انجیل مقدس

باب   9  10  11  12  13  14  15  16  

  مرقس 9

1  اور اُس نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جو یہاں کھڑے ہیں اُن میں سے بعض اَیسے ہیں کہ جب تک خُدا کی بادشاہی کو قُدرت کے ساتھ آیا ہُؤا نہ دیکھ لیں مَوت کا مزہ ہرگِز نہ چکھّیں گے۔

2  چھ دِن کے بعد یِسُوع نے پطرس اوریَعقُوب اور یُوحنّا کو ہمراہ لِیا اور اُن کو الگ ایک اُنچے پہاڑ پر تنہائی میں لے گیا اور اُن کے سامنے اُس کی صُورت بدل گئی۔

3  اور اُس کی پوشاک اَیسی نُورانی اور نِہایت سفید ہوگئی کہ دُنیا میں کوئی دھوبی وَیسی سفید نہِیں کر سکتا۔

4  اور ایلِیّاہ مُوسٰی کے ساتھ اُن کو دِکھائی دِیا اور وہ یِسُوع سے باتیں کرتے تھے۔

5  پطرس نے یِسُوع سے کہا ربّی! ہمارا یہاں رہنا اچھّا ہے۔ پَس ہم تِین ڈیرے بنائیں۔ ایک تیرے لِئے ایک مُوسٰی کے لِئے ایک ایلِیّاہ کے لِئے۔

6  کِیُونکہ وہ جانتا نہ تھا کہ کیا کہے اِس لِئے کہ وہ بہُت ڈرگئے تھے۔

7  پھِر ایک بادل نے اُن پر سایہ کرلِیا اور اُس بادل میں سے آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بَیٹا ہے۔ اِس کی سُنو۔

8  اور اُنہوں نے یکایک جو چاروں طرف نظر کی تو یِسُوع کے سِوا اَور کِسی کو اپنے ساتھ نہ دیکھا۔

9  جب وہ پہاڑ سے اُترتے تھے تو اُس نے اُن کو حُکم دِیا کہ جب تک اِبنِ آدم مُردوں میں سے جی نہ اُٹھے جو کُچھ تُم نے دیکھا ہے کِسی سے نہ کہنا۔

10  اُنہوں نے اِس کلام کو یاد رکھّا اور آپس میں بحث کرتے تھے کہ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے کیا معنی ہیں؟۔

11  پھِر اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ فقِیہ کیونکر کہتے ہیں کہ ایلِیاہ کا پہلے آنا ضرُور ہے؟۔

12  اُس نے اُن سے کہا کہ ایلِیّاہ البتہ پہلے آ کر سب کُچھ بحال کرے گا مگر کیا وجہ ہے کہ اِبنِ آدم کے حق میں لکِھا ہے کہ وہ بہُت سے دُکھ اُٹھائے گا اور حقِیر کِیا جائے گا؟۔

13  لیکِن مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ ایلِیّاہ تو آچُکا اور جیَسا اُس کے حق میں لکِھا ہے اُنہوں نے جو کُچھ چاہا اُس کے ساتھ کیا۔

14  اور جب وہ شاگِردوں کے پاس آئے تو دیکھا کہ اُن کی چاروں طرف بڑی بِھیڑ ہے فقِیہ اُن سے بحث کررہے ہیں۔

15 اور فِی الفَور ساری بِھیڑ اُسے دیکھ کر نِہایت حَیران ہُوئی اور اُس کی طرف دوڑ کر اُسے سَلام کرنے لگی۔

16  اُس نے اُن سے پُوچھا تُم اُن سے کیا بحث کرتے ہو؟۔

17  اور بِھیڑ میں سے ایک نے اُسے جواب دِیا کہ اَے اُستاد مَیں اپنے بَیٹے کو جِس میں گوُنگی رُوح ہے تیرے پاس لایا تھا۔

18  وہ جہاں اُسے پکڑتی ہے پٹک دیتی ہے اور کف بھر لاتا اور دانت پِیستا اور سُوکھتا جاتا ہے اور مَیں نے تیرے شاگِردوں سے کہا تھا کہ وہ اُسے نِکال دیں مگر وہ نہ نِکال سکے۔

19  اُس نے جواب میں اُن سے کہا اَے بے اِعتِقاد قَوم مَیں کب تک تُمہارے ساتھ رہُوں گا؟ کب تک تُمہاری برداشت کرُوں گا؟ اُسے میرے پاس لاؤ۔

20  پَس وہ اُسے اُس کے پاس لائے اور جب اُس نے اُسے دیکھا تو فِی الفَور رُوح نے اُسے مروڑا اور وہ زمِین پر گِرا اور کف بھرلاکر لوٹنے لگا۔

21  اُس نے اُس کے باپ سے پُوچھا یہ اِس کو کِتنی مُدّت سے ہے؟ اُس نے کہا بچپن سے۔

22  اور اُس نے اکثر اُسے آگ اور پانی میں ڈالا تاکہ اُسے ہلاک کرے لیکِن اگر تُو کُچھ کر سکتا ہے تو ہم پر ترس کھا کر ہماری مدد کر۔

23  یِسُوع نے اُس سے کہا کیا! اگر تُو کر سکتا ہے! جو اِعتِقاد رکھتا ہے اُس کے لِئے سب کُچھ ہو سکتا ہے۔

24  اُس لڑکے کے باپ نے فِی الفَور چِلّا کر کہا مَیں اِعتِقاد رکھتا ہُوں۔ تُو میری بے اِعتِقادی کا عِلاج کر۔

25  جب یِسُوع نے دیکھا کہ لوگ دَوڑ دَوڑ کر جمع ہورہے ہیں تو اُس ناپاک رُوح کو جِھڑک کر اُس سے کہا اَے گُونگی بہری رُوح! میں تُجھے حُکم کرتا ہُوں اِس میں سے نِکل آ اور اِس میں پھِر کبھی داخِل نہ ہو۔

26  وہ چِلّا کر اور اُسے بہُت مڑوڑ کر نِکل آئی اور مُردہ سا ہوگیا اَیسا کہ اکثروں نے کہا کہ وہ مرگیا۔

27  مگر یِسُوع نے اُس کا ہاتھ پکڑکر اُسے اُٹھایا اور وہ اُٹھ کھڑا ہُؤا۔

28  جب وہ گھر میں آیا تو اُس کے شاگِردوں نے تنہائی میں اُس سے پُوچھا کہ ہم اُسے کِیُوں نہ نِکال سکے؟۔

29  اُس نے اُن سے کہا کہ یہ قِسم دُعا کے سِوا کِسی اور طرح نہِیں نِکل سکتی۔

30  پھِر وہاں سے روانہ ہُوئے اور گلِیل سے ہوکر گُزرے اور وہ نہ چاہتا تھا کہ کوئی جانے۔

31  اِس لِئے کہ وہ اپنے شاگِردوں کو تعلِیم دیتا اور اُن سے کہتا تھا کہ اِبنِ آدم آدمِیوں کے حوالہ کِیا جائے گا اور وہ اُسے قتل کریں گے اور وہ قتل ہونے کے تِین دِن بعد جی اُٹھے گا۔

32  لیکِن وہ اِس بات کو سَمَجھتے نہ تھے اور اُس سے پُوچھتے ہُوئے ڈرتے تھے۔

33  پھِر وہ کفرنحُوم میں آئے اور جب وہ گھر میں تھا تُو اُس نے اُن سے پُوچھا کہ تُم راہ میں کیا بحث کرتے تھے؟۔

34  وہ چُپ رہے کِیُونکہ اُنہوں نے راہ میں ایک دُوسرے سے بحث کی تھی کہ بڑا کَون ہے؟۔

35  پھِر اُس نے بَیٹھ کر اُن بارہ کو بُلایا اور اُن سے کہا کہ اگر کوئی اوّل ہونا چاہے تو وہ سب میں پچِھلا اور سب کا خادِم بنے۔

36  اور ایک بّچے کو لے کر اُن کے بِیچ میں کھڑا کِیا۔ پھِر اُسے گود میں لے کر اُن سے کہا۔

37  جو کوئی میرے نام پر اَیسے بّچوں میں سے ایک کو قُبُول کرتا ہے وہ مُجھے قُبُول کرتا ہے اور جو کوِئی مُجھے قُبُول کرتا ہے وہ مُجھے نہِیں بلکہ اُسے جِس نے مُجھے بھیجا ہے قُبُول کرتا ہے۔

38  یُوحنّا نے اُس سے کہا اَے اُستاد۔ ہم نے ایک شَخص کو تیرے نام سے بَدرُوحوں کو نِکالتے دیکھا اور ہم اُسے منع کرنے لگے کِیُونکہ وہ ہماری پَیروی نہِیں کرتا تھا۔

39  لیکِن یِسُوع نے کہا اُسے منع نہ کرنا کِیُونکہ اَیسا کوئی نہِیں جو میرے نام سے مُعجِزہ دِکھائے اور مُجھے جلد بُرا کہہ سکے۔

40  کِیُونکہ جو ہمارے خِلاف نہِیں وہ ہماری طرف ہے۔

41  اور جو کوئی ایک پیالہ پانی تُم کو اِس لِئے پِلائے کہ تُم مسِیح کے ہو۔ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر ہرگِز نہ کھوئے گا۔

42  اور جو کوئی اِن چھوٹوں میں سے جو مُجھ پر اِیمان لائے ہیں کِسی کو ٹھوکر کھِلائے اُس کے لئِے یہ بہُتر ہے کہ ایک بڑی چکّی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جائے اور وہ سُمندر میں پھینک دِیا جائے۔

43  اور اگر تیرا ہاتھ تُجھے ٹھوکر کھِلائے تو اُسے کاٹ ڈال۔ ٹُنڈا ہوکر زِندگی میں داخِل ہونا تیرے لئِے اِس سے بہُتر ہے کہ دو ہاتھ ہوتے جہنّم کے بِیچ اُس آگ میں جائے جو کَبھی بُجھنے کی نہِیں۔

44  [جہاں اُن کا کِیڑا نہِیں مرتا اور آگ نہِیں بُجھتی]۔

45  اور اگر تیرا پاؤں تُجھے ٹھوکر کِھلائے تو اُسے کاٹ ڈال۔ لنگڑا ہوکر زِندگی میں داخِل ہونا تیرے لئِے اِس سے بِہتر ہے کہ دو پاؤں ہوتے ہُوئے جہنّم میں ڈالا جائے۔

46  [جہاں اُن کا کِیڑا نہِیں مرتا اور آگ نہِیں بُجھتی]۔

47  اور اگر تیری آنکھ تُجھے ٹھوکر کِھلائے تو اُسے نِکال ڈال۔ کانا ہوکر خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہونا تیرے لئِے اِس سے بِہتر ہے کہ دو آنکھیں ہوتے جہنّم میں ڈالا جائے۔

48  جہاں اُن کا کِیڑا نہِیں مرتا اور آگ نہِیں بُجھتی۔

49  کِیُونکہ ہر شَخص آگ سے نمکِین کِیا جائے گا [اور ہر ایک قُربانی نمک سے نمکِین کی جائے گی]۔

50  نمک اچھّا ہے لیکِن اگر نمک کی نمکِینی جاتی رہے تو اُس کو کِس چِیز سے مزہ دار کروگے؟ اپنے میں نمک رکھّو اور ایک دُوسرے کے ساتھ میل مِلاپ سے رہو۔

  مرقس 10

1  پھِر وہاں سے اُٹھ کر یہُودیہ کی سَرحَدوں میں اور یَردَن کے پار آیا اور بِھیڑ اُس کے پاس پِھر جمع ہوگئی اور وہ اپنے دستُور کے مُوافِق پھِر اُن کو تعلِیم دینے لگا۔

2  اور فرِیسِیوں نے پاس آ کر اُسے آزمانے کے لِئے اُس سے پوچھّا کیا یہ روا ہے کہ مرد اپنی بِیوی کو چھوڑدے؟۔

3  اُس نے اُن سے جواب میں کہا کہ مُوسٰی نے تُم کو کیا حُکم دِیا ہے؟۔

4  اُنہوں نے کہا مُوسٰی نے تو اِجازت دی ہے کہ طلاق نامہ لِکھ کر چھوڑدیں۔

5  مگر یِسُوع نے اُن سے کہا کہ اُس نے تُمہاری سخت دِلی کے سبب سے تُمہارے لئِے یہ حُکم لکِھّا تھا۔

6  لیکِن خِلقَت کے شُرُوع سے اُس نے اُنہِیں مرد اور عَورت بنایا۔

7  اِسلئِے مرد اپنے باپ سے اور ماں سے جُدا ہوکر اپنی بِیوی کے ساتھ رہے گا۔

8  اور وہ اور اُس کی بِیوی دونوں ایک جِسم ہوں گے۔ پَس وہ دو نہِیں بلکہ ایک جِسم ہیں۔

9  اِسلئِے جِسے خُدا نے جوڑا ہے اُسے آدمِی جُدا نہ کرے۔

10  اور گھر میں شاگِردوں نے اُس سے اِس کی بابت پھِر پُوچھا۔

11  اُس نے اُن سے کہا جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑ دے اور دُوسری سے بیاہ کرے وہ اُس پہلی کے بَرخِلاف زِنا کرتا ہے۔

12  اور اگر عَورت اپنے شَوہر کو چھوڑدے اور دُوسرے سے بیاہ کرے تو زِنا کرتی ہے۔

13 پھِر لوگ بچّوں کو اُس کے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُن کو چُھوئے مگر شاگِردوں نے اُن کو جھِڑکا۔

14  یِسُوع یہ دیکھ کر خفا ہُؤا اور اُن سے کہا بچّوں کو میرے پاس آنے دو۔ اُن کو منع نہ کرو کِیُونکہ خُدا کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہے۔

15  مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی خُدا کی بادشاہی کو بچّے کی طرح قُبُول نہ کرے وہ اُس میں ہرگِز داخِل نہ ہوگا۔

16  پھِر اُس نے اُنہِیں اپنی گود میں لِیا اور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُن کو بَرکَت دی۔

17  اور جب وہ باہِر نِکل کر راہ میں جارہا تھا تو ایک شَخص دوڑتا ہُؤا اُس کے پاس آیا اور اُس کے آگے گھُٹنے ٹیک کر اُس سے پُوچھنے لگا کہ اَے نیک اُستاد مَیں کیا کرُوں کہ ہمیشہ کی ِزِندگی کا واِرث بنُوں؟۔

18  یِسُوع نے اُس سے کہا تُو مُجھے کِیُوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہِیں مگر ایک یعنی خُدا۔

19  تُو حُکموں کو جانتا ہے۔ خُون نہ کرنا۔ ِزنا نہ کر۔ چوری نہ کر۔ جُھوٹی گواہی نہ دے۔ فریب دے کر نقُصان نہ کر۔ اپنے باپ کی اور ماں کی عِزّت کر۔

20  اُس نے اُس سے کہا اَے اُستاد مَیں نے لڑکپن سے اِن سب پر عمل کِیا ہے۔

21  یِسُوع نے اُس پر نظر کی اور اُسے اُس پر پیار آیا اور اُس سے کہا ایک بات کی تُجھ میں کمی ہے۔ جا جو کُچھ تیرا ہے بیچ کر غریبوں کودے۔ تُجھے آسمان پر خزانہ مِلے گا اور آ کر میرے پِیچھے ہولے۔

22  اِس بات سے اُس کے چہرے پر اُداسی چھا گئی اور وہ غمگِین ہوکر چلا گیا کِیُونکہ بڑا مالدار تھا۔

23  پِھر یِسُوع نے چاروں طرف نظر کر کے اپنے شاگِردوں سے کہا دَولتمندوں کا خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہونا کَیسا مُشکِل ہے!۔

24  شاگِرد اُس کی باتوں سے حیَران ہُوئے۔ یِسُوع نے پِھر جواب میں اُن سے کہا بچّو! جو لوگ دَولت پر بھروسا رکھتے ہیں اُن کے لِئے خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہونا کیا ہیمُشکِل ہے!۔

25  اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گُزر جانا اِس سے آسان ہے کہ دَولتمند خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہو۔

26  وہ نِہایت ہی حیَران ہوکر اُس سے کہنے لگے پھِر کَون نِجات پاسکتا ہے؟۔

27  یِسُوع نے اُن کی طرف نظر کر کے کہا یہ آدمِیوں سے تو نہِیں ہو سکتا ہے لیکِن خُدا سے ہو سکتا ہے کِیُونکہ خُدا سے سب کُچھ ہو سکتا ہے۔

28  پطرس اُس سے کہنے لگا دیکھ ہم نے تو سب کُچھ چھوڑ دِیا اور تیرے پِیچھے ہولئِے ہیں۔

29  یِسُوع نے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ اَیساکوئی نہِیں جِس نے گھر یا بھائِیوں یا بہنوں یا ماں باپ یا بچّوں یا کھیتوں کو میری خاطِر اور انجِیل کی خاطِر چھوڑ دِیا ہو۔

30  اور اَب اِس زمانہ میں سَوگنا نہ پائے۔ گھر اور بھائِی اور بہنیں اور مائیں اور بچّے اور کھیت مگر ظُلم کے ساتھ۔ اور آنے والے عالَم میں ہمیشہ کی زِندگی۔

31  لیکِن بہُت سے اوّل آخِر ہوجائیں گے اورآخِر اوّل۔

32  اور وہ یروشلِیم کو جاتے ہُوئے راستہ میں تھے اور یِسُوع اُن کے آگے آگے جارہا تھا۔ وہ حیَران ہونے لگے اور جو پِیچھے پِیچھے چلتے تھے ڈرنے لگے۔ پَس وہ اُن بارہ کو ساتھ لے کر اُن کو وہ باتیں بتانے لگا جو اُس پر آنے والی تھِیں۔

33  کہ دیکھُوں ہم یروشلِیم کو جاتے ہیں اور اِبنِ آدم سَردار کاہِنوں اور فقِیہوں کے حوالہ کِیا جائے گا اور وہ اُس کے قتِل کا حُکم دیں گے اور اُسے غَیر قَوموں کے حوالہ کریں گے۔

34  اور وہ اُسے ٹھٹھّوں میں اُڑائیں گے اور اُس پر تھُوکیں گے اور اُسے کوڑے ماریں گے اور قتل کریں گے اور تیِن دِن کے بعد وہ جی اُٹھے گا۔

35  تب زبدی کے بَیٹوں یَعقُوب اور یُوحنّا نے اُس کے پاس آ کر اُس سے کہا اَے اُستاد! ہم چاہتے ہیں کہ جِس بات کی ہم تُجھ سے دَرخواست کریں تُو ہمارے لئِے کرے۔

36  اُس نے اُن سے کہا تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تُمہارے لئِے کرُوں؟۔

37  اُنہوں نے اُس سے کہا ہمارے لئِے یہ کرکہ تیرے جلال میں ہم میں سے ایک تیری دہنی اور ایک تیری بائِیں طرف بَیٹھے۔

38  یِسُوع نے اُن سے کہا تُم نہِیں جانتے کہ کیا مانگتے ہو۔ جو پیالہ مَیں لینے کو ہُوں تُم لے سکتے ہو؟۔

39  اُنہوں نے اُس سے کہا ہم سے ہو سکتا ہے۔ یِسُوع نے اُن سے کہا جو پیالہ مَیں پِینے کو ہُوں تُم پیوگے اور جو بپتِسمہ مَیں لینے کو ہُوں تُم لوگے۔

40  لیکِن اپنی دہنی یا بائِیں طرف کِسی کو بِٹھا دینا میرا کام نہِیں مگر جِن کے لئِے تیّارکیا گیا اُن ہی کے لئِے ہے۔

41  اور جب اُن دسوں نے یہ سُنا تو یَعقُوب اور یُوحنّا سے خفا ہونے لگے۔

42  مگر یِسُوع نے اُنہِیں پاس بُلاکر اُن سے کہا تُم جانتے ہوکہ جو غَیر قَوموں کے سَردار سَمَجھے جاتے ہیں وہ اُن پر حُکُومت چلاتے ہیں اور اُن کے امِیر اُن پر اِختیّار جتاتے ہیں۔

43  مگر تُم میں اَیسا نہِیں ہے بلکہ جو تُم میں بڑا ہونا چاہے وہ تُمہارا خادِم بنے۔

44  اور جو تُم میں اوّل ہونا چاہے وہ سب کا غُلام بنے۔

45  کِیُونکہ ابِن آدم بھی اِسلئِے نہِیں آیا کہ خِدمت لے بلکہ اِسلئِے کہ خِدمت کرے اور اپنی جان بہُتیروں کے بدلے فِدیہ میں دے۔

46  اور وہ یریحُو میں آئے اور جب وہ اور اُس کے شاگِرد اور ایک بڑی بِھیڑ یریحُو سے نِکلتی تھی تو تِمائی کا بَیٹا برتِمائی اَندھا فقِیر راہ کے کِنارے بَیٹھا ہُؤا تھا۔

47  اور یہ سُن کر کہ یِسُوع ناصری ہے چِلّا چِلّا کر کہنے لگا اَے ابِن داؤد!اَے یِسُوع!مُجھ پر رحم کر۔

48  اور بہُتوں نے اُسے ڈانٹا کہ چُپ رہے مگر وہ اَور بھی زیادہ چِلّایا کہ اَے اِبنِ داؤد مُجھ پر رحم کر!۔

49  یِسُوع نے کھڑے ہوکر کہا اُسے بُلاؤ۔ پَس اُنہوں نے اُس اَندھے کو یہ کہہ کر بُلایا کہ خاطِر جمع رکھ۔ اُٹھ وہ تُجھے بُلاتا ہے۔

50  وہ اپنا کپڑا پھینک کر اُچھل پڑا اور یِسُوع کے پاس آیا۔

51  یِسُوع نے اُس سے کہا تُو کیا چاہتا ہے کہ مَیں تیرے لِئے کرُوں؟اندھے نے اُس سے کہا اَے ربّونی!یہ کہ مَیں بِینا ہو جاؤں۔

52  یِسُوع نے اُس سے کہا جا تیرے اِیمان نے تُجھے اچّھا کردِیا۔ وہ فِی الفَور بِینا ہوگیا اور راہ میں اُس کے پِیچھےہولِیا۔

  مرقس 11

1  جب وہ یروشیلم کے نزدِیک زَیتُون کے پہاڑ پر بیت فِگے اور بیت عَنیّاہ کے پاس آئے تو اُس نے اپنے شاگِردوں میں سے دو کو بھیجا۔

2  اور اُن سے کہا کہ اپنے سامنے کے گاؤں میں جاؤ اور اُس میں داخِل ہوتے ہی ایک گدھی کا بچّہ بندھا ہُؤا تمُہیں مِلے گا جِس پر کوئی آدمِی اَب تک سوار نہِیں ہُؤا۔ اُسے کھول لاؤ۔

3  اور اگر کوئی تُم سے کہے کہ تُم یہ کِیُوں کرتے ہو؟تو کہنا کہ خُداوند کو اِس کی ضرُورت ہے۔ وہ فِی الفَور اُسے یہاں بیھج دے گا۔

4  پَس وہ گئے اور بچّے کو دروازہ کے نزدِیک باہِر چَوک میں بندھا ہُؤا پایا اور اُسے کھولنے لگے۔

5  مگر جو لوگ وہاں کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے اُن سے کہا یہ کیا کرتے ہوکہ گدھی کا بچّہ کھولتے ہو؟۔

6  اُنہوں نے جَیسا یِسُوع نے کہا تھا وَیسا ہی اُن سے کہہ دِیا اور اُنہوں نے اُن کو جانے دِیا۔

7  پَس وہ گدھی کے بچّے کو یِسُوع کے پاس لائے اور اپنے کپڑے اُس پر ڈال دئے اور وہ اُس پر سوار ہوگیا۔

8  اور بہُت لوگوں نے اپنے کپڑے راہ میں بچھا دِئے۔ اَوروں نے کھیتوں میں سے ڈالِیاں کاٹ کر پَھیلا دِیں۔

9  اور جو اُس کے آگے آگے جاتے اور پِیچھے پِیچھے آتے تھے پُکار پُکار کر کہتے جاتے تھے ہوشعنا۔ مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔

10 مُبارک ہے ہمارے باپ داؤد کی بادشاہی جو آرہی ہے۔ عالَمِ بالا پر ہو شعنا۔

11  اور وہ یروشلِیم میں داخِل ہوکر ہَیکل میں آیا اور چاروں طرف سب چِیزیں مُلاحظہ کر کے اُن بارہ کے ساتھ بیت عَنیّاہ کو گیا کِیُونکہ شام ہوگئی تھی۔

12  دُوسرے دِن جب وہ بیت عَنیّاہ سے نِکلے تو اُسے بُھوک لگی۔

13  اور وہ دُور سے اِنجیر کا ایک دَرخت جِس میں پتّے تھے دیکھ کر گیا کہ شاید اُس میں کُچھ پائے۔ مگر جب اُس کے پاس پہُنچا تو پتّوں کے سِوا کُچھ نہ پایا کِیُونکہ اِنجیر کا مَوسم نہ تھا۔

14  اُس نے اُس سے کہا آیندہ کوئی تُجھ سے کبھی پھَل نہ کھائے اور اُس کے شاگِردوں نے سُنا۔

15  پِھر وہ یروشلِیم میں آئے اور یِسُوع ہَیکل میں داخِل ہوکر اُن کو جو ہَیکل میں خرِید و فروخت کررہے تھے باہِر نِکالنے لگا اور صّرافوں کے تَختوں اور کبُوتر فروشوں کی چَوکِیوں کو اُلٹ دِیا۔

16 اور اُس نے کسِی کو ہَیکل میں سے ہوکر کوئی برتن لے جانے نہ دِیا۔

17  اور اپنی تعلِیم میں اُن سے کہا کیا یہ نہِیں لِکھا ہے کہ میرا گھر سب قَوموں کے لِئے دُعا کا گھر کہلا ئے گا؟مگر تُم نے اُسے ڈاکُوؤں کی کھوہ بنا دِیا ہے۔

18  اور سَردار کاہِن اور فِقیہ یہ سُن کر اُس کے ہلاک کرنے کا موقع ڈھونڈ نے لگے کِیُونکہ اُس سے ڈرتے تھے اِسلئِے کہ سب لوگ اُس کی تعلِیم سے حَیران تھے۔

19  اور ہر روز شام کو وہ شہر سے باہِر جایا کرتا تھا۔

20 پِھر صُبح کو جب وہ اُدھر سے گُزرے تو اُس اِنجیر کے دَرخت کو جڑ تک سُوکھا ہُؤا دیکھا۔

21  پطرس کو وہ بات یاد آئی اور اُس سے کہنے لگا اَے ربّی!دیکھ یہ اِنجیر کا دَرخت جِس پر تُو نے لعنت کی تھی سُوکھ گیا ہے۔

22 یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا خُدا پر اِیمان رکھّو۔

23  مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اِس پہاڑ سے کہے تُو اُکھڑ جا اور سَمَندَر میں جا پڑ اور اپنے دِل میں شک نہ کرے بلکہ یقِین کرے کہ جو کہتا ہے وہ ہو جائے گا تُو اُس کے لِئے وُہی ہوگا۔

24  اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کُچھ تُم دُعا میں مانگتے ہو یقِین کرو کہ تُم کو مِل گیا اور وہ تُم کو مِل جائے گا۔

25  اور جب کبھی تُم کھڑے ہُوئے دُعا کرتے ہو اگر تمُہیں کِسی سے کُچھ شِکایت ہوتو اُسے مُعاف کرو تاکہ تُمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تُمہارے گُناہ مُعاف کرے۔

26  [اور اگر تُم مُعاف نہ کروگے تو تُمہارا باپ جو آسمان پر ہے تُمہارے گُناہ بھی مُعاف نہ کرے گا]۔

27  وہ پِھر یروشلِیم میں آئے اور جب وہ ہَیکل میں پِھر رہا تھا تو سَردار کاہِن اور فِقیہ اور بُزُرگ اُس کے پاس آئے۔

28  اور اُس سے کہنے لگے تُو اِن کاموں کو کِس اِختیّار سے کرتا ہے؟ یا کِس نے تُجھے یہ اِختیّار دِیا کہ اِن کاموں کو کرے؟۔

29  یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں تُم سے ایک بات پُوچھتا ہُوں تُم جواب دو تو مَیں تُم کو بتاؤُں گا کہ اِن کاموں کو کِس اِختیّار سے کرتا ہُوں۔

30  یُوحنّا کا بپتِسمہ آسمان کی طرف سے تھا یا اِنسان کی طرف سے؟مُجھے جواب دو۔

31  وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر ہم کہیں آسمان کی طرف سے تو وہ کہے گا پِھر تُم نے کِیُوں اُس کا یقِین نہ کِیا؟۔

32  اور اگر کہیں اِنسان کی طرف سے تو لوگوں کا ڈر تھا اِس لِئے کہ سب لوگ واقعی یُوحنّا کو نبی جانتے تھے۔

33  پَس اُنہوں نے جواب میں یِسُوع سے کہا ہم نہِیں جانتے۔ یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں بھی تُم کو نہِیں بتاتا کہ اِن کاموں کو کِس اِختیّار سے کرتا ہُوں۔

  مرقس 12

1  پِھر وہ اُن سے تَمثِیلوں میں بات کرنے لگا کہ ایک شَخص نے تاکِستان لگایا اور اُس کی چاروں طرف اِحاطہ گھیرا اور حَوض کھودا اور بُرج بنایا اور اُسے باغبانوں کو ٹھیکے پر دے کر پردیس چلا گیا۔

2  پِھر پھَل کے موسَم میں اُس نے ایک نَوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ باغبانوں سے تاکِستان کے پھَلوں کا حِصّہ لے لے۔

3 لیکِن اُنہوں نے اُسے پکڑکر پِیٹا اور خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔

4  اُس نے پِھر ایک اَور نَوکر کو اُن کے پاس بھیجا مگر اُنہوں نے اُس کا سر پھوڑ دِیا اور بے عِزّت کِیا۔

5  پِھر اُس نے ایک اَور کو بھیجا۔ اُنہوں نے اُسے قتل کِیا۔ پِھراَور بہُتیروں کو بھیجا۔ اُنہوں نے اُن میں سے بعض کو پیٹا اور بعض کو قتل کِیا۔

6  اب ایک باقی تھا جو اُس کا پیارا بَیٹا تھا اُس نے آخِر اُسے اُن کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ وہ میرے بَیٹے کا تو لِحاظ کریں گے۔

7  لیکِن اُن باغبانوں نے آپس میں کہا یہی وارِث ہے۔ آؤ اِسے قتل کر ڈالیں۔ مِیراث ہماری ہو جائے گی۔

8  پَس اُنہوں نے اُسے پکڑکر قتل کِیا اور تاکِستان کے باہِر پھینک دِیا۔

9  اب تاکِستان کا مالِک کیا کرے گا ؟وہ آئے گا اوراُن باغبانوں کو ہلاک کر کے تاکِستان اَوروں کو دے دے گا۔

10  کیا تُم نے یہ نوِشتہ بھی نہِیں پڑھا کہ جِس پتھّر کو معِماروں نے ردّ کِیا وُہی کونے کے سرے کا پتھّر ہوگیا۔

11  یہ خُداوند کی طرف سے ہُؤا اور ہماری نظر میں عجِیب ہے؟۔

12  اِس پر وہ اُسے پکڑنے کی کوشِش کرنے لگے مگر لوگوں سے ڈرے کِیُونکہ وہ سَمَجھ گئے تھے کہ اُس نے یہ تَمثِیل اُن ہی پر کہی۔ پَس وہ اُسے چھوڑ کر چلے گئے۔

13  پِھر اُنہوں نے بعض فرِیسِیوں اور ہیرودِیوں کو اُس کے پاس بیھجا تاکہ باتوں میں اُس کو پھنسائیں۔

14  اور اُنہوں نے آ کر اُس سے کہا اَے اُستاد ہم جانتے ہیں کہ تُو سّچا ہے اور کِسی کی پروا نہِیں کرتا کِیُونکہ تُو کِسی آدمِی کا طرفدار نہِیں بلکہ سَچّائی سے خُدا کی راہ کی تعلِیم دیتا ہے۔

15  پَس قیصر کو جِزیہ دینا روا ہے یا نہِیں؟ہم دیں یا نہ دیں؟اُس نے اُن کی ریا کاری معلُوم کر کے اُن سے کہا تُم مُجھے کِیُوں آزماتے ہو؟میرے پاس ایک دِینار لاؤ کہ مَیں دیکھُوں۔

16  وہ لے آئے۔ اُس نے اُن سے کہا یہ صُورت اور نام کِس کا ہے؟اُنہوں نے اُس سے کہا قیصر کا۔

17  یِسُوع نے اُن سے کہا جو قَیصر کا ہے قَیصر کو اور جو خُدا کا ہے خُدا کو ادا کرو۔ وہ اُس پر بڑا تعّجُب کرنے لگے۔

18  پِھر صدُوقِیوں نے جو کہتے ہیں کہ قِیامت نہِیں ہوگی اُس کے پاس آ کر اُس سے یہ سوال کِیا کہ۔

19  اَے اُستاد!ہمارے لِئے مُوسٰی نے لِکھا ہے کہ اگر کِسی کا بھائِی بے اَولاد مر جائے اور اُس کی بِیوی رہ جائے تو اُس کا بھائِی اُس کی بِیوی کو لے لے تاکہ اپنے بھائِی کے لِئے نسل پَیدا کرے۔

20  سات بھائِی تھے۔ پہلے نے بِیوی کی اور بے اَولاد مرگیا۔

21  دُوسرے نے اُسے لِیا اور بے اَولاد مرگیا اور اِسی طرح تِیسرے نے۔

22  یہاں تک کہ ساتوں بے اَولاد مرگئے۔ سب کے بعد وہ عَورت بھی مرگئی۔

23  قِیامت میں یہ اُن میں سے کِس کی بِیوی ہوگی؟ کِیُونکہ وہ ساتوں کی بِیوی بنی تھی۔

24  یِسُوع نے اُن سے کہا کیا تُم اِس سبب سے گُمراہ نہِیں ہوکہ نہ کِتاِب مُقدّس کو جانتے ہو نہ خُدا کی قدُرت کو؟۔

25  کِیُونکہ جب لوگ مُردوں میں سے جی اُٹھیں گے تو اُن میں بیاہ شادِی نہ ہوگی بلکہ آسمان پر فرِشتوں کی مانِند ہوں گے۔

26  مگر اِس بارے میں کہ مُردے جی اُٹھتے ہیں کیا تُم نے مُوسٰی کی کِتاب میں جھاڑی کے ذِکر میں نہِیں پڑھا کہ خُدا نے اُس سے کہا کہ مَیں ابرہام کا خُدا اور ِاضحاق کا خُدا اور یَعقُوب کا خُدا ہُوں؟۔

27  وہ تو مُردوں کا خُدا نہِیں بلکہ ِزندوں کا ہے۔ پَس تُم بڑے گُمراہ ہو۔

28  اور فقِیہوں میں سے ایک نے اُن کو بحث کرتے سُن کر جان لِیا کہ اُس نے اُن کو خُوب جواب دِیا ہے۔ وہ پاس آیا اور اُس سے پوُچھا کہ سب حُکموں میں اوّل کَون سا ہے؟۔

29  یِسُوع نے جواب دِیا کہ اوّل یہ ہے اَے اِسرائیل سُن۔ خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔

30  اور تُو خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اوراپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبّت رکھ۔

31  دُوسرا یہ ہے کہ تُو اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔ اِن سے بڑا اَور کوئی حُکم نہِیں۔

32  فِقیہ نے اُس سے کہا اَے اُستاد بہُت خُوب!تُو نے سَچ کہا کہ وہ ایک ہی ہے اور اُس کے سِوا اَور کوئی نہِیں۔

33  اور اُس سے سارے دِل اور ساری عقل اور ساری طاقت سے محبّت رکھنا اور اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھنا سب سوختنی قُربانِیوں اور ذبِیحوں سے بڑھ کر ہے۔

34  جب یِسُوع نے دیکھا کہ اُس نے دانائی سے جواب دِیا تو اُس سے کہا تُو خُدا کی بادشاہی سے دُور نہِیں اور پِھر کِسی نے اُس سے سوال کرنے کی جُراَت نہ کی۔

35  پِھر یِسُوع نے ہَیکل میں تعلِیم دیتے وقت یہ کہا کہ فقِیہ کیونکر کہتے ہیں کہ مسِیح داؤد کا بَیٹا ہے؟۔

36  داؤد نے خُود رُوح اُلقُدس کی ہِدایت سے کہا ہے کہ خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا میری دہنی طرف بَیٹھ جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں کے نِیچے کی چَوکی نہ کر دُوں۔

37  داؤد تو آپ اُسے خُداوند کہتا ہے۔ پِھر وہ اُس کا بَیٹا کہاں سے ٹھہرا؟اور عام لوگ خُوشی سے اُس کی سُنتے تھے۔

38  پِھر اُس نے اپنی تعلِیم میں کہا کہ فقِیہوں سے خَبردار رہو جو لمبے لمبے جامے پہن کر پِھرنا اور بازاروں میں سَلام۔

39  اور عِبادت خانوں میں اعلٰے درجہ کی کرُسیاں اور ضِیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں۔

40  اور وہ بیواؤں کے گھروں کو دبا بَیٹھتے ہیں اور دِکھاوے کے لِئے نماز کو طُول دیتے ہیں۔ اِن ہی کو زیادہ سزا مِلے گی۔

41  پِھر وہ ہَیکل کے خزانہ کے سامنے بَیٹھا دیکھ رہا تھا کہ لوگ ہَیکل کے خزانہ میں پَیسے کِس طرح ڈالتے ہیں اور بہُتیرے دَولتمند بہُت کُچھ ڈال رہے تھے۔

42  اِتنے میں ایک کنگال بیوہ نے آ کر دو دمڑیاں یعنی ایک دھیلا ڈالا۔

43  اُس نے اپنے شاگِردوں کو پاس بُلا کر اُن سے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں جو ہَیکل کے خزانہ میں ڈال رہے ہیں اِس کنگال بیوہ نے اُن سب سے زیادہ ڈالا۔

44  کِیُونکہ سبھوں نے اپنے مال کی بہُتات سے ڈالا مگر اِس نے اپنی ناداری کی حالت میں جو کچھ اِس کا تھا یعنی اپنی ساری روزی ڈال دی۔

  مرقس 13

1  جب وہ ہَیکل سے باہِر جارہا تھا تو اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے اُستاد۔ دیکھ یہ کیَسے کیَسے پتھّراور کیَسی کیَسی عمِارتیں ہیں!۔

2  یِسُوع نے اُس کہا تُو اِن بڑی بڑی عمِارتوں کودیکھتا ہے؟ یہاں کِسی پتھّر پر پتھّر باقی نہ رہے گا جو گِرایا نہ جائے۔

3  جب وہ زَیتُون کے پہاڑ پر ہَیکل کے سامنے بَیٹھا تھا تو پطرس اور یَعقُوب اور یوحُنّا اور اِندریاس نے تنہائی میں اُس سے پُوچھا ۔

4  ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور جب یہ سب باتیں پُوری ہونے کو ہوں اُس وقت کا کیا نِشان ہے؟۔

5  یِسُوع نے اُن سے کہنا شُرُوع کِیا کہ خَبردار کوئی تُم کو گُمراہ نہ کردے۔

6  بہُتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ مَیں ہی ہُوں اور بہُت سے لوگوں کو گُمراہ کریں گے۔

7  اور جب تُم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں سُنوتو گھبرا نہ جانا۔ اِن کا واقع ہونا ضرُور ہے لیکِن اُس وقت خاتِمہ نہ ہوگا۔

8  کِیُونکہ قَوم قَوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی۔ جگہ جگہ بَھونچال آئیں گے اور کال پڑیں گے۔ یہ باتیں مُصِیبتوں کا شُرُوع ہی ہوں گی۔

9  لیکِن تُم خَبردار رہو کِیُونکہ لوگ تُم کو عدالتوں کے حوالہ کریں گے اور تُم عِبادت خانوں میں ِپیٹے جاوگے اور حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے میری خاطِر حاضِر کِئے جاؤ گے تاکہ اُن کے لِئے گواہی ہو۔

10  اور ضرُور ہے کہ پہلے سب قَوموں میں اِنجیل کی منادی کی جائے۔

11  لیکِن جب تمُہیں لیجا کر حوالہ کریں تو پہلے سے فِکر نہ کرنا کہ ہم کیا کہیں بلکہ جو کُچھ اُس گھٹری تمُہیں بتایا جائے وُہی کہنا کِیُونکہ کہنے والے تُم نہِیں ہو بلکہ رُوحُ القُدس ہے۔

12 اور بھائِی کو بھائِی اور بَیٹے کو باپ قتل کے لِئے حوالہ کرے گا اور بَیٹے ماں باپ کے برخِلاف کھٹرے ہوکر اُنہِیں مروا ڈالیں گے۔

13  اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تُم سے عَداوَت رکھّیں گے مگر جو آخِرتک برداشت کرے گا وہ نِجات پائے گا۔

14  پَس جب تُم اُس اُجاڑنے والی مکُر وہ چِیز کو اُس جگہ کھٹری ہُوئی دیکھو جہاں اُس کا کھٹرا ہونا روانہِیں(پڑھنے والا سَمَجھ لے)اُس وقت جو یہُودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔

15  جو کوٹھے پرہو وہ اپنے گھر سے کُچھ لینے کو نہ نیچے اُترے نہ اَندر جائے۔

16  اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پیھچے نہ لَوٹے۔

17  مگر اُن پر افسوس جو اُن دِنوں میں حامِلہ ہوں اور جو دوُدھ پِلاتی ہوں!۔

18  اور دُعا کرو کہ یہ جاڑوں میں نہ ہو۔

19  کِیُونکہ وہ دِن اَیسی مُصِیبت کے ہوں گے کہ خِلقَت کے شُرُوع سے جِسے خُدا نے خلق کیا نہ اَب تک ہُوئی ہے نہ کبھی ہوگئی۔

20  اور اگر خُداوند اُن دِنوں کو نہ گھٹاتا تو کوئی بشر نہ بچتا مگر اُن برگزُیدوں کی خاطِر جِن کو اُس نے چُنا ہے اُن دِنوں کو گھٹایا۔

21  اور اُس وقت اگر کوئی تُم سے کہے کہ دیکھو مسِیح یہاں یا دیکھو وہاں ہے تو یقِین نہ کرنا۔

22  کِیُونکہ جھُوٹے مسِیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور نِشان اور عجِیب کام دِکھائیں گے تاکہ اگر مُمکِن ہوتو برگِزُیدوں کو بھی گُمراہ کردیں۔

23  لیکِن تُم خَبردار رہو۔ دیکھو مَیں نے تُم سے سب کُچھ پہلے ہی کہہ دِیا ہے۔

24  مگر اُن دِنوں میں اُس مُصِیبت کے بعد سُورج تاِریک ہوجائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔

25  اور آسمان سے سِتارے گِرنے لگیں گے اور جو قُوّتیں آسمان میں ہیں وہ ہِلائی جائیں گی۔

26  اور اُس وقت لوگ ابِن آدم کو بڑی قُدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔

27  اُس وقت وہ فرِشتوں کو بھیج کر اپنے برگزُیدوں کو زمِین کی اِنتہا سے آسمان کی اِنتہا تک چاروں طرف سے جمع کرے گا۔

28  اب اِنجیر کے دَرخت سے ایک تَمثِیل سِیکھو۔ جُو نہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتے نِکلتے ہیں تُم جان لیتے ہوکہ گرمی نزدِیک ہے۔

29  اِسی طرح جب تُم اِن باتوں کو ہوتے دیکھو تو جان لوکہ وہ نزدِیک بلکہ دروازہ پر ہے۔

30  مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہولیں یہ نسل ہرگِز تمام نہ ہوگی۔

31  آسمان اور زمِین ٹل جائیں گے لیکِن میری باتیں نہ ٹلیں گی۔

32  لیکِن اُس دِن یا اُس گھڑی کی بابت کوئی نہِیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرِشتے نہ بَیٹا مگر باپ۔

33 خَبردار! جاگتے اور دُعا کرتے رہو کِیُونکہ تُم نہِیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔

34  اُس آدمِی کا سا حال ہے جو پردیس گیا اور اُس نے گھر سے رُخصت ہوتے وقت اپنے نَوکروں کو اِختیّار دِیا یعنی ہر ایک کو اُس کا کام بتا دِیا اور دربان کو حُکم دِیا کہ جاگتا رہے۔

35  پَس جاگتے رہو کِیُونکہ تُم نہِیں جانتے کہ گھر کا مالِک کب آئے گا۔ شام کو یا آدھی رات کو یا مُرغ کے بانگ دیتے وقت یا صُبح کو۔

36  اَیسا نہ ہو کہ اچانک آ کر وہ تُم کو سوتے پائے۔

37  اور جو کُچھ مَیں تُم سے کہتا ہُوں وُہی سب سے کہتا ہُوں کہ جاگتے رہو۔

  مرقس 14

1  دو دِن کے بعد فسح اور عِیدِ فطِیر ہونے والی تھی اور سَردار کاِہن اور فِقیہ مَوقع ڈھُونڈ رہے تھے کہ اُسے کیونکر فریب سے پکڑ کر قتل کریں۔

2  کِیُونکہ کہتے تھے کہ عِید میں نہِیں۔ اَیسا نہ ہو کہ لوگوں میں بلوا ہو جائے۔

3  جب وہ بیت عنیّاہ میں شمعُون کوڑھی کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا تو ایک عَورت جٹاماسی کا بیش قِیمت خالِص عِطر سنگِ مرمر کے عِطر دان میں لائی اور عِطر دان توڑ کر عِطر کو اُس کے سر پر ڈالا۔

4 مگر بعض اپنے دِل میں خفا ہوکر کہنے لگے یہ عِطر کِس لِئے ضائِع کِیا گیا؟۔

5  کِیُونکہ یہ عِطر تِین سَو دِینار سے زیادہ کو بِک کر غِریبوں کو دِیا جا سکتا تھا اور وہ اُسے ملامت کرنے لگے۔

6  یِسُوع نے کہا اُسے چھوڑ دو۔ اُسے کِیُوں دِق کرتے ہو؟اُس نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔

7  کِیُونکہ غریب غُربا تو ہمیشہ تمُہارے پاس ہیں۔ جب چاہو اُن کے ساتھ نیکی کرسکتے ہو لیکِن مَیں تمُہارے پاس ہمیشہ نہ رہُوں گا۔

8  جو کُچھ وہ کرسکی اُس نے کِیا۔ اُس نے دفن کے لِئے میرے بَدَن پر پہلے ہی سے عِطر ملا۔

9  مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ تمام دُنیا میں جہاں کِہیں اِنجیل کی منادی کی جائے گی یہ بھی جو اِس نےکِیا اِس کی یاد گاری میں بیان کِیا جائے گا۔

10  پِھر یہُوداہ اِسکریوتی جو اُن بارہ میں سے تھا سَردار کاہِنوں کے پاس چلا گیا تاکہ اُسے اُن کے حوالہ کردے۔

11  وہ یہ سُن کر خُوش ہُوئے اور اُس کو رُوپے دینے کا اِقرار کِیا اور وہ مَوقع ڈھونڈنے لگا کہ کِسی طرح قابُو پاکر اُسے پکڑوا دے۔

12  عِیدِ فطِیر کے پہلے دِن یعنی جِس روز فسح کو ذبح کِیا کرتے تھے اُس کے شاگِردوں نے اُس سے کہا تُو کہاں چاہتا ہے کہ ہم جا کر تیرے لئِے فسح کھانے کی تیّاری کریں؟۔

13  اُس نے اپنے شاگِردوں میں سے دو کو بھیجا اور اُن سے کہا شہر میںجاؤ۔ ایک شَخص پانی کا گھڑا لِئے ہُوئے تمُہیں مِلے گا اُس کے پِیچھے ہولینا۔

14  اور جہاں وہ داخِل ہو اُس گھر کے مالِک سے کہنا اُستاد کہتا ہے کہ میرا مِہمان خانہ جہاں مَیں اپنے شاگِردوں کے ساتھ فسح کھاؤُں کہاں ہے؟۔

15  وہ آپ تُم کو ایک بڑا بالا خانہ آراستہ اور تیّار دِکھائے گا وَہیں ہمارے لِئے تیّاری کرنا۔

16  پَس شاگِرد چلے گئے اور شہر میں آ کر جیَسا اُس نے اُن سے کہا تھا وَیسا ہی پایا اور فسح کو تیّار کِیا۔

17  جب شام ہُوئی تو وہ اُن بارہ کے ساتھ آیا۔

18  اور جب وہ بَیٹھے کھارہے تھے تو یِسُوع نے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ تُم میں سے ایک جو میرے ساتھ کھاتا ہے مُجھے پکڑوائے گا۔

19  وہ دِلگیر ہونے اور ایک ایک کر کے اُس سے کہنے لگے کیا مَیں ہُوں؟۔

20  اُس نے اُن سے کہا کہ وہ بارہ میں سے ایک ہے جو میرے ساتھ طباق میں ہاتھ ڈالتا ہے۔

21  کِیُونکہ اِبنِ آدم تو جیَسا اُس کے حق میں لِکھا ہے جاتا ہی ہے لیکِن اُس آدمِی پر افسوس جِس کے وسِیلہ سے اِبنِ آدم پکڑوایا جاتا ہے!اگر وہ آدمِی پَیدا نہ ہوتا تو اُس کے لِئے اچھّا ہوتا۔

22  اور وہ کھا ہی رہے تھے کہ اُس نے روٹی لی اور بَرکَت دے کر توڑی اور اُن کو دی اور کہا لو یہ میرا بَدَن ہے۔

23  پِھر اُس نے پیالہ لے کر شُکر کِیا اور اُن کو دِیا اور اُن سبھوں نے اُس میں سے پِیا۔

24  اور اُس نے اُن سے کہا یہ میرا وہ عہد کا خُون ہے جو بہُتیروں کے لِئے بہایا جاتا ہے۔

25 مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ انگُور کا شِیرہ پھِر کبھی نہ پِیُوں گا اُس دِن تک کہ خُدا کی بادشاہی میں نیا نہ پِیُوں۔

26  پِھر گیت گا کر باہِر زَیتُون کے پہاڑ پر گئے

27  اور یِسُوع نے اُن سے کہا تُم سب ٹھوکر کھاو گے کِیُونکہ لکِھا ہے کہ مَیں چرواہے کو مار دوُں گا اور بھیڑیں پراگندہ ہوجائیں گی۔

28  مگر مَیں اپنے جی اُٹھنے کے بعد تُم سے پہلے گلِیل کو جاؤں گا۔

29  پطرس نے اُس سے کہا گو سب ٹھوکر کھائیں لیکِن مَیں نہ کھاؤُں گا۔

30 یِسُوع نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ تُو آج اِسی رات مُرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تِین بار میرا اِنکار کرے گا۔

31  لیکِن اُس نے بہُت زور دے کر کہا اگر تیرے ساتھ مُجھے مرنا بھی پڑے تُو بھی تیرا اِنکار ہر گزر نہ کرُوں گا۔ اِسی طرح اَور سب نے بھی کہا۔

32  پِھر وہ ایک جگہ آئے جِس کا نام گتسمنی تھا اور اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا یہاں بَیٹھے رہو جب تک مَیں دُعا کرُوں۔

33  اور پطرس اور یَعقُوب اور یُوحنّا کو اپنے ساتھ لے کر نِہایت حَیران اور بے قرار ہو نے لگا۔

34  اور اُن سے کہا میری جان نِہایت غمگِین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نَوبت پہُنچ گئی ہے۔ تُم یہاں ٹھہرو اور جاگتے رہو۔

35  اور وہ تھوڑا آگے بڑھا اور زمِین پر گِر کر دُعا کرنے لگا کہ اگر ہوسکے تو یہ گھڑی مُجھ پر سے ٹل جائے۔

36  اور کہا اَے ابّا!اَے باپ!تُجھ سے سب کُچھ ہو سکتا ہے۔ اِس پیالہ کو میرے پاس سے ہٹالے تُو بھی جو مَیں چاہتا ہُوں وہ نہِیں بلکہ جو تُو چاہتا ہے وُہی ہو۔

37  پِھر وہ آیا اور اُنہیں سوتے پا کر پطرس سے کہا اَے شمعُون تُو سوتا ہے؟ کِیا تُو ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکا؟۔

38  جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔ رُوح تو مُستعِد ہے مگر جِسم کمزور ہے۔

39  وہ پِھر چلا گیا اور وُہی بات کہہ کر دُعا کی۔

40  اور پِھر آ کر اُنہِیں سوتے پایا کِیُونکہ اُن کی آنکھیں نِیند سے بھری تھِیں اور وہ نہ جانتے تھے کہ اُسے کیا جواب دیں۔

41  پِھر تِیسری بار آ کر اُن سے کہا اَب سوتے رہو اور آرام کرو۔ بس وقت آپہُنچا ہے۔ دیکھو اِبنِ آدم گہُنگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کِیا جاتا ہے۔

42  اُٹھو چلیں۔ دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدِیک آپہُنچا ہے۔

43  وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ فِی الفَور یہُوداہ جو اُن بارہ میں سے تھا اور اُس کے ساتھ ایک بِھیڑ تلواریں اور لاٹھِیاں لِئے ہُوئے سَردار کاہِنوں اور فقِیہوں اور بُزُرگوں کی طرف سے آپہُنچی۔

44  اور اُس کے پکڑوانے والے نے اُنہِیں یہ نِشان دِیا تھا جِس کا مَیں بوسہ لُوں وُہی ہے۔ اُسے پکڑکر حِفاظت سے لے جانا۔

45  وہ آ کر فِی الفَور اُس کے پاس گیا اور کہا اُے ربّی!اور اُس کے بو سے لِئے۔

46  اُنہوں نے اُس پر ہاتھ ڈال کر اُسے پکڑ لِیا۔

47  اُن میں سے جو پاس کھڑے تھے ایک نے تکوار کھینچ کر سَردار کاہِن کے نَوکر پر چلائی اور اُس کا کان اُڑادِیا۔

48  یِسُوع نے اُن سے کہا کیا تُم تلواریں اور لاٹِھیاں لے کر مُجھے ڈاکُو کی طرح پکڑنے نِکلے ہو؟۔

49  مَیں ہر روز تمُہارے پاس ہَیکل میں تعلِیم دیتا تھا اور تُم نے مُجھے نہِیں پکڑا۔ لیکِن یہ اِسلئِے ہُؤا ہے کہ نِوشتے پُورے ہوں۔

50  اِس پر سب شاگِرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔

51  مگر ایک جوان اپنے ننگے بَدَن پر مِہین چادر اوڑھے ہُوئے اُس کے پِیچھے ہولِیا۔ اُسے لوگوں نے پکڑا۔

52  مگر وہ چادر چھوڑ کر ننگا بھاگ گیا۔

53 پِھر وہ یِسُوع کو سَردار کاہِن کے پاس لے گئے اور سب سَردار کاہِن اور بُزُرگ اور فقِیہ اُس کے ہاں جمع ہوگئے۔

54  اور پطرس فاصِلہ پر اُس کے پِیچھے پِیچھے سَردار کاہِن کے دِیوان خانہ کے اَندر تک گیا اور پیادوں کے ساتھ بَیٹھ کر آگ تاپنے لگا۔

55  اور سَردار کاہِن اور سب صدر عدالت والے یِسُوع کو مار ڈالنے کے لِئے اُس کے خِلاف گواہی ڈھُونڈنے لگے مگر نہ پائی۔

56  کِیُونکہ بہُتیروں نے اُس پر جُھوٹی گواہِیاں تو دِیں لیکِن اُن کی گواہِیاں مُتَّفِق نہ تھِیں۔

57  پِھر بعض نے اُٹھ کر اُس پر یہ جُھوٹی گواہی دی کہ۔

58  ہم نے اُسے یہ کہتے سُنا ہے کہ مَیں اِس مَقدِس کو جو ہاتھ سے بناہے ڈھاؤں گا اور تِین دِن میں دُوسرا بناؤں گا جو ہاتھ سے نہ بنا ہو۔

59  لیکِن اِس پر بھی اُن کی گواہی مُتفِّق نہ نِکلی۔

60  پِھر سَردار کاہِن نے بیِچ میں کھڑے ہوکر یِسُوع سے پُوچھا کہ تُو کُچھ جواب نہِیں دیتا؟یہ تیرے خِلاف کیا گواہی دیتے ہیں؟۔

61  مگر وہ خاموش ہی رہا اور کُچھ جواب نہ دِیا۔ سَردار کاہِن نے اُس سے پِھر سوال کِیا اور کہا کیا تُو اُس سُتُودہ کا بَیٹا مسِیح ہے؟۔

62  یِسُوع نے کہا ہاں مَیں ہُوں اور تُم ابِن آدم کو قادِرِ مُطلَق کی دہنی طرف بَیٹھے اور آسمان کے بادلوں کے ساتھ آتے دیکھو گے۔

63  سَردار کاہِن نے اپنے کپڑے پھاڑ کرکہا اَب ہمیں گواہوں کی کیا حاجت رہی؟۔

64  تُم نے یہ کُفر سُنا۔ تُمہاری کیا رائے ہے؟اُن سب نے فتوےٰ دِیا کہ وہ قتل کے لائِق ہے۔

65  تب بعض اُس پر تُھوکنے اور اُس کا مُنہ ڈھانپنے اور اُس کے مُکَّے مارنے اور اُس سے کہنے لگے نبُوّت کی باتیں سُنا! اور پیادوں نے اُسے طمانچے مار مار کر اپنے قبضہ میں لِیا۔

66  جب پطرس نیچے صحن میں تھا تو سَردار کاہِن کی لَونڈیوں میں سے ایک وہاں آئی۔

67  اور پطرس کو آگ تاپتے دیکھ کر اُس پر نظر کی اور کہنے لگی تُو بھی اُس ناصری یِسُوع کے ساتھ تھا۔

68  اُس نے اِنکار کِیا اور کہا کہ مَیں تو نہ جانتا اور نہ سَمَجھتا ہُوں کہ تُو کیا کہتی ہے۔ پِھر وہ باہِر ڈیوڑھی میں گیا اور مُرغ نے بانگ دی۔

69  وہ لَونڈی اُسے دیکھ کر اُن سے جو پاس کھڑے تھے پُھر کہنے لگی یہ اُن میں سے ہے۔

70  مگر اُس نے پِھر اِنکار کِیا اور تھوڑی دیر بعد اُنہوں نے جو پاس کھڑے تھے پطرس سے پِھر کہا بیشک تُو اُن میں سے ہے کِیُونکہ تُو گلِیلی بھی ہے۔

71  مگر وہ لعنت کرنے اور قَسم کھانے لگا کہ مَیں اِس آدمِی کو جِس کا تُم ذِکر کرتے ہو نہِیں جانتا۔

72  اور فِی الفَور مُرغ نے دُوسری بار بانگ دی۔ پطرس کو وہ بات جو یِسُوع نے اُس سے کہی تھی یاد آئی کہ مُرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا اور اُس پر غَور کر کے وہ روپڑا۔

  مرقس 15

1  اور فِی الفَور صُبح ہوتے ہی سَردار کاہِنوں نے بُزُرگوں اور فقِیہوں اور سب صدر عِدالت والوں سمیت صلاح کر کے یِسُوع کو بندھوایا اور لے جا کر پِیلاطُس کے حوالہ کِیا۔

2  اور پِیلاطُس نے اُس سے پُوچھا کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے جواب میں اُس سے کہا تو خُود کہتا ہے۔

3  اور سَردار کاہِن اُس پر بہُت باتوں کا اِلزام لگاتے رہے۔

4  پِیلاطُس نے اُس سے دو بارہ سوال کر کے یہ کہا تُو کچھ جواب نہِیں دیتا؟ دیکھ یہ تجھ پر کتنی باتوں کا اِلزام لگاتے ہیں؟۔

5  یِسُوع نے پھِر بھی کُچھ جواب نہ دِیا یہاں تک کہ پِیلاطُس نے تعّجُب کیا۔

6  اور وہ عِید پر ایک قَیدی کو جِس کے لئِے لوگ عرض کرتے تھے اُن کی خاطِر چھوڑ دِیا کرتا تھا۔

7  اور برابّا نام ایک آدمِی اُن باغیوں کے ساتھ قَید میں پڑا تھا جنِہوں نے بغاوت میں خُون کِیا تھا۔

8  اور بِھیڑ اُوپر چڑھ کر اُس سے عرض کرنے لگی کہ جو تیرا دستُور ہے وہ ہمارے لِئے کر۔

9  پِیلاطُس نے اُنہِیں یہ جواب دِیا۔ کیا تُم چاہتے ہوکہ مَیں تُمہاری خاطِر یہُودِیوں کے بادشاہ کو چھوڑدُوں؟۔

10  کِیُونکہ اُسے معلُوم تھا کہ سَردار کاہِنوں نے اِس کو حسد سے میرے حوالہ کِیا ہے۔

11  مگر سَردار کاہِنوں نے بِھیڑ کو اُبھارا تاکہ پِیلاطُس اُن کی خاطِر برابّا ہی کو چھوڑ دے۔

12  پِیلاطُس نے دوبارہ اُن سے کہا پِھر جِسے تُم یہُودِیوں کا بادشاہ کہتے ہو اُس سے مَیں کیا کرُوں؟۔

13 وہ پِھر چلائے کہ وہ مصلُوب ہو۔

14  اور پِیلاطُس نے اُن سے کہا کِیُوں اُس نے کیا بُرائی کی ہے؟وہ اَور بھی چِلّائے کہ وہ مصلُوب ہو۔

15  پِیلاطُس نے لوگوں کو خُوش کرنے کے اِرادہ سے اُن کے لِئے برابّا کو چھوڑ دِیا اور یِسُوع کو کوڑے لگواکر حوالہ کِیا مصلُوب ہو۔

16  اور سِپاہی اُس کو اُس صحن میں لے گئے جو پریَتوریُن کہلاتا ہے اور ساری پلٹن کو بُلا لائے۔

17  اور اُنہوں نے اُسے ارغوانی چوغہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بناکر اُس کے سر پر رکھّا۔

18  اور اُسے سَلام کرنے لگے کہ اَے یہُودِیوں کے بادشاہ آداب!۔

19  اور وہ اُس کے سر پر کنڈا مارتے اور اُس پر تُھوکتے اور گھُٹنے ٹیک ٹیک کر اُسے سِجدہ کرتے رہے۔

20  اور جب اُسے ٹھٹّھوں میں اُڑاچُکے تو اُس پر سے ارغوانی چوغہ اُتار کر اُسی کے کپڑے اُسے پہنائے۔ پِھر اُسے مصلُوب کرنے کو باہِر لے گئے۔

21  اور شمعُون نام ایک کُرینی آدمِی سکندر اور رُوفس کا باپ دیہات سے آتے ہُوئے اُدھر سے گُزرا۔ اُنہوں نے اُسے بیگار میں پکڑا کہ اُس کی صلِیب اُٹھائے۔

22  اور وہ اُسے مقام گُلگتُا پر لائے جِس کا ترجمہ کھوپڑی کی جگہ ہے۔

23  اور مُرمِلی ہُوئی مَے اُسے دینے لگے مگر اُس نے نہ لی۔

24  اور اُنہوں نے اُسے مصلُوب کِیا اور اُس کے کپڑوں پر قُرعہ ڈال کر کہ کِس کو کیا مِلے اُنہِیں بانٹ لِیا۔

25  اور پہر دِن چڑھا تھا جب اُنہوں نے اُس کو مصلُوب کِیا۔

26  اور اُس کا اِلزام لِکھ کر اُس کے اُوپر لگا دِیا گیا کہ یہُودِیوں کا بادشاہ۔

27  اور اُنہوں نے اُس کے ساتھ دو ڈاکُو ایک اُس کی دہنی اور ایک اُس کی بائِیں طرف مصلُوب کِئے۔

28  [تب اِس مضمُون کا وہ نوِشتہ کہ وہ بد کاروں میں گِنا گیا پُورا ہُؤا]۔

29  اور راہ چلنے والے سر ہِلا ہِلا کر اُس پر لعن طعن کرتے اور کہتے تھے کہ واہ!مَقدِس کے ڈھانے والے اور تِین دِن میں بنانے والے۔

30  صلِیب پر سے اُتر کر اپنے تئِیں بَچا۔

31  اِسی طرح سَردار کاہِن بھی فقِیہوں کے ساتھ مِل کر آپس میں ٹھٹّھے سے کہتے تھے اِس نے اَوروں کو بَچایا۔ اپنے تئِیں نہِیں بَچا سکتا۔

32  اِسرائیل کا بادشاہ مسِیح اَب صلِیب پر سے اُتر آئے تاکہ ہم دیکھ کر اِیمان لائیں اور جو اُس کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے وہ اُس پر لعن طعن کرتے تھے۔

33  جب دوپہر ہُوئی تو تمام مُلک میں اَندھیرا چھا گیا اور تِیسرے پِہر تک رہا۔

34  اور تِیسرے پہر کو یِسُوع بڑی آواز سے چِلّایا کہ اِلوہی اِلوہی لماشَبقتنی؟جِس کا ترجمہ ہے اَے میرے خُدا!اَے میرے خُدا!تُو نے مُجھے کِیُوں چھوڑ دِیا؟۔

35  جو پاس کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے یہ سُن کر کہا دیکھو وہ ایلِیّاہ کو بُلاتا ہے۔

36  اور ایک نے دَوڑ کر سپنج کو سِر کہ میں ڈُبویا اور سرکنڈے پر رکھ کر اُسے چُسایا اورکہا ٹھہرجاؤ۔ دیکھیں تو ایلِیّاہ اُسے اُتار نے آتا ہے یا نہِیں۔

37  پِھر یِسُوع نے بڑی آواز سے چِلّا کر دم دے دِیا۔

38  اور مَقدِس کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکُڑے ہوگیا۔

39  اور جو صُوبہ دار اُس کے سامنے کھڑا تھا اُس نے اُسے یُوں دم دیتے ہُوئے دیکھ کر کہا بیشک یہ آدمِی خُدا کا بَیٹا تھا۔

40  اور کئی عَورتیں دُور سے دیکھ رہی تھِیں۔ اُن مِیں مریم مگدِلینی اور چھوٹے یَعقُوب اور یوسیس کی ماں مریم اور سلومی تھِیں۔

41  جب وہ گلِیل میں تھا یہ اُس کے پِیچھے ہولیتی اور اُس کی خِدمت کرتی تھِیں اور اَور بھی بہُت سی عَورتیں تھِیں جو اُس کے ساتھ یروشلِیم میں آئی تھِیں۔

42  جب شام ہوگئی تواِسلئِے کہ تیّاری کا دِن تھا جو سَبت سے ایک دِن پہلے ہوتا ہے۔

43  اَرِمتیہ کا رہنے والا یُوسُف آیا جو عِزّت دار مُشِیر اور خُود بھی خُدا کی بادشاہی کا مُنتظِر تھا اور اُس نے جُراَت سے پِیلاطُس کے پاس جا کر یِسُوع کی لاش مانگی۔

44 پِیلاطُس نے تعّجُب کِیا کہ وہ اِیسا جلد مرگیا اور صُوبہ دار کو بُلا کر اُس سے پُوچھا کہ اُس کو مرے ہُوئے دیر ہوگئی؟۔

45  جب صُوبہ دار سے حال معلُوم کرلِیا تو لاش یُوسُف کو دِلا دی۔

46  اُس نے ایک حسِین چادر مول لی اور لاش کو اُتار کر اُس چادر میں کَفنایا اور ایک قَبر کے اَندر جو چٹان میں کھودی گئی تھی رکھّا اور قَبر کے مُنہ پر ایک پتھّر لُڑھکا دِیا۔

47  اور مریم مگدلینی اور یوسیس کی ماں مریم دیکھ رہی تھِیں کہ وہ کہاں رکھّا گیا ہے۔

  مرقس 16

1  جب سَبت کا دِن گُزر گیا تو مریم مگدلینی اور یَعقُوب کی ماں مریم اور سلومی نے خُوشبُودار چِیزیں مول لِیں تاکہ آ کر اُس پر مَلیں۔

2  وہ ہفتہ کے پہلے دِن بہُت سویرے جب سُورج نِکلا ہی تھا قَبر پر آئیں۔

3  اور آپس میں کہتی تھِیں کہ ہمارے لِئے پتھّر کو قَبر کے مُنہ پر سے کون لُڑھکائے گا۔

4  جب اُنہوں نے نِگاہ کی تو دیکھا کہ پتھّر لُڑھکا ہُؤا ہے کِیُونکہ وہ بہُت ہی بڑا تھا۔

5  اور قَبر کے اَندر جا کر اُنہوں نے ایک جوان کو سفید جامہ پہنے ہُوئے دہنی طرف بَیٹھے دیکھا اور نِہایت حَیران ہوئِیں۔

6  اُس نے اُن سے کہا اَیسی حَیران نہ ہو۔ تُم یِسُوع ناصری کو جو مصلُوب ہُؤا تھا ڈھُونڈتی ہو۔ وہ جی اُٹھا ہے۔ وہ یہاں نہِیں ہے۔ دیکھو یہ وہ جگہ ہے جہاں اُنہوں نے اُسے رکھّا تھا۔

7  لیکِن تُم جا کر اُس کے شاگِردوں اور پطرس سے کہو کہ وہ تُم سے پہلے گلِیل کو جائے گا۔ تُم وَہیں اُسے دیکھو گے جیَسا اُس نے تُم سے کہا۔

8  اور وہ نِکل کر قَبر سے بھاگِیں کِیُونکہ لرزِش اور ہیَبت اُن پر غالِب آگئی تھی اور اُنہوں نے کِسی سے کُچھ نہ کہا کِیُونکہ وہ ڈرتی تھِیں۔

9  ہفتہ کے پہلے روز جب وہ سویرے جی اُٹھا تو پہلے مریم مگدلینی کو جِس میں سے اُس نے سات بَدرُوحیں نکِالی تھِیں دِکھائی دِیا۔

10 اُس نے جا کر اُس کے ساتِھیوں کو جو ماتم کرتے اور روتے تھے خَبر دی۔

11  اور اُنہوں نے یہ سُن کر کہ وہ جِیتا ہے اور اُس نے اُسے دیکھا ہے یقِین نہ کِیا۔

12  اِس کے بعد وہ دُوسری صُورت میں اُن میں سے دو کو جب وہ دیہات کی طرف پَیدل جا رہے تھے دِکھائی دِیا۔

13  اُنہوں نے بھی جا کر باقی لوگوں کو خَبر دی مگر اُنہوں نے اُن کا بھی یقِین نہ کِیا۔

14  پِھر وہ اُن گیارہ کو بھی جب کھانا کھانے بَیٹھے تھے دِکھائی دِیا اور اُس نے اُن کی بے اِعتِقادی اور سخت دِلی پر اُن کو ملامت کی کِیُونکہ جنِہوں نے اُس کے جی اُٹھنے کے بعد اُسے دیکھا تھا اُنہوں نے اُن کا یقِین نہ کِیا تھا۔

15  اور اُس نے اُن سے کہا کہ تُم تمام دُنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے اِنجیل کی منادی کرو۔

16  جو اِیمان لائے اور بپتِسمہ لے وہ نِجات پائے گا اور جو اِیمان نہ لائے وہ مُجرم ٹھہرایا جائے گا۔

17  اور اِیمان لانے والوں کے درمیان یہ مُعجِزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بَدرُوحوں کو نِکالیں گے۔

18 نئی نئی زبانیں بولیں گے۔ سانپوں کو اُٹھالیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چِیز پئیں گے تو اُنہِیں کُچھ ضَرر نہ پہُنچے گا۔ وہ بِیماروں پر ہاتھ رکھّیں گے تو اچھّے ہو جائیں گے۔

19  غرض خُداوند یِسُوع اُن سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اُٹھایا گیا اور خُدا کی دہنی طرف بَیٹھ گیا۔

20  پِھر اُنہوں نے نِکل کر ہر جگہ منادی کی اور خُداوند اُن کے ساتھ کام کرتا رہا اور کلام کو اُن مُعجِزوں کے وسِیلہ سے جو ساتھ ساتھ ہوتے تھے ثابِت کرتا رہا۔ آمیِن+