام بشراسکو دیکھے گا کیونکہ خداوند نے اپنے منہ سے فرمایا ہے ۔

6  ایک آواز آئی کہ منادی کر اورمیں نے کہا کہ میں کیا منادی کروں؟ ہر بشر گھاس کی مانند ہے اور اسکی ساری رونق میدان کے پھول کی مانند۔

7  گھاس مرجھاتی ہے پھول کُملاتا ہے کیونکہ خداوند کی ہوا اس پر چلتی ہے یقیناً لوگ گھاس ہیں۔

8  ہاں گھاس مرجھاتی ہے۔ پھول کُملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔

9  اے صیون کو خوشخبری سنانے والی اونچے پہاڑ پر چڑھ جا اور اے یروشلیم کو بشارت دینے والی زور سے اپنی آواز بلند کر! خوب پُکار اور مت ڈر۔ یہوداہ کی بستیوں سے کہہ دیکھو اپنا خدا!۔

10  دیکھو خداوند خدا بڑی قدرت کے ساتھ آئیگا اور اسکا بازو اسکے لیے سلطنت کریگا۔ دیکھو اسکا صلہ اسکے ساتھ ہے اوراسکا اجر اسکے سامنے۔

11  وہ چوپان کی مانند اپنا غلہ چرائیگا۔ وہ بّروں کو اپنے بازوں میں جمع کریگا اور اپنی بغل میں لے کر چلے گا اور انکو جو دودھ پلاتی ہیں آہستہ آہستہ لے کر چلے گا۔

12  کس نے سمندر کو چلو سے ناپا اور آسمان کی پیمائش بالشت سے کی اور زمین کی گرد کو پیمانہ میں بھرا اورپہاڑوں کو پلڑوں میں وزن کیا اورٹیلوں کو ترازو میں تولا؟ ۔

13  کس نے خداوند کی روح کی ہدایت کی یا اسکا مشیر ہو کر اسے سکھایا؟ ۔

14  اس نے کس سے مشورت لی جو اسے تعلیم دے اور اسے عدالت کی راہ سجھائے اور اسے معرفت کی بات بتائے اور اسے حکمت سے آگاہ کرے ؟ ۔

15  دیکھ قومیں ڈول کی ایک بوند کی مانند ہیں اورترازو کی باریک گرد کی مانند گنی جاتی ہیں۔ دیکھ وہ جزیروں کو ایک ذٓرہ کی مانند اٹھا لیتا ہے۔

16  لبنان ایندھن کے لیے کافی نہیں اور اسکے جانور سوختنی قربانی کے لیے بس نہیں۔

17  سب قومیں اسکی نظرمیں ہیچ ہیں بلکہ وہ اسکے نزدیک بطالت اور ناچیز سے بھی کمتر گنی جاتی ہیں۔

18  پس تم خدا کو کس سے تشبیہ دو گے؟ اور کون سی چیز اس سے مشابہ ٹھہراؤ گے؟۔

19  تراشی ہوئی مورت! کاریگر نے اسے ڈھالا اور سنار اس پر سونا مڑھتا ہے اوراسکے لیے چاندی کی زنجیریں بناتا ہے۔

20  اور جو ایسا تہیدست ہے کہ اس کے پاس نذر گذارننے کو کچھ نہیں وہ ایسی لکڑی چن لیتا ہے جو سڑنے والی نہ ہو۔ وہ ہوشیار کاریگر کی تلاش کرتا ہے تاکہ ایسی مورت بنائے جو قائم رہ سکے۔

21  کیا تم نہیںجانتے؟ کیا تم نے نہیں سنا؟ کیا یہ بات ابتدا ہی سے تم کو بتائی نہیں گئی؟ کیا تم بنائے عالم سے نہیں سمجھے؟ ۔

22  وہ محیط زمین پر بیٹھا ہے اور اسکے باشندے ٹڈوں کی مانند ہیں وہ آسمان کو پردہ کی مانند تانتا ہے اور اسکو سکونت کے لیے خیمہ کی مانند پھیلاتا ہے۔

23  جو شاہزادوں ہو ناچیز کر ڈالتا ہے اور دنیا کے حاکموں کو ہیچ ٹھہراتا ہے۔

24  وہ ہنوز لگائے نہ گئے وہ ہنوز بوئے نہ گئے ۔ انکا تنا زمین میں ہنوز جڑ نہ پکڑ چکا کہ وہ فقط ان پر پھونک مارتا ہے اور وہ خشک ہو جاتے ہیں اورگرد باد انکو بھوسے کی مانند اڑا لے جاتاہے۔

25  وہ قدوس فرماتا ہے کہ تم مجھے کس سے تشبیہ دوگے؟ اورمیں کس چیز سے مشابہہ ہونگا۔

26  اپنی آنکھیں اوپر اٹھاؤ اور دیکھو کہ ان سب کا خالق کون ہے۔ وہی جو انکے لشکر کو شمار کر کے نکالتا ہے اور ان سب کو نام بنام بلاتا ہے اسکی قدرت کی عظمت اور اسکے بازو کی توانائی کے سبب سے ایک بھی غیر حاضر نہیں رہتا۔

27  پس اے یعقوب تو کیوں یوں کہتا ہے کہ اے اسرائیل تو کس لئے ایسی بات کرتا ہے کہ میری راہ خداوند سے پوشیدہ ہے اور میری عدالت خدا سے گذر گئی؟ ۔

28  کیا تو نہیں جانتا؟ کیا تو نےنہیں سنا کہ خداوند خدایِ ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتا؟ اسکی حکمت ادراک سے باہر ہے۔

29 وہ تھکے ہوئے ہو زوربخشتا ہے اورناتوان کی توانئی کو زیادہ کرتا ہے ۔

30  نوجوان بھی تھک جائینگے اور ماندہ ہونگے اور سورما بالکل گر پڑینگے ۔

31  لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے ازسر نو زور حاصل کرینگے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اڑینگے وہ دوڑینگے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلینگے اورماندہ نہ ہونگے۔

  أیسعیاہ 41

1  اے جزیرو! میرے حضور خاموش رہو اورامتیں از سرنو زورحاصل کریں۔ وہ نزدیک آ کر عرض کریں۔ آؤ ہم ملکر عدالت کے لیے نزدیک ہوں۔

2  کس نے مشرق سے اسکو برپا کیا جسکو وہ صداقت سے اپنے قدموں میں بلاتا ہے؟ وہ قوموں کو اسکے حوالے کرتا اور اسے بادشاہوں پر مسلط کرتا ہے اورانکو خاک کی مانند اسکی تلوار کے اور اڑتی ہوئی بھوسی کی مانند اسکی کمان کے حوالہ کرتاہے۔

3  وہ انکا پیچھا کرتا اور اس راہ سے جس پرپیشتر قدم نہ رکھا سلامت گذرتا ہے۔

4  یہ کس نے کیااورابتدائی پشتوں کو طلب کر کے انجام دیا؟ میں خداوند نے جو اوّل و آخر ہوں۔ وہ میں ہی ہوں۔

5  جزیروں نے دیکھا اورڈرگئے۔ زمین کے کنارےتھرا گئے وہ نزدیک آتےگئے۔

6  ان میں سے ہر ایک نے اپنے پڑوسی کی مدد کی اور اپنے بھائی سے کہا کہ حوصلہ رکھ۔

7  بڑھئی نے سنار کی اور اس نے جو ہتھوڑی سے صاف کرتا ہے اسکی جو نہائی پر پیٹتا ہے ہمت بڑھائی اور کہا جوڑ تو اچھا ہے۔ سو انہوں نے اسکو میخوں سے مضبوط کیا تاکہ قائم رہے۔

8  پر تو اے اسرائیل میرے بندے! اے یعقوب جسکو میں نے پسند کیا جو میرے دوست ابرہام کی نسل سے ہے۔

9  تو جسکو میں نے زمین کی انتہا سے بلایا اور اسکے سِوانوں سے طلب کیا اورتجھ کو کہا تو میرا بندہ ہے میں تجھے پسند کیا اورتجھے رد نہ کیا۔

10  تو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراسان نہ ہو کیونکہ میں تیرا خدا ہوں میں تجھے زوربخشونگا۔ میں یقیناً تیری مدد کرونگا اور میں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھسے تجھے سنبھالونگا۔

11  دیکھ وہ سب جو تجھ پر غضبناک ہیں پشیمان اور رسوا ہونگے وہ جو تجھ سے جھگڑتےہیں ناچیز ہو جائیں گے اور ہلاک ہونگے۔

12  تو اپنے مخالفوں کو ڈھونڈے گا اور نہ پائے گا ۔ تجھ سے لڑنے والے ناچیز و نابور ہو جائیں گے۔

13  کیونکہ میں خداوند تیرا خدا تیرا دہنا ہاتھ پکڑ کر کہونگا مت ڈر میں تیری مدد کرونگا۔

14  ہراسان نہ ہو اے کیڑے یعقوب! اے اسرائیل کی قلیل جماعت میں تیری مدد کرونگا خداوند فرماتا ہے ہا ں میں جو اسرائیل کا قدوس تیرا فدیہ دینے والا ہوں۔

15  دیکھ میں تجھے گہائی کا نیا اور تیز دندانہ دار آلہ بناونگا۔ تو پہاڑوں کو کوٹیگا اور انکو ریزہ ریزہ کریگا اورٹیلوں کو بھوسے کی مانند بنائیگا۔

16  تو انکو اسائیگا اور ہوا انکو اڑا لے جائیگی اورگرد باد انکو تتر بتر کردیگا پر تو خداوند سے شادمان ہو گا اوراسرائیل کے قدوس پر فخر کریگا۔

17  محتاج اور مسکین پانی ڈھونڈتےپھرتےہیں پر نہیں ملتا۔ انکی زبان پیاس سے خشک ہے میں خداوند انکی سنونگا۔ میں اسرائیل کا خدا انکو ترک نہ کرونگا ۔

18  میں ننگے ٹیلوں پر نہریں اوروادیوں میں چشمے کھولونگا صحرا کو تالاب اور خشک زمین کو پانی کا چشمہ بنا دونگا ۔

19  بیابان میں دیوادر اور ببول اور آس اور زیتون کے درخت لگاونگا ۔

20  تاکہ وہ سب دیکھیں اور جانیں اورغور کریں اور سمجھیں کہ خداوند ہی کے ہاتھ نے یہ بنایا اوراسرائیل کے قدوس نے یہ پیدا کیا۔

21  خداوند فرماتا ہے اپنا دعویٰ پیش کرو یعقوب کا بادشاہ فرماتا ہے اپنی مضبوط دلیلیں لاؤ۔

22  وہ انکو حاضر کریں تاکہ وہ ہمکو ہونے ولی چیزوں کی خبر دیں۔ ہم سے اگلی باتیں بیان کرو کہ کیا تھیں تاکہ ہم ان پر سوچیں اور انکے آیام کو سمجھیں یا آئیندہ کو ہونے والی باتوں سے انکو آگاہ کرو۔

23  بتاؤ کہ آگے کو کیا ہوگا تاکہ ہم جانیں کہ تم اِلٰہ ہو ۔ ہاں بھلا یا بُرا کچھ تو کرو تاکہہ ہم متعجب ہوں اور باہم اسے دیکھیں۔

24  دیکھو تم ہیچ اور بیکار ہو تم کو پسند کرنے والا مکروہ ہے۔

25  میں نے شمال سے ایک کو برپا کیا ہے وہ آ پہنچا ہے وہ آفتاب سے مطلع ہو کر میرا نام لیگا اور شاہزادوں کو گارے کی طرح لتاڑیگا۔ جیسے کمہار مٹی گوندھتا ہے ۔

26  کس نے یہ ابتدا سے بیان کیا کہ ہم جانیں؟ اور کس نے آگے سے خبر دی کہ ہم کہیں کہ یہ سچ ہے؟ کوئی اسکا بیان کرنے والا نہیں۔ کوئی اسکی خبر دینے والا نہیں کوئی نہیں جو تمہاری باتیں سنے۔

27  میں ہی نے پہلے صیون سے کہا کہ دیکھ ۔ انکو دیکھ اور میں ہی یروشلیم کو ایک بشارت دینے والا بخشونگا۔

28  کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ کوئی نہیں ۔ ان میں کوئی مشیر نہیں جس سے پوچھوں اور وہ مجھے جواب دے۔

29  دیکھو وہ سب کے سب بطالت ہیں۔ انکے کام ہیچ ہیں۔ انکی ڈھالی ہوئی مورتیں بالکل ناچیز ہیں۔

  أیسعیاہ 42

1 دیکھو میرا خادم جسکو میں سنبھالتاہوں ۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے میں نے اپنی روح اس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔

2  وہ نہ چلائیگا اورنہ شورکریگا اورنہ بازاروں میں اسکی آواز سنائی دیگی۔

3  وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑیگا اورٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائیگا۔ وہ راستی سے عدالت کریگا۔

4  وہ ماندہ نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرلے۔ جزیرے اسکی شریعت کا انتظار کرینگے۔

5  جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور جو کچھ اس میں سے نکلتاہے پھیلایا اور جو اسکے باشندوں کو سانس اور اس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔

6  میں خداوند نے تجھے صداقت سے بُلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑونگا اور تیری حفاظت کرونگا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لیے تجھے دونگا۔

7  کہ تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور انکو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔

8  یہوواہ میں ہی ہوں۔ یہی میرا نام ہے میں اپنا جلال کسی دوسرے کےلیے اور اپنی حمد کھودی مورتوں کے لیے روا نہ رکھونگا۔

9  دیکھو پرانی باتیں پوری ہو گئیں اورمیں نئی باتیں بتاتا ہوں۔ اس سے پیشتر کہ واقع ہوں میں تم سےبیان کرتا ہوں ۔

10  اے سمندر پر گذرنے والو اور اس میں بسنے والو! اے جزیرو اور انکے باشندو خداوند کے لیے نیا گیت گاؤ۔ اور زمین پر سر تا سر اسکی ستائش کرو۔

11  بیابان اور اسکی بستیاں۔ قیدار کے آبادگاؤں اپنی آواز بلند کریں۔ سلع کے بسنے والے گیت گائیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں۔

12  وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں اور جزیروں میں اسکی ثنا خوانی کریں ۔

13  خداوند بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت دکھائیگا۔ وہ نعرہ ماریگا ہاں وہ للکاریگا وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئیگا۔

14  میں بہت مدت سے چپ رہا ۔ میں خاموش رہا اور ضبط کرتارہا پر اب میں دردزہ والی کی طرح چلاونگا میں ہانپونگا اورزور زورسے سانس لونگا۔

15  میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو ویران کرڈالونگا اور انکے سبزہ زاروں کو خشک کرونگا اور انکی ندیوں کو جزیرے بناونگا اور تالابوں کو سکھا دونگا۔

16  اور اندھوں کو اس راہ سے جسے وہ نہیں جانتے لے جاونگا میں انکو ان راستوں سے جن سے وہ آگاہ نہیں لے چلونگا۔ میں انکے آگے تاریکی کو روشنی اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کر دونگا میں ان سے یہ سلوک کرونگا اور اور ان کو ترک نہ کرونگا۔

17  جو کھودی ہوئی مورتوں پر بھروسہ کرتے اورڈھالے ہوئے بتوں سے کہتے ہیں تم ہمارے معبود ہو وہ پیچھے ہٹیں گے اور بہت شرمندہ ہونگے۔

18  اے بہرو سنو اے اندھو نظر کرو تاکہ تم دیکھو۔

19  میرے خادم کے سوا اندھا کون ہے؟ اور کون ایسا بہرا ہے جیسا میرا رسول جسے میں بھیجتا ہوں؟ میرے دوست کی اورخداوند کے خادم کی مانند نابینا کون ہے؟ ۔

20  تو بہت سی چیزوں پر نظر کرتاہے پر دیکھتانہیں۔ کان تو کھلے ہیں پر سنتا نہیں۔

21  خداوند کو پسند آیا کہ اپنی صداقت کی خاطر شریعت کو بزرگی دے اور اسے قابلِ تعظیم بنائے۔

22  لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو لٹ گئے اور غارت ہوئے۔ وہ سب کے سب زندانوں میں گرفتار اور قید خانوں میں پوشیدہ ہیں۔ وہ شکار ہوئے اور کوئی نہیں چھڑاتا۔ وہ لٹ گئے اور کوئی نہیں کہتا پھیر دو۔

23  تم میں کون ہےجو اس پر کان لگائے؟ جو آیندہ کی بابت توجہ سے سنے؟ ۔

24  کس نے یعقوب کو حوالے کیا کہ غارت ہو اوراسرائیل کو کہ لٹیروں کے ہاتھ میں پڑے؟ کیا خداوند نے نہیں جس کے خلاف ہم نے گناہ کیا؟ کیونکہ انہوں نے نہ چاہا کہ اسکی راہ پر چلیں اور وہ اسکی شریعت کے تابع نہ ہوئے۔

25  اس لیے اس نے اپنے قہر کی شدت اور جنگ کی سختی کو اس پر ڈالا اور اسے ہر طرف سے آگ لگ گئی پر وہ اسے دریافت نہیں کرتا۔ وہ اس سے جل جاتا ہے پر خاطر میں نہیں لاتا۔

  أیسعیاہ 43

1  اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اورجس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ میں نے تیرا نام لیکر تجھے بلایا ہے تومیرا ہے۔

2  جب تو سیلاب میں سے گذرے تو میں تیرے ساتھ ہونگا اورجب تو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈبائینگی۔ جب تو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگیگی اورشعلہ تجھے نہ جلائیگا۔

3  کیونکہ میں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔ میں نے تیرے فدیہ میں مصر کو اورتیرے بدلے میں کوش اور سبا کو دیا۔

4  چونکہ تو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرااور میں نے تجھ سے محبت رکھی اس لیے میں تیرے بدلے لوگ اورتیری جان کے بدلے میں امتیں دے دونگا۔

5  تو خوف نہ کر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں تیری نسل کو مشرق سے لے آونگا اور مغرب سے تجھے فراہم کرونگا۔

6  میں شمال سے کہونگا کہ دے ڈال اورجنوب سے کہ رکھ نہ چھوڑ۔ میرے بیٹوں کو دور سے اور میری بیٹیوں کو زمین کی انتہا سے لاؤ۔

7  ہر ایک کو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اورجسکو میں نے اپنے جلال کے لیے خلق کیاجسے میں نے پیدا کیا ہاں جسے میں ہی نے بنایا۔

8  ان اندھے لوگوں کو جو آنکھیں رکھتے ہیں اور ان بہروں کو جن کے کان ہیں باہر لاؤ۔

9  تمام قومیں فراہم کی جائیں اور سب امتیں جمع ہوں۔ انکے درمیان کون ہے جو اسے بیان کرے یا ہم کو پچھلی باتیں بتائے؟ وہ اپنے گواہوں کو لائیں تاکہ وہ سچے ثابت ہوں اورلوگ سنیں اورکہیں کہ یہ سچ ہے۔

10  خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اورمیرا خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کی میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی نہ ہو گا۔

11  میں ہی یہوواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔

12  میں نے اعلان کیا اور میں نے نجات بخشی اور میں ہی نے ظاہر کیا جب تم میں کوئی اجنبی معبود نہیں تھا سو تم میرے گواہ ہو خداوند فرماتا ہے کہ میں ہی خدا ہوں۔

13  آج سے میں ہی ہوں اور کوئی نہیں جر میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ میں کام کرونگا۔ کون ہے جو اسے رد کر دکے۔

14  خداوند تمہارا نجات دینے والا اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہےکہ تمہاری خاطر میں نے بابل پر خروج کرایا اورمیں ان سب کو فراریوں کی حالت میں اورکسدیوں کو بھی جو اپنے جہازوں میں للکارتےتھے لے آونگا۔

15  میں خداوند تمہار قدوس اسرائیل کا خالق تمہارا بادشاہ ہوں ۔

16  جس نے سمندر میں راہ اورسیلاب میں گذر گاہ بنائی۔

17  جو جنگی رتھوں اورگھوڑوں اور لشکر اوربہادروں کو نکال لاتا ہے ( وہ سب کے سب لیٹ گئے وہ پھرنہ اٹھینگے وہ بجھگئے ہاں وہ بتی کی طرح بجھ گئے) ۔

18  یعنی خداوند یوں فرماتا ہے کہ پچھلی باتوں کو یاد نہ کر اورقدیم باتوں پر سوچتےنہ رہو۔

19  دیکھو میں ایک نیا کام کرونگا۔ اب وہ ظہور میں آئیگا کیا تم اس سے ناواقف رہو گے؟ ہاں میں بیابان میں ایک راہ اورصحرا میں ندیاں جاری کرونگا۔

20  جنگلی جانور گیدڑاور شتر مرغ میری تعظیم کرینگے کیونکہ میں بیابان میں پانی اورصحرا میں ندیاں جاری کرونگا تاکہ میرے لوگوں کے لیے یعنی میرے برگزیدوں کے پینے کے لیے پانی ہو۔

21  میں نے ان لوگوں کو اپنے لیےبنایا تاکہ وہ میری حمد کریں۔

22  تو بھی اے یعقوب تو نے مجھے نہ پکارا بلکہ اے اسرائیل تو مجھ سے تنگ آگیا۔

23  تو بروں کو اپنی سوختنی قربانیوں کے لیے میرے حضور نہ لایا اورتو نے اپنے ذبیحوں سے میری تعظیم نہیں کی۔ میں نے تجھے ہدیے لانے پر مجبور نہیں کیا اور لبان جلانے کی تکلیف نہیں دی۔

24  تو نے روپیہ سے میرے لئے اِگر کو نہیں خریدا اورتو نے مجھے اپنے ذبیحوں کی چربی سے سیر نہیں کیا لیکن تونے اپنے گناہوں سے مجھے زیر بار کیا اور اپنی خطاؤں سے مجھے بیزار کر دیا۔

25  میں ہی وہ ہوں جو اپنے نام کی خاطر تیرے گناہوں کو مٹاتا ہوں اور میں تیری خطاؤں کو یاد نہیں رکھونگا۔

26  مجھے یاد دلا۔ ہم آپس میں بحث کریں۔ اپنا حال بیان کر تاکہ تو صادق ٹھہرے۔

27  تیرے بڑے باپ نے گناہ کیا اور تیرے تفسیر کرنے والوں نے میری مخالفت کی ہے۔

28  اس لیے میں نے مقدس کے اسیروں کو ناپاک ٹھہرایا اور یعقوب کو لعنت اوراسرائیل کو طعنہ زنی کے حوالہ کیا۔

  أیسعیاہ 44

1  لیکن اب اے یعقوب میرے خادم اوراسرائیل میرے برگزیدہ سن! ۔

2  خداوند تیرا خادم جس نے رحم ہی سے تجھے بنایا اور تیری مدد کریگا۔ یوں فرماتا ہے کہ اے یعقوب میرے خادم اور یسورون میرے برگزیدہ خوف نہ کر۔ کیونکہ میں پیاسی زمین پر انڈیلونگا۔

3  اور خشک زمین میں ندیاں جاری کرونگا۔ میں اپنی روح تیری نسل پر اور اپنی برکت تیری اولاد پر نازل کرونگا۔

4  اوروہ گھاس کےدرمیان اگینگے جیسے بہتے پانی کے کنارے پر بید ہو۔

5  ایک تو کہیگا کہ میں خداوند کا ہوں اوردوسرا اپنے آپ کو یعقوب کے نام سے ٹھہرائےگا اورتیسرا اپنے ہاتھ پر لکھے گا میں خداوند ہوں اور اپنے آپ کو اسرائیل کے نام سے ملقّب کریگا۔

6 خڈاوند اسرائیل کا بادشاہ اور اسکا فدی دینے والا رب لافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ہی اوّل اور میں ہی آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں۔

7  اور جب سے میں نے قدیم لوگوں کی بنیاد ڈالی کون میری طرح بلائیگا اور اسکو بیان کر کے میری طرح ترتیب دیگا؟ ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اسکا بیان کریں۔

8  تم نہ ڈرو اور ہراسان نہ ہو۔ کیا میں نے قدیم ہی سے تجھے نہیں بتایا اورظاہر نہیں کیا؟ تم میرے گواہ ہو۔ کیا میرے سوا کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں کوئی چٹان نہیں میں تو کوئی نہیں جانتا۔

9  کھودی ہوئی مورتوں کے بنانے والے سب کے سب باطل ہیں اور انکی پسندیدہ چیزیں بےنفع ہیں۔ ان ہی کے گواہ دیکھتے نہیں اور سمجھتے نہیں تاکہ پشیمان ہوں۔

10  کس نے کوئی بت بنایا یا کوئی مورت ڈھالی جس سے کچھ فائدہ ہو؟۔

11  دیکھ اسکے سب ساتھی شرمندہ ہونگے کیونکہ بنانے والے تو انسان ہیں وہ سب کے سب جمع ہو کر کھڑے ہوں۔ وہ ڈر جائینگے وہ سب کے سب شرمندہ ہونگے۔

12  لہار کلہاڑا بناتا ہے اور اپنا کام انگاروں سے کرتا ہے اور اسے ہتھوڑوں سے درست کرتا ہے اور اپنے بازو کی قوت سے گھڑتا ہے۔ ہاں وہ بھوکا ہو جاتا ہے اور اسکا زور گھٹ جاتا ہے وہ پانی نہیں پیتا اور تھک جاتا ہے۔

13  بڑھئی سوت پھیلاتا ہے اور نُکیلے ہتھیار سے اسکی صورت کھینچتا ہے وہ اسکو رندے سے صاف کرتاہے اور پرکار سے اس پر نقش بناتا ہے وہ اسے انسان کی شکل بلکہ آدمی کی خوبصورت شبیہ بناتا ہے تاکہ اسےگھر میں نصب کرے۔

14  وہ دیوداروں کو اپنے لیے کاٹتا ہے اور قسم قسم کے بلوط کو لیتا ہے اور جنگل کے درختوں سے جسکو پسند کرتا ہے۔ وہ صنوبر کا درخت لگاتا ہے اور مینہ اسے سینچتا ہے۔

15  تب وہ آدمی کے لیے ایندھن ہوتا ہے اواس میں سے کچھ سلگا کر تاپتا ہے۔ وہ اسکو جلا کر روٹی پکاتا ہے بلکہ اس سے بت بنا کر اسے سجدہ کرتاہے۔ وہ کھودی ہوئی مورت بناتا ہے اور اسکے آگے منہ کےبل گرتا ہے۔

16  اسکا ایک ٹکڑا لیکر آگ میں جلاتا ہے اور اسی کے ایک ٹکڑے پر گوشت کباب کر کے کھاتا اور سیر ہوتا ہے۔ پھر وہ تاپتا اور کہتا ہے ہا میں گرم ہو گیا میں نے آگ دیکھی۔

17  پھر اسکی باقی لکڑی سے دیوتا یعنی کھودی ہوئی مورت بناتا ہے اور اسکے آگے منہ کے بل گر جاتا ہے اور اسے سجدہ کرتا اور اس سے التجا کر کے کہتا ہے کہ مجھے نجات دے کیونکہ تو میرا خدا ہے۔

18  وہ نہیں جانتے اور نہیں سمجھتےکیونکہ انکی آنکھیں بند ہیں۔ پس وہ دیکھتے نہیں اور انکے دل سخت ہیں۔ پس وہ سمجھتے نہیں۔

19  بلکہ کوئی اپنے دل سے نہیں سوچتا اور نہ کسی کو معرفت اورتمیز ہے کہ اتنا کہے میں نے اس کا ایک ٹکڑا آگ میں جلایا اور میں نے اسکے انگاروں پر روٹی بھیپکائی اورمیں نے گوشت بھونا اور کھایا۔ اب کیا میں اس کے بقیہ سے ایک مکرو ہ چیز بناؤں؟ کیا میں درخت کے کندے کو سجدہ کروں؟ ۔

20  وہ راکھ کھاتا ہے۔ فریب خوردہ دل نے اسکو ایسا گمراہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی جان بچا نہیں سکتا اور کہتا کیا میرے دہنے ہاتھ میں بطالت نہیں۔

21  اے یعقوب! اے اسرائیل! ان باتوں کو یاد رکھ کیونکہ تو میرا بندہ ہے اور میں نے تجھے بنایا تو میرا خادم ہے اے اسرائیل میں تجھ کو فراموش نہ کرونگا۔

22  میں نے تیری خطاؤں کو گھٹا کی مانند اورتیری گناہوں کو بادل کی مانند مٹا ڈالا۔ میرے پاس واپس آ جا کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔

23  اے آسمانو گاؤ کہ خداوند نے یہ کیا ہے۔ اے اسفل زمین للکار اے پہاڑو اے جنگل اوراسے سب درختو نغمہ پردازی کرو کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا اوراسرائیل میں اپنا جلال ظاہر کریگا۔

24  خداوند تیرا فدیہ دینے والا جس نے رحم سے ہی تجھے بنایا یوں فرماتا ہے کہ میں خداوند سب کا خالق ہوں میں ہی اکیلا آسمان کو تاننے والا اور زمین کو بچھانے والا ہوں کون میرا شریک ہے؟ ۔

25 میں جھوٹوں کے نشانوں کو باطل کرتا اورفالگیروں کو دیوانہ بناتا ہوں اور حکمت والوں کو رد کرتا اور انکی حکمت کو حماقت ٹھہراتا ہوں۔

26  اپنے خادم کے کلام کو ثابت کرتا اور اپنے رسولوں کی مصلحت کو پورا کرتا ہوں جو یروشلیم کی بابت کہتا ہوں کی وہ آباد ہو جائیگا اور یہوداہ کے شہروں کی بابت کہ وہ تعمیر کیے جائینگے اور میں اس کے کھنڈروں کو تعمیر کرونگا۔

27  جو سمندر کو کہتا ہوں کہ سوکھ جا اور میں تیری ندیاں سکھا ڈالوں گا۔

28  جو خورس کے حق میں کہتا ہوں کہ وہ میرا چرواہا ہے اور میری مرضی بالکل پوری کرے گا اور یروشلیم کی بابت کہتا ہوں کہ وہ تعمیر کیا جائیگا اورہیکل کی بابت کی اسکی بنیاد ڈالی جائیگی۔